Voice of Asia News

 جوبائیڈن ،امریکی سماج اور پاکستان محمد قیصر چوہان

جوبائیڈن نے 46 ویں امریکی صدر کی حیثیت سے حلف اٹھالیا۔ تقریب حلف وفاداری20 جنوری کو 25 ہزار سے زائد فوجی اہلکاروں کے حصار میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں مکمل لاک ڈاﺅن تھا۔ لاک ڈاﺅن کی وجہ کورونا کی عالمی وبا نہیں بلکہ انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کرنے والوں کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں کا خوف تھا۔ یہ خوف اس حد تک تھا کہ حفاظت پر مامور فوجیوں پر بھی اعتماد نہیں تھا۔ ان ہی سے خطرہ تھا کہ کوئی کارروائی نہ ہوجائے۔ جوبائیڈن کی قیادت میں ڈیموکریٹ سینیٹ اور کانگریس میں پوری اکثریتی طاقت کے ساتھ اقتدار میں واپس آئے ہیں لیکن نئی انتظامیہ کو جو خطرات درپیش ہیں اس کا اظہار جوبائیڈن کی تقریر میں موجود تھا۔ رخصت ہونے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے صدر کو رسمی مبارکباد دے کر عملی طور پر نتائج کو تو تسلیم کرلیا لیکن انہوں نے روایتی طور پر تقریب میں شرکت سے گریز کرتے ہوئے اپنے موقف پر اصرار کیا کہ انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے اور انہیں ”ڈیپ اسٹیٹ“ نے ہرایا ہے۔ جوبائیڈن نے اپنی تقریر میں تقریب کے پرامن انعقاد کو ”جمہوریت“ کی کامیابی کہا ہے اور اس بات کا بھی اظہار کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے بھی صدر ہیں جنہوں نے ان کو ووٹ دیا ہے اور ان لوگوں کے بھی صدر ہیں جنہوں نے ووٹ نہیں دیا۔ انہوں نے ری پبلکن اور ڈیموکریٹ کی تقسیم پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ لیکن اس رسمی خطاب کے باوجود ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی نظام اور معاشرے کے داخلی امراض کو عیاں کردیا ہے۔ ٹرمپ وہائٹ ہاﺅس سے رخصت تو ہوگئے ہیں لیکن امریکی شہریوں کی بڑی تعداد کو یقین دلانے میں کامیاب ہوچکے ہیں کہ انہیں ہرایا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 6 جنوری کے غیر معمولی واقعے یعنی امریکی پارلیمان پر مشتعل ہجوم کے حملے اور قبضے کے تلخ ترین واقعے کے باوجود ری پبلکن پارٹی بھاری اکثریت کے ساتھ ٹرمپ کے ساتھ کھڑی ہے۔ ٹرمپ انتخابی دھاندلی کے الزام کے شواہد تو پیش نہیں کرسکے اور انہیں اس سلسلے میں امریکی ریاستی اداروں کے کسی بھی حصے بشمول عدلیہ سے مدد نہیں ملی لیکن امریکی آبادی کی بڑی تعداد کو یقین ہے کہ ٹرمپ کو ہرایا گیا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی شکست نے امریکی جمہوریت کو بحران میں مبتلا اور امریکی قوم کو تقسیم کردیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ٹرمپ کی پالیسیوں نے امریکہ کے داخلی امراض کو عیاں کردیا ہے اور مقتدر طاقتوں کی داخلی کش مکش بے نقاب ہورہی ہے۔ اس وجہ سے امریکی انتخابی عمل اور اقتدار کی منتقلی پر پوری دنیا کی نظریں لگی ہوئی تھیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے عوامی احتجاج ریکارڈ کرانے کے بعد جوبائیڈن کی فتح کو تو تسلیم کرلیا ہے لیکن وہ انتخابی عمل میں دھاندلی کے الزامات سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ وہائٹ ہاﺅس سے ایک شخص کو باہر نکالنے کیلئے امریکی مقتدرہ کے تمام ادارے استعمال ہوئے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنے نائب صدر مائیک پنس اور کانگریس اور سینیٹ کے ارکان کی حمایت بھی حاصل نہیں ہوسکی، یہاں تک کہ سوشل میڈیا کی ویب سائٹس کو امریکی صدر کے اکاﺅنٹ بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا، اس لیے کہ امریکی مقتدرہ امریکہ کو خانہ جنگی سے بچانا چاہتی ہے۔ اقتدار سے محروم ہونے کے باوجود ٹرمپ کمزور نہیں ہوئے ہیں۔ دھاندلی کے الزامات جاری رکھتے ہوئے وہ آئندہ انتخابات کی تیاری کررہے ہیں۔ اس لیے اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا عوامل ہیں جنہوں نے امریکی جمہوریت کو بحران میں مبتلا کردیا ہے؟ ٹرمپ سفید فام بالادستی کی طاقتور تحریک کے رہنما بن کر ا ±بھرے ہیں، جس کا ردِعمل”Black Lives Matter” کی صورت میں سامنے آیا تھا، سفید فام پولیس اہلکار سیاہ فام شہری کو ماورائے عدالت قتل کردیتے ہیں۔ سفید فام بالادستی کی تحریک نے مختلف عناصر کو خوف میں مبتلا کردیا ہے، جن میں لاطینی امریکی، ریڈانڈین اور تارکین وطن بھی شامل ہیں۔ ان تمام گروپوں اور ان طاقتور طبقات نے جن کے مفادات پر ٹرمپ کی پالیسیوں سے زد پڑ رہی تھی اپنا پورا زور جوبائیڈن کے حق میں لگادیا تھا۔ اس اعتبار سے ٹرمپ کی جانب سے تدبیری غلطی ہوئی اور انہوں نے پوسٹل بیلٹ پر توجہ نہیں دی، جب کہ جوبائیڈن کیمپ نے غیر متحرک ووٹرز پر توجہ دی اور پوسٹل بیلٹ پر انحصار کیا۔ یہ طبقہ ٹرمپ کی پالیسیوں سے خوف زدہ بھی تھا، دوسری طرف کورونا کی وبا کا بحران اور ٹرمپ کی غیر سنجیدگی کا بھی ردعمل ہوا۔ اس کے باوجود کہ ان انتخابات میں تیکنیکی طور پر ٹرمپ کو شکست ہوگئی، دھاندلی کے الزامات پر ا ±نہیں عدلیہ سمیت کسی بھی جگہ سے مدد نہیں ملی۔ لیکن وہ ابھی غیر مقبول نہیں ہوئے ہیں۔ ان انتخابات نے امریکی سماج کو تقسیم کردیا ہے، اور یہ تقسیم مزید گہری ہوگی۔
امریکی صدر جوبائیڈن نے سی آئی اے چیف، وزیر خارجہ سمیت دس اہم ترین عہدے یہودیوں کے حوالے کر دیئے ہیں۔ جوبائیڈن کی سربراہی میں بارک اوباما کی ٹیم دوبارہ واپس آگئی ہے۔ اس ٹیم میں 12 بھارت نژاد امریکی بھی شامل ہیں۔ جن میں پہلی خاتون نائب صدر بھی ہیں، جو ایک بھارتی سفارت کار کی بیٹی ہیں۔ صدر خطے اور عالمی سیاست امریکا اور بھارت کی دفاعی و تزیرواتی (اسٹرا ٹیجک) شراکت داری کے تناظر میں یہ منظرنامہ پاکستان کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے۔ بارک اوباما کا دور پاکستان اور امریکا کے تعلقات کے حوالے سے انتہائی تلخ رہا۔ اسی دور میں قبائلی علاقوں میں ڈرون حملے، سلالہ چیک پوسٹ پر امریکی فوجی حملہ جس کے نتیجے میں نیٹو سپلائی کی بندش، لاہور میں سی آئی اے کے دہشت گرد ریمنڈ ڈیوس کی رنگے ہاتھوں گرفتاری اور ایبٹ آباد پر حملہ جیسے واقعات شامل ہیں۔ جوبائیڈن پاکستان کے سیاسی کرداروں سے براہ راست بھی واقف ہیں۔ اس عرصے میں خطے کی سیاست میں طاقت کا توازن بدل گیا ہے۔ عالمی سیاست میں امریکی بالادستی کو چیلنج کرنے والی نئی طاقتوں کی وجہ سے پاکستان جیسے مسلم ممالک کیلئے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اس لیے ٹرمپ کی رخصتی کا جشن منانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ٹرمپ امت مسلمہ کا کھلا دشمن تھا جبکہ باقی امریکی قیادت کے دلوں اور دماغوں میں چھپی ہوئی دشمنی ظاہری دشمنی سے بھی زیادہ شدید ہے۔
بائیڈن انتظامیہ امریکہ میں ایک ایسے وقت میں اقتدار میں آئی ہے جب پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت اپنا ڈھائی سال کا سفر طے کرکے تیسرے پارلیمانی سال کے مکمل ہونے کے قریب پہنچ چکی ہے۔ حکومت کے چوتھے اور پانچویں سال میں بیوروکریسی پر گرفت ویسے ہی کمزور ہوجاتی ہے، اور پانچویں پارلیمانی سال میں حکومت اگلے عام انتخابات کی تیاری میں لگ جاتی ہے، اس طرح پلک جھپکتے ہی یہ سال گزر جاتا ہے۔ یوں عمران حکومت اور بائیڈن انتظامیہ کے مابین باہمی سفارتی تعلقات کیلئے عملاً ایک سال کا ہی وقت ہے۔ بائیڈن انتظامیہ کی نظر پاکستان میں مستقبل کے سیاسی نقشے پر رہے گی۔ پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ یہ رہی کہ یہ بے جوڑ شادی کی مانند چل رہے ہں، یہ بندھن نسل در نسل سے جاری ہے۔ امریکہ کی ہمارے لیے یقین دہانیوں کی بھی اپنی ایک تاریخ ہے، اس کے گرین کارڈ کا اپنا ایک الگ چسکا ہے جس کیلئے ہمارے ریٹائرڈ بیوروکریٹس، فوجی افسران اور سفارت کاروں کی ایک بڑی تعداد وہاں جابسی ہے، امریکی ڈالر ہماری معیشت کو جکڑے ہوئے ہے۔ ملک میں مہنگائی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ اس وقت دنیا کورونا کے سامنے بے بسی کا شکار ہوچکی ہے۔ نومنتخب امریکی صدر کی اوّلین ترجیح بھی صحتِ عامہ ہوگی، مگر حلف برداری سے پہلے وہاں کے سیاسی نظام کی صحت سے متعلق بہت سے سوالات اٹھے ہوئے ہیں۔ امریکیوں کی یہی شامتِ اعمال انہیں دنیا میں کمزور کردے گی۔ یہ خلفشار اب امریکہ کو چمٹ گیا ہے، اس کا وائرس اپنی شکلیں بدل بدل کر حملہ آور ہوتا رہے گا، مستقبل میں امریکی معاشرے میں ایسے سیاسی جھگڑے اب کبھی ختم نہیں ہوں گے۔ نومنتخب صدر جوبائیڈن امریکی سیاسی تہذیب کو کس قدر بچا سکیں گے؟ یہ سوال چار سال بعد ضرور سامنے آئے گا۔ اس وقت وہاں صحت کا نظام اور ملکی معیشت بدحال ہے، امریکہ پوری طرح کالے اور گورے میں تقسیم ہوچکا ہے۔ پاکستانی معاشرہ بھی امریکہ کے ساتھ تعلقات کے معاملے پر تقسیم رہا، مگر فیصلہ ساز قوتیں معاشرے کی سوچ پر حاوی رہی ہیں، لہٰذا پاک امریکہ نشیب و فراز کے ساتھ پاک امریکہ تعلقات چل رہے ہیں۔ پاک امریکہ تعلقات کے تجزیے کا ایک پہلو یہ ہے کہ دنیا کی سپر پاورکے ساتھ 73سال سے ہمارے تعلقات ہیں تو ہم معاشی لحاظ سے غربت کی لکیر سے نیچے کیوں ہیں؟ بے روزگاری اورقرضوں کا بوجھ بڑھتا ہی جارہا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ باہمی اعتماد کا عالم یہ ہے کہ دو طرفہ تعلقات میں باوقار برابری نہیں مل سکی، مگر ہم سات عشروں سے سراب کے پیچھے بھاگ رہے ہیں۔
جوبائیڈن کو اب خارجہ پالیسی کا چہرہ درست کرنا ہوگا۔ ٹرمپ اگرچہ انتخاب ہار گئے ہیں لیکن ان کے خیالات زندہ رہیں گے۔ بائیڈن کو ایک شورش پسند ٹرمپ کا مقابلہ کرنے کے ساتھ کورونا زدہ معیشت کی بہتری کیلئے بھی کام کرنا ہوگا اور داخلی ضروریات کو پورا کرنا ہوگا۔ امریکیوں کے روزگار اور کاروبار کا تحفظ کرکے ملک کو استحکام دینا ہوگا۔ چین کے ساتھ عسکری، معاشی، تکنیکی اور نظریاتی مقابلے کی جغرافیائی سیاست کا بھی امکان کم ہے۔ بائیڈن کی یہ کوشش ہوگی کہ وہ چین کو نیچا دکھانے کے بجائے ٹیکنالوجی میں امریکہ کو آگے لے جائیں۔ بائیڈن کہہ چکے ہیں کہ ان کی حکومت توانائی کے لیے 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی۔ خارجہ پالیسی میں مغربی یورپ اور جاپان کے ساتھ امریکہ کے تعلقات اہمیت کے حامل ہیں۔ بائیڈن انتظامیہ اسرائیل، بھارت اور خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے گی، روس کے ساتھ رویہ مختلف ہوسکتا ہے، اس لیے کہ یہ امریکہ کا ایک داخلی مسئلہ بھی ہے۔ چونکہ بائیڈن کو کانگریس میں بہت زیادہ حمایت حاصل نہیں ہوگی، اس لیے مقامی سیاست ان کے دیگر ایجنڈوں میں رکاوٹ بنے گی۔ اسی وجہ سے شاید ایران جوہری معاہدے میں دوبارہ شامل ہونے میں بھی کوئی جلدی نہ کی جائے۔ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے
 تعلقات کیلئے بائیڈن انتظامیہ اوباما انتظامیہ سے مختلف ہوگی، پاک امریکہ تعلقات کا انحصار ماضی پر نہیں ہوگا، کیونکہ اب بہت کچھ بدل چکا ہے، افغانستان کی جنگ اب تاریخ بنتی جارہی ہے، افغان حکومت اور طالبان امریکہ کیلئے اہم رہیں گے۔ اگر اس تنازعے کا کوئی حل نہ نکلا تو پاک افغان سرحدی علاقے متاثر ہوں گے۔ یہ ایک ایسا خطرہ ہے جو پاکستان کیلئے بہت بڑا امتحان ہوگا۔ امریکہ نہیں چاہے گا کہ انڈو پیسیفک حکمتِ عملی میں چین کے ساتھ ساتھ پاکستان کو بھی ہدف بنایا جائے۔ ایسا ہوا تو پاکستان چین کے مزید قریب ہوجائے گا، لیکن اگر پاکستان امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھنا چاہتا ہے تو اسے دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات پر مثبت ردِعمل دینا ہوگا۔ ماضی کی طرح دوبارہ امداد ملنے کا ابھی تک کوئی امکان نہیں ہے، کیونکہ وہ امداد سرد جنگ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے ملا کرتی تھی، اور اب یہ صورت حال موجود نہیں ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے