مرچ کے ان گنت فوائد اور قوت کا خزانہ

اکثر لوگ مرچوں کو ان کی تیزی اور تیکھے پن کی وجہ سے پہنچانتے ہیں جو کھانوں میں خوشبو اور ذائقہ پیدا کرنے کیلئے استعمال ہوتی ہے لیکن کم ہی لوگ اس چھوٹی سی جڑی بوٹی میں پنہاں ان گنت فوائد سے واقف ہیں جوانسانی صحت کیلئے کافی حد تک مفید ہیں۔ مرچ کے طبی فوائد میں وزن کم کرنا، خون کو ہلکا کرنا، دوران خون کی گردش میں اضافہ کرنا، نظام انہضام کو بہتر بنانا، امراض قلب، سوجن، سردرد، جوڑوں کا درد اور اکسیر وغیرہ شامل ہیں۔ مرچ کا تعلق شمرچ کی فیملی (Solanacea) سے ہے جس کا سائنسی نام Capsicum Annum ہے۔ جو عام طور پر گرم مرطوب ممالک مثلاً پاکستان اور بھارت میں بکثرت اگائی اور استعمال کی جاتی ہے۔ علاقائی ماحول اور آب و ہوا کے مطابق مرچیں مختلف اشکال اور سائز پر مشتمل ہوتی ہیں۔ مرچوں کو انڈین کھانوں کا ایک اہم حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ جڑی بوٹی سولہویں صدی میں انڈیا آئی تھی اور پھر اتنی مقبول ہوئی کہ گاؤں کے لوگ روٹی کے ساتھ مرچوں کی چٹنی کا استعمال کرنے لگے تاہم ایک لمبے عرصے تک اسے استعمال کرنا مفید نہیں ہے۔ مرچیں قدرت کی طرف سے ایک شفا بخش غذا ہیں جو وٹامن Caroten oids,K,E,C اور بی کمپلیکس سے بھرپور ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ مرچیں کیلشیم، پوٹاشیم اور غذائی فائبر حاصل کرنے کا بھی بہت بڑا ذریعہ ہیں۔
انسانی صحت کے لیے مرچوں کے فوائد:
معدے کے لیے: کھانوں میں ہری مرچوں کا استعمال معدے کے درد، گیس اور مروڑ کے لیے انتہائی مفید ہے۔
آیو ویدک اور چینی ادویات مناسب عملی انہضام کے لیے مرچ کے استعمال کو تجویز کرتی ہیں کیونکہ یہ معدے سے نکلنے والی رطوبتوں کے بہاؤ کو بہتر بناتی ہیں اور انہیں متحرک کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ مرچیں، کھانا ہضم کرنے اور بھوک بڑھانے میں بھی مدد دیتی ہیں۔ قدیم زمانے کے لوگ مرچوں کوباقاعدہ ادویات کے طور پر استعمال کرتے تھے۔
زکام اور گلے کی بیماریوں کے لیے: نزلہ و زکام میں مرچوں کا استعمال بے حد فائدہ مند ہے کیونکہ مرچوں کی تیزی اور تیکھا پن ناک اور گلے سے نکلنے والی رطوبتوں کو متحرک کرتا ہے جس سے ناک کی سانس لینے والی نالیاں صاف ہو جاتی ہیں اور سانس لینے میں دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
بھارت میں اکثر گاؤں کے لوگ پھیپھڑوں، ناک یا سینے کی بندش یا جکڑ جانے کی صورت میں مرچوں کو باقاعدہ طور پر سبزی میں استعمال کرتے ہیں۔
خون کے بہاؤ کو تیز بنانا: جب جسم کا کوئی حصہ بیمار ہوتا ہے تو اس حصے کا دوران خون بھی متاثر ہوتا ہے۔ مرچوں کے باقاعدہ استعمال سے منجمد خون ہلکا ہو جاتا ہے اور اس کے بہاؤ میں تیزی آجاتی ہے۔ اس کے علاوہ مرچوں میں موجود معدنیات جیسا کہ کیلشیم اور آئرن جو انسانی سیلز اور جسم کے سیال کا اہم حصہ ہوتے ہیں وہ دل کی شرح اور بلڈ پریشر کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرتے ہیں۔
دل کی بیماریوں کے لیے: حالیہ تحقیق سے بھی ثابت ہو گیا ہے کہ مرچ کا استعمال مریض کو ہارٹ اٹیک سے بچاتا ہے کیونکہ مرچیں خون میں کولیسٹرول کی مقدار کو کم کر دیتی ہیں۔ اس کے علاوہ مرچ کو تحلیل کر دیتا ہے جو خون کو منجمد کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ مرچوں کا استعمال جسم کے مدافعتی نظام کو مضبوط بناتا ہے اور اس میں موجود وٹامن سی سنگترے میں موجود وٹامن سے 6 گنا زیادہ ہوتا ہے۔
سردرد کے لیے: کھانوں میں مرچوں کا استعمال سردرد میں کمی کا باعث بنتا ہے اور مرچوں کوسونگھنے سے سر کا درد غائب ہو جاتا ہے۔
سانس سے متعلق مسائل کیلئے: مرچیں beta carotene حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں جو دمے کی علامت کو کم کرنے میں کافی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ مرچوں میں موجود beta carotene جسم کو مختلف بیماریوں کے حملے سے بچاتا ہے۔
وزن کم کرنے کے لیے: وزن میں کمی کے خواہش مند لوگوں کیلئے مرچوں کی سب سے اہم اور دلچسپ بات یہ ہے کہ مرچوں میں چکنائی بالکل بھی نہیں ہوتی ہے اور مرچوں میں چربی اور حراروں کو جلانے کی خاص صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ مرچوں کا استعمال نظام انہضام کی صلاحیت میں 25فیصد تک اضافہ کر دیتا ہے۔ لندن کی آکسفورڈ پولی ٹیکنک کی تحقیق کے مطابق روزانہ 6 گرام مرچ کا استعمال جسم میں 76 سے زائد حراروں کو جلا دیتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی تیز اور گرم خاصیت جسم میں میٹابولزم کی سرگرمیوں کو تیز کر دیتی ہے۔
مرچیں نہ صرف ہمارے کھانے کو خوش نما اور ذائقہ دار بناتی ہیں بلکہ ساتھ ہی ساتھ پورے جسم کیلئے بھی مفید ہیں۔
rafiqdr891@gmail.com




مٹھی میں غذائی قلت سے مزید 2 بچے انتقال کرگئے

تھرپارکر( وائس آف ایشیا) سول ہسپتا ل مٹھی میں غذائیت کی کمی اور مختلف بیماریوں کی وجہ سے2بچے انتقال کرگئے۔ محکمہ صحت کے مطابق سول ہسپتا ل مٹھی میں غذائیت کی کمی اورمختلف امراض کی وجہ سے2 بچے انتقال کرگئے۔انتقال کرنے والے بچوں کی عمریں ڈیڑھ ماہ اوردس روز ہے۔رواں ماہ انتقال کرنے والے بچوں کی تعداد 41ہوگئی جبکہ رواں سال میں انتقال کرنے والے بچوں کی تعداد 389ہو گئی۔
وائس آف ایشیا18جون 2019 خبر نمبر14




دنیا بھر میں 32 کروڑ سے زائد افراد ’ڈپریشن‘ کا شکار ہیں

لاہور(وائس آف ایشیا رپورٹ )کیا آپ مسلسل اْداس اور افسردہ رہتے ہیں؟ کی آپ کی اپنے پسندیدہ مشاغل میں دلچسپی کم ہوتی جا رہی ہے؟ کیا آپ اپنے آپ کو بلاوجہ قصوروار تصور کرتے رہتے ہیں؟کیا آپ اپنے آپ کو ناکارہ اور فالتو خیا ل کرتے ہیں؟ کیا آپ کو نیند کی کمی کا سامنا ہے؟ کیا آپ کا ہاضمہ اکثر خراب رہتا ہے اور آپ کا وزن کم ہو رہا ہے؟کیا آپ جلد تھکاوٹ کا شکار ہوجاتے ہیں؟ کیا آپ اکثر ماضی کے پچھتاوے میں مبتلا رہتے ہیں؟ کیا آپ سرد مہری کا مظاہرہ کرنے لگے ہیں؟ آپ چڑچڑے ہوگئے ہیں؟ یا آپ کو توجہ مرکوز کرنے، یاداشت میں کمی اور فیصلہ سازی میں مشکلات کا سامنا ہے؟ آپ جلد نااْمیدی کا شکار ہو جاتے ہیں؟ آپ کو خودکشی کے خیال آتے ہیں یا آپ نے خود کشی کی کوشش کی ہو؟ اگر آپ ان میں سے کم از کم چار یا اس سے زائد مسائل کا دو ہفتہ سے زائد شکار ہیں تو جان لیجئے کہ ہوسکتا ہے آپ ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہوں ا ور آپ اسے روزمرہ زندگی کی مصروفیات کا کوئی وقتی نتیجہ سمجھ رہے ہوں۔
ذہنی بیماریوں کو عموماً بیماری کے طور پر نہیں لیا جاتا بلکہ پاگل پن یا اثر تصور کیا جاتا ہے لیکن جدید سائنس اس بات کو ثابت کر چکی ہے کہ جسمانی بیماریوں کی طرح ذہنی بیماریاں بھی ہوتی ہیں اور وہ بھی دیگر امراض کی طرح قابل علاج ہیں۔ ان ہی بیماریوں میں ایک ڈپریشن یعنی ذہنی دباؤ بھی ہے جو اس بار 7 اپریل کو دنیا بھر میں منائے جانے والے صحت کے عالمی دن کا عنوان بھی ہے۔
ڈپریشن غربت، بے روزگاری، زندگی کے معمولات میں تبدیلی جس میں موت یا کسی چاہنے والے سے دوری، جسمانی بیماریاں، الکوحل اور منشیات سے پیدا ہونے والے مسائل،دماغ میں ہونے والی کیمیائی تبدیلیوں،وراثتی (جینز) اثرات، انسانی رویوں، جذباتی تعلق اور نفسیاتی عوامل کے ساتھ ساتھ سماجی، معاشی اور سیاسی حالات کے باعث بھی لاحق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ جب آپ بہت زیادہ ذہنی دباؤ یا جسمانی تھکن کا شکار ہوں اور بالکل تنہا ہوں تو ایسی صورت میں ڈپریشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔
یہ زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو زندگی کے کسی بھی حصہ میں ہو سکتا ہے۔ لیکن اس کا عموماً آغاز نوجوانی (Young Age) میں ہو تا ہے۔ یہ بیماری آپ کو معاشرے سے کاٹ دیتی ہے اور آپ روزمرہ زندگی کے معمولات سے الگ تھلگ ہو جاتے ہیں۔ جس سے آپ کی آمدن متاثر ہوتی ہے اور آپ کے معیار زندگی پر اثر پڑتا ہے۔ اور سب سے بڑھ کر آپ کو پاگل پن کے طعنہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ماہرین اس بیماری کی وضاحت یوں بھی کرتے ہیں کہ یہ بیماری بنیادی طور پر بیالوجیکل اور وراثتی ہے جسے سماجی، معاشی اور سیاسی حالات بڑھاتے اور برقرار رکھتے ہیں۔
یہ مرض دنیا میں اپنے قدم جمانے میں کامیاب ہوتا جا رہا ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 2005 سے2015 تک دس سالوں میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں18.4 فیصد اضافہ ہوا ہے۔اور یہ 32 کروڑ20 لاکھ کی تعداد تک پہنچ چکے ہیں۔ جو دنیا کی آبادی کا4.4 فیصد ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کی2017 میں جاری شدہ رپورٹ ڈپریشن اینڈ آدرکامن مینٹل ڈس آرڈرز گلوبل ہیلتھ اسیسمنٹ کے اعدادوشمار کا تجزیہ یہ بتاتا ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ ڈپریشن کے مریض بھارت میں موجود ہیں جن کی تعداد 5 کروڑ66 لاکھ 75 ہزار سے زائد ہے۔ دوسرے نمبر پر چین ہے جہاں5 کروڑ48 لاکھ15ہزار سے زائد ڈپریشن کے مریض ہیں۔ امریکہ ایک کروڑ74 لاکھ91 ہزار کی تعداد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ اس درجہ بندی میں پاکستان 74 لاکھ36 ہزار مریضوں کے ساتھ دنیا بھر میں7 ویں نمبر پر ہے۔
ذہنی امراض کے بارے میں عموماً ایک غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ یہ امیروں کے مسائل ہیں جو کہ بالکل غلط ہے کیونکہ یہ درمیانی آمدن اور کم آمدن کے حامل افراد یا ممالک میں بھی اتنی ہی شدت سے موجود ہیں جتنا کہ امیر افراد یا ممالک میں۔ جس کی تائید ان حقائق سے بھی ہو رہی ہے کہ دنیا کے پہلے دس ممالک جہاں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے اْس میں درمیانے درجہ کی آمدن اور کم آمدن کے حامل ممالک کی تعداد 8 ہے۔ یعنی بھارت، چین، برازیل، انڈونیشیا، روس، پاکستان، نائیجیریا اور بنگلہ دیش جبکہ امیر ممالک میں امریکہ اور جاپان پہلے10 ممالک کی فہرست میں شامل ہیں۔ اس وقت جنوبی ایشیاء4 کے آٹھ ممالک میں دنیا کے24 فیصد ڈپریشن کے مریض موجود ہیں۔
اگر ہم ڈپریشن کی حامل آبادی کے تناسب کے تناظر میں صورتحال کا جائزہ لیں تو 2015 میں 183ممالک جن کے اعدادوشمار دستیاب ہیں ان کے تجزیہ کے مطابق یوکرائن کی سب سے زیادہ آبادی کا تناسب اس مرض میں مبتلا ہے۔ جہاں آبادی کا 6.3فیصد ذہنی دباؤ کی بیماری میں جکڑا ہوا ہے۔اس کے بعد بالترتیب آسٹریلیا، اسٹونیا اور امریکہ کا نمبر ہے جہاں کی 5.9 فیصد آبادی اس مرض سے متاثر ہے۔
پاکستان اس درجہ بندی میں دنیا بھر میں116 ویں نمبر پر ہے اورملک کی4.2 فیصد آبادی ڈپریشن کا شکار ہے۔ مردوں کی نسبت خواتین اس مرض کے زیادہ زیر اثر ہیں۔ اس وقت عالمی سطح پر 5.1 فیصد خواتین اور3.6 فیصد مرد اس مرض کے شکنجے میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق خواتین میں ہارمونز کی تبدیلی اس مرض کی ایک بڑی وجہ ہے جس کے باعث سے حمل کے دوران اور بعد ازحمل 6 ماہ تک ہر 100 خواتین میں سے ایک خاتون ڈپریشن کا شکار ہو جاتی ہے۔
امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے مطابق خواتین میں ڈپریشن کی علامات میں اْداسی کا زیادہ محسوس ہونا، اپنے آپ کو بے کار اور فالتو خیال کرنا، اپنے آپ کو زیادہ قصوروار سمجھنا نمایاں ہیں۔ مردوں میں اس مرض کی علامات تھکاوٹ، چڑچڑاپن، پسندیدہ مشاغل میں دلچسپی کا فقدان اور سونے میں مسائل کا سامنا کرنا وغیرہ ہیں۔ جبکہ بچے ڈپریشن کا شکارہو کر اسکول جانے سے انکار کرتے ہیں۔ والدین سے چمٹے رہتے ہیں اور والدین کے مر جانے کے اندیشہ کا شکار رہتے ہیں۔
بڑے بچوں میں ڈپریشن روٹھ جانا، اسکول میں مسائل کا شکار ہونا، منفی رویہ، چڑچڑاپن اور اپنے آپکو صحیح طور پر سمجھے نہ جانے کی شکایت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور ڈپریشن کا شکار ہو کر وہ لڑائی جھگڑوں میں ملوث بھی ہوجاتے ہیں یعنی پرْتشدد ہو جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ بزرگ افراد میں تھکاوٹ محسوس کرنا، سونے میں مسائل کا سامنا کرنا، بد مزاجی، چڑچڑاپن، ابہام کا شکار اور توجہ حاصل کرنے کے مسائل کے ساتھ ساتھ رعشہ جیسی علامات ڈپریشن ہونے کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ذہنی دباؤ بعض اوقات کئی ایک دوسری بیماریوں یعنی ذیابیطس، کینسر، دل کی بیماریاں اور رعشہ وغیرہ کا باعث بنتا ہے اور کبھی یہ اور دیگر بیماریاں ڈپریشن کا موجب بھی بنتی ہیں۔ اس کے علاوہ ادویات کے سائیڈ ایفکٹ بھی اس مرض کی وجہ ہو سکتے ہیں۔ ڈپریشن کا سب سے زیادہ شدت انگیز نتیجہ خود کشی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ جو دنیا میں2015 کے دوران رونما ہونے والی ہلاکتوں کی 20 ویں بڑی وجہ کی صورت میں سامنے آئی۔اور مذکورہ سال7 لاکھ88 ہزار اموات کا باعث بنی۔
خود کشی دنیا میں ہونے والی ہلاکتوں کا1.5 فیصد ہے اور15 سے29 سال کے نوجوانوں میں اموات کی دوسری بڑی وجہ۔ عالمی ادارہ صحت کے گلوبل ہیلتھ اسٹیمیٹس2016 کے اعداد وشمار کے تجزیہ کے مطابق 2015 میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ خود کشیاں بھارت میں ہوئیں جن کی تعداد 2 لاکھ6 ہزار سے زائد تھی جبکہ چین دوسرے اور امریکہ تیسرے نمبر پر رہے، جہاں بالترتیب ایک لاکھ 86 ہزار اور45 ہزار 9 سو سے زائد افراد نے اپنی زندگی اپنے ہاتھوں ختم کی۔ ایسا اس وجہ سے ہے کہ یہی تینوں ممالک دنیا بھر میں موجود ڈپریشن کے مریضوں کی سب سے زیادہ تعداد کے حامل ہیں۔
پاکستان خود کشیوں کے کیسز کے اعتبار سے اس درجہ بندی میں33 ویں نمبر پر ہے جہاں2015 میں خودکشی کے3913 کیسز ہوئے۔ خود کشیوں کے حوالے سے جنوب ایشیا کی صورتحال یہ بتاتی ہے کہ مذکورہ سال دنیا کی29 فیصد Self Harm کے نتیجے میں ہونے والی اموات ( خودکشی) کے کیسزاس خطے میں رونما ہوئے۔
ہر40 سیکنڈ بعد دنیا میں ایک خود کشی اور اس کے علاوہ اقدام خود کشی کے کیسزبھی ڈپریشن کے مرض کی شدت اور اس کے موثر علاج و معالجے کی ضرورت کو واضح کرتے ہیں۔ کیونکہ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں خودکشی کے ہر ایک کامیاب کیس کے مقابلے میں20 اقدام خودکشی کے واقعات ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈپریشن کے مریض کا اپنے سے وابستہ لوگوں کے بارے میں شکوک و شبہات میں مبتلا ہوکر لوگوں کو قتل کرنے تک کی صورتحال کا بنیادی محرک بھی یہ مرض ہے۔ جس کے علاج معالجے کی سہولیات کو اکثر ممالک میں کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی۔
ورلڈ فیڈریشن فار مینٹل ہیلتھ کی ڈپریشن اے گلوبل کرائسسز نامی دستاویز کے مطابق دنیا میں25 فیصد سے بھی کم ڈپریشن کے مریضوں کو اس کے علاج کی سہولیات تک رسائی حاصل ہے۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں ذہنی صحت کے شعبے کو بری طرح نظر اندازکیا جا رہا ہے۔
عالمی ادارہ صحت اس حقیقت کی وضاحت یوں کرتا ہے کہ2014 میں دنیا کی45 فیصد آبادی ایسے ممالک میں رہائش پذیر تھی جہاں فی لاکھ آبادی کے لئے اوسطً ایک سے بھی کم تعداد میں سائیکاٹرسٹ موجود تھا۔ دوسرے الفاظ میں دنیا کے60 ممالک میں فی لاکھ آبادی کے لئے ایک سے بھی کم تعداد میں سائیکاٹرسٹ دستیاب ہے جبکہ دنیا میں اس شعبے میں کام کرنے والی نرسسز کی تعداد 7.7 فی لاکھ آبادی ہے۔
ڈاکٹر غلام رسول جو بولان میڈیکل کالج کوئٹہ میں پروفیسر آف سائیکاٹری ہیں۔ ڈپریشن کے علاج میں لوگوں کی طرف سے برتے جانے والی غفلت کی وجوہات میں لوگوں میں مرض کے بارے میں کم آگہی، مرض کی علامات سے عدم واقفیت، مناسب معالج کا انتخاب نہ کر پانا، ذہنی امراض کو بیماری نہ ماننا اوران کے علاج معالجے کی سہولیات کی محدود دستیابی اور وہ بھی صرف بڑے شہروں تک محدود ہونے کے ساتھ ساتھ ان امراض کے ڈاکٹروں کے پاس مریضوں کا رش زیادہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹرز کا مریض کو اتنا وقت نہ دینا جتنا کہ دینا چاہئے، نمایاں وجوہات قرار دیتے ہیں۔
غلام رسول کا کہنا ہے کہ اِن وجوہات اور دیگر عوامل کی بنا پر ملک میں صرف 2 فیصد ڈپریشن کے مریض علاج کے لئے سائیکاٹرسٹ کے پاس ا?تے ہیں جبکہ 98 فیصد دیگر ذرائع اور سہولیات سے رجوع کرتے ہیں جن میں مختلف طرح کے ڈاکٹرز، پیرا میڈیکل اسٹاف، حکیم، دائی اور مولوی صاحب شامل ہیں۔ انھوں نے مزیدبتایا کہ ڈپریشن کے70 سے80 فیصد مریض منشیات کا استعمال شروع کر دیتے ہیں۔
بلوچستان انسٹی ٹیوٹ ا?ف سائیکاٹری اینڈ بیہویریل سائنسز کوئٹہ کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام رسول کے مطابق پاکستان میں ڈپریشن کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جس کے لئے ملک بھر میں موجود 300 کے قریب ورکنگ سائیکاٹرسٹ کی تعداد انتہائی نا کافی ہے۔ جسے ہمارے ملک کے تناظر میں9 ہزار ہو نا چاہئے۔ اس کے علاوہ ایک ا?ئیڈیل سائیکاٹری ٹیم کے حوالے سے اْن کا کہنا ہے کہ ایک سائیکاٹرسٹ کے ساتھ 4 نرسز، 6 سوشل ورکرز اور4 سائیکالوجسٹ پر مشتمل ٹیم ہونی چاہئے۔
اگر ہم پاکستان میں ذہنی صحت کے شعبے میں موجود سہولیات کا جائزہ لیں تو اس میں ہماری کسمپرسی کا اظہار عالمی ادارہ صحت کے 2014 کے یہ اعدادوشمار کرتے ہیں۔کہ ملک میں فی لاکھ ا?بادی کے لئے سائیکاٹرسٹ کی تعداد اعشاریہ 31 (o.31 ) ہے جبکہ سائیکالوجسٹ کی تعداد فی لاکھ ایک ہے۔ اسی طرح ذہنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والی نرسز کی تعداد فی لاکھ ا?بادی کے مقابلے میں 15.43 ہے اور سوشل ورکرز کی تعداد2.32 ہے۔
یوں پاکستان فی لاکھ سائیکاٹرسٹ کی تعدادکے حوالے سے دنیا بھر میں89 ویں نمبر پراور سائیکالوجسٹ کی تعداد کے اعتبار سے50 ویں نمبر پر ہے جبکہ ذہنی صحت کے شعبے میں کام کرنے والی نرسز اور سوشل ورکرز کے لحاظ سے بالترتیب29 اور 17 ویں نمبر پر ہے۔
اس کے علاوہ ملک میں ذہنی صحت کے شعبے میں موجود طبی سہولیات کی منظر کشی WHO کا مینٹل ہیلتھ اٹلس 2011 یوں کرتا ہے کہ2010 میں ملک کے جنرل ہسپتالوں میں ذہنی امراض کے مریضوں کے لئے موجود بستروں کی تعداد 3231 تھی یعنی فی لاکھ ا?بادی کے لئے محض 1.74 بستر جبکہ ملک کے 5 مینٹل ہسپتالوں میں موجود بستروں کی تعداد 1825 تھی جو فی لاکھ افراد کے لئے ایک سے بھی کم یعنی0.98 بنتی تھی۔
ذہنی صحت کی سہولیات کا یہ ملکی منظر نامہ ہمارے اربابِ اختیار کی فوری توجہ کا متقاضی ہے کیونکہ جن حالات میں ہمارے روزوشب گزر رہے ہیں یہ ہمیں مستقل نہیں تو وقتی طور پر ڈپریشن کا شکار ضرور کردیتے ہیں۔ جس کے مضمرات سے یقیناً بچا جا سکتا ہے اس کے علاج کی بدولت، ڈپریشن کے بارے میں زیادہ ا?گاہی سے، اس سے بچنے اور اس کے علاج کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات سے۔ اور یوں اْس طعنہ سے بھی جو اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کے علاج کی طرف کم ہی مائل ہوتے ہیں




پی جی سی این کالج آف نرسنگ میں داخلوں میں وسیع پیمانے پر بے ضطگیاں

 

لاہور(وائس آف ایشیا) پی جی سی این کالج آف نرسنگ میں  اور سپیشلائزیشن کے داخلوں میں وسیع پیمانے پر بے ضطگیاں کالج میں عرصہ دراز سے مختلف پیداواری سیٹوں پر تعینات کرپٹ مافیا نے نے کرپشن کی اتنا کردی، ڈیپارٹمنٹ 1 پالیسیاں2،چارنرسز کالجز، سرگنگارام ہسپتال، جناح ہسپتال، ہولی فیملی ہسپتال، نشترہسپتال ملتان نے Post Rn کی پالیسی کے مطابق 21 کالمز والی لسٹ آویزاں کیں، جس میں امیدوار انٹری ٹیسٹ، تجربہ، تعلیمی قابلیت کے حساب سے جامعہ لسٹ آویزاں کیں گیں، جس سے متعلقہ نرسز کالجز میں کرپشن نہ ہونے کے برابر ہوئی ہے جبکہPGCN کالج آف نرسنگ نے صرف6 کالمز والی لسٹ آویزاں کی ہے جس میں اپنی من پسند نرسز کو نوازانے کے لیے میرٹ کا جنازہ نکال دیا گیا،
تفصیلات کے مطابق مورخہ 15 اپریل کو قومی اخبارات میں اشتہار شائع ہوا جس کے مطابق نرسز کو15دن کے اندر اپنی تعلیمی اسناد داخلہ فارم کے ساتھ جمع کروانے کا ٹائم دیا گیا، اس میں پرائمری سیکنڈری ہیلتھ ڈیپارئمنٹ کے ماتحت آنے والی نرسز کو 4 جگہ سے NCOلینے کے بہانے ذلیل وخوار کیا گیا، جونرسزRHC,BHU,THQ,DHQ میں نوکریاں کرتیں ہیں ان کو داخلہ لینے سے روکنے کے لیے داخلہ کے طریقہ کار کو انتہائی طویل کردیاگیا تاکہ وہ ڈگری پروگرام میں داخلہ حاصل نہ کرسکیں اور اپنی من پسند نرسز کو بھاری رشوت کے عوض داخلہ دلوایا جاسکے،10 مئی کو انٹری ٹیسٹ ہوا جس کارزلٹ 8یوم کے اندر آگیا، معلوم ہواہے کہ اتنا مشکل داخلہ ہونے کے باوجود750 کے قریب داخلہ فارم بمعہ 1000ایڈمیشن فیس جمع ہوئے ،جس میں سے 45 نرسز نے انٹری ٹیسٹ نہ دیا اور تقریباً150 سے زائد نرسز کو کالجز کی طرف سے مختلف اعتزازت لگا کر نااہل کردیا گیا تاکہ اپنی من پسند نرسز کو رشوت کے آویزاں داخلہ دلوایا جاسکے،
ڈپٹی سیکرٹری میڈیکل ایجوکیشن نے متعدد بار DG نرسنگ اورPGCN کالج کی انتظامیہ کو ٹیلی فون پر پنجاب کے دیگر4 نرسز کالجز کی طرح 21 کالمز والی میرٹ لسٹ آویزاں کرنے کا کہا گیا مگر PGCNکی طاقتور ترین کرپٹ مافیا ٹس سے مس نہ ہوئی اورکرپٹ مافیانے ہیلتھ ڈیپارئمنٹ کے احکامات کوپیروں تلے روندتے ہوئے Ds(ME) ڈاکٹر ناصر شاکر کی بے بسی ،گلے شکوے کرنے پر مجبور کردیا، اور PGCN کے کرپٹ مافیا نے21 کالمز والی لسٹ آویزاں نہ کی کیونکہ اس طرح کرنے سے ان کی کرپشن کرنے اور اپنی من پسند نرسز کو رشوت کے عوض نوازانے کے تمام حربے ختم ہوجانے تھے،کرپٹ مافیا یہ کہتا رہا کہ سیکرٹریٹ میںDS(ME) اورAS(T) نرسز کے POST (RN)کے داخلے ہونے ہی نہیں دیتے آگے داخلہ پہلے ہی 9 ماہ سے تاخیر سے شروع ہورہے ہیں، اس کے قصوروار بھی ڈپٹی سیکرٹری (ME) ڈاکٹر ناصر شاکر ہیں۔جب ایڈمیشن کمیٹی کی کنونیرDGNمیڈم کوثر پروین سے موقف جاننے کے حوالے سے رابطہ کیا توانہوں نے فون ایٹنڈ کرنے کی زحمت نہ کی، جب DS(ME) سے موقف لیا گیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے آپ لوگوں کے سامنے 3دفعہ مکمل21 کالمز والی لسٹ آویزاں کرنے کے لئے DGNسے کہا مگر اب وہ میری بات نہیں مان رہی تومیں کیا کرسکتا ہوں آپ سپیشل سیکرٹری میاں شکیل کے نوٹس میں لے آئیں ان کے پاس اختیارات ہیں میرے پاس کوئی اختیارات نہیں ہیں جب سپیشل سیکرٹری میاں شکیل سے رابطہ ملاگیا کہ PGCN میں اس طرح کرپشن کی انتہا ہورہی ہے تو انہوں نے 21 کالمز والی لسٹ آویزاں کرنے تک فائنل لسٹ لگانے کا عمل روک دیا مگر تاحالPGCN کی کرپٹ مافیا نے سپیشل سیکرٹری کا حکم بھی رونددیا ہے۔




پولیو کے قطرے پلانے سے انکار، والدین کے خلاف مقدمہ درج نہ کرنے کا فیصلہ

 
اسلام آباد(وائس آف ایشیا)نیشنل پولیو پروگرام نے ایسے والدین کے خلاف مقدمات درج نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو اپنے بچوں کو پولیو کے قطرے پلوانے سے انکار کرتے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ اقدام پیر کے روز سے ملک میں شروع ہونے والی انسداد پولیو مہم کے لیے خاصی مشکلات کا سبب بن سکتا ہے۔حکومت کی جانب سے دی جانے والی سہولت شمالی وزیرستان، لکی مروت اور ضلع بنوں میں 10 فیصد یا انکار کے تقریباً 50 ہزار واقعات رونما ہونے کی توقع ہے۔اس ضمن میں وزیراعظم کے فوکل پرسن بابر بن عطا نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے 3 اضلاع میں جان بوجھ کر ماضی میں کیے جانے والے اس کام میں چھوٹ دینے کا فیصلہ کیا ہے کیوں کہ ہم پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کرنے والوں کی تعداد جاننا چاہتے ہیں۔تاہم اس سلسلے میں پولیو ٹیم کے نامناسب رویوں کو بالکل بھی برداشت نہیں کیا جائے گا اور اگر کوئی پولیو ٹیم کے اراکین کے ساتھ بدسلوکی کا مرتکب ہوا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ان کا کہنا تھا کہ زبردستی ویکسین نہیں پلائی جاسکتی اس کے ساتھ والدین کی رضا مندی ہونا ضروری ہے۔بابر بن عطا کا مزید کہنا تھا کہ ’ان 3 اضلاع میں 5 سال کی عمر سے کم بچوں کی تعداد تقریباً 5 لاکھ ہے، پولیو ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے پولیو کے قطرے پلانے سے انکار کا اندراج کریں اور انہیں ویکسینیشن کے لیے اصرار نہ کریں‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے والدین نے گھروں میں مارکر رکھے ہوئے ہوتے ہیں جس سے وہ اپنے بچوں کی انگلیوں پر خود ہی نشانات لگا لیتے ہیں لہٰذا مہم کے پہلے روز ہم والدین کو سمجھانا چاہتے ہیں کہ ویکسین ان کے بچوں کے بہترین مفاد میں ہے‘۔پولیو کی شروع ہونے والی مہم کے دوران 55 لاکھ 30 ہزار بچوں کو سندھ، 43 لاکھ 10 ہزار بچوں کو پنجاب، 13 لاکھ 20 ہزار بچوں کو بلوچستان اور 11 لاکھ بچوں کو خیبر پختونخوا میں پولیو کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔مذکورہ مہم سندھ کے 16، بلوچستان کے 13، خیبرپختونخوا کے 3 اور پنجاب کے 7 اضلاع میں منعقد کی جائے گی۔ بابر بن عطا کے مطابق ملک کے مجموعی پولیو کیسز میں 50 فیصد بنوں میں رپورٹ ہونے کے بعد ضلع کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے اس وجہ سے یہ انتہائی ضروری ہے کہ انسدادِ پولیو مہم کے دوران 5 سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو کے وطرے پلوائے جائیں۔




کراچی کی 105 یونین کونسلوں میں انسدادِ پولیو مہم کا آغاز

کراچی(وائس آف ایشیا)کراچی کی 105 یونین کونسلوں میں انسداد پولیو مہم کا آغاز ہو گیا ، مہم میں 15 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے۔کمشنر کراچی افتخار شالوانی نے کمشنر ہاوس میں انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں ہونے والے اجلاس میں والدین اور کمیونٹی کے رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ پولیو مہم میں تعاون کریں۔اجلاس میں محکمہ صحت کے حکام کی جانب سے انسدادِ پولیو کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ 17 جون سے شروع ہونے والی انسدادِ پولیو مہم کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ۔مہم 23 جون تک جاری رہے گی، جس میں 15 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیوسے بچاؤ کے قطرے پلائے جائیں گے، ۔انسداد پولیو مہم کے سلسلے میں کراچی میں سکیورٹی کے خصوصی اقدامات کیے گئے ۔اجلاس میں رہ جانے والے بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے ترجیحی اقدامات کرنے پر مختلف حکمت عملی پر غور کیا گیا۔




دنیا بھر میں ہر ایک منٹ میں 23ایکڑ رقبہ پانی کی قلت کے باعث بنجر ہو رہا ہے

 
اسلام آباد( وائس آف ایشیا) دنیا بھر میں ہر ایک منٹ میں 23ایکڑ رقبہ پانی کی قلت کے باعث بنجر ہو رہا ہے۔ عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور پانی کی قلت کے بڑھتے ہوئے مسائل سے زرعی شعبہ کو سنگین خطرات درپیش ہیں۔ عالمی ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق پاکستان میں 80فیصد رقبہ پانی کی قلت سے متاثر ہے۔ آبی ذخائر نہ ہونے اور دریاؤں میں صنعتی اور شہروں کا آلودہ پانی شامل ہونے کی وجہ سے آبی حیات کو شدید نقصان کے علاوہ زرعی پیداوار بھی متاثر ہو رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق 2025ء تک دنیا میں 1.8ارب افراد کو پانی کی کمی کا سامنا ہوگا اور دنیا بھر کی دو تہائی آبادی پانی کی شدید قلت کے دباؤ میں ہوگی۔ اسی طرح 2045ء تک 135ملین عالمی آبادی پانی کی قلت کے باعث اپنی آبادیاں چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں کمی کیساتھ ساتھ آبی وسائل سے بھرپور استفادہ اور پانی کے استعمال میں احتیاط انتہائی ضروری ہیں تاکہ آنے والے وقت میں آبی قلت اور زمین کے بنجر ہونے اور صحراؤں میں اضافہ جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کے استعمال میں احتیاط ضروری ہے تاہم آبی قلت اور زمینوں کو بنجر ہونے اور صحرا زدگی سے بچانے کیلئے پاکستان کو سرسبز بنانا ہوگا۔

 




مچھلی کے تیل کے کیپسول کھانا فائدہ مند یا نقصان؟ جانئے

لاہور(خصوصی رپورٹ وائس آف ایشیا )انسانی صحت کے لئے مچھلی کا گوشت اورتیل بہت ہی مفید ہے مثلا دل کے امراض کو لیسٹر ول، وزن کا بڑھنا، ڈپریشن، کینسر، حاملہ ،آنکھ کی تکالیف، جلد، زخم اور دوسرے بہت سارے امراض میں مچھلی کا تیل بہت ہی مفید ہوتا ہے کیونکہ مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا دل کے امراض میں ایک بہت مفید چیز ہے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی ایک تحقیق کے مطابق مچھلی دل کے امراض کی شرح کو بہت حد تک کم کر سکتاہے وزن کو کم کرنے میں مچھلی کا تیل بہت مفید ہوتا ہے۔یو نیو رسٹی آف سائو تھ آسٹر یلیا ء کی ایک تحقیق کے مطابق مچھلی کے تیل میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جن سے ورزش کے دوران وزن کم کرنے میں کافی مدد ملتی ہے ورزش کے ساتھ ساتھ اگر مچھلی کا تیل اپنی روز مرہ خوراک میں شامل کرلیا جائے توورز ش کے ذریعے کم کرنا آسان ہوتاہے جسم میں خون کے بہائو کو بہتر بنانے مین بھی مچھلی کا تیل کا فی مدد گاد ثابت ہوتاہے اور اس کی مدد سے کو لیسٹر ول کنٹرول کیاجاسکتاہے مختلف موسمی قسم کی بیماریوں مثلا بخار نزلہ کھا نسی وغیرہ سے بچائو میںبھی مدد ملتی ہے نیچر ل سائنس پروگرام کی ریسرچ کے مطابق مچھلی کے تیل کو ایڈ ز کے علاج کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتاہے ۔

ایرتیرٹس فونڈیشن کی ویب سائٹ پر موجو د ریسر چ کے مطابق مچھلی کا تیل جوڑوں کے در د کے لئے ایک جاد و اثر دوا کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے مچھلی کے تیل میں اومیگا ۳ فیٹی ایسڈکی مدد سے ٹینشن کو کم یا ختم کرنے میںبھی مد د ملتی ہے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ ممالک جن میں مچھلی کے تیل کا استعمال زیادہ کیا جاتاہے وہاں پر ڈپر یشن کے مریض کی شرح بہت ہی کم ہوتی ہے یا دداشت کی کمزوری کے مرض میںبھی مچھلی کے تیل کا استعمال بہت مفید ہے۔ مچھلی کے تیل کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ دیکھنے کی قوت کو بڑھا تاہے نیشنل آئی انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ ایک سروے کر رہے ہیں جس میں وہ اس بات کے ثبوت اکھٹے کرنے کی کو شش کریں گے کہ مچھلی کا تیل آنکھ کی کن کن بیماریوں کے علاج میں مدد گار ہوتاہے ۔مچھلی کا تیل آپ کی خشک جلد کو صاف اور اجلا کرتی ہے اس کی مدد سے جلد کے بہت سارے امرا ض میں کمی لائی جاسکتی ہے جیساکہ آئلی اسکین روکھی اور بے جان جلد چہر ے پر زخم کے نشان وغیرہ ذیا بیطس کے مریضوں میں دل کے امراض کی شرح میں اضافہ دیکھا گیاہے ۔اور آکسفورڈ یونیو رسٹی انگلینڈ کی ریسر چ کے مطابق مچھلی کا تیل ذیا بیطس کے مریضوں میں دل کے امراض کی شرح کو واضح حد تک کم کر سکتاہے السر ے مر ض کی مختلف علامات مثلا سینے کی جلن سینے میں درد بھوک کا نہ لگنا وغیرہ کے علاج میں مچھلی کا تیل کا فی مفید ہے ۔حاملہ عورتوں کے لئے مچھلی کا تیل ہی مفید ہوتاہے مچھلی کا تیل ماں کے پیٹ میں بچے کی آنکھوں اور دما غ کی نشوونما میں مدد گار ثابت ہوتاہے اس کی مدد سے پیدائشی بچے میں وزن کی کمی اوردوسرے مسائل کے حل میں مفید ہے ڈنمار ک میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق مچھلی کا تیل استعمال نہ کرنے والی حاملہ عورتوں میں قبل از وقت پیدائش کا مسئلہ زیادہ پایاگیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مچھلی کا تیل استعمال نہ کرنے والی مائوں کو پیدائش کے فورا بعد ڈپر یشن کا مسئلہ بھی دیکھا گیا ہے کیونکہ حمل کے آخری دنوں میں ماں کے دماغ کا بہت سا راحصہ بچے کے دماغ میں منتقل ہوجاتاہے جس کی وجہ سے پیدائش کے بعد ما ں ڈپریشن اور کمزوری محسوس کرتی ہیں مچھلی کے تیل کے استعمال سے مراض سے بھی کافی حد تک بچاجاسکتاہے۔

مچھلی کے تیل مین جہاں اور بہت سارے فائدے پائے جاتے ہیں وہاں اس کی وجہ سے سرکے بالوں کی نشوونما میں بھی خاطر خواہ بہتری لائی جاسکتی ہے اس کے استعمال سے سر کے بالوں میں چمک پیدا ہوجا تی ہے اور وہ مضبوط بھی بنتے ہیں ہائی بلڈ پر یشر ایجو کیشن پروگرام امریکہ کی رپورٹ کے مطابق مچھلی کا تیل ہائی بلڈ پریشر کو نا رمل کرنے میں بھی کام آتاہے آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آپ کو اپنے باقی ویجیٹبل آئلز کی جگہ پر مچھلی کے تیل کا استعمال شروع کر نا چاہئے لیکن اس کی ضرورت نہیں آپ اپنے دوسرے ویجٹیبل آئل کے ساتھ ساتھ روز کے کھانے میں کچھ مقدار میں مچھلی کا تیل استعمال کرکے بھی بہت سارے فائد ے حاصل کر سکتے ہیں ماہر طب کا کہنا ہے کہ آپ باقی تمام آئلز بند کرکے صرف مچھلی کا تیل ہی استعمال کریں تو وہ دوست نہیں مچھلی کے تیل میں وٹامن اے ڈی اورای پایا جاتاہے جو کہ بہت سارے خطرناک امراض میں مفید ہوتے ہیں ۔

دماغی طاقت کے لئے اومیگا۔3 سے بڑھ کر شاید ہی کوئی چیز کارآمد ہے۔اگر جسم میں اومیگا۔3 کی مقدار کم ہو تو یہ دماغ کی خراب کارکردگی پر منتج ہوتی ہے۔ اومیگا۔ 3 سرد پانی کی مچھلیوں کی مخصوص اقسام میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً سلیمون اور ٹراؤٹ ایسی مچھلیاں ہیں کہ جن میں اومیگا ۔3 پایا جاتا ہے۔ یہ دماغی استعداد کار اور دماغ کے باہم متصل افعال کو بہترین بناتا ہے۔
ہر ہفتے دو تین مرتبہ مچھلی کھانے والے افراد میں دل کے دورے کا امکان اُن لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے جو ہر ہفتے صرف ایک بار یا بالکل ہی مچھلی نہیں کھاتے۔ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہفتے میں ایک بھی مچھلی کھانا یاداشت کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔تحقیق میں کہا گیا کہ جو لوگ بھنی ہوئی یا بیکڈمچھلی کو اپنی خوراک کا حصہ بناتے ہیں ان کی یاداشت میں اضافہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور اس سے دماغ کو توانائی ملتی ہے۔
ایک رپورٹ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے میں شائع ہوئی ہے، جس میں ایسی پچاس ہزار خواتین کو شامل کیا گیا جنہیں ابتداء میں مرض قلب نہیں تھا۔ سولہ سال تک ان کے کوائف کا مشاہدہ کرنے کے بعد نتیجہ یہ نکالہ گیا کہ جن خواتین نے ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ مچھلی کھائی۔ ان پر حملہ قلب کا شکار ہونے کا امکان ان خواتین کی نسبت تیس فیصد کم ہو گیا جو ایک مہینے سے بھی زیادہ عرصے میں ایک بار مچھلی کھاتی رہتی تھیں۔مچھلی کے تیل سے خون کی چپ چپاہٹ کم ہوتی ہے اور گاڑھے پن میں کمی آتی ہے۔اس کا اثر اسپرین جیسا ہوتا ہے،اس تیل سے بظاہر ان شریانوں کی تنگی میں کمی آتی ہے جو کولیسٹرول کی زیادتی کے باٰعث تنگ ہو چکی ہوتی ہیں۔ہفتے میں اک دو دن مچھلی کھانا صحت کے لیے بہت مفید ہے اور جو لوگ مچھلی نہیں کھاتے وہ اخروٹ،سویابین یا لاسی کے بیج یا ان کا تیل کھا کر اومیگا3 چکنائی حاصل کر سکتے ہیں عام خیال ہے کہ یہی چکنائی دل کو محفوظ رکھتی ہے۔مچھلی انسانی صحت کے لئے بہت اہم غذا ہے۔ اس میں بعض ایسے اجزاء ہوتے ہیں جو کسی اور گوشت میں نہیں پائے جاتے، مثال کے طور پر آئیوڈین، جو انسانی صحت کے لئے بہت اہمت کا حامل ہے۔ اس کی کمی سے جسم کا غدودی نظام کا توازن بگڑ سکتا ہے، گلے کے اہم غدود تھائیرائیڈ میں سقم پیدا ہوکر جسمانی نظام میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔یہ نتیجہ ایک ایسے تجزیاتی عمل کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں پندرہ مختلف طبی تحقیقی جائزوں سے حاصل ہونے والی معلومات کا اجتماعی طور پر موازنہ کیا گیا۔ ان طبی مطالعوں میں سے ہر ایک میں عام لوگوں سے یہ پوچھا گیا تھا کہ وہ ہر ہفتے یا مہینے بالعموم کتنی بار مچھلی کھاتے ہیں۔




شکار پو ر بھی ایڈز کا شکار ،سیکریننگ میں 31افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی

 
شکارپور ( وائس آف ایشیا) لاڑکانہ اور رتوڈیرو کے بعد ضلع شکار پور میں ایچ آئی وی کی مہلک بیماری نے اپنے پنجے گاڑ د یئے ۔شکارپور سمیت ملحقہ علاقوں میں ایچ آئی وی ایڈز کا خطرہ سر پرمنڈالنے لگا، محکمہ صحت کی جانب سے مرض پر قابو پانے کیلئے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر شبیر شیخ نے کہا کہ ملحقہ علاقوں میں 25 سو سے زائد افراد کی اسکریننگ کی گئی جن میں 31 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی ، ایچ آئی وی ایڈز پروگرام کے تحت متاثرہ افراد کو علاج سمیت دیگر سہولتیں فراہم کر رہے ہیں۔شکار پور کے شہریوں نے بتایا کہ حکومتِ سندھ کو چاہیے کہ اس مہلک بیماری سے چھٹکارے کے لیے سرکاری ہسپتا لوں کے بجائے نجی میڈیکل سٹورز پر بھی ایچ آئی وی سے بچاؤ کی ادویات عام کی جائیں تاکہ اس مرض سے بچا جا سکے۔ایچ آئی وی کے مرض میں مبتلا معصوم بچے کے اہل خانہ نے کہا کہ ہمیں سندھ ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت بغیر معاوضے کے علاج کی سہولتیں اور ادویات مل رہی ہیں۔شکار پور کے شہریوں نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایچ آئی وی کے بڑھتے ہوئے مرض پر قابو پانے کے لے فوری طور پر ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔




زیادہ مٹھاس کا استعمال دل کی بیماریوں کا سبب ہوسکتا ہے،تحقیق

 لاہور(وائس آف ایشیا)ایسے صحت مند لوگ جو اپنے کھانوں میں مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، ان کے دل کے عارضے میں مبتلا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔برطانیہ کی سرے یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے صحت مند افراد جو میٹھا زیادہ کھانا پسند کرتے ہیں ان کے خون میں بڑھنے والی چکناہٹ اور جگر پر جمع ہونے والی چربی کارڈیو ویسکیولر مسائل میں اضافہ کر دیتی ہے۔کلینکل سائنسز میگزین میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ سرے یونیورسٹی کے ماہرین نے صحت مند افراد کے دو گروپس تشکیل دیئے جن میں سے ایک کو روزانہ کی بنیاد پر 140کیلوریز کی میٹھی اشیا کھانے کو دی گئیں جبکہ دوسرے گروپ کو 650کیلوریز کی میٹھی اشیا دی گئیں۔بارہ ہفتوں تک یہ معمول برقرار رکھنے کے بعد حاصل ہونے والے اعداد و شمار بہت ہی چونکا دینے والے تھے۔ ایسے افراد جنہیں زیادہ میٹھا کھلایا گیا ان کے جگر پر نان الکحل فیٹی لیور ڈیزیز (این اے ایف ایل ڈی)نامی چربی جمع ہوئی جس کی وجہ سے جگر کے خلیوں کی توڑ پھوڑ(میٹابولزم)پر منفی اثرات مرتب ہوئے اور اس صورتحال کا تعلق امراض قلب، دل کی بے ترتیب دھڑکن اور دل کے دورے سے بھی ہے۔




لاڑکانہ کے بعد فیصل آباد میں ایڈز کے مرض میں خطرناک اضافہ

فیصل آباد ( وائس آف ایشیا) لاڑکانہ کے بعد پاکستان کے شہر فیصل آباد میں بھی ایڈز کا مرض سر اْٹھانے لگا ہے۔ تفصیلات کے مطابق فیصل آباد کے الائیڈ اسپتال کے ایڈز کنٹرول پروگرام یونٹ میں 2 ہزار 680 مریض رجسٹرڈ ہوچکے ہیں۔ رجسٹرڈ مریضوں کا تعلق فیصل آباد، ساہیوال، جھنگ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، چنیوٹ، ننکانہ صاحب سے ہے۔ الائیڈ ہسپتال کی رپورٹ کے مطابق عطائی ڈاکٹرز، استعمال شدہ سرنج کا استعمال، حجام اور بے راہ روی ایچ آئی وی وائرس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔اسپتال کی اس رپورٹ کے مطابق مریضوں میں مردوں کی تعداد 2300 جبکہ خواتین کی تعداد296 ہیں۔ ایڈز سے متاثرہ مریضوں میں 2 ہزار سے زائد نشے کے عادی افراد شامل ہیں۔ ایڈز سے متاثرہ اب تک 267 افراد کی اموات ہو چکی ہیں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایڈز کا علاج انتہائی مہنگا ہے تاہم احتیاطی تدابیر ااپنا کر اس مرض کا پھیلاؤ روکا جاسکتا ہے۔ فیصل آباد میں ایڈز کے مریضوں کے لیے الائیڈ اسپتال میں صرف ایک کمرے کا وارڈ موجود ہے، شہریوں کا کہنا ہے کہ ایڈز جیسے خطرناک مرض میں بے پناہ اضافہ کے باوجود حکومتی سطح پر نہ تو تاحال اس حوالے سے اقدمات کیے گئے اور نہ ہی متاثرہ علاقوں میں اسکریننگ کیمپ لگائے گئے۔یاد رہے کہ اس سے قبل صوبہ سندھ کے شہر لاڑکانہ میں کئی افراد نے ایچ آئی وی ایڈز میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔ جس کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ لاڑکانہ میں ایڈز کے مرض میں مبتلا ڈاکٹر مظفر نے استعمال شدہ سرنج لگا کر 45 افراد کو ایڈز میں مبتلا کر دیا تھا۔ 45 افراد میں ایچ آئی وی کی تصدیق ہوئی تو پولیس نے ذہنی مریض ڈاکٹر کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر دیا۔ مقدمہ سندھ ہیلتھ کئیر کے افسر کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ گرفتار ملزم ڈاکٹر مظفر آخری اسٹیج کے ایڈز میں مبتلا ہے۔ گرفتار ڈاکٹر انتقامی طور پر اپنا انجکشن آنے والے مریضوں کو لگاتا تھا۔




چینی سائنسدانوں نے جنیاتی سرجری میں استعمال کیلئے نیا آلہ ایجاد کر لیا

شنگھائی ( وائس آف ایشیا) چین کے سائنسدانوں کی ٹیم نے جین کی درستگی اور ترمیم کے استعمال کے لئے نیا آلہ ایجاد کیا ہے جسے پہلے سے موجود آلات سے زیادہ محفوظ اور بااعتماد ’’جین ایڈیٹنگ ٹول‘‘قرار دیا جا رہا ہے۔خبر رساں ادارے کے مطابق اس کی مدد سے جینیاتی سرجریز کے دورانیہ کو مزید کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ سائنسدان اس سے قبل جینوم انجینرنگ کے لئے جنیاتی قینچی یا جنیٹک سیزر استعمال کی جا رہی ہے لیکن پہلے سے استعمال ہونے والی قینچی سے جین کا رینونکل ایسڈ یا آر این اے کے متاثر ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔شنگھائی انسٹی ٹیوٹ فار بائیولوجیکل سائنسز کی تحقیقاتی ٹیم جو چائینز اکیڈمی آف سائنسز کے زیر انتظام کام کرتی ہیں کی نئی جنیاتی قینچی نما آلے جس کو اے بی اے (ایف 148۔اے) کا نام دیا گیا ہے،جینز کو زیادہ احتیاط سے کاٹ سکتی ہے اور اس سے آر این اے بھی متاثر نہیں ہوگا۔ نیا ایجاد کیا جانے والا آلہ مخصوص جنیاتی بیماریوں کے علاج میں بھی استعمال ہو سکے گاجیسے کہ تھلیسیمیا نیوکلئیر ڈی جنریشن اور بہرہ پن وغیرہ۔
وائس آف ایشیا13جون 2019 خبر نمبر90




ہیٹ ویو ، غیر ضروری گھر سے نکلنے سے گریز ،پانی کا استعمال زیادہ کریں، طبی ماہرین

کراچی ( وائس آف ایشیا)ہیٹ ویو کے دوران شہری ھروں سے بلا ضرورت نکلنے سے گریز کریں ،ہیٹ ویو کے باعث کراچی کے گرم موسم میں ایک بار پھر سے شدت ا? رہی ہے،طبی ماہرین کہتے ہیں کہ شہری غیر ضروری طور پر گھر سے نکلنے سے گریز کریں اور پانی کا استعمال بھی بڑھائیں۔محکمہ موسمیات کی جانب سے سمندری طوفان ’وایو‘ کی وجہ سے کراچی کا درجہ? حرارت ایک بار پھر سے بڑھنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ہیٹ ویو کے دوران طبی ماہرین نے شہریوں کو سخت احتیاط کا مشورہ دیا ہے، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ شہری غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نہ نکلیں اور پانی کا استعمال زیادہ کریں۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ متلی ہونا، سر درد، چکر آنا اور بے ہوش ہو جانا ہیٹ اسٹروک کی علامات میں شامل ہیں، اس لیے شہری پانی اور ٹھنڈے مشروبات کا استعمال زیادہ کریں اور لو سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں ،طبی ماہرین نے مزید کہا ہے کہ مزدور طبقہ بھی کام کے وقت سر پر گیلا کپڑا لازمی رکھے اور ساتھ پانی کا استعمال کرتے رہیں۔طبی ماہرین نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ شہری گرم موسم میں لسی کا استعمال کریں۔واضح رہے کہ ’وایو‘ نامی سمندری طوفان کے شدت اختیار کرکے ٹراپیکل سائیکلون میں تبدیل ہونے کے باعث محکمہ موسمیات نے ا?ج کراچی میں ہیٹ ویو کا خدشہ ظاہر کیا ہے، جبکہ شہر میں صبح سویرے ہی گرمی کا زور ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر میں ا?ج درجہ حرارت 42 ڈگری تک چھوئے گا، حبس کے باعث گرمی کی شدت کہیں زیادہ محسوس کی جائے گی۔
وائس آف ایشیا13جون 2019 خبر نمبر54




ناشتہ چھوڑنا دل کے لیے شدید نقصان دہ

واشنگٹن(وائس آ ف ایشیا)اس سے قبل ناشتہ چھوڑدینے کے انتہائی مضر اثرات سامنے آتے رہے ہیں۔ اب تازہ خبر یہ ہے کہ ناشتہ ترک کرنے سے دل کے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔اگر کوئی ناشتہ چھوڑنے کو اپنا معمول بنالے تو اس سے دل کی شریانیں سخت اور تنگ ہوجاتی ہیں کیونکہ ان کے اندر پلاک جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے۔امریکن جرنل آف کارڈیالوجی میں شائع ہونے والی حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اچھی طرح ناشتہ کرنا دل کے لیے بہت ضروری ہے اور اس سے وزن برقرار اور کولیسٹرول قابو میں رہتا ہے۔ یہ پہلی تحقیق ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ کس طرح ناشتہ چھوڑنا دل کی شریانوں کو اس قدر متاثر کرتا ہے کہ وہ دل کے امراض کی وجہ بن جاتی ہیں اور ایک مرض ایتھروسکلیروسس کو جنم دیتی ہیں جس میں شریانیں سخت ہوتی جاتی ہیں۔ماؤنٹ سینائی اسپتال برائے قلب اور امریکن جرنل آف کارڈیالوجی کی ایڈیٹر ویلنٹائن فوسٹر کہتی ہیں کہ ناشتے کو نظر انداز کرنے کی عادت ’مکمل طور پر منفی طرزِ زندگی کی وجہ بنتی ہے۔ ہماری نئی تحقیق بتاتی ہے کہ یہ عادت دل کے امراض کو کس طرح جنم دیتی ہے۔‘اس سروے میں ایسے مرد و خواتین کو شامل کیا گیا جو ہر قسم کے قلبی عارضے سے پاک تھے۔ ان سے غذا، روزانہ کیلوریز اور خصوصاً ناشتے کے بارے میں پوچھا گیا۔ پھر انہیں تین گروہوں میں تقسیم کیا گیا۔ پہلا گروہ صبح باقاعدہ ناشتہ نہیں کرتا تھا اورناشتے کی صرف پانچ فیصد کیلوریز ہی معدے میں اتارتا تھا یعنی ایسے افراد ایک کپ کافی، چائے یا جوس وغیرہ پیتے تھے۔ دوسرے گروہ والے ناشتے کی صرف 20 فیصد کیلوریز استعمال کرتے تھے جن میں کم غذائیت والا ناشتہ شامل ہے۔ 4000 شرکا میں سے صرف 3 فیصد اپنی توانائی کا 70 فیصد ناشتے میں لے رہے تھے جبکہ 27 فیصد باقاعدہ اور درست ناشتہ لے رہے تھے۔اگر موازنہ کیا جائے تو بھرپور ناشتہ کرنے والوں کے مقابلے میں ناشتہ چھوڑدینے یا کم غذائیت والے ناشتہ استعمال کرنے والوں میں شریانوں کی سختی زیادہ نوٹ کی گئی۔ اس کے علاوہ ناشتے سے بھاگنے والے افراد میں دل کی بیماری سے قبل کچھ بایومارکر بھی دیکھے گئے جو مستقبل میں کسی بڑی قلبی بیماری کی وجہ بن سکتے ہیں۔ایک اور خطرناک بات یہ ہے کہ ناشتہ ترک کرنے والے شرکا میں کولیسٹرول بلند، خون کی چکنائی زیادہ ، کمر کا گھیر بڑا اور باڈی ماس انڈیکس (بی ایم آئی) بھی خطرناک تھا۔ صبح نہار منہ ان کے خون میں شکر کی مقدار بھی اوپر کی طرف جارہی تھی۔ماہرین نے یہ بھی کہا کہ ناشتہ چھوڑنا زندگی میں توازن اور نظم و ضبط کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ایسے لوگ الم غلم کچھ نہ کچھ کھاتے رہتے ہیں اور مزید بیمار بھی رہتے ہیں۔




پنجاب کے 5 اضلاع میں ایچ آئی وی/ایڈز کے کیسز میں خطرناک حد تک اضافہ

فیصل آباد( وائس آف ایشیا)صوبہ پنجاب کے 5 اضلاع فیصل آباد، چنیوٹ، ساہیوال، جھنگ اور ننکانہ میں ایچ آئی وی پوزیٹو کے افراد میں اضافہ خطرناک شرح تک بڑھ گیا ہے اور اس وقت ان علاقوں سے 2800 سے زائد مریض مفت ادویات کے لیے پنجاب ایڈز کنٹرول پروگرام (پی اے سی پی) کے پاس رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پی اے سی پی کے ذرائع کے مطابق پروگرام کا فیصل آباد یونٹ الائڈ ہسپتال کے کمرے میں قائم کیا گیا ہے جو ایچ آئی وی/ ایڈز کے رجسٹرڈ مریضوں کو مفت ادویات فراہم کررہا ہے جبکہ ان 5 اضلاع سے ماہانہ 70 سے 90 کیسز اس بیماری کے موصول ہورہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان مریضوں میں سے زیادہ تر کو اپنی حالت کے بارے میں خون عطیہ کرنے، بیرون ملک جانے یا سرجری سے گزرنے سے قبل کیے گئے اسکریننگ ٹیسٹ کے ذریعے معلوم ہوا۔تاہم ان علاقوں میں ایچ آئی وی پوزیٹو کے اس طرح کے زیادہ کیسز سامنے آنے کے باوجود یہ پریشان کن ہے کہ صوبائی حکومت اور ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اب تک ایچ آئی وی مریضوں کی اتنی بڑی تعداد کی وجوہات جاننے کے لیے کوئی اسکریننگ کیمپ نہیں لگایا گیا۔ذرائع کا کہنا تھا کہ سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے تعلقہ رتو ڈیرو میں بڑی تعداد میں ایچ آئی وی کیس صوبائی حکومت کے لیے بدنامی کا باعث بنے اور اسی کو دیکھتے ہوئے پنجاب میں متعلقہ انتظامیہ نے خود کو بچانے کے لیے اس معاملے پر روشنی نہیں ڈالی۔انہوں نے کہا کہ پی اے سی پی کے متعلقہ اسٹاف کو بیماری کے بڑے واقعات سے متعلق کسی بھی معلومات کے لیک ہونے کے خلاف سختی سے خبردار کیا گیا تھا۔اسی تناظر میں حکام کی زبانی ہدایات پر الائیڈ ہسپتال میں پی اے سی پی حکام باضابطہ طور پر مریضوں کی تعداد بتانے کو تیار نہیں تھے اور نہ ہی یہ بتانے کو تیار تھے کہ یہ مریض کن علاقوں سے آئے اور کس طرح انہیں وائرس ہوا۔دوسری جانب پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے اس تمام صورتحال پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا اور متعلقہ علاقوں میں عطائیوں کے خطرے کو دیکھنے میں ضلعی انتظامیہ کی ناکامی پر شدید تنقید کی، ساتھ اسے اس خطرے کو ایچ آئی وی/ایڈز کے پھیلاؤ کا بڑا ذریعہ قرار دیا۔اس حوالے سے معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے ڈاکٹر صولت نواز کی سربراہی میں پی ایم اے اراکین کا اجلاس ہوا جس میں پنجاب ہیلتھ کیئر کمیشن (پی ایچ سی) پر عطائیوں کو اجازت دینے کا الزام بھی لگایا گیا۔انہوں نے الزام لگایا کہ وقفے وقفے سے عطائیوں کے خلاف نام نہاد آپریشنز صرف متعلقہ حکام کی ماہانہ رشوت میں اضافے کا ذریعہ ہیں۔ذرائع نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ سرکاری ہسپتالوں کی جانب سے ایچ آئی وی/ایڈز مریضوں کی سرجری سے انکار کرنے کی مشق بھی اس بیمارے کے پھیلنے کی وجہ ہے۔ایسے مریضوں کے پاس کوئی آپشن نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ وہ نجی ہسپتالوں تک رسائی حاصل کریں جہاں انہیں خون کی اسکریننگ کے بغیر آپریشن کے اس عمل سے گزرنا پڑتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں وائرس دیگر مریضوں میں پھیلتا ہے جو ان نجی ہسپتالوں میں کمزور طریقے سے جریحی آلات کے ذریعے سرجری سے گزر رہے ہوتے ہیں۔




کیا پھٹی ایڑھیوں کی وجہ سے پریشان ہیں؟ یہ نسخہ آزمائیں

لاہور(وائس آف ایشیا)پھٹی ایڑھیاں یا جلد پر زخم عام طور پر دیکھے جاتے ہیں, اس قسم کے داغ یا زخم شدید گرمی کی وجہ سے ہوتے ہیں. ہر عمر کے لوگوں کو پھٹی ایڑھیوں کا مسئلہ ہوتا ہے، اور یہ بہت درد ناک ہوتا ہے. یہاں تک کہ چلتے ہوئے پاؤں میں درد ہوتا ہے اور جلن کے ساتھ خون بھی نکلتا ہے.
پھٹی ایڑھیوں کی وجوہات
ان کے ہونے کی کچھ بھی وجوہات ہو سکتی ہیں اور یہ کسی بھی عمر کے لوگوں کو متاثر کر سکتی ہے. ہم یہاں پھٹی ایڑھیوں کی کچھ وجوہات بیان کر رہے ہیں. جو طریقے ہم بیان کر رہے ہیں اپنی ایڑھیوں کی حفاظت کے لئے آپ انکو نہیں اپنائیں گے
طویل مدت کے لئے چلنا یا کھڑے ہونا
اگر آپ بہت زیادہ عرصے تک چلنے کے عادی ہیں یا آپ زیادہ دیر تک کھڑے رہتے ہیں تو اس وجہ سے آپکے پاؤں کے پٹھوں پر دباؤ پڑنے کی وجہ سے یہ پھٹ جاتے ہیں. لہذا اگر آپ کے لئے زیادہ دیر چلنا یا کھڑے رہنا بہت ضروری ہے تو ہمیشہ ایسے جوتوں کا انتخاب کریں جو آپکی ایڑھیوں کے لئے چلنے اور کھڑے ہوتے وقت آرام دہ ہوں. اب جب بھی جوتے خریدیں اس بات کو ذہن میں رکھیں.
کھلے جوتے یا سینڈل
ایڑھیوں کی خوبصورتی اور نرمی کو خراب کرنے کی یہ ایک بڑی وجہ ہے. کھلے جوتوں اور سینڈل میں مٹی کے ذرات داخل ہو جاتے ہیں. مٹی اور گندگی کے ذرات جلد کو نقصان پہنچاتے ہیں. اسکے علاوہ سینڈل اور کھلے جوتے بآسانی سے پاؤں کے کسی بھی حصے کو نقصان پہنچا سکتے ہیں. ہمیشہ بند جوتوں کا انتخاب کریں کونکہ یہ آپکے پاؤں کو نقصان نہیں پہنچنے دیتے.
چھوٹے سائز کے جوتے
جب بھی آپ جوتا خریدنے جائیں ہمشہ عقلمندی سے جوتوں کا انتخاب کریں وہی جوتے لیں جن کا سول اندر سے نرم ہو اور آپکے پہننے کے لئے بھی آرام دہ ہوں، جوتا پہن کر چلیں اگر آرام دہ ہو تو فورا خرید لیں . آرام دینے والے جوتے ہی پاؤں کے لئے فائدہ مند ہیں تنگ جوتے بھی پھٹی ایڑھیوں کی وجہ بنتے ہیں.
دیگر عوامل
موسمی تبدیلیاں بھی پھٹی ایڑھیوں کی وجہ بنتی ہیں کیونکہ موسم سرما میں ایڑھیاں خشک ہو جاتی ہیں. آپکو چاہیے کہ اپنی ایڑھیوں پر لوشن لگائیں.
زیتون اور ناریل کا تیل
شیمپو کی مدد سے اپنے پاؤں اچھی طرح دھو لیں. کچھ دیر انکو خشک ہونے دیں پھر ان پر نیم گرم زیتون اور ناریل کا تیل مکس کر کے لگائیں. بچوں کی طرح نرم ملائم پاؤں حاصل کرنے کے لئے اس عمل کو دن میں دو مرتبہ دوہرائیں۔.




خراب نیند کی وجہ جسم میں غذائی اجزا کی کمی بھی ہوسکتی ہے ،ماہرین

واشنگٹن( وائس آف ایشیا) نیند کی کمی یا خراب نیند کی بہت سی وجوہ ہوسکتی ہیں اور اب ان میں معدنیات اور وٹامنز کی کمی کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ماہرین نے بتایا ہے کہ بالخصوص خواتین میں بے آرام یا ناکافی نیند کی وجہ ان کے جسم میں اہم معدنیاتی اجزا اور وٹامن کا فقدان بھی ہوسکتا ہے۔ اسی وجہ سے نیند کی بہتری کے لیے خوراک پر توجہ دینا بہت ضروری ہے۔امریکا میں نینشل ہیلتھ اینڈ نیوٹریشن ایگزامنیشن سروے (این ایچ اے این ای ایس) نے ڈیٹا پر مبنی یہ تحقیق کی ہے کہ خواتین اپنی غذا میں بعض اہم وٹامن اور اجزا کو ضرور شامل کریں۔ سروے سے معلوم ہوا کہ 19 سال سے زیادہ عمر کے 47 فیصد افراد نے خراب اور ناکافی نیند کا اعتراف کیا اور ان کی غذاؤں میں میگنیشیئم، نیاسِن، وٹامن ڈی، کیلشیئم اور فائبر(ریشے دار خوراک) کی کمی بھی دیکھی گئی۔ اس طرح غذائی اجزا میں کمی اور نیند کی خرابی کے درمیان ایک تعلق ابھر کر سامنے آیا۔تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا کہ خواتین اس کیفیت سے زیادہ متاثر ہورہی ہیں اور ضروری ہے کہ وہ اپنی غذا میں وٹامن، ضروری معدنیات اور دیگر خردغذائی اجزا (مائیکرونیوٹرینٹس) کا ضرور خیال رکھیں۔ غوروفکر سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ان اجزا کی کمی سونے میں مشکل، کچی نیند اور کم مدت کی نیند کی وجہ بھی ہے۔اگرچہ انسانی جسم میں ان غذائی اجزا کی بہت کم مقدار ہوتی ہے لیکن ان کا اثر بہت ہی گہرا ہوتا ہے۔ اسی طرح جسم کو فولاد، آئیوڈین اور وٹامن اے کی معمولی مقدار درکار ہوتی ہے لیکن ان کے اثرات ہولناک بیماریوں کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔
وائس آف ایشیا11جون 2019 خبر نمبر31




دہی کے آٹھ چونکا دینے والے فوائد

لاہور(وائس آف ایشیا)کیلشیم سے بھرپور ، پروٹین اور پروبائیوٹک سے لیس دہی دودھ سے بنے والی ایک بہترین غذا ہے ۔ اسے ڈیری پراڈکٹس کا سپر ہیرو بھی کہا جاسکتا ہے ۔ کھانے میں اس کا استعمال عام ہے۔ اسے سادہ بھی کھایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ سلاد کی ڈریسنگ اور مشروب کے طور پر بھی دہی کو بہت پسند کیا جاتا ہے ۔ دہی گرمیوں سردیوں ہر موسم میں ہی استعمال کیا جاتا ہے ۔ دہی سے جسم کو بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں ۔ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ یہ ایک مکمل غذا ہے ۔ کچھ لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ دودھ سے بھی زیادہ فائدے مند ہے ۔دہی صدیوں سے انسانی غذا کا حصہ رہا ہے۔ صحت پردہیکے لاتعداد مثبت اثرات پڑتے ہیں ان میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں :

نظام انہضام کے لیے مفید

دہی میں موجود ضروری غذائی اجزا آسانی سے انہضامی نالی میں جذب ہو جاتے ہیں ۔ یہ دیگر غذاؤں کی بھی ہضم ہونے میں معاونت کرتاہیں ۔ دہی جسم میں پی ایچ بیلنس برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے ۔ دہی معدے میں تیزابیت نہیں ہونے دیتا۔ اس سے معدے کی کئی تکالیف سے نجات ملتی ہے ۔

ہڈیوں اور دانتوں ک مضبوطی

دہی میں موجود کیلشیم اور فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کو مظبوط کرتا ہے ۔ کیلشیم اور فاسفورس ہڈیوں اور دانتوں کے لیے بے حد ضروری ہے ۔ دہی کا مستقل استعمال آسٹوپروسس اور گٹھیا جیسے مرض کے خطرات سے محفوظ رکھتا ہے ۔

وزن کم کرنے میں معاون

دہی میں موجود کیلشیم جسم میں کارٹیسول بننے سے روکتا ہے۔ کارٹیسول کی وجہ سے ہائپر ٹینشن اور موٹاپے جیسے مسائل پیش آتے ہیں ۔ ایک تحقیق کے مطابق اگر روزانہ اٹھارا اونس دہی کھایا جائے تو اس سے پیٹ کی چربی گھلتی ہے ۔ جسم میں کیلشیم فیٹس کے خلیات میں سے کارٹیسول کے اخراج کو روکتا ہے جس انسان کا وزن نہیں بڑھتا ۔

دل کے لیے فائدے مند

آج کل امراض قلب میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔ دل کی صحت کے لیے دہی کا استعمال بے حد مفید ہے ۔ دہی جسم میں کولیسٹرول کو کنٹرول کرتا ہے ۔ یہ ہائپر ٹٰنشن اور ہائی بلڈ پریشر جیسے امراض سے بھی بچاتا ہے ۔

بہترین بیوٹی پراڈکٹ

دہی سے جلد اور بال خوبصورت ہو جاتے ہیں ۔ اس سے جلد اور بالوں پر لگایا بھی جاتا ہے ۔ جلد اور بالوں کو خوبصورت بنانے والے کئی گھریلو ٹوٹکوں میں دہی کا استعمال کیا جاتا ہے ۔اگر صرف دہی سے ہی چہرے کا مساج کیا جائے تو یہ وائٹننگ بلیچ کا کام کرتا ہے اور اس سے جلد نرم و ملائم ہو جاتی ہے ۔

بالوں کی خشکی سے نجات

دہی بالوں کی صحت اور مضبوطی کے لیے تو مفید ہے ہی، اس سے بالوں کی خشکی بھی دور ہوجاتی ہے ۔ دہی میں موجود لیکٹک ایسڈ خشکی پیدا کرنے والے فنگس کو ختم کرتا ہے ۔ دہی کو مہندی کے ساتھ بالوں پر لگانے سے خشکی سے کافی حد تک چھٹکارا حاصل ہوجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ اسے کنڈشنر کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے ۔

دہی دودھ کا متبادل

اکثر لوگوں کو دودھ پینے سے معدے کی تکلیف کا سامنا ہوتا ہے ۔ کچھ لوگوں کے پیٹ میں گیسز بننے لگتے ہیں اور کچھ لوگوں کا وزن بڑھنے لگتا ہے ۔ البتہ دہی سے آپ کو دودھ کی تمام غذائیت بھی ملتی ہے اور اس سے نظام انہضام بھی ٹھیک رہتا ہے ۔

قو ت مدافعت میں اضافہ

انسان کی د قوت مدافعت اسے تمام تر اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھتی ہے ۔ انسان کی قوت مدافعت جتنیزیادہہو گی وہ اتنا ہی کم بیمار پڑے گا ۔ دہی کئی قسم کی بیماریوں کو ہونے سے روکتا ہے۔ یہ جسم میں ایس حفاظتی تہہ بنا دیتا ہے جو کسی بھی جراثیم کو جسم کو کمزور کرنے یا کسی بھی بیماری کو ہونے سے روکتی ہے ۔

دہی قدرت کی طرف سے ملنے والی ایک دین ہے ۔ اسے لازماً اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں ۔ اس سے آپ کو حیرت انگیزفائدے حاصل ہونگے اور آپ کا وزن بھی نہیں بڑھے گا ۔

دہی قدرت کی طرف سے ملنے والی ایک دین ہے ۔ اسے لازماً اپنی روزانہ کی خوراک کا حصہ بنائیں ۔ اس سے آپ کو حیرت انگیزفائدے حاصل ہونگے اور آپ کا وزن بھی نہیں بڑھے گا ۔




انار ہاضم، معدہ اور جگر کو قوت دینے والا متبرک پھل ہے

لاہور(وائس آف ایشیا )انار ہاضم، معدہ اور جگر کو قوت دینے والا متبرک پھل ہے۔ انار کا جوس، چھلکااور اناردانہ شفائی اثرات سے مالا مال ہیں۔ آج ہم انار جیسے متبرک پھل کا ذکر کریں گے۔ جس کا ذکر قرآن حکیم سورة الرحمٰن میں موجود ہے گویا یہ جنت کا پھل ہے۔ روایات کے مطابق یہ پھل حضرت نوع علیہ السلام کے زمانے میں بھی موجود تھا۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے بھی اس پھل کی بڑی تعریف فرمائی ہے۔ اس کے بارے میں تو کہاوت بھی مشہور ہے ” اےک انار سو بیمار“۔ قدیم اطلباءکرام کی مستند ریسرچ کے مطابق اس کا پانی‘ چھلکا اور انار دانہ تنیوں شفائی اوردوائی اثرات سے مالا مال ہیں۔ ہمارے یہاں یہ خوش ذائقہ پھل بڑے شوق سے کھاےا کیا جاتا ہے آج بھی ہمارے دیہاتی گھرانوں میں خاص طور پر شہری گھرانوں میں اناردانہ‘ پودینہ اور سفید زیرہ کی ہاضم ہذا چٹنی دستر خوانوں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔ ام طور پر انار کی تین قسمیں ترش، میٹھا اور با دانہ انار منڈیوں میں فروخت ہوتی ہیں۔ اطباء کرام نے اس کا مزاج سرد لکھا ہے۔ اس میں پانی کی مقدار 78 فیصد ہے اور نشاستہ دار اجزاءبڑی قلیل مقدار میں پائے جاتے ہیں وٹامن اے اور بی کے علاوہ کےلشیم ،پوٹاشیم ،فاسفورس اور فولاد کے اجزاءبھی اس میں موجود ہوتے ہیں قدرت نے اس میں ہائیڈرو کلورک ایسڈ (قدرتی نمک) کے تیزابی اجزاءبھی اس میں موجود ہوتے ہیں۔ جو ہماری روز مرّہ کی کھائی جانے والی غذا کو جلد ہضم کرتے اور معدہ کوتقویت دیتے ہیں اور جگر کی اصلاح کر کے غذا کو جزو بدن بناتے ہیں اور بھوک کُھل کر لگاتے ہیں۔
قدیم اطباء کرام کی ریسرچ کے مطابق میٹھے انار کا جوس پیاس کو بجھاتا ، صفرا کے غلبے کو کم کرتا اور پرانے سے پرانے ضدی بخار کے زور کو توڑنا ہے۔ انتہائی مفرح ہونے کی وجہ سے طبعیت میں فرحت و سکون پیدا کرکے گھبراہٹ اور بے چینی کو دور کرتا ہے۔ دل و دماغ کو فرحت بخشتا اور معدہ و جگر کو قوت دیتا ہے۔ آج کل مائیں اپنے بچوں کی پیلی رنگت، چڑچڑے پن اور بھوک نہ لگنے کی وجہ سے پریشان حال ہیں ان کو چاہئے کہ انار کے موسم میں بچوں کو روزانہ ایک انار کا جوس صبح ناشتہ سے پہلے پلائیں اور قدرت خداوندی کا نظارہ دیکھیں میٹھے انار کا جوس گھونٹ گھونٹ پینے سے قے بھی فوراً بند ہو جاتی ہے ہمارے ہاں اکثر خواتین اور بچوں میں عام طور پر خون کی کمی (اینمیا) کی شکایات عام ہیں انار میں قدرتی طور پر فولاد کی خاصی مقدار موجود ہونے کی وجہ سے ےہ حیاتین بھری قدرتی دوا اور غذاکاکام دیتا ہے۔ انار کا چھلکا جس کو ہم بیکار سمجھ کر پھینک دیتے ہیں بھی بڑے کام کی چیز ہے اس کے چھلکے کو جلا کر اس کی راکھ تیار کر لیں 15 گرام راکھ 100 گرام مکھن ملا کر رکھ لیں یہ کم خرچ مرہم پرانے سے پرانے زخموں پر لگانے سے زخم ٹھیک ہو جاتے ہیں اور بواسیری مسوں پر یہ مرہم لگانے سے جلن سوزش دور ہو کر خون بھی بند ہو جاتا ہے۔
جب منہ پک جائے زبان اور تالو سوجھ جائیں یا مسوڑھوں سے خوب اور پی آنا شروع ہو جائے تو 50 گرام انار کا چھلکا آدھا لیٹر پانی میں خوب جوش دے کر چھان لیں اور اس میں 2 گرام کھلی پھٹکری ملا کر دن میں تین چار مرتبہ اس کی کلیاں کرنے سے جملہ تکالیف دو تین یوم میں فضل تعالیٰ رفع ہو جاتی ہےں۔ یرقان کے مریضوں کے لئے میٹھے انار کا جوس کسی آب حیات سے کم نہیں ایسے مریضوں کو بطور غذا اور دوا دن میں دو تین مرتبہ انار کا جوس پلانے اور صفرا کی زیادتی اعتدال پر آ کر بے چینی رفع ہو جاتی ہے اور قدرتی طور پر جگر صاف اور شفاف ہو جاتا ہے۔
آج کل اکثر خواتین و حضرات غذائی بدہضمی، انتڑیوں کی سوزش کی وجہ سے پیچش اور پتلے پاخانے یا دست آنے کی شکایات کرتے ہیں اس کے لئے ایک انتہائی کم خرچ اور گھریلو نسخہ قارئین کرام کی پیش خدمت ہے۔ انار دانہ سونف اور کالی ہڑڑ (ہلیلہ سیاہ) برابر وزن لے کر اس کا سفوف تیار کر لیں، آدھی سے ایک چائے والی چمچی صبح و شام پانی سے کھانے سے پتلے پاخانے، پیٹ کا درد، بدہضمی اور پیچش جیسی تکالیف رفع ہو کر معدہ اور انتڑیوں کو قوت ملتی اور نظام انہظام درست ہو جاتا ہے۔




موسم گرما : امراض سے بچا ؤکیلئے احتیاطی تدابیراختیار کریں،ماہرین

لاہور(وائس آف ایشیا) اگر موثراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم گرمابیشتر امراض کا باعث بنتا ہے۔ لولگنا‘بھوک کی کمی ‘سردرد‘صفراوی بخار‘گھبراہٹ ‘خفقان‘ ٹائیفائڈ‘پھوڑے پھنسیاں‘ہیپاٹائٹس ‘یرقان ‘گیسٹرو‘ہیضہ‘ اسہال اور پیچش وغیرہ جیسے عوارضات اسی موسم میں ہوتے ہیں۔موسم گرما میں کولا مشروبات کی بجائے دودھ یا دہی کی لسی‘بزوری ‘صندل‘ فالسہ اور نیلوفر کا شربت ‘لیموں پانی‘ تازہ پھل اورگوشت و فاسٹ فوڈز کی بجائے سبزیوں کا استعمال مفید ہے۔سخت دھوپ میں گھر سے باہر نہ نکلیں بہت ضروری ہو تو سادہ پانی ‘نمکین لسی یا لیموں پانی پی کراور سر و گردن پر کوئی کپڑا لے کر نکلیں۔ اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میڈیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا انہوں نے مزید کہا کہ اس موسم میں سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں موجودہ دور میں جو پانی ہمیں میسرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پینا چاہیئے۔ بعض پھل مثلاً خربوزہ ‘تربوزاور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیا ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی ‘گیسٹرو‘اسہال (دست)یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلا کر سکتی ہے ۔اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہذا اس کے تدارک کیلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویﷺ کے مطابق سرکہ اس موسم کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے۔ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اورپھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ اگر صحیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوں پر عمل کریں تو یقینا ہم موسم گرما کے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں ۔

حکیم قاضی ایم اے خالد٭……٭……٭
NEWS@HEALTHLINEINT.CO.CC
QAZIMAKHALID@WHO.NET
QAZIMAKHALID@GMAIL.COM
03034125007