چیئرمین نیب کا جعلی اکاؤنٹس کیس نیب راولپنڈی کو بھیجنے کا فیصلہ

اسلام آباد( وائس آف ایشیا)چیئرمین نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس نیب راولپنڈی کے حوالے کر دیا۔ پاناما جے آئی ٹی کے رکن عرفان نعیم منگی آصف زرداری، فریال تالپور، بلاول بھٹو اور مراد علی شاہ کیخلاف تحقیقات کریں گے۔ نیب کی جانب سے 16 ریفرنس دائر کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ قومی احتساب بیورو کے ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین جاوید اقبال کی ہدایت پر جعلی اکانٹس کیس کی تحقیقات نیب راولپنڈی کے سپرد کی گئی ہیں۔ بطور ڈی جی عرفان نعیم منگی اس سارے سکینڈل کی تحقیقات کریں گے جس کے بعد جڑواں شہروں کی احتساب عدالتوں میں ریفرنسز دائر کئے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق نیب راولپنڈی سابق صدر آصف زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور، بیٹے بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ سمیت دیگر افراد کے خلاف تحقیقات کرے گا۔ نیب جعلی اکاؤنٹس کیس میں 16 ریفرنسز دائر کرنے پر غور کر رہا ہے۔ حتمی فیصلہ عرفان نعیم منگی کی تحقیقات کی روشنی میں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ عرفان نعیم منگی نواز شریف کے خلاف بننے والی پاناما جے آئی ٹی میں بھی نیب کی جانب سے رکن تھے۔




منبج میں قیام امن کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار ہیں،اردوآن کا ٹرمپ کو پیغام

انقرہ(وائس آف ایشیا)ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے کرد اکثریتی سرحدی شہر منبج میں قیام امن کے لیے فوری اقدامات کے لیے تیار ہے۔ترک ایوان صدر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر ایردآن نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ کو ٹیلیفون پر کہا کہ ترکی منبج میں بلا تاخیر قیام امن کے لیے تیار ہے۔ترک صدر نے منبج میں گذشتہ ہفتے امریکی فوجیوں پرہونے والے حملے میں چار فوجیوں کی ہلاکت کے واقعے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس حملے کا مقصد منبج سے امریکی فوج کے انخلا کو روکنے کی کوشش کرنا تھا۔انقرہ کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ایردوآن نے شام میں داعش کو شکست دینے کے لیے مل کرکام جاری رکھنے سے اتفاق کیا ہے۔امریکی بیان کے چند گھنٹے بعد وائیٹ ہاؤس کی طرف سے بھی ایک جاری کیا گیا جس میں کہا گیا ہے کہ ترک اور امریکی صدور نے شمال مشرقی شام میں پرامن تصفیے کے لیے دباؤ بڑھانے ، دونوں ملکوں کے مشترکہ مفادات کے تحفظ اور ترکی اور امریکا کے درمیان تجارتی روابط بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔وائیٹ ہاؤس کی ترجمان سارہ سینڈرز نے ایک بیان میں کہا کہ صدر طیب ایردوآن نے ٹیلیفون کرکے امریکی صدر سے منبج میں گذشتہ ہفتے چار امریکی فوجیوں کی ہلاکت پر تعزیت کی۔ خیال رہے کہ گذشتہ بدھ کے روز منبج میں ہونے والے ایک خود کش حملے میں 4 امریکی فوجیوں سمیت پندرہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔منبج شام کا کرد اکثریتی علاقہ ہے جہاں ترکی اپنی فوج داخل کرنے اور کرد ملیشیا کو وہاں سے نکالنے کے لیے کوشاں ہے۔




وزیراعظم عمران خان گلوبل تھنکرز کی عالمی فہرست میں شامل

اسلام آباد (وائس آف ایشیا)وزیراعظم پاکستان عمران خان گلوبل تھنکرز 2019ء کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق عالمی جریدے فارن پالیسی نے گلوبل تھنکرز 2019ء کی فہرست جاری کر دی۔ عالمی میگزین کی اس فہرست میں وزیراعظم عمران خان کا نام بھی شامل ے۔ عالمی جریدے میں کہا گیا کہ عمران خان کا وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد مشکلات کا مقابلہ کرنا ہے۔وزیراعظم عمران خان کو مالی اور قرضوں کے بحران کا سامنا کرنا پڑا۔ واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے چئیرمین اور پاکستان کے موجودہ وزیراعظم عمران خان کو عالمی سطح پر کافی شہرت حاصل ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو ایشیا کے پچاس پْر کشش ترین افراد کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا تھا، یہاں یہ بات قابل ذکر رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے اور عمران خان کے وزیراعظم بننے کے بعد حکومت کو کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ان مشکلات میں سب سے بڑا مسئلہ معیشت کا تھا جس پر قابو پانے کے لیے وزیراعظم عمران خان نے کئی دوست ممالک سے مدد حاصل کرنے کی کوشش کی اور کافی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ملک کو معاشی بحران کے خدشے سے نکالنے کے لیے وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ تاحال کوششیں کر رہی ہے جس میں وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور ان کی ٹیم کا نمایاں کردار ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد حکومت کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا عالمی جریدے نے انہیں مسائل کا تذکرہ کیا ہے۔




امریکی انخلا پڑوسی ممالک کو افغان جنگ میں دوبارہ گھسیٹ سکتا ہے ، امریکی تھنک ٹینک

واشنگٹن( وائس آف ایشیا)امریکی رپورٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا افغانستان سے اپنی فوجیوں کا انخلا کرے گا تو طالبان کا امن مذاکرات سے مفاد ختم ہوجائے گا اور افغانستان کے پڑوسیوں ممالک جنگ میں مزید شامل ہوجائیں گے۔تاہم ریپبلکن سینیٹر رینڈ پال نے ڈونلڈ ٹرمپ سے حالیہ ملاقات کے بعد کہا ہے کہ امریکی صدر 17 سالہ افغان جنگ کو ختم کرنے کے لیے تیار ہیں۔2 سابق امریکی سفیروں اور 2 سابق دفاعی حکام کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی گزشتہ ماہ افغانستان سے آدھی فوج کو واپس بلانے کی تجویز کے نتائج کی نشاندہی کی گئی۔دفاعی امور میں مہارت رکھنے والے امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کے لیے تیار کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان، روس، ایران، بھارت اور اربکستان کی جانب سے پشتون، تاجک، ازبک اور ہزارہ سمیت دیگر برادریوں کی حمایت کی تاریخ موجود ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ’وفاقی حکومت کی مالیات کا مرکز اور ریاست کی رٹ ختم ہونے سے یہ تعلقات بحال ہوں گے اور امریکی انخلا سے یہ دونوں کام ہوں گے، کابل حکومت عدم استحکام کا شکار ہوگی اور افغان معیشت بھی کمزور پڑے گی۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ ’پاکستان نے طالبان کو اپنی زمین کا استعمال کرنے دیا ہے اور امریکی فوجی انخلا سے پاکستان کی کھل کر حمایت سامنے آئے گی‘۔ رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ 2001 سے روس اور ایران نے بھی کابل حکومت کی حمایت کی ہے تاہم حالیہ سالوں میں انہوں نے ’طالبان کو محدود امداد بھی فراہم کیا ہے‘۔انہوں نے نشاندہی کی کہ طالبان نے حالیہ مذاکرات میں امریکا سے وقتاً فوقتاً اپنے فوجیوں کے انخلا کی بات کی تھی اور قبل از وقت انخلا طالبان کا امن مذاکرات کے لیے مفاد ختم کردے گا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا کے قبل از وقت انخلا سے نیٹو افواج کو بھی افغانستان سے نکلنا پر جائے گا۔رپورٹ کو سابق امریکی نمائندے برائے افغانستان اور پاکستان جیمز ڈوبن، امریکی سیکریٹری ڈیفنس کے سابق کنٹری ڈائریکٹر جیسن ایچ کیمپ بیل امریکی اسپیشل آپریشنز جوائنٹ ٹاسک فورس کے سابق تجزیہ کار شان مین اور 2016 سے 2017 کے درمیان خصوصی نمائندے رہنے والے لورل ای ملر کی جانب سے تیار کیا گیا ۔




سدھو نے کرتاپور راہداری پاک بھارت وزرائے اعظم کو خط لکھ دیا

نئی دہلی( وائس آف ایشیا)سابق بھارتی کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے کرتارپور راہداری کے حوالے سے وزیراعظم عمران خان اور بھارتی وزیراعظم نریندر سنگھ مودی کو خط لکھ دیا، جس میں راہداری پر جاری کام کے حوالے سے تجاویز دی گئی ہیں۔اپنے خط میں سدھو کا کہنا تھا کہ اس علاقے اور مقام سے دنیا بھر کے سکھوں کی گہری جذباتی وابستگی ہے اور بابا گرو نانک کی ساڑھے 5 سو سالہ تقریبات کے موقع پر دنیا بھر سے سکھ یہاں آنا چاہیں گے، لہذا گوردوارہ کی تاریخی اور مذہبی اہمیت کے پیش نظر سہولیات کی فراہمی کے کام پر نظرثانی کی جائے۔خط میں تجویز دی گئی ہے کہ بزرگوں اور معذوروں کے علاوہ دیگر عمومی آمد و رفت پیدل رکھی جائے۔سدھو نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ یاتریوں کی سہولت کے لیے وہاں کھانے پینے اور خریداری کے اسٹالز کی بجائے روایتی جگہیں بنائی جائیں۔مزید کہا گیا کہ نئے تعمیراتی کام میں کرتارپور کی روایتی ثقافتی تاریخ کو محفوظ رکھنے پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی نظام کو کم سے کم متاثر ہونے کو بھی یقینی بنایا جائے۔ واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے گذشتہ برس 28 نومبر کو کرتارپور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ سنگ بنیاد رکھے جانے کی تقریب میں بھارت کی نمائندگی وزیر خوراک ہرسمرت کور اور وزیر تعمیرات ہردیپ سنگھ نے کی تھی، جبکہ سابق بھارتی کرکٹر و سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے خصوصی طور پر شرکت کی تھی۔تقریب سے خطاب کے دوران سدھو نے وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا تھا کہ جب بھی کرتارپور راہداری کی تاریخ لکھی جائے گی تو اس کے ساتھ عمران خان کا نام ضرور لکھا جائے گا۔نوجوت سنگھ سدھو نے مزید کہا تھا کہ پاکستان نے سرحد کھول کر پوری کائنات ہماری جھولی میں ڈال دی ہے۔کرتارپور راہداری منصوبہپاکستان، گوردوارہ صاحب سے سرحد تک اپنی حدود میں کرتارپور کوریڈور فیز ون میں ساڑھے 4 کلو میٹر سڑک تعمیر کرے گا، اسی طرح بھارت بھی اپنی حدود میں سرحد تک راہداری بنائے گا۔منصوبہ مکمل ہونے پر یاتریوں کو کرتارپور کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں پڑے گی تاہم اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان حتمی بات چیت ہونا باقی ہے۔پہلے مرحلے میں دریائے راوی پر 800 میٹر پل، پارکنگ ایریا، سیلاب سے بچاؤ کے لیے فلڈ پروٹیکشن بند اور گوردوارہ کمپلیکس کی تعمیرنو کی جائے گی جب کہ گوردوارہ دربار صاحب میں بارڈر ٹرمینل کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔دوسرے مرحلے میں گوردوارہ دربار صاحب میں اضافی رہائش کی تعمیر ہوگی، یاتریوں کو ویزہ فری انٹری، بس سروس، میڈیکل کی سہولت، ٹک شاپ، فلاور شاپ، کیفے ٹیریا اور لائبریری کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ لاہور سے تقریباً 120 کلومیٹر کی مسافت پر ضلع نارووال میں دریائے راوی کے کنارے ایک بستی ہے جسے کرتارپور کہا جاتا ہے، یہ وہ بستی ہے جسے بابا گرونانک نے 1521ء4 میں بسایا اور یہ گاؤں پاک بھارت سرحد سے صرف تین چار کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ نارووال شکر گڑھ روڈ سے کچے راستے پر اتریں تو گوردوارہ کرتار پور کا سفید گنبد نظر آنے لگتا ہے، یہ گوردوارہ مہاراجہ پٹیالہ بھوپندر سنگھ بہادر نے 1921 سے 1929 کے درمیان تعمیر کروایا تھا۔گرو نانک مہاراج نے اپنی زندگی کے آخری ایام یہیں بسر کیے اور اْن کی سمادھی اور قبر بھی یہیں ہے، یہی وجہ ہے کہ کرتارپور سکھوں کے لیے مقدس مقام ہے۔بھارت سے آنے والے سکھ یاتریوں کو کرتارپور تک پہنچنے کے لیے پہلے لاہور اور پھر تقریباً 130 کلومیٹر کا سفر طے کرکے نارووال پہنچنا پڑتا تھا جب کہ بھارتی حدود سے کرتارپور 3 سے 4 کلو میٹر دوری پر ہے۔ہندوستان کی تقسیم کے وقت گوردوارہ دربار صاحب پاکستان کے حصے میں آیا، دونوں ممالک کے درمیان کشیدہ تعلقات کے باعث طویل عرصے تک یہ گوردوارہ بند رہا۔




جاپانی وزیراعظم شنزو آبے کی روس آمد پر متنازعہ جزائر کے شہریوں کا مظاہرہ

ماسکو (وائس آف ایشیا)جاپانی وزیراعظم شینزو آبے روس کے دورے پر ماسکو پہنچے جہاں متنازعہ کوریل جزائر کے سینکڑوں باشندوں نے ان جزائر کی جاپان کو ممکنہ منتقلی کے خلاف مظاہرہ کیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جاپانی وزیراعظم شینزو آبے دورے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے ساتھ کوریل جزائر کے تنازعے پر بات کریں گے۔ دوسری عالمی جنگ کے اختتام پر روسی افواج نے جنوبی کوریل کے چار جزائر پر قبضہ کر لیا تھا اور ٹوکیو حکومت ان کی واپسی کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس تنازعہ کی وجہ سے روس اور جاپان کے درمیان امن کا کوئی سمجھوتہ موجود نہیں ۔ جاپانی وزیراعظم کے دورے سے قبل دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کی ملاقات بھی ہو چکی ہے۔




چارٹر آف گورننس پر مذاکرات،چیف جسٹس کی تجویز کا محتاط خیر مقدم

اسلام آباد(وائس آف ایشیا ) چیف جسٹس پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی جانب سے چارٹر آف گورننس پر وسیع تر مذاکرات کے حوالے سے بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے محتاط خیر مقدم کیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد: ملک کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماں نے چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان آصف سعید کھوسہ کی جانب سے چارٹر آف گورننس کو تیار کرنے کے لیے ‘بین الادارتی مذاکرات کے انعقاد کی تجویز کا محتاظ خیر مقدم کیا ہے لیکن ساتھ ہی اس کی تفصیلات واضح کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کے اعزاز میں منعقدہ فل کورٹس ریفرنس میں جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ترقی کے لیے بین الادارتی مذاکرات کی تجویز دی تھی، جسے انہوں نے چارٹر آف گورننس کا نام دیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ ہم اپنی قومی زندگی میں اس مرحلے تک پہنچ گئے ہیں جہاں ہمیں اپنی ماضی کی غلطیوں کا ضرور جائزہ لینا چاہیے اور چارٹر آف گورننس کے ساتھ اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ اس طرح کی غلطیاں دوبارہ نہ ہوں۔چیف جسٹس نے کہا تھا کہ میں صدر پاکستان سے درخواست کروں گا کہ وہ ایک اجلاس منعقد کریں، جس میں مشاورت کی جائے اور اس میں اعلی پارلیمانی قیادت، اعلی عدلیہ کی قیادت اور عسکری و انٹیلی جنسی اینجنسیوں سمیت اعلی ایگزیکٹو قیادت شریک ہو۔انہوں نے تجویز دیتے ہوئے مزید کہا تھا کہ بین الادراتی مذاکرات کا واحد مقصد آئین اور قانون کی حکمرانی، جمہوریت کو مضبوط کرنا اور ایسا ماحول پیدا کرنا ہے کہ جہاں ریاست اور اس کے تمام ادارے عوام کے اصل مسائل حل کرنے کے لیے پوری طرح سے قابل ہوسکتے ہیں۔اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے اپنے آفیشل ٹوئٹر اکانٹ پر دیئے گئے پیغام میں کہا کہ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بہت اچھے، قابل تعریف اور متاثر کن الفاظ کہے ہیں، تاہم ہم اس طرح کے اچھے الفاظ پہلے بھی سن چکے ہیں لیکن بعد میں مایوسی ہوئی۔نجی ٹی وی کے مطابق ادھر جب چیف جسٹس کی تجویز پر رد عمل کے لیے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ میرا ماننا ہے کہ صدر کے بجائے پارلیمنٹ کے فورم کو اس طرح کے ریاستی اداروں کے درمیان مذاکرات کے اقدام کے لیے استعمال کیا جانا چاہیے۔انہوں نے واضح کیا کہ ایوان صدر ایک بیگیج تھا اور ماضی میں آئین میں آرٹیکل(58-2 بی) شامل کرنے سمیت ملکی سیاست میں اس کا اہم کردار رہا اور یہ سیاست کا مرکز بن گیا۔رضا ربانی نے یاد دہانی کرائی کہ یہ وہ وقت تھا جب صدر، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے لیے ٹرائکا کی اصطلاع کثرت سے استعمال ہوتی تھی۔علاوہ ازیں مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے بھی بین الادارتی مذاکرات کے انعقاد کی تجویز کا خیر مقدم کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ آئین ہی اصل طاقت کا محور ہونا چاہیے۔دوسری جانب سینیٹ میں تحریک انصاف کے قائد ایوان شبلی فراز کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کے ریمارکس کی کچھ تفصیلات درکار ہیں کیونکہ پہلے ہی تمام ادارے ایک صفحے پر ہیں۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ذاتی طور پر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ملک اس راستے پر گامزن نہیں جس پر اسے ہونا چاہیے۔ سینئر رہنماؤں اور عہدیداروں سے جب چیف جسٹس کی تجویز پر رد عمل دینے کے لیے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ اپنی جماعت کی سطح پر بات نہیں کرسکتے کیونکہ پارٹی کی سطح پر یہ معاملہ ابھی زیر غور نہیں آیا۔




رینٹل پاور کرپشن ریفرنسز‘ راجا پرویز اشرف پر 8فروری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد ( وائس آف ایشیا) اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک نے سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف پر تین رینٹل پاور پراجیکٹ منصوبوں میں ہونے والی مبینہ کرپشن کے حوالہ سے دائر ریفرنسز میں8فروری کو فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کے لیے راجا پرویز اشرف سمیت تمام ملزمان کو آٹھ فروری کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔دوران سماعت احتساب عدالت کے جج نے وکلاء سے استفسار کیا کہ یہ اتنے پرانے مقدمات ہیں ان میں ابھی تک کارروائی آگے کیوں نہیں بڑھی۔اس پر وکلاء کا کہنا تھا کہ کچھ قانونی پراسیس تھا جس کی وجہ سے کاروائی آگے نہیں بڑھ سکی۔ جج محمد ارشد ملک نے تمام کیسز کو جلد از جلد نمٹا نے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے 8 فروری کو ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عدالت نے ریشماں رینٹل پاور پراجیکٹ ریفرنس، ین جن رینٹل پاور پراجیکٹ ریفرنس اور گلف رینٹل پاور پراجیکٹ ریفرنس میں 8فروری کو تمام ملزمان کو حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔