Voice of Asia News

بجھے چولہے جلانے ہیں یا غلام صحافت کو آزاد کروانا ہے ؟ محمد نوازطاہر

 
َََسردیوں میں گلوبل پِنڈ بھی ٹھنڈارہا، آج اس کی بیٹھک میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنسلسٹس ( پی ایف یو جے ) فیڈرل ایگزیکٹیو کونسل ( ایف ای سی ) اورآل پاکستان نیوز پیپرز ایمپلائز کنفیڈریشن ( ایپنک ) کی نیشنل ایگزیکٹیو کونسل ( این ای سی )کے اجلاس زیر بحث ہیں جو پندرہ سولہ اور سترہ جنوری کو شیڈول ہیں اور پون عشرے کے وقفے سے لاہور پریس کلب میں ہورہے ہیں ، اس پون عشرے میں یونین میں بہت سی تبدیلیان آچکی ہیں ، کئی بحرانی طوفان آئے اور گذر گئے ، تین اہم رہنماؤں آئی ایچ راشد ، شفیع الدین اشرف احفاظ الرحمان اور عبدالحمید چھاپرا جہانی فانی سے کوچ کرگئے ۔ ان میں سے آئی ایچ راشد تنظیموں میں توڑ پھوڑ سے پہلے رخصت ہوئے جبکہ باقی تینوں رہنما اس زوال پر کرھتے ہوئے دنیا سے گئے ،آج جب اجلاس ہورہے ہونگے تو یہ چاروں اہم شخصیات ہم میں نہیں ہونگی لیکن اگر دونوں تنظیمیں چاہیں تو انہیں اپنے اندر ان کی افکار ، خیالات اور انداز جہد کو اپنا کر اپنے اندر محسوس کر اور رہنمای لے سکتی ہیں ۔
پون عشرہ قبل لاہور میں پی ایف یو جے اور ایپنک کے اجلاس کے کچھ ہی عرصے کے بعد آئی راشد انتقال کرگئے اور ان کے انتقال کے چند ماہ کے بعد پی ایف یو جے میں دو دھڑے بن گئے ، ۔ ان کے تین سال کے بعد تنظیموں میں اتحاد کی تمام کوششیں رائیگاں جانے کے بعد مری روڈ اور آئی آئی چندریگڑھ روڈ کی سازش سے ایپنک بھی دو صوں میں بٹ گئی ۔ اﷲ کا شکر ہے کہ جمہوری بنیادوں پر کھڑی پی ایف یو جے قائم و دائم ہے البتہ ایپنک کی پتلی پوزیشن تسلیم کرنا پڑے گی ، دونوں تنظیمیں نشیب و فراز اور بحرانون سے گزر کر اپنے طور پر کارکنوں کے جملہ قانونی حقوق اور اس سے زیادہ آزادی صحافت کا علم تھامے کھڑی ہیں ۔ پی ایف یو جے کا نصب العین آزادی صحافت کے ساتھ ساتھ کارکنوں کے جملہ قانونی حقوق کا حصول ہے جبکہ ایپنک کا کلیدی پارٹ ہے ۔ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بدلتے حالات اور تیزی انحطاط میں کارکن کمپرومائزنگ پوزیشن پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں ۔ صحافی اور میڈیا کارکن بنیادی طور پر دو اہم فریقوں ریاست اور میڈیا مالکان کی ناانصافی کا شکار ہیں اور یہ واضح طور پر فرق دکھائی دیتا ہے کہ جب ریاست کا معاملہ ہوتا ہے تو کارکنوں کی آواز میں تیزی ہوتی ہے اور جب میڈیا مالکان کی بات ہوتی ہے یہ آواز اس قدر تیز محسوس نہیں ہوتی ۔ کارکن دیکھ رہے ہیں کہ پی ایف یو جے آزادی صحافت کے معاملے پر کسی بھی کمپرومائز کے لئے تیار اور معاملے مین میدیا مالکان کے ساتھ کھڑی ہونے میں عار محسوس نہیں کرتی جبکہ میدیا مالکان اس کے باوجود کارکنون کے جملہ قانونی حقوق دینے کے لئے تیار نہیں ، اور یہ بھی ماننا پڑے گا کہ صحافت کی آزادی پر سب سے پہلی زد میڈیا مالکان کی کی طرف سے پڑتی ہے جن کے ادارہ جاتی اور ذاتی مفادات آزادانہ سحافت کی راہ میں آڑے آتے ہیں ، اسی طرح حکومتی مفادات بھی ازادانہ صحافت کی راہ میں دیوار بنتے ہیں۔ اس طرح کارکن پیشہ وارانہ کمپرومائز پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ اور ادارہ کے قانون کے تحت ملازم کے بجائے ایک طرح سے غلام بن جاتے ہیں جنہیں مالکان بھیر بکریوں کی طرح ہانکتے ہیں ۔ ان دنوں ایک ایک کارکن کم از کم تین ، تین کارکنوں کی جگہ پر کام کررہا ہے لیکن اجرت نہ صرف قانون کے مطابق نہیں دی جاتی بلکہ کئی کئی ماہ تک ادا ہی نہیں کی جاتی ۔بوجھے چولہوں کو تکتے کارکن اب یہ سوچ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنے معاشی قانونی جنگ لڑنی ہے یا آزادی صحافت کی جنگ لڑی ہے ؟ تو اکثریت کا جواب ملتا ہے کہ معاشی و قانونی حقوق کی جنگ لڑنی ہے کیونکہ صحافت کی جنگ اب ان کی جنگ نہیں رہی تاوقیکہ کہ میڈیا مالکان کی طرف سے مکمل آزادانہ صحافت کا ماحول فراہم نہیں کیا جاتا۔اظہارِ رائے یا آزادی صحافت کی جنگ اس وقت بنیادی طور پر سیاسی جماعتوں کی ضرورت پے ، ان تمام سیاسی جماعتوں کی جو اقتدار میں رہتے ہوئے کارکنوں کو نہ صرف ان کے جملہ قانونی حقوق نہ دلاسکیں ، صحافت کی آزادی کے ٹھوس اور پائیدار اقدامات بھی نہ اٹھا پائیں بلکہ اپنے اپنے انداز میں آزادی صحافت کی راہ میں حائل رہیں ۔ان حالات میں کارکنوں کو ان کی جنگ کیوں لڑنا چاہئے ؟ صرف اس لئے کہ پی ایف یو جے کے آئین میں نصب العین طے کیا گیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ اس نصب العین سے انکار ممکن نہیں لیکن کیا بوجھے چولہوں کے سامنے کھڑے کارکن صحافت کی آزادی دیکھیں یا معاشی استھصال ؟ اور پھر ایسا استھصال کہ کارکنوں کی تنخواہوں میں بدترین مہنگائی کے تناسب سے اضافے کے بجائے الٹا ان کی تنخواہوں میں کٹوتی کرلی گئی ہو، کارکن اپنی تنظیمون سے بجا طور پر امید رکھتے ہیں کہ وہ لاہور کے اجلاس میں کارکنوں کے استحصال کے خاتمے اور معاشی معاملات کو ایجنڈا بنائیں گی ، اس کے علاوہ کوئی ایجنڈا کارکنوں کے حقوق کی جدوجہد کو پیچھے رکھنے کے مترادف ہوگا ۔ کارکنون کو یقینی طور پر ایسے خیالات ذہنی اذیت پہنچائیں گے جس میں کاکنوں مے معاشی مسائل کے بجائے کسی بھی طور پر میڈیا مالکان کی مجبوریوں کا حوالہ دینے کی کوشش کی گئی اور یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی کہ میڈیا مالکان کسی مالی بحران کا شکار ہیں جبکہ وہ کسی بحران کا شکار نہیں ہیں بلکہ انہوں نے کارکنوں کی چھانٹیوں اوتر تنخواہوں پر کٹ لگا کر اپنے اخراجات کم کیے ہیں ، حکومت کی طرف سے ان کی مراعات میں بھی کمی نہیں کی گئی ، سیکروں کی اشاعت کے باوجود ہ زارون ، لاکھوں کی اے بی سی پر اشتہارات کے وصول ل کررہے ہیں ۔ یہ الگ بات کہ موجودہ حکومت بھی سرکاری اشتہارات ماضی کی حکومتوں کی طرح من پسندی کی بنیاد پر جاری کرتی ہے ، جہاں تک غیر سرکاعی یعنی کمرشل اشتہارات کا معاملہ تو وہ اشاعتی اور نشریاتی اداروں کے غیر میعاری مواد کی بنا پر ملنا کم ہوگئے ہین ، اس وقت بھی جس اشعاتی یا نشریاتی ادارے کا مواد دوسروں کے مقابلے مین بہتر پہے اسے دوسرون کی نسبت زیادہ کمرشل اشتہارات ملتے ہیں ، پھر اشتہارات کارکنوں کا مسئلہ کیسے ہوسکتے ہیں ؟ کیا موجودہ حکومت سے پہلی حکومتوں اگر زیادہ اشتہارات ملتے تھے تو کارکنوں کو نفع ،مین شراکت یا بونس دیا جاتا تھا ؟ لہٰذا کارکنوں کی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی ، ویج ایوارڈ کا نفاز اور کٹوتیاں ختم کرنے کو ایجنڈا بنانا ہے کارکنوں کی حقیقی معنوں میں ترجمانی ہوگی۔

reporter2reporter@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے