Voice of Asia News

 صحافیوں کاعزمِ آزادی،خوش فہمیاں اور ممکنہ اثرات محمد نوازطاہر

لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں ملک بھر کے صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) کی فیڈرل ایگزیکٹیو کونسل ( ایف ای سی) کا اجلاس جاری تھا ، اس ہال میں آتے جاتے مجھ پر عجیب کیفیت طاری تھی ، ہا ل کے اندر جاتا تو آنسو دل پر گرتے باہر نکلتا تو نارمل ہوجاتا، ہال کے اندر صحافت کی آزادی کے حق میں دھواں دھار ، تقاریر جاری تھیں جس دوران میڈیا انڈسٹری کے کارکنوں کے معاشی ، سماجی حالات بجھے، نیم ٹھنڈے اور ٹھنڈے چولہوں کا ذکر بھی سننے کو مل رہا تھا ۔ سبھی لوگ پی ایف یو جے کے دستور میں مذکو صحادت کی آزادی کے جدوجہد جاری رکھنے کے نصب العین کے مطابق اپنے جذبات کا اظہار کررہے ، اس نصب العین میں کارکنوں کے قانونی،معاشی حقوق کا تحفظ بھی شامل ہے ۔ایک شام پہلے لاہور کے ایک بڑے ہوٹل میں پرتکلف سیمینار کے مینیو اور کارکنوں کے اداس دسترخوانوں کے موازنے سے بھی دل پگھل رہا تھا ، گو کہ اشیائے خورونوش کے حوالے سے پُرتکلف ، پرتعیش سیمینار کے اخراجات تنظیم نے اپنے فنڈز سے ادا نہیں کئے لیکن یہ کارکنوں کے حالات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے میرے غریب یا ذہنی غریب دل کو کیوں جھنجھوڑ رہے تھے اور میں کرب محسوس کررہا تھا، وہ تو بھلا ہو چودھری منظور حسین کا کہ انہوں نے اپنے قراریر میں کچھ الفاظ بڑی سادگی سے استعمال کیے جو ان کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو بڑے جذبات انداز میں استعمال کیا کرتے تھے اور ہمارے تنظیمی اسلاف بھی اپنے اپنے انداز میں استعمال کرتے رہے ہیں ، خاص طور پر مجھے احفاظ ارحمان ( مرحوم ) بہت یاد آئے جو اس بات پر زور دیا کرتے تھے کہ ہم کارکنوں کو کسی کا احسان لینے کے بجائے اپنی دال سبزی کھالینا چاہئے لیکن ان کی اس تلقین کو ( بعد میں تنظیم توٹنے کا باعث بننے والے) کچھ حضرات اجلاس کا کورم توڑ کر”پذیرائی“ بخشتے تھے۔
 میں صحافت کی آزادی کیا ہے ؟ اس پر کئی ایک بار توجہ دلانے کے باوجود بحث نہیں ہوسکی اور اس کا تعین ہوسکا ، شائد اگلے کسی اجلاس میں ہوجائے ، یہ سوچ کر ہمیشہ خود کو تسلی دی ، وہ اب پھر دے لی ہے، اپنی تنظیم سے مایوس نہیں ہوانہ ہوں گا تاوقتیکہ یہ معاملہ زیر بحث لاکر حل نہیں کرلیا جاتا ۔ اسی معاملے پر میں نے میڈیا مالکان کی تنظیم آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی ( اے پی این ایس ) کو بھی ایک مراسلہ اس کے دفترواقع کراچی بھجوایا تھا لیکن وہاں سے بھی تاحال خاموشی کے سوا کوئی رسپانس نہیں ملا ، میں یہ الزام تو نہیں دیتا کہ دونوں تنظیمیں اس معاملے کو اہمیت نہیں دیتیں ، یا دونوں میں یہ اندرسٹینڈنگ ہے کہ اس طرف توجہ نہیں دینی ، لیکن ابھی تک جوجہ نہ دینے کو دونوں کی غفلت ضرور سمجھتا ہوں اور وقت تک یو ں محسوس کرتا ہوں کہ دونوں تنظیموں نے صحافت کی آزادی کو سیاسی نعرہ ہے بنا رکھا اور حقیقی آزادی نہیں چاہتیں ،ہال کے اندر اور باہر آنے جانے کی کیفیت کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے ، دوسری وجہ ہال میں گفتگو کرنے والے بعض حضرات کا میعارِ گفتگو ، انداز گفتگو اور ادراک ہو بھی اس کی وجوہات ہوسکتی ہیں ، اور ان تین جزئیات کی وجوہات میں سے ایک تربیتی فقدان ہوسکتا ہے ، ہال میں بیٹھے بعض لوگوں کی مقررین کی تقاریر سے بے عتنائی ، انگڑائی اور لاپروائی کا رویہ بھی میری ذہنی کیفیت کی وجہ ہوسکتا ہے۔میں سوچتا رہا کہی جو لوگ بڑی دردمندی کے ساتھ تقاریر فرما رہے ہیں ، اس رویے سے ان کے دل و دماغ کی کیفیت کیا ہوگی؟ مجھے اپنے ہی شہر کے منتخب لوگوں کا رویہ بھی اندر سے رلا رہا تھا جنکی بنیادی ، اخلاقی مینڈیٹری ذمہ داری تھی کہ وہ پورا اجلاس اٹینڈ کرتے ؟ کچھ سمجھتے ، سیکھتے ،
 ملک بھر سے آئے ہوئے اپنے مہمانوں کی مہمانداری میں آگے آگے ہوتے لیکن وہ یہ ذمہ داری محسوس ہی نہیں کررہے تھے ؟ بلکہ الٹا تنظیم کے متحرک عہدیاداروں سے بھی گلے شکوﺅں اور سیلفیوں میں پیش پیش تھے ، اور پھر انہیں پی ایف یو جے کے جدوجہدد کرتے دنیا سے رخصت ہوجانے والے اکابرین کے سپاہی بھی قراردیا جارہا تھا ، ایسے سپاہیوں سے تو پھر وہی جنگ لڑی جائے گی جو بھارت کے ساتھ سنہ انیس سو اکہتر میں مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلادیش) میں لڑی گئی تھی۔ اگلے چند مہینوں میں کارکنانِ صحافت اور ریاست آمنے سامنے آنے والے ہیں ،ان کا ”پانی پت“ دارلحکومت اسلام آباد ہی ہوگا، اس رن کے لئے کیمونسٹ پارٹی کی سی تربیت اور استقامت چاہئے ؟ ایسے کارکنان موجود ہیں لیکن اس ایک تعداد سے کیا کام لیا جائے گا جو پُر تعیش اشیائے خورونوش کو جدوجہد کا جزو سمجھتے ہیں یا نئے لوگ لازمی جزو سمجھے بیٹھے ہوں گے ؟ یہ ساری عام باتیں اپنی جگہ، ہال کے اندر باہر آتے جاتے بدلتی ذہنی کیفیت کے ا صل اسباب اور وجوہات وہ تکلیف دہ الفاظ اور حالات تھے جو مختلف شہروں سے آئے ہوئے ساتھی اپنے بے روزگار ہونے والے ساتھیوں کی بیان کررہے تھے ، جس جس سینے میں دل کے دھڑکنے کی فطری خاصیت باقی ہے ، وہ دل ان حالات کو سن کر یقینی طور پر آبدیدہ تھا ، سن کر ہو جائے گا ، ہال کے اندر پسے ہوئے پریشان حال ، قطعی غیر مطمئین افراد کا ایک اجتماع تھا ، وہاں اگر کوئی مطمئن دکھائی دے رہا تھا وہ حکومت تھی جو( میری دانست میں پنجاب کی نگران وزیراعلیٰ) ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی شکل میں موجود تھی ، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان پنجاب کے وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کے معاونِ خصوصی برائے اطلاعات کی حیثیت سے( میں سمجھتا ہوں کہ پنجاب کے حکومتی معاملات پر نظر رکھنے کی غیر اعلانیہ ذمہ داریاں بھی ادا کررہی ہیں اور’اوورٹائم“ میں صوبے کے گورنر اور وزیراعلیٰ کے حالات کار بھی دیکھنے کے فرائض انجام دیتی ہیں) انتہائی متحرک ہیں ،صاوبے کا کوئی دوسرا وزیر بھی اتنا متحرک نہیں جتنی متحرک معاونِ خصوصی ہیں وہ وزیراعلیٰ نہیں تو کم از کم سپر سینئر وزیر کی طرح متحرک ہیں ۔ان میں یہ خوبی ہے کہ وہ کسی کو ناراض نہیں کرتیں، لوگوں کو راضی رکھنے کا گُر انہیں شائد میڈیکل کی تعلیم کے دوران یا ڈگری لینے کے فوری بعد سیکھ لیا تھا، یہ خوبی ممکن ہے پیدائشی ہو لیکن اسے نکھارنے میں لاہور کی سڑکوں ، شدیدی موسمی حالات اور مختلف جماعتوں میں اہم ذمہ داریاں ادا کرنے سے بھی نکھری ہے۔ مجھے ان کے چہرے پر اطمینان دیکھ اندازہ ہورہا تھا کہ کہ وہ کیا فرمانے والی ہیں ، وہی جو پہلے فرماتی رہیں اور کارکنوں کے حالات جوں کے توں۔۔۔ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان بھلا قمر زمان کائرہ تھوڑی ہیں جو میڈیا کارکنوں کی خاطر اپنے ارد گرد کچھ خواص کو ناراض کرلیں ۔۔۔تسلیوں کے ساتھ کارکنوں کو ایک مفید مشورہ دے گئیں کہ صحافیوں کو صحافت کی آزادی مانگنے کے ساتھ ساتھ ذمہ دارانہ آزادی صحافت کےلئے اپنی حتساب کمیٹی بھی تشکیل دینا چاہئے ، چھوٹے چھوٹے مفادات اور اختلافات کی بنیاد پر تقسیم ہونے کے بجائے اپنے اندراتحاد اور اتفاق پیدا کریں ۔ اس مشورے کا ایک پہلو یہ پیغام بھی ہوسکتا ہے کہ اگلے تین مہینوں میں احتجاجی تحریک کے اہم مرحلے لانگ مارچ اور دھرنے سے حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑتا ، اگر واقعی یہ پیغام ہے تو میرے خیال سے وہ غلط جگہ پر پیغام چھوڑ کر گئی ہیں اور ان کا خیال ، حکومت کا اندازہ درست نہیں ۔
 ہاں! ایک بات ضرور اہم ہے کہ آزادی صحافت کے نعرے اور جدوجہد کے حوالے سے ریاست ست متعلق میڈیا کارکنان اور مالکان کے جو نکات مشترک ہیں ، ان پر میڈیا مالکان کو بھی کارکنان کے ساتھ کھڑا ہونا دونوں کے اور بحیثیت مجموعی قومی مفاد میں ہوگا ۔کوئٹہ سے براستہ خضدار ، کراچی ، سکھر ، ملتان ، لاہور ، گوجرانوالہ جب لانگ مارچ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچے گا اور دھرنا دے گا تو نہ یہ ڈی چوک اور نہ ہی فیض آباد دھرنا ثابت ہوگا بلکہ اپنی نئی تاریخ رقم کرے گا اور پی ایف یو جے کی تاریخ سے نئی نسل کو بھی آگاہ کردے گا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے