سدھو نے کرتاپور راہداری پاک بھارت وزرائے اعظم کو خط لکھ دیا

نئی دہلی( وائس آف ایشیا)سابق بھارتی کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے کرتارپور راہداری کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندر سنگھ مودی کو خط لکھ دیا، جس میں راہداری پر جاری کام کے حوالے سے تجاویز دی گئی ہیں۔اپنے خط میں سدھو کا کہنا تھا کہ اس علاقے اور مقام سے دنیا بھر کے سکھوں کی گہری جذباتی وابستگی ہے اور بابا گرو نانک کی ساڑھے 5 سو سالہ تقریبات کے موقع پر دنیا بھر سے سکھ یہاں آنا چاہیں گے، لہذا گوردوارہ کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کے پیش نظر سہولیات کی فراہمی کے کام پر نظرثانی کی جائے۔خط میں تجویز دی گئی ہے کہ بزرگوں اور معذوروں کے علاوہ دیگر عمومی آمد و رفت پیدل رکھی جائے۔سدھو نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ یاتریوں کی سہولت کے لیے وہاں کھانے پینے اور خریداری کے اسٹالز کی بجائے روایتی جگہیں بنائی جائیں۔مزید کہا گیا کہ نئے تعمیراتی کام میں کرتارپور کی روایتی ثقافتی تاریخ کو محفوظ رکھنے پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی نظام کو کم سے کم متاثر ہونے کو بھی یقینی بنایا جائے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ برس 28 نومبر کو کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ سنگ بنیاد رکھے جانے کی تقریب میں بھارت کی نمائندگی وزیر خوراک ہرسمرت کور اور وزیر تعمیرات ہردیپ سنگھ نے کی تھی، جبکہ سابق بھارتی کرکٹر و سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی۔تقریب سے خطاب کے دوران سدھو نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب بھی کرتارپور راہداری کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس کے ساتھ عمران خان کا نام ضرور لکھا جائے گا۔نوجوت سنگھ سدھو نے مزید کہا تھا کہ پاکستان نے سرحد کھول کر پوری کائنات ہماری جھولی میں ڈال دی ہے۔کرتارپور راہداری منصوبہپاکستان، گوردوارہ صاحب سے سرحد تک اپنی حدود میں کرتارپور کوریڈور فیز ون میں ساڑھے 4 کلو میٹر سڑک تعمیر کرے گا، اسی طرح بھارت بھی اپنی حدود میں سرحد تک راہداری بنائے گا۔منصوبہ مکمل ہونے پر یاتریوں کو کرتارپور کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں پڑے گی تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حتمی بات چیت ہونا باقی ہے۔پہلے مرحلے میں دریائے راوی پر 800 میٹر پل، پارکنگ ایریا، سیلاب سے بچاؤ کے لیے فلڈ پروٹیکشن بند اور گوردوارہ کمپلیکس کی تعمیرنو کی جائے گی جب کہ گوردوارہ دربار صاحب میں بارڈر ٹرمینل کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔دوسرے مرحلے میں گوردوارہ دربار صاحب میں اضافی رہائش کی تعمیر ہوگی، یاتریوں کو ویزہ فری انٹری، بس سروس، میڈیکل کی سہولت، ٹک شاپ، فلاور شاپ، کیفے ٹیریا اور لائبریری کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر کی مسافت پر ضلع نارووال میں دریائے راوی کے کنارے ایک بستی ہے جسے کرتارپور کہا جاتا ہے، یہ وہ بستی ہے جسے بابا گرونانک نے 1521ء4 میں بسایا اور یہ گاؤں پاک بھارت سرحد سے صرف تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ نارووال شکر گڑھ روڈ سے کچے راستے پر اتریں تو گوردوارہ کرتار پور کا سفید گنبد نظر آنے لگتا ہے، یہ گوردوارہ مہاراجہ پٹیالہ بھوپندر سنگھ بہادر نے 1921 سے 1929 کے درمیان تعمیر کروایا تھا۔گرو نانک مہاراج نے اپنی زندگی کے آخری ایام یہیں بسر کیے اور اْن کی سمادھی اور قبر بھی یہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ کرتارپور سکھوں کے لیے مقدس مقام ہے۔بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو کرتارپور تک پہنچنے کے لیے پہلے لاہور اور پھر تقریباً 130 کلومیٹر کا سفر طے کرکے نارووال پہنچنا پڑتا تھا جب کہ بھارتی حدود سے کرتارپور 3 سے 4 کلو میٹر دوری پر ہے۔ہندوستان کی تقسیم کے وقت گوردوارہ دربار صاحب پاکستان کے حصے میں آیا، دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث طویل عرصے تک یہ گوردوارہ بند رہا۔




ایران ’’یرغمالی دہشت گردی ‘‘کی مذموم مہم سے باز آئے، امریکہ

واشنگٹن(وائس آف ایشیا)امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے نے الزام عاید کیا ہے کہ ایران نے متعدد امریکیوں کو بے قصور ہونے کے باوجود یرغمال بنا رکھا ہے۔ انہوں نے ایران سے قیدیوں کو یرغمال بنائے جانے کی دہشت گردی کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کیا۔مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ‘ٹوئٹر’ پر پوسٹ کی گئی متعدد ٹویٹس میں پومپیو نے کہا کہ 40 سال قبل ایرانی انتہا پسندوں نے 444 دن تک مسلسل 52 امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنائے رکھا گیا۔ آج بھی ایران نے امریکیوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔انہوں نے کہا کہ آیت اللہ علی خامنہ، صدر حسن روحانی اور وزیرخارجہ جواد ظریف کو چاہیے کہ وہ امریکیوں کو یرغمال بنائے جانے کی دہشت گردی سے باز آئے اور زیرحراست پوپ لیفنسن، شیوی وانگ سمیت دیگر تمام امریکیوں اور غیرملکی شہریوں کو رہا کرے۔




افغانستان میں طالبان کے تازہ حملہ میں 16سکیورٹی اہلکار ہلاک،30 زخمی

کابل(وائس آف ایشیا)افغانستان کے صوبے میدان وردک میں افغان طالبان کے حملے میں 16 سکیورٹی اہلکار ہلاک اور 30سے زائد زخمی ہو گئے ، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔افغان حکام نے بتایا ہے کہ افغانستان کے جنوبی حصے میں ہوئے ایک تازہ حملے میں 12 سے زائد سکیورٹی اہلکار ہلاک جبکہ تیس سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ میدان وردک صوبے میں ہوئے اس خونریز حملے کی ذمہ داری طالبان جنگجوں پر عائد کی گئی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ جنگجوؤں نے ایک ایسے فوجی اڈے کو نشانہ بنایا، جہاں پولیس اکیڈمی بھی قائم ہے۔ مقامی ذرائع کے مطابق پہلے ایک خود کش حملہ کیا گیا، جس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی۔ تاہم سکیورٹی فورسز جنگجوں کو واپس دھکیلنے میں کامیاب ہو گئیں۔ طبی حکام نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ ایک غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق طالبان عسکریت پسندوں نے سرپل پر قبضے کے لیے اپنی کارروائیاں تیز تر کر دی ہیں جبکہ وہ اس علاقے میں موجود تیل کے کنوں پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان اس طرح امریکی حکومت کے ساتھ مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط تر بنانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔سرپل کے گورنر کے ایک ترجمان ذبیح اللہ امینی نے خبررساں ادارے کو بتایا کہ سرپل کی صورت حال ویسے ہی نازک ہے لیکن اب طالبان نے قریبی علاقوں پر بھی حملے شروع کر دیے ہیں۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب طالبان اور خصوصی امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کے مابین ہونے والے امن مذاکرات جمود کا شکار ہوتے جا رہے ہیں۔ طالبان عسکریت پسندوں نے افغانستان سے تمام امریکی فورسز کے نکل جانے کا مطالبہ کر رکھا ہے اور امریکی حکومت فی الحال اسے تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔حالیہ کچھ عرصے میں طالبان کے اعتماد میں واضح اضافہ ہوا ہے اور شہروں کے مضافاتی دیہی علاقوں میں ان کا کنٹرول بڑھتا جا رہا ہے۔ دوسری جانب حکومتی فورسز کے حوصلے پست ہوتے جا رہے ہیں اور وہ شکستہ دلی کے ساتھ طالبان کو پیچھے دھکیلنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔دریں اثنا طالبان عسکریت پسندوں کے حملوں کے باعث درجنوں خاندان بھی بے گھر ہو گئے ہیں۔ ایسے ہی تقریبا چالیس خاندان کوہستان سے سرپل پہنچے ہیں۔ یہ ضلع طالبان کے زیر قبضہ ہے اور بھاگ کر آنے والے یہ خاندان سخت سردی میں سرپل کی مساجد میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔ سخت سردی کی وجہ سے داخلی سطح پر ہجرت کرنے والے ایسے مہاجرین کی زندگی مزید مشکلات شکار ہو رہی ہے اور حکومتی امداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ امینی کا مزید کہنا تھا، یہ خاندان سرپل کے شہر کے مرکز میں موجود ہیں اور ان کی حالت بہت ہی خراب اور خستہ ہے کیوں کہ ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے سامان نہ ہونے کے برابر ہے۔ان بے گھر ہونے والے افراد کے مطابق طالبان ان خاندانوں کو علاقہ بدر کر رہے ہیں، جن کے بارے میں انہیں شک ہے کہ یہ حکومت کے لیے نرم جذبات رکھتے ہیں یا پھر جن کے خاندانوں کے مرد حکومتی فورسز کے لیے کام کرتے ہیں۔




شام میں ایرانی اہداف پر اسرائیلی حملے، کم از کم 11 افراد ہلاک،ہلاکتوں میں اضافہ

دمشق(وائس آف ایشیا)اسرائیل کے جنگی طیاروں نے پیر کی علی الصبح شام میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا ، حملوں میں 11افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی گئی۔اسرائیلی فوج(آئی ڈی ایف) نے شام میں ایرانی تنصیبات پر حملوں اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا آپریشن قدس فورس کے خلاف ہے جو کہ ایرانی پاسدران انقلاب کا ایک یونٹ ہے۔اسرائیل نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں تاہم شام کے دارالحکومت دمشق کے ارد گرد پیر کی صبح حملوں کی اطلاعات ہیں۔آئی ڈی ایف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے گولان کی پہاڑیوں پر داغے جانے والے ایک راکٹ کو راستے میں روک لیا۔آئی ڈی ایف نے پیر کی صبح ایک ٹویٹ میں اپنا آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا۔ شامی اینٹی ایئرکرافٹ میزائل داغے جانے کے سبب شامی دفاعی نظام کو بھی حملے کا نشانہ بنایا گیابرطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس(ایس او ایچ آر)نے کہا ہے کہ اسرائیلی طیاروں نے شام کے دارالحکومت دمشق کے اطراف کو نشانہ بنا یا ۔ سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ۔یہ آپریشن اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے اس دعوے جس میں کہا گیا ہے گولان کی پہاڑیوں پر داغے جانے والے راکٹ کو ڈوم ایئر ڈیفینس سسٹم کے ذریعے راستے میں روک لیا گیا کے بعد شروع کیا گیا ہے۔دوسری جانب شامی فوج کے فضائی دفاعی نظام نے اسرائیلی حملے کے دوران فائر کیے گئے 30 سے زائد کروز میزائلوں اور گائیڈڈ بموں کو فضا میں تباہ کر دیا۔ یہ بات روسی خبر رساں ادارے انٹرفیکس نے روسی ڈیفنس کنٹرول سنٹر کے حوالے سے بتائی ہے۔ روس کی ایک اور نیوز ایجنسی RIA کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے دمشق کے جنوب مشرقی حصے میں قائم ایک ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں چار شامی فوجی ہلاک جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے۔ شامی محکمہ دفاع نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے دمشق اوردیگرعلاقوں پر بمباری کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے ،اسرائیل باز نہ آیا تو پھر ہم بھی اس کی تنصیبات پر نشانہ لگائیں گے ۔شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق فضائی محکمہ دفاع نے اسرائیلی طیاروں کی طرف سے داغے گئے متعدد میزائل فضا ہی میں تباہ کردیئے گئے۔خبر رساں ایجنسی ‘سانا’ کے مطابق فضائی دفاع نے اسرائیل کے متعدد جنگی طیاروں کو جنوبی شام میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے سے روک دیا۔قبل ازیں اتوار کو اسد رجیم کے قریبی ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ فضائی دفاع نے اسرائیل کی طرف سے داغے گئے 7 بم مار گرائے تھے۔




بریگزٹ پر برطانیہ پر دباؤ بڑھانا بہتر نہیں، جرمن وزیر اقتصادیات

برلن (وائس آف ایشیا)جرمن وزیر اقتصادیات پیٹر الٹمائر نے کہا ہے کہ یورپی یونین سے اخراج کے حوالے سے برطانیہ کو غیر ضروری دباؤ کا سامنا کرنے کی ضرورت نہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطاب انہوں نے کہا کہ کسی حتمی تاریخ کے تعین کی جگہ برطانیہ کے لیے ضروری وضاحتیں فراہم کرنا اہم ہے۔الٹمائر کے مطابق اس وقت یورپی کونسل میں بریگزٹ معاملے پر واضح مذاکرات کی حمایت موجود نہیں ہے۔ یہ اہم ہے کہ عدم اتفاق کی بنیاد پر برطانیہ رواں برس انتیس مارچ کو یورپی یونین سے علیحدہ ہو جائے گا۔ ایسی صورت میں برطانوی سیاست اور شہریوں میں اقتصادی افراتفری پھیلنے کا یقینی امکان ہے۔ بریگزٹ ڈیل کو برطانوی پارلیمنٹ نے رواں ہفتے پندرہ جنوری کو مسترد کر دیا تھا۔




افغان طالبان سے مفاہمتی عمل شروع کرنے کی کوششوں پر مایوسی کے بادل منڈلانے لگے

واشنگٹن، کابل (وائس آف ایشیا )امریکا کی جانب سے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے افغان طالبان کے ساتھ دوبارہ مفاہمتی عمل شروع کیے جانے کی کوششوں پر مایوسی کے بادل منڈلانے لگے۔جہاں ایک جانب امریکی نمائندے طالبان کو دوبارہ مذاکرات میں شمولیت کے لیے راضی کرنے کی خاطر پاکستانی قیادت سے ملاقات کررہے ہیں وہاں طالبان ترجمان نے ایسے کسی مذاکرات کی اطلاعات کو بے بنیاد قرار دیا۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹویٹ کر کے ذبیح اللہ مجاہد کے اکانٹ سے بیان جاری کیا گیا جس میں اسلام آباد میں امریکی نمائندوں اور طالبان کے درمیان ہونے والی متوقع ملاقات کی اطلاعات کو غلط قرار دے دیا گیا۔دوسری جانب امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے کہا کہ انہیں افغانستان میں قیامِ امن کے لیے ہونے والے مذکراتی عمل میں ٹھوس پیش رفت کا انتظار ہے۔واضح رہے کہ زلمے خلیل زاد مذاکراتی عمل کی بحالی کے سلسلے میں 4 ملکی دورے کے دوران پاکستان میں تھے جہاں انہوں نے وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی تھی۔وزیرخارجہ سے ملاقات کے بعد سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے انہوں نے اسے اچھی ملاقات قرار دیا، جس کے دوران افغانستان میں قیامِ امن میں معاونت کے لیے پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے کردار پر گفتگو کی گئی۔ان کے دورے کا مقصد طالبان کی جانب سے افغان حکومت سے بات چیت کرنے سے انکار کے بعد مذاکراتی عمل میں پیدا ہونے والے ڈیڈ لاک کو ختم کرنا تھا۔خیال رہے کہ امریکا نے طالبان کے براہِ راست مذاکرات کے سلسلے کا آغاز گزشتہ برس جولائی میں کیا تھا لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تعاون کی درخواست کے لیے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو لکھے گئے خط کے بعد پاکستانی کوششوں سے گزشتہ دنوں ابو ظہبی میں ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا ۔جس کی وجہ سے واشنگٹن کی جانب سے اسلام آباد پر زور ڈالا جارہا ہے کہ وہ طالبان کو افغان حکومت سے بات چیت کرنے کے لیے بھی راضی کرے۔قبلِ ازیں زلمے خلیل زاد کی وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ہونے والی ملاقات میں دونوں نے مفاہمتی عمل کی حمایت کا اعادہ کیا تھا۔اس سلسلے میں سامنے آنی والی رپورٹس اس بات کی جانب اشارہ کررہی ہیں کہ پاکستان امریکی نمائندوں اور طالبان قیادت میں مذاکرات کروانے کی کوششیں کررہا ہے تا کہ دونوں فریقین بات چیت کے ذریعے ڈیڈلاک کو دور کرنے کی راہ تلاش کریں۔تاہم یہ واضح نہیں کہ پاکستان کی جانب سے طالبان کی دوبارہ مذاکرات میں شمولیت کے لیے کس قسم کے اقدامات کیے جارہے ہیں، اس سلسلے میں اطلاعات یہ بھی تھیں کہ پاکستان نے طالبان کے اہم رہنما حافظ محب اللہ کو پشاور سے حراست میں لیا تھا تا کہ عسکری گروہ پر امریکی نمائندوں سے مذاکرات کرنے کے لیے دبا ڈالا جاسکے۔




ٹرمپ کے اپنے ذاتی وکیل کے ساتھ طے پانے والے معاملات پر امریکی ایوان نمائندگان کا تحفظات کا اظہار

واشنگٹن(وائس آف ایشیا ) امریکی ایوان نمائندگان کے 2 اہم ڈیموکریٹس نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے ذاتی وکیل مائیکل کوہین کے ساتھ طے ہونے والے معاملات کی تحقیقات کے عزم کا اظہار کردیا۔واضح رہے کہ دونوں ڈیموکریٹس کی جانب سے یہ عزم کا اظہار اس میڈیا رپورٹ کے بعد کیا گیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر مائیکل کوہین کو ہدایت کی کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کانگریس میں جھوٹ بولیں۔ بزفیڈ نیوز ویب سائٹ نے اس معاملے کی تحقیقات میں شامل قانون نافذ کرنے والے اداروں کے دو عہدیداروں کا حوالہ دیتے بتایا کہ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وکیل نے ٹرمپ کی 2016 کی صدارتی مہم کے دوران روس میں ٹرمپ ٹاور تعمیر کرنے کی کوششیں جاری رکھنے کے منصوبے پر زور دیا۔بعد ازاں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابات میں کامیابی کے بعد انہوں نے مائیکل کوہین کو ذاتی طور پر ہدایت کی کہ وہ اپنی کوششوں کے بارے میں امریکی قانون سازوں سے جھوٹ بولیں۔اس حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل روڈی گیولیانی نے واشنگٹن پوسٹ سے رپورٹ کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ اگر آپ مائیکل کوہین پر یقین رکھتے ہیں تو میں آپ کو بروکلن برج پر بہت اچھی ڈیل دے سکتا ہوں۔دوسری جانب اٹارنی لینی ڈیوس کے مشیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور مائیکل کوہن نے رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا، تاہم جب اس معاملے پر مائیکل کوہن کے وکیل گائے پیٹریلو نے بھی فوری طور پر جواب نہیں دیا۔بزفیڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہاس انٹیلی جنس کمیٹی کے چیئرمین ایڈم شف نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ہماری کمیٹی کے سامنے امریکی صدر کے الزمات کی جھوٹی گواہی تحقیقات کو محدود کرنے اور روس کے ساتھ اپنے تجارتی معاملات کو چھپانے کی کوشش ہوسکتی ہے اور یہ بہت سنگین معاملہ ہے۔اس حوالے سے ہاس جوڈیشری کمیٹی کے سربراہ اور نمائندے جیرلڈ نیڈلر نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو اسے معلوم کرنے کے لیے جو ضروری ہوگا ہم کریں گے جبکہ ہاس کمیٹی بھی تحقیقات کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ صدر مزاحمت کے ایک طویل پیٹرن میں مصروف ہیں اور اپنے ماتحت کو کانگریس کے سامنے جھوٹ بولنے کی ہدایت کرنا ایک جرم ہے۔




شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں اسلحے کے ڈپو بمباری، 11 افراد ہلاک

ادلب(وائس آف ایشیا ) شام کے شمال مغربی شہر ادلب میں ایک اسلحے کے ڈپو بمباری سے 11 افراد ہلاک ہوگئے۔ شامی امدادی تنظیم کا کہنا تھا کہ بمباری میں القاعدہ سے منسلک گروہ حیات التحریر الشام کے اسلحہ ڈپو کو نشانہ بنایا گیا۔امدادی تنظیم کا کہنا تھا کہ حملے میں حیات التحریر الشام کے 7 جنگجو اور 4 شہری بھی مارے گئے۔شامی امدادی تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ ابتدائی معلومات سے یہ کار بم حملہ تھا۔خیال رہے ادلب شہر میں حیات التحریر الشام کا قبضہ ہے اور ارد گرد کے علاقوں میں بھی اسی نام سے متحرک ہے۔گزشتہ ہفتے ان گروپس نے پورے خطے کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا جس کا بیشتر حصہ ادلب پر مشتمل ہے اسی طرح حلب حما کا کچھ علاقہ بھی شامل ہے۔ادلب اور اس خطے میں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) کی موجودگی بھی ہے۔رامی عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ اس حملے کی ذمہ دار داعش ہے کیونکہ حیات التحریر الشام نے ان کے متعدد کارکنوں کو موت کے گھاٹ اتارا تھا۔قبل ازیں 16 جنوری کو داعش کے خودکش حملے میں کم از کم 4 امریکی فوجیوں سمیت ایک درجن سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔یہ دھماکا اسٹریٹیجک لحاظ سے انتہائی اہم شہر منبج کے وسط میں واقع مصروف ریسٹورنٹ کے قریب ہوا، جہاں امریکی فوجی معمول کے گشت پر تھے۔حملے میں 3 امریکی فوجی اہلکار زخمی بھی ہوئے۔دھماکے کے ایک گھنٹے بعد ہی داعش نے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ دھماکا خودکش جیکٹ کی مدد سے کیا گیا۔خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام سے فوجی انخلا کے اعلان کے بعد ترکی نے دہشت گردوں کے خلاف فوجی کارروائی کی سربراہی کا اعلان کیا تھا۔




معروف جاپانی کار ساز کمپنی کے سابق سربراہ پر غیر قانونی ادائیگیوں کا الزام

ٹوکیو(وائس آف ایشیا )معروف جاپانی کار ساز کمپنی ‘نسان’ نے سابق سربراہ کارلوس گھوسن پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے نیدرلینڈز میں قائم مشترکہ منصوبے سے غیر قانونی ادائیگیوں کی مد میں تقریبا 80 لاکھ یورو وصول کیے۔ نسان کمپنی نے اس سلسلے میں سابق سربراہ پر رقم وصول کرنے کے لیے مقدمہ چلانے کی دھمکی بھی دی ہینسان کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ کارلوس گھوسن نے نسان-مٹسوبشی بی وی (این ایم بی وی) سے ذاتی ملازمت کا معاہدہ طے کیا تھا تاکہ نسان مٹسوبشی موٹرز کی اشتراکیت میں ایک ساتھ کام کرنے کے مقاصد کو فروغ دیا جاسکے۔نسان کمپنی نے کہا کہ اس معاہدے کے تحت کارلوس گھوسن نے ‘این ایم بی وی’ فنڈز سے زرتلافی اور دیگر ادائیگیوں کی مد میں 78 لاکھ 22 ہزار 2 سو 6 اعشاریہ 12 یورو (بشمول ٹیکس) وصول کیے۔کمپنی کا کہنا تھا کہ مذکورہ معاہدے پر نسان کے موجودہ چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ہیروتو سائیکاوا یا مٹسوبشی موٹرز کے سی ای او اوسامو ماسوکو سے مشاروت کے بغیر دستخط کیے گئے تھے۔نسان کمپنی نے اپنے بیان میں کہا کہ نسان کمپنی این ایم بی وی سے وصول کی گئی رقوم کو بدعنوانی سمجھتی ہے اور کارلوس گھوسن سے یہ رقم واپس لینے کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔اس کے ساتھ ہی کارلوس گھوسن کی ایک بہن پر بھی الزام عائد ہے کہ انہوں نے گلوبل ڈونیشن ایڈوائزری کونسل کا حصہ رہتے ہوئے 2003 سے 2016 کے درمیان 7 لاکھ 55 ہزار ڈالر وصول کیے تھے۔اس حوالے سے نسان کمپنی کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کوئی کونسل کبھی بنی ہی نہیں۔




ٹرمپ کی جانب سے تفصیلات لیک، نینسی پلوسی کا کمرشل پرواز سے دورہ افغانستان منسوخ

واشنگٹن(وائس آف ایشیا)امریکی ایوان نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی نے سیکیورٹی وجوہات کو جواز بنا کر کمرشل پرواز کے ذریعے دورہ افغانستان منسوخ کر دیا۔نینسی پلوسی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کے دورے کی تفصیلات افشاء کر کے افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں اور شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیا۔امریکی اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق نینسی پلوسی نے الزام عائد کیا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے انہیں غیرملکی دورے کے لیے فوجی طیارہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی اور اس بات پر مجبور کیا کہ وہ کمرشل فلائٹ سے افغانستان جائیں۔ساتھ ہی انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ان کے دورے کی تفصیلات لیک کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔ نینسی کے مطابق اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے یہ کہا تھا کہ دورے کے دوران اس بات کا خیال رکھا جائے کہ قانون سازوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کی زندگیاں خطرے میں نہ پڑیں۔دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اسپیکر نینسی پلوسی کا بیان رد کر دیا۔واضح رہے کہ میسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے معاملے پر امریکا میں جزوی شٹ ڈاؤن کو 28 روز ہوچکے ہیں اور صدر ٹرمپ نے حکومت کی جزوی بندش کی ذمہ داری ایوان نمائندگان کی اسپیکر اور اس کے اراکین پر عائد کی ہے۔دو روز قبل ایک تقریر میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ میں متعدد ڈیموکریٹ سمجھوتہ کرنا چاہتے ہیں، لیکن نینسی پلوسی اْنھیں مذاکرات سے روک دیتی ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ دیوار سرحدی سیکورٹی کے لیے بہت ضروری ہے، اگر ڈیموکریٹس نے اس کے لیے بجٹ کی منظوری نہ دی تو حکومتی شٹ ڈاو ٰن جاری رہے گا۔




امریکا اور یورپ میں خراب موسمی صورتحال،شہری پریشان زندگی متاثر

کیلیفورنیا(وائس آف ایشیا)امریکی ریاست کیلیفورنیا میں طوفانی بارش اور برفباری سے نظام زندگی شدید متاثر ہے۔ مختلف حادثات میں 6 افراد ہلاک ہوئے۔ جرمنی، آسٹریا سمیت پورا یورپ سردی سے تھر تھر کانپ رہا ہے۔ انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں سال نو کی پہلی برفباری نے موسم خوشگواربنادیا تاہم آسٹریلیا میں گرمی کا 80 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا۔امریکی ریاست کیلیفورنیا میں برفانی طوفان اور بارش نے معمولاتِ زندگی کو متاثر کررکھاہے۔ سڑکوں پر پانی کھڑا ہے جبکہ ریلوے ٹریکس برف میں چھپ گئے۔ اسکول ، دفاتر،کالج ،یونیورسٹی،بازار اور ایئرپورٹ سب بند کردئیے گئے ہیں کیوں کہ آئندہ چند روز میں موسم مزید سخت ہونے کا امکان ہے۔یورپی ممالک میں سردی نیلوگوں کی مشکلات بڑھادی ہیں۔ جرمنی، آسٹریا کو برفباری کے بعد کڑکڑاتی سردی نے آگھیرا ہے۔پولینڈ، ناروے، چیک ری پبلک اور سلوواکیہ میں بھی ہرجانب سفیدی چھائی ہے۔انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں سال کی پہلی برفباری سے شہری خوش ہوئے ہیں اوردرجہ حرارت 3 ڈگری سینٹی گریڈ تک گرگیا ہے۔دوسری جانب آسٹریلیا تاریخ کی بدترین ہیٹ ویوکی لپیٹ میں ہے۔1939 کے بعد سڈنی میں ریکارڈ گرمی پڑی ہے۔کئی علاقوں میں پارہ 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے۔گرمی کی ایک اور لہر کے بارے میں محکمہ موسمیات نے خبردار کرتے ہوئے شہریوں کو گھروں سے نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔




مہاتیر محمد نے اسرائیلی کھلاڑیوں پر پابندی لگا کر دل جیت لیے، ھنیہ

غزہ ( وائس آف ایشیا )اسلامی تحریک مزاحمت حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے مہاتیر محمد کی جانب سے اسرائیلی کھلاڑیوں کو اپنے ملک میں ہونے والی چیمپئین شپ میں داخلے سے روکنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ فلسطینی قوم اور حماس ملائیشیا کے وزیراعظم کے اعلان کو درست سمت میں اہم قدم قرار دیتی اور اس فیصلے کا تہ دل سے خیر مقدم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کی حکومت نے پیراکی کے عالمی مقابلے میں اسرائیلی کھلاڑیوں کے داخلے پر پابندی عاید کر کے فلسطینی قوم کے دل جیت لیے ہیں۔ ا نہوں نے کہا ہے کہ ملائیشیا کا یہ اقدام فلسطینی قوم کی تاریخی فتح اور روزانہ کی بنیاد پر جرائم کا سامنا کرنے والے مظلوم فلسطینیوں کی کامیابی ہے۔خیال رہے کہ ملائیشیا کی حکومت نے اسرائیل کے کھلاڑیوں کو اپنے ہاں ہونے والے پیراکی کے مقابلے میں شرکت سے روک دیا ہے۔ دوسری جانب صہیونی ریاست نے ملائیشیا کے اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔




امریکا کافلسطینیوں کو دی جانے والی تمام امداد بند کرنے کا فیصلہ

مقبوضہ بیت المقدس ( وائس آف ایشیا ) کیا ہے۔ امریکا کے ترقیاتی ادارے   کے سابق چیئرمین ڈیو ھارڈن نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکا فلسطینی اتھارٹی کے زیرانتظام چلنے والے تمام ترقیاتی منصوبوں کو ختم کرنے اور ان کی مد میں دی جانے والی رقم روکنے کا فیصلہ کر چکا ہے۔ ان تمام منصوبوں میں رواں ماہ سے کوئی اضافہ کیا جائے گا اور نہ ہی اس میں کوئی توسیع کی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق امریکی امدادی ایجنسی "USAID” کے غرب اردن اور غزہ کی پٹی میں متعین تمام ملازمین اپنے خاندانوں کے ہمراہ چلے گئے ہیں۔ فلسطینی اتھارٹی کی امداد روکنے کا فیصلہ گذشتہ برس اکتوبر میں امریکی کانگریس کی جانب سے منظور کردہ اس بل پرعمل درآمد کا حصہ ہے جس میں امریکا کی منشا پر نہ چلنے والے ممالک پر سے رقوم واپس لینے اور انسداد دہشت گردی قانون کے تحت وہ رقم دوسرے مقاصد پر صرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔امریکا نے فلسطینی اتھارٹی کو دی جانے والی امداد شہدا اور اسیران کے خاندانوں کی کفالت پر صرف کرنے کے الزام میں پہلے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے کانگریس میں سیکیورٹی عہدیدار بھیجے تھے تاکہ وہ انسداد دہشت گردی قانون میں ترمیم کرانے میں مدد کریں۔ قانون میں ترمیم کیبعد امریکا نے فلسطینی اتھارٹی کی امداد بند کرنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ فلسطینیوں کو دی جانے والی امداد امریکیوں کے مفاد میں صرف نہیں کی جا رہی ہے۔




ٹرمپ اور کم جانگ ان آئندہ ماہ دوسری ملاقات کیلئے تیار

واشنگٹن(وائس آف ایشیا ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ماہ شمالی کوریا کے رہنما کِم جانگ ان سے آئندہ ماہ دوسری ملاقات کریں گے۔ڈونلڈ ٹرمپ سے شمالی کوریا کے اعلی مذاکرات کار کِم یانگ نے ملاقات کی جس کے بعد یہ اعلان سامنے آیا۔ دونوں ممالک عشروں سے جاری محاذ آرائی ختم کرنے کے لئے جزیرہ نما کوریا سے ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کامعاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔وائٹ ہاس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا ایٹمی ہتھیاروں کے خاتمے کی تصدیق تک شمالی کوریا پر دبا اور پابندیاں برقرار رکھے گا۔واضح رہے کہ دونوں رہنماں کے درمیان جون 2018 میں سنگاپور کے تفریحی جزیرے سینٹوسا میں ملاقات ہوئی تھی جو 38 منٹ تک جاری رہی جس میں مترجمین کے علاوہ کوئی شریک نہ تھا۔اس موقع پر کم جونگ نے کہا تھا کہ ہم نے ماضی کو پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ہر کوئی جنگ کر سکتا ہے لیکن صرف بہادر ہی امن لا سکتے ہیں۔




میکسیکو:گیس پائپ لائن دھماکہ میں بیس افراد ہلاک ، 54زخمی

میکسیکو سٹی( وائس آف ایشیا ) میکسیکو میں گیس پائپ لائن دھماکے کے نتیجے میں کم از کم بیس افراد ہلاک جبکہ 54 زخمی ہوگئے ۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق مقامی حکام نے بتایا کہ دھماکہ میکسیکو کی وسطی ریاست ہیدالگو میں اس وقت ہوا جب درجنوں افراد لیکج ایندھن جمع کرنے کیلئے اکٹھے تھے دھماکہ کے نتیجے میں بیس افراد ہلاک جبکہ چوون زخمی ہوگئے زخمیوں کو فوری طور پر ہسپتال داخل کردیا گیا حادثے کی وجوہات جاننے کیلئے تحقیقات جاری ہیں ۔




افغان امن عمل ،طالبان کیساتھ مذاکرات اسلام آباد میں ہونے کا امکان

اسلام آباد (وائس آف ایشیا )امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے طالبان کے ساتھ پاکستان میں مذاکرات کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق افغان امن عمل میں قابل ذکر پیشرفت سامنے آئی ہے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا آئندہ دوراسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے۔ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ افغان طالبان کو اسلام آباد آنے کی دعوت دی جائے گی۔ ایک درجن سے زائد طالبان رہنما اسلام آباد آئینگے۔ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں قطر کو بھی شامل کیا جائیگا۔ سعودی عرب اور قطر کا ایک ساتھ مذاکرات میں شامل ہونا بڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔دوسری جانب پاکستان کے اہم دورے پر آئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے اسلام آباد میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق زلمے خلیل زاد کے ہمراہ وزارت خارجہ آنے والے وفد میں امریکی سٹیٹ ڈپارٹمنٹ، دفاع اور نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نمائندے شامل تھے۔ شاہ محمود قریشی اور زلمے خلیل زاد کی ملاقات میں افغان مفاہمتی عمل پر ہونے والی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان مفاہمتی عمل میں سہولت کاری کے لیے کاوشیں جاری رکھے گا، افغانستان میں قیام امن کے لیے مفاہمتی عمل مشترکہ ذمہ داری ہے۔امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے امریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات کرانے کے لیے سہولت کاری پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا۔زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ امریکی قیادت افغانستان میں قیام امن کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ واضح رہے کہ منصب سنبھالنے کے بعد امریکی نمائندے زلمے خلیل زاد کا یہ خطے کا پانچواں دورہ ہے۔ آج شام کو زلمے خلیل زاد کی وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ملاقات بھی شیڈول ہے۔




امریکی انتخابات میں دھاندلی ٹرمپ کے حکم پر کی ،سابق وکیل

واشنگٹن (وائس آف ایشیا)صدر ٹرمپ کے سابق وکیل مائیک کوہن نے کہا ہے کہ 2016 کے انتخابات کے سلسلے میں کی گئی دھاندلی ٹرمپ کے حکم پر کی اور اس پر شدید پچھتاوا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق سوشل میڈیا پر جاری بیان میں مائیک کوہن کا کہنا تھا کہ الیکشن دھاندلی پر جیسا امریکی اخبارنے لکھا وہ میں نے صدر ٹرمپ کے حکم اور ان کے مفاد کے لیے کیا۔مائیک کوہن نے بتایا کہ مجھے ایک ایسے شخص کی اندھی تقلید کرنے پر سخت پچھتاوا ہے جو وفاداری کے قابل نہیں تھا۔امریکی اخبارنے خبر دی تھی کہ مائیکل کوہن نے آن لائن عوامی رائے کا ڈیٹا صدر ٹرمپ کے حق میں کرنے کے لیے ایک آن لائن فرم کو پیسے دیئے تھے۔




امریکی حکومت کی جزوی بندش، ورلڈ اکنامک فورم میں امریکی وفد نہیں جائے گا

واشنگٹن(وائس آف ایشیا)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہاہے کہ ڈاووس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں اس مرتبہ امریکی وفد نہیں بھیجا جائے گا۔ اس کی وجہ بجٹ کے معاملے پر ملک میں موجود بحران اور حکومت کی جزوی بندش بتائی گئی ہے۔امریکی ٹی وی کے مطابق اس بات کا اعلان وائٹ ہاؤس کی ترجمان سارا سینڈرز نے کیا۔ ٹرمپ خود بھی چند دن قبل اس اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ٹرمپ نے ڈیموکریٹک سیاستدان اور ایوانِ نمائندگان کی اسپیکر نینسی پلوسی کا ایک غیر ملکی دورہ بھی حکومتی شٹ ڈاؤن کے تناظر میں معطل کر دیا ہے۔ ٹرمپ کی اہم سیاسی مخالف پلوسی دراصل برسلز، مصر اور افغانستان جانا چاہتی تھیں۔




یمنی حکومت میں پائی جانے والی کرپشن امن کے لیے خطرناک ہے،عالمی مبصرین

نیویارک(وائس آف ایشیا)اقوام متحدہ کے ماہرین نے سلامتی کونسل سے سفارش کی ہے کہ وہ یمنی حکومت میں پائی جانے والی کرپشن پر سنجیدگی سے غور کرے کیونکہ یہ اس ملک میں امن و سلامتی کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ان سفارشات میں یہ بھی کہا گیا کہ یمن کے ایران نواز حوثی ملیشیا کو پابند کیا جائے کہ وہ بین الاقوامی امدادی ورکروں کی آزادی کو محدود کرنے سے گریز کرے۔ ان ماہرین نے سلامتی کونسل کو پیش کی جانے والی سفارشات میں بیان کیا کہ یمنی حکومت پر لازم ہے کہ وہ اپنے اختیار میں رہنے والے افراد کی ضروریات زندگی کی فراہمی کو یقینی بنائے کیونکہ ایک بڑی یمنی آبادی کو مناسب خوراک کی اشد ضرورت ہے۔




ٹرمپ نے نئی میزائل دفاعی حکمت عملی کا اعلان کر دیا،شمالی کوریابدستورخطرہ قرار

واشنگٹن (وائس آف ایشیا)امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ملک کے لیے نئی میزائل دفاعی حکمت عملی کا اعلان کر دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس دفاعی حکمت عملی میں شمالی کوریا کو بدستور ایک بڑا اور غیر معمولی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح ایران، روس اور چین کی عسکری سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اس حکمت عملی میں ان ممالک کی فوجی سرگرمیوں کے تناظر میں خلائی ہتھیاروں اور سینسروں کی تیاری کے پروگرام پر بھی نظرثانی کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس منصوبے میں واضح طور بیان کیا گیا کہ امریکا کو روس اور چین کے میزائل پروگرام کے مقابلے کے لیے اپنے میزائل پروگرام کی مکمل طور پر نظرثانی اور جائزہ لینا وقت کی ضرورت ہے۔