سمجھوتہ ایکسپریس کا فیصلہ بھارتی عدالت نے 4 ہندو انتہا پسندوں کو بری کر دیا

نئی دہلی (وائس آف ایشیا ) بھارتی عدالت نے سمجھوتہ ایکسپریس کا فیصلہ سنا دیا ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی عدالت نے پاکستانکی درخواست مسترد کر دی ہے۔بھارتی عدالت نے 4 ہندو انتہا پسندوں کو بری کر دیا ہے۔بھارت میں 2007 میں سمجھوتہ ایکسپریس میں ہونے والے دھماکے کے مقدمے کا فیصلہبھارت کی خصوصی عدالت کی جانب سے محفوظ کیا گیا تھا۔11سال کے بعد مقدمے کا فیصلہ محفوظ کیا گیا جہاں 4 ملزمان کے خلاف زیرسماعت مقدمے میں متعدد گواہ اپنے بیان سے مکرچکے تھے۔یاد رہے کہ لاہور اور دہلی کے درمیان چلنے والی سمجھوتہ ایکسپریس میں 2007 میں ہریانہ کےپانی پت کے مقام پر دھماکا ہوا تھا جس میں 43 پاکستانی جاں بحق ہوئے تاہم 10بھارتی شہریوں سمیت دھماکے میں مجموعی طور پر 68 افراد ہلاک ہو گئے تھے ،15افراد کی شناخت نہیں ہو سکی تھی، مرنے والوں میں 64 مسافر تھے جبکہ 4 کا تعلق ریلوے سے تھا۔بھارت کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے مطابق دہشت گرد حملے میں 10 پاکستانی زخمی بھی ہوئے تھے جبکہ دھماکے کے بعد لگنے والی آگ کے نتیجے میں ٹرین کی کئی کوچز جل گئی تھیں۔ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی نے اپنی رپورٹ میں اسے بھارت کی سالمیت، سیکیورٹی، خود مختاری اور اتحاد کو نشانہ بنانے کی منظم سازش قرار دیا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ابتدائی طور پر ہریانہ پولیس نے مقدمے کی ایف آئی درج کی تھی لیکن وزارت داخلہ نے 2010 میں اس حملے کا مقدمہ نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی منتقل کردیا تھا۔پہلی چارج شیٹ جون 2011 میں فائل کی گئی جس کے بعد اگست 2012 اور جون 2013 میں بالترتیب دو ضمنی چارج شیٹ دائر کی گئیں۔ دھماکے کا الزام 8 افراد پر عائد کیا گیا تھا جن میں سے صرف 4 نے مقدمات کا سامنا کیا، مقدمے میں مرکزی ملزم سوامی آسیم آنند عرف نابا کمار سرکار تھا جسے 2015 میں پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ضمانت دے دی تھی۔دیگر تین ملزمان کمال چوہان، راجیندر چوہدری اور لوکیش شرما سینٹرل جیل امبالا میں جوڈیشل حراست میں ہیں جبکہ تین ملزمان امیت چوہان، رام چندرا کال سنگرا اور سندیپ دانگے کو مقدمے میں اشتہاری ملزم قرار دیا گیا تاہم نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کی جانب سے ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا ایک اور ملزم سنیل جوشی دسمبر 2007 میں مدھیا پردیش میں مار دیا گیا تھا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس مقدمے کے مرکزی ملزم اسیم آنند کو حیدرآباد دکن میں مکہ مسجد دھماکے اور اجمیر درگاہ دھماکے میں بری کیا جا چکا ہے۔




نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسندا آرڈرن انسان دوستی کی مثال

اسلام آباد(وائس آف ایشیا) پاکستان کے نوجوانوں میں نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسندا آرڈرن ایک قابل احترام اور مقبول شخصیت کے طور پر ابھری ہیں. ایک رپورٹ کے مطابق کرائسٹ چرچ سانحہ سے پہلے تک عام پاکستانی شہری وزیراعظم جیسندا آرڈرن کے نام سے بھی واقف نہیں تھے مگر آج وہ ایک قابل احترام اور مقبول شخصیت کے طور پر جانی جارہی ہیں.رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر سے مسلمان نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو ای میل‘سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع سے پغامات ارسال کرکے ان کی تعریف وتوصیف کرررہے ہیں. وزیراعظم جیسندا آرڈرن اپنی پارلیمنٹ میں کرائسٹ چرچ مسجد میں فائرنگ کے مرتکب دہشت گرد کو مجرم انتہا پسند قرار دیتے ہوئے اس کا نام نہ لینے کا اعلان دنیا بھر میں دہشت گردی اور دہشت گردوں سے نفرت کا واضح پیغام دینا یہ ظاہر کرتا ہے کہ انسانی جانوں سے کھیلنے والے کسی قسم کی ہمدردی یا مدد کے مستحق نہیں .ان کی جانب سے یہ کہا جانا کہ میں یہاں صرف ان کے نام لینا چاہتی ہوں جو شہید ہوئے اور خصوصاً حملہ کے دوران دہشت گرد کو روکنے والے پاکستانی ہیرو نعیم رشید کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتی ہوں جس نے اپنی جان دے کر کئی زندگیوں کو بچایا‘ یہ دراصل وہ احساس اور خدمات ہیں جو دہشت گردوں سے نمٹنے والوں سے یکجہتی کے اظہار کیلئے ہیں. کرائسٹ چرچ میں دو مساجد میں ہونے والی دہشت گردی پر نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کی جانب سے اختیار کئے جانے والے طرزعمل نے شہدا کے عزیز و اقارب نے ان کی جانب سے یکجہتی کا اظہار، دکھ کرب اور غم کی فضا میں ان سے لپٹنا اور حوصلہ دینا یہ ظاہر کر رہا ہے کہ وہ خالصتاً انسانی جذبہ کے تحت مسلمانوں کے دکھ میں شامل ہوئیں۔نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے بعد کینیڈا کے وزیراعظم کی جانب سے بھی مسلم عیسائی اور یہودیوں سمیت تمام مذاہب کے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ انتہا پسندانہ اور شدت پسندانہ رجحانات سے نمٹنے کیلئے مل بیٹھ کر کوئی لائحہ عمل تیار کیا جائے.یورپ اور مغرب سے ایسی آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں کہ دہشت گردی کا تعلق کسی نسل’ مذہب اور فرقے سے نہیں۔ یہ انسانیت کی دشمن ہے اور اس سے نمٹنے کیلئے اس کی جڑیں کاٹنے کیلئے سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا. یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ جہاں ایک جانب نیوزی لینڈ کے اس واقعہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ہلا کر رکھ دیا وہاں مغرب سے مشرق کے مقابلہ میں زیادہ موثر آوازیں اٹھتی نظر آتی ہیں اور اس کا کریڈٹ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو جاتا ہے جو نیوزی لینڈ کی 150 سالہ تاریخ میں سب سے کم عمر وزیراعظم ہیں اور انہوں نے کسی قسم کی لگی لپٹی رکھے بغیر پہلے ہی روز سانحہ کے فوری بعد حملہ کے مرتکب شخص کو دہشت گرد قرار دیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹیلی فونک کال پر مدعو ہونے کی بجائے واضح طور پر کہا کہ مرنے والے انسان ہیں اور ہمیں انسانیت کے ناطے ان کے دکھ غم میں ان کا ساتھ دینا ہے.آج دنیا کو نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جیسی لیڈرشپ کی ضرورت ہے جو انسانیت کے قتل و عام کو مختلف مذاہب اور عقیدوں کی عینک سے دیکھنے کی بجائے انسانیت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اپنی عوام کے سامنے بھی سرخرو ہوتے ہیں. نیوزی لینڈ چھوٹا ملک ضرور ہے لیکن چھوٹے ملک کی وزیراعظم نے بڑے پن کا مظاہرہ کر کے اپنی قیادت کو دنیا میں سرخرو کیا ہے. نیوزی لینڈ کی حکومت نے نہ صرف شہدا کی تدفین کے اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا بلکہ قتل عام کی وجہ سے آمدنی کا ذریعہ گنوا دینے والے افراد’ ان کے عزیزو اقارب کو سالوں تک مالی مدد فراہم کرنے کا اعلان کر کے انسان دوستی کی ایسی مثال قائم کی ہے جو مدتوں یاد رہے گی.




برطانیہ کی طرف سے یورپی یونین سے بریگزٹ تاریخ میں توسیع کی درخواست

لندن(وائس آف ایشیا)یورپی یونین سے علیحدگی کی تاریخ سے دس روز قبل برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے یورپی یونین سے بریگزٹ کی تاریخ میں توسیع کا عندیہ دیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم کے ایک ترجمان کے مطابق بریگزٹ کی تاریخ میں توسیع کے لیے بدھ کے روز یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک کو ایک خط لکھا جائے گا۔ میڈیا کے مطابق برطانوی حکومت تین ماہ کی مہلت حاصل کرنا چاہتی ہے۔ بریگزٹ کی تاریخ میں دو سال تک کی توسیع ممکن ہے۔ یورپی یونین کے مطابق بریگزٹ تاریخ میں توسیع اسی صورت میں فائدہ مند ہے اگر برطانوی پارلیمان میں بریگزٹ معاہدے کی منظوری کے امکانات میں اضافہ ہوتا ہے۔




سوئس پارلیمان نے شدت پسندوں کو ان کے ملکوں کو حوالے کرنے کی منظوری

زیورخ(وائس آف ایشیا)یورپی ملک سوئٹرزلینڈ کی پارلیمان نے ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت ملک میں موجود شدت پسند عناصر کو دوسرے ملکوں کے حوالے کی منظوری دی ہے، جہاں انہیں ممکنہ طورپر تشدد کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ سوئس حکام نے یہ وضاحت نہیں کہ آیا وہ ایسی کسی کارروائی کی صورت میں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی سے کیسے بچ سکتی ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق سوئس دستور کے تحت کسی بھی شخص کو اس ملک کے حوالے کیا جاسکتا ہے جہاں اسے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا بھی امکان ہوتا ہے مگر ملک پارلیمان نے معمولی اکثریت سے ایک بل کی منظوری دی س کے تحت غیرملکی شدت پسندوں کو اس پابندی سے مستثنی کیا گیا۔سوئس ارکان پارلیمان کو داعش کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے سخت مایوس ہیں۔ انہیں خدشہ ہے کہ عراق کے شدت پسندوں کو ان کے ملک کے حوالے کیے جانے سے انہیں وہاں پر غیر انسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔تاہم ملک کے بعض حلقے اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ شہریوں کا کہناہے کہ سوئٹرزلینڈ کو ان افراد کو اپنے ہاں پناہ نہیں دینی چاہیے۔ کنزر ویٹیو ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پابندی ٹیکسوں کی رقم شدت پسندوں کی بہبود پر صرف کرنے کے مترادف ہے۔سوئس خاتون وزیر انصاف کارین کیلر سوتر نیایوان میں شدت پسندوں سے متعلق بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت اس طرح کے اقدامات کی حمایت کرے گی مگر ہمارے ہاتھ بندھے ہوئے نہیں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلی ترجیح میں یہ معاملہ حل کرنا چاہتیہیں مگر ہمیں قانون کی بالادستی کو ہرصورت میں یقینی بنانا ہوگا۔ان شدت پسندوں نے ایک معذور ملزم بھی شامل ہے جو اس وہیل چیئر پر ہے۔ اس پر 2016 میں داعش کے ساتھ تعاون کرنے اور دہشت گردانہ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے کا الزام عایدکیا گیا ہے۔ اسے گرفتار کیا گیا مگر بعد ازاں رہا کرکے ایک پناہ گزین مرکز میں رکھا گیا ہے اور وہ بے دخلی سے بچنے کی کوششیں کررہا ہے۔رواں ماہ سوئٹرزلینڈ نے اعلان کیا تھا کہ وہ شام اور عراق میں شدت پسندوں میں شامل ہونے والے شہریوں کی واپس آنے میں مدد نہیں کرے گا۔ حکومت کا کہنا تھاکہ ملک کی سلامتی اس کی پہلی ترجیح ہے جس پر کوئی سودے بازی نہیں ہوسکتی۔سوئٹرزلینڈ ان ممالک میں شامل ہے جو اقوام متحدہ کے قیدیوں پر عدم تشدد کے معاہدے کا حصہ ہے۔ اس معاہدے میں شامل ممالک کسی بھی شہری کو جسے دوسرے ملک میں ممکنہ طورپر تشدد کا سامنا کرنا پڑے کے حوالے کرنے سے روکتے ہیں۔




ہالینڈ ٹرام حملہ: ملنے والے خط سے دہشت گرد مقاصد کی طرف اشارہ

یوتریخت(وائس آف ایشیا) ڈچ حکام کا کہنا ہے کہ یوتریخت ٹرام حملے کے مشتبہ مسلح شخص کی کار سے ملونے والے خط کی روشنی میں وہ دہشت گرد مقصد کی سنجیدگی سے تحقیقات کر رہے ہیں۔ پیر کو 3 افراد کی ہلاکت اور 7 کے زخمی ہونے کے واقعے پر پولیس 37 سالہ ترک نژاد مشتبہ شخص گوکمین تانس اور 2 دیگر افراد سے سوالات کر رہی ہے۔اس سے قبل ڈچ وزیر اعظم مارک روتتے کا کہنا تھا کہ گھریلو تنازع اور دیگر مقاصد کو خارج نہیں کیا جاسکتا لیکن پولیس اور پراسیکیوٹرز کا کہنا تھا کہ تحقیقات دہشت گردی کی طرف بڑھ رہی ہے۔انہوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ اب تک دہشت گردی کے مقصد کو سنجیدگی سے لیا جارہا ہے، یہ دیگر چیزوں سمیت کار سے ملنے والے خط اور زمینی حقائق کی بنیاد پر کیا جارہا ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ہماری تحقیقات میں مرکزی ملزم اور متاثر کے درمیان کوئی رابطہ سامنے نہیں آیا، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ فائرنگ کے واقعے میں جنوب یوتریخت کے ویانین سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ خاتون اور یوتریخت کے 28 سالہ اور 49 سالہ مرد شامل ہیں۔پولیس کا کہنا تھا کہ انہوں نے ایک سرخ رینالٹ کلیو گاڑی پکڑی، جسے حملہ آور نے بچا کار کے طور پر استعمال کیا تھا جبکہ ملزم کی گرفتاری کے بعد ایک آتشی اسلحہ بھی ملا تھا۔پولیس کا مزید کہنا تھا کہ تانس کے علاوہ 23 سالہ اور 27 سالہ دیگر 2 افراد سے بھی تحقیقات کی جارہی ہے، رپورٹس کے مطابق یہ دونوں افراد بھائی ہیں لیکن مرکزی ملزم سے ان کا تعلق نہیں ہے۔علاوہ ازیں 24 اوکتوبرپلین اسکوائر کے قریب حملہ کے مقام پر سوگ کی فضا ہے اور لوگ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے وہاں پھول رکھ رہے ہیں۔اس کے علاوہ ہالینڈ میں مختلف عمارتوں اور غیر ملکی سفارتخانوں پر پرچم سرنگوں ہے، تاہم فارنزک پولیس کی جانب سے اپنی تفتیش مکمل کرنے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ رواں دواں ہوگئی جبکہ فائرنگ کا شکار ٹرام کو ہٹا دیا گیا۔اس کے ساتھ ساتھ ملزم سے متعلق یہ بات سامنے آنے کے بعد کہ وہ 2 ہفتے قبل ہی ریپ کیس میں جیل سے بری ہوا تھا لوگوں میں غم و غصہ مزید بڑھ رہا ہے۔




کرائسٹ چرچ حملے کے بعد زیادہ سے زیادہ مسلمانوں کو بیرون ملک جا کر بسنا چاہئیے

نیوزی لینڈ (وائس آف ایشیا) 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی النورمسجد اور لِین وڈ میں واقع مسجد میں جمعہ کی نماز کے دوران سفید فام انہتا پسند نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 50 افراد شہید جبکہ متعدد زخمی ہوئے تھے۔ شہید ہونے والے افراد میں 9 پاکستانی شہری بھی شامل تھے۔ کرائسٹ چرچ حملے کے بعد دنیا بھر میں موجود مسلمان ایک دوسرے سے اظیہار یکجہتی کر رہے ہیں جبکہ غیر مسلم کمیونٹی بھی مسلمانوں کے حق میں کھڑی ہو گئی ہے جو مذہبی ہم آ ہنگی کی سب سے بڑی مثال ہے۔سانحہ کرائسٹ چرچ میں شہید ہونے والے ہارون محمود کے اہل خانہ کسی قسم کے خوف میں مبتلا نہیں ہیں، ان کا ماننا ہے کہ مسلمانوں کو دنیا بھر کے زیادہ سے زیادہ ممالک میں جا کر بسنا چاہئیے تاکہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں دنیا کی عمومی منفی رائے تبدیل ہو سکے۔ہارون محمود کی ہمشیرہ کا کہنا تھا کہ ہم لوگ نہیں تھکیں گے ، وہ لوگ تھک جائیں گے۔کتنی دفعہ ماریں گے اور کس کس کو ماریں گے ؟ ہارون محمود کی والدہ کا کہنا تھا کہ ہارون بھاگتا دوڑتا ہوا مسجد گیا اور وہاں یہ واقعہ پیش آ گیا۔ میری بہو اپنے بچوں کے ساتھ اپنی دوست کے گھر تھی۔ پھر فون آیا کہ شناخت کے لیے پاسپورٹ اور شناختی کارڈ کی کاپی چاہئیے۔ میرے سارے بچے اور بھتیجے بھتیجیاں فون ہاتھ میں پکڑ کر بیٹھے ہوئے تھے کہ شاید ہارون کی کوئی خبر آجائے۔شاید لا پتہ افراد میں ہی اْس کا نام آجائے۔ کیونکہ خبر آ رہی تھی کہ کچھ لوگ لا پتہ بھی ہیں۔ ان بچوں نے بڑی کوشش کی لیکن کچھ پتہ نہیں چل سکا۔ آخری خبر صبح موصول ہوئی جس میں پتہ چلا کہ ہارون شہید ہو گیا ہے۔ ہارون نے مجھے کہا تھا کہ 3 مئی کو میری گریجویشن آ رہی ہے۔ اگر میں آپ کو ٹکٹ بھیجوں تو کیا آپ آ جائیں گی ؟ میں نے کہا کہ میں ضرور آؤں گی میرے لیے تو عزت کی بات ہے۔یہ پروگرام بن رہے تھے ، پھر اْس نے مجھے کہا کہ میں نے چھوٹی عید یہاں پر بچوں کے ساتھ کرنی ہے۔ میں ٹکٹس دیکھ رہا ہوں کہ کیا ریٹ چل رہا ہے۔ ہارون کی والدہ نے بتایا کہ پھر میں نے سنا کہ پچیس مئی کے لیے اس کی ٹکٹ کا انتظام ہو گیا ہے۔ہم بے حد خوش تھے کہ وہ آ رہا ہے۔ لیکن وہ اس سے پہلے ہی بڑی ڈگری لے کر چلا گیا۔ ہارون کی والدہ یہ کہتے ہوئے آبدیدہ ہو گئیں۔یاد رہے کہ کرائسٹ چرچ مساجد پر حملے میں ایک اور پاکستانی شہری شہید سہیل جو لاہور کے علاقہ باغبانپورہ کا رہائشی تھا، کے بھائی کا کہنا تھا کہ میرے بھائی گذشتہ دو سال سے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں مقیم تھے۔شہید سہیل کے بھائی نے بتایا کہ ہم پانچ بھائی ہیں اور میں سب سے چھوٹا ہوں۔ ایک بڑے بھائی امریکہ اور ایک آسٹریلیا میں ہیں۔ایک بھائی یہاں پاکستان میں نوکری کر رہے ہیں۔ سہیل بھائی چوتھے نمبر پر تھے۔ والد کی ہارٹ اٹیک سے 2009ء4 میں انتقال ہو گیا۔ والدہ بھی مریض ہیں، ہم نے بھائی کی شہادت کا انہیں اگلے دن بتایا تھا۔ واضح رہے کہ اس سانحہ میں شہید ہونے والے پاکستانی شہریوں میں سہیل شاہد، سید جہانداد علی، سید اریب احمد، محبوب ہارون ،نعیم رشید اور ان کے بیٹے طلحہٰ، ذیشان رضا، ان کے والد غلام حسین اور والدہ کرم بی بی شامل ہیں۔




مسلم مخالف سوچ لے کر آنے والوں کو ترک صدر کی انتباہ کسی نے ترکی میں آ کر مسلمانوں پر حملہ کیا تو وہ زندہ واپس نہیں جائے گا۔ ترک صدر

استبول (وائس آف ایشیا) مسلم مخالف سوچ لے کر آنے والوں کو ترک صدر طیب اردگان نے انتباہ کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک صدر طیب اردگان کا کہنا ہے کسی نے ترکی میں آ کر مسلمانوں پر حملہ کیا تو وہ زندہ واپس نہیں جائے گا۔1916ء میں ترکی پر حملہ آور اتحادی ناکام ہوئے تھے۔اسی طرح آج بھی ہر حملہ آور ناکام ہو گا۔گذشتہ روز بھی ترک صدر طیب اردگان نےنیوزی لینڈ میں شہید ہونے والے مسلمانوں کے اہل خانہ کے ساتھ اظہار ہمدری کی تھی ۔ترک صدر کا ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ بطور مسلمان ہم کبھی نہیں جھکیں گے اور نہ ہی ہم ان دہشتگردوں کی سطح تک نیچے گریں گے۔ہمارا رویہ کسی بھی معصوم کی شہادت پر ایسا ہی ہو گا چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو اور اس کا مذہب جو بھی ہو۔ہم نے جو رویہ نیوزی لینڈ، فلسطین اور میانمار میں معصوم مسلمانوں کے قتل کے خلاف اپنایا وہی اصول کسی بھی معصوم شخص کے قتل کے خلاف اپنائیں گے۔ہم اپنے اخلاق سے اس دنیا کو بدل دیں گے اور یہ سب ہمیں کسی جبر یا استحصال سے نہیں بلکہ اپنے ایمان سے ملے گا۔اسلام ہمیں اخلاقیات کا درس دیتا ہے جو کہ انسانیت کے لیے بھی ضروری ہے۔واضح رہے گذشتہ روزترک صدر طیب اردگان نے نیوزی لینڈ میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی تھی اور کہا کہ اللہ متاثرین پر رحم کرے اور زخمیوں کو جلد صحتیاب کرے۔صدر طیب اردگان نے افسوناک واقعے پر مسلم دنیا سے تعزیت کی اور ٹویٹر پیغام میں کہا کہ میں اپنے ملک کی طرف سے پوری مسلم امہ اور نیوزی لینڈمیں ہونے والے حملے سے متاثرہ لوگوں سے اظہار تعزیت کرتا ہوں۔ ترک صدر نے اسے اسلام فوبیا کا نتیجہ قرار دے دیا تھا۔خیال رہے نیوزی لینڈ میں مساجد پر حملہ کرنے والا دہشت گرد دو بار ترکی بھی جا چکا تھا۔




شام میں فوج کی تعداد کم کرنے کے منصوبے پر کام جاری رہے گا، امریکی وزیردفاع

واشنگٹن(وائس آف ایشیا)امریکی وزیر دفاع پیٹرک شاناھن نے کہا ہے کہ شام سے امریکی فوج کی تعداد میں کمی کے منصوبے پرکام جاری ہے۔ایک بیان میں امریکی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ انہوں نے امریکا اور اس کے اتحادیوں بالخصوص عراق کے ساتھ ‘داعش’ کے شام سے خاتمے کے بعد کے حالات پر بات چیت کی ہے۔امریکی وزیر دفاع نے ان خیالات کا اظہار اپنی فرانسیسی ہم منصب سے ملاقات کے بعد کیا۔




سانحہ کرائسٹ چرچ مساجد، قرآن پاک کی تلاوت سے نیوزی لینڈ پارلیمنٹ اجلاس کا آغاز

نیوزی لینڈ(وائس آف ایشیا)سانحہ کرائسٹ چرچ مساجد کے بعد آج نیوزی لینڈ میں پارلیمنٹ کا اجلاس قرآن پاک کی تلاوت سے شروع کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ میں آج پارلیمنٹ کے اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ وزیراعظم جیسنڈا نے اجلاس میں اپنی تقریر کے آغاز پر شرکا کو اسلام علیکم کہا اور اجلاس میں دوسروں کی جان بچاتے ہوئے شہید ہونے والے بہادر پاکستانی شہری نعیم راشد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نیوزی لینڈ جسینڈا نے کہا کہ میں یہاں دہشت گردی کرنے والے کا نام لینا بھی پسند نہیں کروں گی اور آپ لوگ کبھی مجھ سے اس کا نام بھی نہیں سنیں گے۔ وہ ایک دہشت گرد ہے، ایک مجرم ہے اور وہ ایک انتہا پسند ہے لیکن وہ بے نام ونشان رہے گا۔ہمیں ان لوگوں کا نام لینا چاہئیے جنہوں نے اپنی جان گنوا دی بجائے اس کے کہ اس کا نام لیا جائے جس نے جان لی۔ہم نیوزی لینڈ میں اسے کچھ بھی نہیں دیں گے ، یہاں تک کہ نام بھی نہیں۔ نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران دوسروں کی جان بچاتے ہوئے شہید ہونے والے بہادر پاکستانی شہری نعیم راشد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نیوزی لینڈ جسینڈا نے کہا کہ نعیم راشد جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔جو مساجد پر اندھا دھند فائرنگ کرنے والے حملہ آور سے بندوق چھیننے کے دوران میں شہید ہو گئے۔وزیراعظم نے کہا کہ نعیم راشد نے مسجد کے اندر عبادت کرنے والے لوگوں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان گنوا دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مساجد پر حملوں میں مرنے والوں کا تعلق اس مذہب سے تھا جو کشادہ دل کے ساتھ سب کا استقبال کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر 15 مارچ کو جمعہ کے روز ایک سفید فام انتہا پسند نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 50 افراد شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ شہید ہونے والوں میں 9 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔




مسلمان اس جمعہ کی نماز پڑھیں ، ہم ان کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوں گے وزیراعظم جیسنڈا

نیوزی لینڈ (وائس آف ایشیا) نیوزی لینڈ میں پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم جیسنڈا کا کہنا ہے کہ مسلمان اس جمعہ کی نماز ادا کریں ہم ان کی حفاظت کے لیے کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نیوزی لینڈ کی سرزمین پر دہشتگردی کا واقعہ دوبارہ نہیں ہونے دیں گے۔ وزیراعظم نیوزی لینڈ جسینڈا نے کہا کہ میں یہاں دہشت گردی کرنے والے کا نام لینا بھی پسند نہیں کروں گی اور آپ لوگ کبھی مجھ سے اس کا نام بھی نہیں سنیں گے۔وہ ایک دہشت گرد ہے، ایک مجرم ہے اور وہ ایک انتہا پسند ہے لیکن وہ بے نام ونشان رہے گا۔ ہمیں ان لوگوں کا نام لینا چاہئیے جنہوں نے اپنی جان گنوا دی بجائے اس کے کہ اس کا نام لیا جائے جس نے جان لی۔ ہم نیوزی لینڈ میں اسے کچھ بھی نہیں دیں گے ، یہاں تک کہ نام بھی نہیں۔حملہ آور آسٹریلیا میں پلا بڑھا نیوزی لینڈ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کے اجلاس کے دوران دوسروں کی جان بچاتے ہوئے شہید ہونے والے بہادر پاکستانی شہری نعیم راشد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔وزیراعظم نیوزی لینڈ جسینڈا نے کہا کہ نعیم راشد جن کا تعلق پاکستان سے ہے۔جو مساجد پر اندھا دھند فائرنگ کرنے والے حملہ آور سے بندوق چھیننے کے دوران میں شہید ہو گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ نعیم راشد نے مسجد کے اندر عبادت کرنے والے لوگوں کی جان بچانے کے لیے اپنی جان گنوا دی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مساجد پر حملوں میں مرنے والوں کا تعلق اس مذہب سے تھا جو کشادہ دل کے ساتھ سب کا استقبال کرتے ہیں۔جیسے 71 سالہ مسلمان نے دہشت گرد کو نہ جانتے ہوئے مسجد کا دروازہ کھولا اور اسے خوش آمدید کہا اسی طرح نیوزی لینڈ تمام امن پسندوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اس جمعہ کی نماز پڑھیں گے، ہم مسلمانوں کی حفاظت اور ان کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔ انہوں نے متاثرین کو یقین دہانی کروائی کہ انصاف کے تقاضے پورے اور دہشت گرد کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔واضح رہے کہ نیوزی لینڈ میں آج پارلیمنٹ کے اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا۔ وزیراعظم جیسنڈا نے اجلاس میں اپنی تقریر کے آغاز پر شرکا کو اسلام علیکم کہا اور اجلاس میں دوسروں کی جان بچاتے ہوئے شہید ہونے والے بہادر پاکستانی شہری نعیم راشد کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ یاد رہے کہ نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر 15 مارچ کو جمعہ کے روز ایک سفید فام انتہا پسند نے حملہ کیا جس کے نتیجے میں 50 افراد شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ شہید ہونے والوں میں 9 پاکستانی شہری بھی شامل ہیں۔




بھارتی فوجی کریک ڈاون ،اڑھائی ماہ کے دوران وادی 700سے زائد افراد گرفتار

سری نگر(وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں قابض انتظامیہ نے گزشتہ اڑھائی ماہ کے دوران وادی کے طول وعرض میں مزاحمتی اور مذہبی قیادت اور کارکنوں کے خلاف کارروائیوں میں700سے زائد افراد کو گرفتارکیا ہے۔گرفتار ہونے والوں میں سے جن21 افراد پر کالا قانون پبلک سیفٹی ایکٹ لاگوکیاگیا ہے ان میں محمد یاسین ملک، مشتاق احمد وانی، غلام نبی سمجھی اور کمسن لڑکا عاقب گلزارنمایاں ہیں۔ ان سب کو وادی کشمیر سے باہر کی جیلوں میں منتقل کیا گیا ہے۔غیر قانونی طورپر قیدجموں وکشمیر مسلم لیگ کے چیئرمین مسرت عالم بٹ کو 2015 میں درج کئے گئے ایک جھوٹے مقدمے کی سماعت کے لیے جموں کی امپھا لہ جیل سے سرینگر لایا گیا۔حریت رہنما ؤں ، بارایسوسی ایشن ، تاجرتنظیموں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے گرفتاریوں کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ ، اسلامی تعاون تنظیم، انسانی حقوق کونسل ، بین الاقوامی ریڈکراس کمیٹی ، ایمنسٹی انٹرنیشنل اور انسانی حقوق کے دیگر عالمی اداروں پر زوردیا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بدترین صورتحال کانوٹس لیں۔




نیوزی لینڈ مساجد پر حملہ کرنے والے دہشتگرد کی جان کو خطرہ

نیوزی لینڈ (وائس آف ایشیا) نیوزی لینڈ کی مساجد پر حملہ کرنے والے سفید فام دہشتگرد برینٹن ٹیرنٹ کی جان کو خطرہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق نیوزی لینڈ پولیس کی زیر حراست برینٹن ٹیرنٹ کو جیل میں قید کے دوران نشانہ بنائے جانے کا خدشہ ہے۔ سالہ برینٹن ٹیرینٹ کو خبردار کیا جاچکا ہے کہ مساجد پر ہولناک دہشت گردی کے بعد وہ گینگ اراکین کے نشانے پر ہے۔اس سلسلے میں ایک گینگ سے تعلق رکھنے والے شخص نے دھمکی ا?میز انداز میں نیوزی لینڈ ہیرلڈ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہمارے دوست (جیل کے) اندر بھی موجود ہیں۔ بظاہر انہوں نے واضح الفاظ میں دھمکی نہیں دی لیکن ان کا دھمکی آمیز انداز صاف ظاہر تھا۔ماہرین کا بھی یہی ماننا ہے کہ ملزم برینٹن ٹیرنٹ جیل میں سب سے زیادہ نشانے پر ہے اور قید کے دوران اس کی جان کو سب سے زیادہ خطرہ لاحق ہے۔اس حوالے سے جیل میں خدمات انجام دینے والے کینٹربری یونیورسٹی کے کرمنالوجسٹ گیرگ نیوبولڈ کا کہنا تھا کہ ان دھمکیوں کو سنجیدگی سے لینا چاہئیے۔ میں انہیں انتہائی سنجیدہ نوعیت کا سمجھتا ہوں اور کہوں گا کہ ملزم انتہائی خطرے میں ہے۔جیل میں یقیناً ایسے بہت سے لوگ ہوں گے جو اس واقعے پر سیخ پا ہوں گے خاص کر جب کہ ملزم سفید فام برتری کا حامل انتہا پسند ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ جیل میں موجود اکثریت افراد سفید فام نہیں، اس لیے برینٹن ٹیرنٹ کو اپنی طرح کسی سفید فام برتری کے حامل شخص کا ساتھ ملنا مشکل ہے۔ کیونکہ ان کی تعداد کافی کم ہے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ساؤتھ ا?ئی لینڈ جیل میں بہت کم سفید فام افراد قید ہیں لہٰذا اگر برینٹن ہیریسن ٹیرنٹ کو اس حملے پر مجرم قرار دے دیا جاتا ہے تو اسے سزا پوری کرنے کے لیے آکلینڈ میں موجود جیل میں انتہائی سخت سیکیورٹی میں قید رکھے جانے کا امکان ہے۔مجرم ثابت ہونے کے بعد برینٹن کو طویل عرصے تک قیدِ تنہائی میں رکھا جائے گا اور اس دوران وہ زیادہ تر اپنے سیل میں مقید ہوگا۔چونکہ ملزم کو آسانی سے قتل کیا جاسکتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ انسانوں سے اس کا رابطہ کم سے کم ہو۔ یاد رہے کہ برینٹن ٹیرنٹ کو جب پہلی مرتبہ 16 مارچ کو عدالت کے رو برو پیش کیا گیا تھا ، تب بھی ایک چاقو بردار شخص نے برینٹن پر حملہ کرنے کی کوشش کی تھی۔جیسے ہی مرکزی ملزم کو عدالت لایا گیا ایک چاقو بردار شخص نے عدالت میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ نیوزی لینڈ ہیرلڈ کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ شخص نے میڈیا کو بتایا کہ وہ برینٹن پر چاقو کے وار کرنا چاہتا تھا۔ یاد رہے کہ سفید فام انتہا پسند 28 سالہ آسٹریلوی شہری برینٹن ٹیرنٹ نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی مساجد پر حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں 50 افراد شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔ برینٹن 5 اپریل تک ریمانڈ پر ہے۔




نیوزی لینڈ طرز کا حملہ برطانیہ میں بھی ہو سکتا ہے برطانوی وزیر سیکورٹی

برطانیہ(وائس آف ایشیا) نیوزی لینڈ طرز کا حملہ برطانیہ میں بھی ہو سکتا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانوی وزیر سیکورٹی بین ویلس نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ برطانیہ میں بھی مسلماں وں پر کرائسٹ چرچ کے طرز پر حملوں کا خطرہ ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں انہتائی دائیں بازو کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا برطانیہ نے انتہائی دائیں بازو کی جانب بڑھتے ہوئے خطرات پر نظر رکھی ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کرائسٹ چرچ حملہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بھی ایک خطرے کی گھنٹی ہے کیونکہ مساجد پر حملہ کرنے والا شخص 17منٹ تک حملے کی لائیو ویڈیو نشر کرتا رہا۔اصل ویڈیو کو ڈیلیٹ کرنے کی بجائے یہ یو ٹیوب اور ٹویٹر سمیت دیگر پلیٹ فارم پر تیزی سے نقل کی گئی۔ہم یہ واضح کر چکے ہیں کہ ٹیک کمپنیوں کو دہشت گردی کے مواد کو دور کرنے کے لئے زیادہ تیزی سے کام کرنے کی ضرورت ہے اس سے پہلے کہ یہ مواد عام صارفین کو دستیاب ہو۔حکومت کو سوشل میڈیا چلانے والی کمپنیوں کو واضح طور بتا دینا چاہئیے کہ وہ کس طرح سے صارفین کو محفوظ بنا سکتے ہیں۔فیس بک نے کہا کہ اس حملے 1.5 ملین سے زائد ویڈیوز ڈیلیٹ کی جا چکی ہیں۔یو ٹیوب نے بھی کہا کہ اس نے ہزاروں سے زائد ویڈیوز کو ہٹا دیا ہے اور اسلحہ کو فروغ دینے والے سینکڑوں اکاؤنٹس کو ختم کر دیا ہے.برطانوی وزیر سیکورٹی بین ویلس نے مزید کہا کہ حکومت ہر طرح کی دہشت گردی اور انتہا پسندی کو سنجیدہ لے رہی ہے اور اس سے نمٹنے کے لیے انسداد دہشت گردی کی حمکت عملی بنائی ہے۔دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف حکومتی اقدمات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کسی قسم کی دہشت گردی چاہے نظریاتی،اسلامسٹ،انتہائی دائیں بازو اور بائیں بازو کے انتہا پسندوں سب سے نمٹنے کی حکمت عملی تیار ہے۔جہاں پر بھی خطرہ جنم لے گا اس کو روکنے کے لیے حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے براہ راست فنڈنگ کے لیے احکامات دیں گے۔جب کہ برطانوی وزیر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ انتہائی دائیں بازو کا گروپ ہے جو دہشت گرددوں کو مستقبل کے لیے تیار کر رہا ہے۔




بس بہت ہو چکا، دنیا میں فساد کیلئے کوئی جگہ نہیں‘ کینیڈین وزیراعظم

ٹورنٹو(وائس آف ایشیا) کینیڈین وزیر اعظم جسٹس ٹروڈو نے نیوزی لینڈ میں دہشت گردی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بس بہت ہو چکا، دنیا میں فساد کے لیے کوئی جگہ نہیں، اس قسم کے واقعات کی بڑھتی ہوئی وجہ اسلامو فوبیا ہے۔منگل کو ایک بیان میں وزیراعظم کینیڈا جسٹس ٹروڈو نے کہا کہ میں کینیڈا کی جانب سے دل سے نیوزی لینڈ کے غم میں شریک ہوں، چند روز پہلے ہمارا دوست اور اتحادی ملک تاریخ کی بدترین دہشت گردی کا شکار ہوا اور یہ سب اسلام فوبیا کی وجہ سے ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 50 مرد، عورتوں اور بچوں کو عبادت کے دوران مار دیا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک دہشت گرد، بزدل اور مونسٹر نے یہ کارروائی کی، میں دنیا کے تمام ممالک سے اپیل کرتا ہوں کینیڈا کیساتھ کھڑے ہوں۔کینیڈین وزیر اعظم نے کہا کہ اس لڑائی میں مسلمان، عیسائی، یہودی، سیاہ فام اور سفید فام ہم سب کو اس نفرت کیخلاف ایک ٹیم کی طرح لڑنا چاہئے، ایک ٹیم کی حیثیت سے اس صورتحال کو نارمل نہیں لینا چاہئے۔




پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکہ کی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ ہے مائک پومپیو کا انکشاف

نیو یارک(وائس آف ایشیا) امریکی محکمہ خارجہ کے سیکرٹری مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکی سلامتی کو درپیش دنیا کے پانچ بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔ مائک پومپیو نے ایک اور موقع پر دنیا کو یہ بتا کرورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نیا ورلڈ آرڈر لکھ رہے ہیں۔حال ہی میں دئے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں مائیک پومپیو نے کہا کہ امریکی سلامتی کو درپیش پانچ بڑے مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے غلط ہاتھوں میں لگ جانے کا خدشہ ان میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حفاظت کا انتظام ہر لحاظ سے عالمی معیار کا ہے اس پر کوئی دو رائے نہیں ہے۔بین الاقوامی ادارے اس پراپنی رپورٹ بھی دے چکے ہیں۔وائس آف امریکہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ کے سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو نے دعویٰ کیا کہ ہم نے پاکستان کے خلاف جو ایکشن لیے ہیں وہ ہم سے پہلے کسی حکومت نے نہیں لیے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے مسئلے کو میں بہت سنجیدہ لیتا ہوں کیونکہ میں نے خود اپنے دوستوں کو اس لڑائی میں کھویا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کسی بھی شخص یا ملک سے زیادہ قربانیاں پاکستان نے دی ہیں جس کا اعتراف خود امریکی حکام سمیت عالمی رہنما کرتے ا?ئے ہیں۔مائک پومپیو کا کہنا تھا کہ ہم نے گیارہ ستمبر کے حملوں سے بہت کچھ سیکھا ہے اور ہم نے پاکستان پر اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے کے لیے زور ڈالا ہے۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نامزد موجودہ سیکریٹری خارجہ مائیک پومپیو یہ ذمہ داری ادا کرنے سے قبل امریکی سی آئی اے کے سربراہ تھے۔ انہوں نے اپنی نامزدگی کے فوری بعد منصب کا حلف اٹھانے سے بھی پہلے شمالی کوریا کا خفیہ دورہ کرکے ٹرمپ اور کم جونگ ان کی ملاقات کا راستہ ہموار کیا تھا۔ دونوں ممالک کے سربراہان کے درمیان یہ ملاقات کئی دہائیوں کے بعد ہوئی تھی۔




دہشت گردی کا کوئی دین اور نسل نہیں ہوتی،عادل الجبیر

ریاض(وائس آف ایشیا)سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل احمد الجبیر نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائیسٹ چرچ میں گذشتہ جمعہ کو دو مساجد میں نمازیوں پر ہونے والے وحشیانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیوزی لینڈ میں دہشت گردی کے واقعے نے ا یک بار پھر ثابت کیا ہے کہ دہشت گردوں کا کوئی دین اور نسل نہیں ہوتی۔ دہشت گرد چاہے وہ کسی بھی ملک میں یا کسی بھی مذہب اور نسل سے تعلق رکھتے ہوں وہ انسانیت کے دشمن ہیں۔گزشتہ روز ایک بیان میں عادل الجبیر نے کہا کہ نیوزی لینڈ دہشت گردی سے محفوظ ملک سمجھا جاتا تھا جس میں تمام مذاہب کے پیروکار بقائے باہمی کے اصول کے تحت زندگی بسر کررہیہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم، ان کی حکومت اور عوام نیمساجد میں دہشت گردی کے واقعے کے بعد جو اقدامات کیے ہیں وہ قابل تحسین ہیں۔خیال رہے کہ گذشتہ جمعہ کو نیوز لینڈ کے شہر کرائیسٹ چرچ میں واقع دو مساجد میں ایک آسٹریلوی دہشت گرد نے حملہ کرکے 50 نمازی شہید کردیے تھے۔




اسرائیل نے فلسطینیوں کو صاف پینے سے محروم کردیا ، اقوام متحدہ ایلچی

جنیوا(وائس آف ایشیا)اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ایک تحقیقات کار نے کہا ہے کہ اسرائیل لاکھوں فلسطینیوں کی صاف پانی تک رسائی میں مسلسل رکاوٹیں ڈال رہا ہے جبکہ ان کی معدنی دولت سے مالامال سرزمین کو غصب کررہا ہے۔فلسطینی علاقوں میں متعین اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے لیے خصوصی نمایندے مائیکل لائنک نے کہا ہے کہ اسرائیل نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقے میں یہودی بستیوں کو توسیع دینے کا سلسلہ پورے زور شور سے جاری رکھا ہوا ہے ۔اقوام متحدہ اور بہت سے ممالک اس فلسطینی علاقے میں یہودی آباد کاری کو غیر قانونی قرار دیتے ہیں لیکن اس کے باوجود ہر سال بیس سے پچیس ہزار نئے یہودی آبادکاروں کو اس علاقے میں لابسایا جاتا ہے۔وہ جنیوا میں اقوام متحدہ کے تحت انسانی حقوق کونسل میں فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورت حال سے متعلق بحث میں حصہ لے رہے تھے۔انھوں نے اپنی گفتگو کے دوران میں اسرائیل کے خلاف سنگین الزامات عاید کیے ہیں۔جنیوا میں اسرائیلی مشن نے اس بحث کا بائیکاٹ کیا تھا۔اس نے مائیکل لائنک کے خلاف ایک تندوتیز بیان جاری کیا ہے اور اس میں ان پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ ایک معروف فلسطینی وکیل کی پہچان رکھتے ہیں۔اس بیان میں کہا گیا ہے کہ مسٹر لائنک اپنی نئی ڈھونگ رپورٹ میں مزید گر گئے ہیں اور انھوں نے صہیونی ریاست پر چوری کا الزام عاید کردیا ہے۔ واضح رہے کہ اسرائیل کے پشتیبان امریکا نے گذشتہ سال انسانی حقوق کونسل کو یہ کہہ کر خیرباد کہہ دیا تھا کہ یہ فلسطین نواز اور اسرائیل مخالف ہے۔اقوام متحدہ کے خصوصی نمایندے مائیکل لائنک نے کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ غزہ پٹی میں پینے کے پانی کی بہم رسانی کا قدرتی ذریعہ ختم ہوچکا ہے۔اب وہاں دستیاب پانی انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔اسی وجہ سے محاصرہ زدہ غزہ کی پٹی میں رہنے والے بیس لاکھ فلسطینیوں کے لیے صحت کے نت روز مسائل پیدا ہورہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اسرائیل نے 2005 میں غزہ کو خالی کردیا تھا، وہاں قائم یہودی بستیوں کا خاتمہ کردیا تھا اور اپنے فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا لیکن اس نے اس ساحلی پٹی کی 2007 سے فضائی ، بری اور بحری ناکا بندی کررکھی ہے۔قریبا پچاس لاکھ فلسطینی اسرائیلی قبضے میں رہ رہے ہیں۔ان کا آب رسانی کا نظام ناکارہ ہوچکا ہے ،ان کے قدرتی وسائل سے تو بھرپور فائدہ اٹھایا جارہا ہے مگر ان کے ماحول کو نقصان پہنچایا جارہا ہے۔ان سب سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ان فلسطینیوں کا اپنی روزمرہ کی زندگیوں پر کوئی معنی خیز کنٹرول نہیں ہے۔مائیکل لائنک نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انکشاف کیا کہ غربِ اردن میں اسرائیلی کمپنیاں ہر سال ایک کروڑ 70 لاکھ ٹن قیمتی پتھر نکالتی ہیں ۔بین الاقوامی قانون میں ایک فوجی قوت کو اس طرح کی کارروائیوں باز رکھا گیا ہے اور و ہ اپنے مقبوضہ علاقوں میں فوجی طاقت کے بل پر معاشی فوائد حاصل نہیں کرسکتی مگر اسرائیلی فوج نے اس کے باوجود ایسا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔انھوں نے کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں واقع بحیرہ مردار اور اس کے قدرتی وسائل تک فلسطینیوں کو تو کوئی رسائی نہیں ہے مگر اسرائیلی کمپنیوں کو وہاں سے معدنیات نکالنے کی کھلی اجازت ہے اور یہ فلسطینیوں کے وسائل کی کھلم کھلا لوٹ مار ہے۔فلسطینی سفیر ابراہیم قریشی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی املاک کی لوٹ مار کا سلسلہ بند کردے۔ اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں جو کچھ کررہا ہے ،وہ بین الاقوامی قانون اور معاہدوں کے تحت اس کی ذمے داریوں سے بالکل متصادم اقدام ہے اور یہ تو ایک طرح سے نسل کشی سے بھی بڑھ کر جرم ہے۔




بھارت کی سی پی آر ایف فورس پر ایک اور حملہ ایک بھارتی فوج ہلاک، 5 زخمی

نئی دہلی (وائس آف ایشیا)بھارت کی سی پی آر ایف فورس پر ایک اور حملہ، بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ہونے والے حملے کے نتیجے میں ایک بھارتی فوج ہلاک، جبکہ 5 زخمی ہوئے۔ بھارتی میڈیا کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق بھارتی ملٹری فورس سی پی آر ایف پر ایک اور حملہ کیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ بھارتی ملٹری فورس سی پی آر ایف پر بھارت کی شورش زدہ ریاست چھتیس گڑھ میں حملہ کیا گیا۔حملے کے دوران بھارتی ملٹری فورس سی پی آر ایف کے کئی اہلکاروں کا نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حملہ چھتیس گڑھ کے باغیوں کی جانب سے اس وقت کیا گیا جب بھارتی ملٹری فورس سی پی آر ایف کے اہلکار گشت میں مصروف تھے۔ اس دوران پہلے ایک ریمورٹ کنٹرول بم، جبکہ بعد ازاں مسلسل فائرنگ سے حملہ کیا گیا۔فائرنگ کے نتیجے میں ایک بھارتی فوجی اہلکار ہلاک ہوگیا، جبکہ 5 زخمی ہوئے۔بھارتی فوج پر حملہ کرنے والے باغی اس کاروائی کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔ واضح رہے کہ گزشتہ ماہ مقبوضہ کشمیر میں بھی بھارتی ملٹری فورس سی پی آر ایف پر خود کش حملہ کیا گیا ہے۔ اس حملے کو مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں بھارتی فوج پر ہونے والا سب سے بڑا حملہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس حملے کے دوران 44 بھارتی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ اسی واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان کیخلاف جنگی ماحول پیدا کر دیا تھا۔




تیونس کے مفرور صدر زین العابدین کا برادر نسبتی فرانس میں گرفتار

پیرس(وائس آف ایشیا)فرانس کی پولیس نے تیونس کے سابق مفرور صدر زین العابدین بن علی کے برادر نسبتی بلحسن الطرابلسی کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا ہے۔ عدالت نے انہیں ایک گروپ کی منی لانڈرنگ کا الزام عاید کرتے ہوئے انہیں پولیس کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔خبر رساں اداروں کے مطابق زین العابدین بن علی اور ان کی اہلیہ لیلی الطرابلسی 2011 میں ملک میں عوامی بغاوت کے بعد فرار ہو کر سعودی عرب پہنچ گئے تھے۔ تاہم لیلی طرابلسی کے بھائی سنہ 2016 تک فرانس میں رہے اور اس کے بعد وہ کینیڈا چلے گئے تھے۔ حال ہی میں وہ دوبارہ فرانس آئے جہاں انہیں جنوبی فرانس میں مرسیلیا کے مقام سیحراست میں لے کر عدالت میں پیش کیا گیا۔




کرائسٹ چرچ دہشتگردی، او آئی سی وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس 22 مارچ کو طلب

اسلام آباد/انقرہ (وائس آف ایشیا ) ترک صدر رجب طیب اردوان نے نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر حملوں کے واقعے پر غور کے لیے اسلامی تعاون تنظیم( او آئی سی)کے وزرائے خارجہ کا ہنگامی اجلاس 22 مارچ کو طلب کرلیا۔او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس کی میزبان ترکی کرے گا اور استنبول میں 22 مارچ کو وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کرائسٹ چرچ واقعے پر غور ہوگا جب کہ اجلاس میں اسلامو فوبیا کی وجوہات اور اس کے بھیانک نتائج کا جائزہ بھی لیا جائیگا۔ترکی نے تنظیم کے تمام رکن ممالک سے اپیل کی ہے کہ وزرائے خارجہ اجلاس میں متعلقہ وزیر شرکت یقینی بنائیں۔پاکستان نے او آئی سی وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی ترکی کو یقین دہانی کرادی، پاکستان کی جانب سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس حوالے سے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ترک ہم منصب سے رابطہ ہوا اور ان سیکرائسٹ چرچ واقعے پر بات بھی ہوئی ہے، ہم کرائسٹ چرچ واقعے پر امہ کو یکجا کریں گے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نیوزی لینڈ میں ایک ہولناک واقعہ رونما ہوا، جس کا ردعمل دنیا بھر میں آیا، دہشت گردی کے اس واقعے سے پہلے دہشت گرد نے ای میل بھی کی تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ او آئی سی اجلاس میں خود شرکت کر کے پاکستان کی نمائندگی کروں گا۔یاد رہے کہ جمعہ کے روز نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی دو مساجد پر فائرنگ کے واقعات پیش آئے جس میں 50 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے، حملہ آور آسٹریلوی سمیت 4 افراد حراست میں ہیں۔