دل کے کمزور پٹھوں کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے

لاہور(وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز) دل کے شدید دورے یا ہارٹ فیل کے بعد دل کے پٹھے کمزور ہوجاتے ہیں اور اب ایک نئی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ آنول نال سے اخذ کردہ خلیاتِ ساق (اسٹیم سیلز) سے دل کے پٹھوں کو مضبوط بنایا جاسکتا ہے اور مریض کی زندگی کو بڑھانا ممکن ہے۔چلی میں ڈاکٹر جارگے بارٹلوچی اور ان کے ساتھیوں نے پیدائشی بچوں سے جڑی ا?نول نال سے پہلے خلیاتِ ساق (اسٹیم سیل) نکالے۔ یہ انتہائی اہم اور بنیادی خلیات ہوتے ہیں جو کسی بھی عضو کے خلیات میں ڈھلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اب ان خلیات کو انجکشن میں بھر کر دل کے دورے کے شکار مریضوں کے جسم میں داخل کیا گیا۔ اس کے علاوہ مریضوں کو ایک گروپ کو فرضی دوا (پلیسیبو) کے ٹیکے لگائے گئے۔اس سروے میں 18 سے 75 برس تک کے 30 مریض شامل تھے۔ ایک گروپ میں صحت مند ماؤں کی آنول نال سے نکالے گئے اسٹیم سیل داخل کئے گئے۔ ڈاکٹر بارٹلوچی کے مطابق ایک سال کے اندر اندر ان مریضوں کا دل بہتر ہوگیا، خون بہتر طور پر پمپ کرنے لگا اور ان کی زندگی بہتر ہوتی گئی۔جبکہ مریضوں پر اس کے کوئی منفی اثرات سامنے نہیں آئے اور کسی قسم کی جلن اور سوزش محسوس نہیں کی گئی۔ ماہرین نے اس طریقہ علاج کو محفوظ اور قابلِ عمل قرار دیا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق اس سے دل کے والو بہتر ہوئے اور دل بہتر انداز میں خون پمپ کرنے لگا۔اپنی رپورٹ میں ڈاکٹر جارگے بارٹلوچی نے لکھا ہے کہ اگرچہ نتائج حوصلہ افزا ہیں لیکن اسے مزید انسانوں پر آزمانے کی ضرورت ہے۔ اس طرح کی اسٹیم سیل تھراپی ہارٹ فیل کے بعد بچ جانے والے مریضوں کیلیے انتہائی مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اس صورتحال میں مریضوں کے دل میں وینٹریکل اسسٹ آلات اور شدید بیماری میں دل کی تبدیلی کی جاتی ہے۔واضح رہے کہ ہارٹ فیل کے مریضوں کی نصف تعداد اگلے پانچ سال میں لقمہ اجل بن جاتی ہے جبکہ مشکل سے 30 فیصد مریض ہی 10 برس تک پورے کرسکتے ہیں۔




فش آئل دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کو 28 فیصد تک کم کر دیتا ہے، سائنسدان

لاہور(وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز) مچھلی کا تیل دل کے دورہ سے بچائو اور وٹامن ڈی کینسر سے موت کے خطرات کو کم کرتا ہے۔امریکی سائنسدانوں کی تازہ طبی تحقیق کے مطابق فش آئل دل کا دورہ پڑنے کے امکانات کو 28 فیصد تک کم کر دیتا ہے جبکہ وٹامن ڈی ایسے افراد میں موت کے خطرے کو 25 فیصد تک کم کر دیتی ہے جو کینسر سے متاثر ہوتے ہیں کیونکہ وٹامن ڈی سرطانی خلیوں کی ہیت پر اثر انداز ہوتے ہوئے اس کے پھیلائو کو روکنے میں معاون ہوتی ہے۔بوسٹن میڈیکل ہاسپیٹل اور اوہائیو میڈیکل سائنسز کے سائنسدانوں نے پچاس اور اس سے بڑی عمر کے 25,871 رضاکاروں پر اس کا پانچ سال تک تجزیہ کیا۔ایسے افراد جنہوں نے ہفتے میں ایک بار مچھلی کھائی یا پھر اومیگا تھری فیٹی ایسڈ کھائی، میں دل کا دورہ پڑنے کے امکانات 40 فیصد تک کم ہوئے ان کے مقابلے میں جنہوں نے نہ سپلیمنٹ لیا اور نہ ہفتہ میں کم از کم ایک بار مچھلی کھائی۔




برطانیہ میں علاج کے بعد کینسر سے بچ جانے والے نوجوانوں میں اضافہ

لندن (وائس آف ایشیا)انگلینڈ میں ہڈیوں اور خون کے کینسر کے شکار نوجوانوں میں صحتیاب ہونے کی شرح میں اضافہ ہوا ہے تاہم ٹین ایج کینسر ٹرسٹ اور پبلک ہیلتھ انگلینڈ کی اس رپورٹ میں لکھا ہے کہ کم آمدنی والے علاقوں میں رہنے والے نوجوانوں کے ان بیماریوں سے بچ جانے کے امکانات کم ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق رپورٹ میں 2001 اور 2015 کے دوران 13 سے 24 سال افراد کے بارے میں اعداد و شمار اکٹھے کیے گئے۔ کینسر نوجوانوں میں کم ہوتا ہے اور 13 سے 24 سال کی عمر کے افراد میں کینسر کے مریضوں کی تعداد کینسر کے مریضوں کی کل تعداد کے ایک فیصد سے بھی کم ہوتا ہے۔اس حساب سے 2013 سے 2015 کے اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ میں ہر سال 2397 نوجوانوں میں کینسر ہوتا ہے۔ اس تعداد کا بڑا حصہ 19 سے 24 سال کے درمیان ہے۔رپورٹ کے مطابق 2001 سے 2005 اور 2007 سے 2011 کے درمیان جتنے نوجوانوں میں کینسر کی تشخیص ہوئی ان میں لڑکیوں میں صحتیابی کی شرح 83 سے 87 فیصد تک چلی گئی اور لڑکوں میں 80 سے 84 فیصد تک۔رپورٹ کے مطابق اسی مدت کے دوران خون سے سرطان سے سحتیابی کی شرح 61 فیصد سے 71 فیصد ہو گئی۔ٹِین ایج کینسر ٹرسٹ کی چیف ایگزیکیٹیو کیٹ کولنز نے کہا کہ علاج میں اس بہتری کی ایک وجہ ان نوجوانوں کو ایک علیحدہ گروپ تسلیم کرنا اور نئے علاج کی دریافت ہے۔انہوں نے کہا کہ کینسر کے مریض نوجوانوں کی بڑھتی ہو شرح کی وجہ سے اس میدان میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔




جگر اور معدہ کی خرابی جلدی بیماریوں کا باعث بنتی ہے،ڈاکٹرجعفرشاہ

لاہور (وائس آف ایشیا)ماہرامراض جگرومعدہ واے ایم ایس ایڈمن لاہورجنرل ہسپتال ڈاکٹرجعفرشاہ نے کہا کہ کسی بھی مریض میں جلد کی امراض کے کئی ایک اسباب ہو سکتے ہیں اور خاص طور پر جگر اور نظام انہضام کی خرا بی جلدی بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے اس لیے ہمیں پیٹ کے معاملات کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔انہوں نے لوگوں سے کہا کہ وہ جلد کی حفاظت کا خاص خیال رکھیں ،اپنے ہاتھ پاؤں کی صفائی کو یقینی بنائیں۔ان خیالات کااظہارڈاکٹرجعفرشاہ نے گزشتہ روزسینئرصحافی ڈاکٹرمحمدعدنان ،سیدصدا حسین کاظمی سے ایک ملاقات کے دوران کیا،انہوں نے کہا کہ بحیثیت مسلمان اگر ہم پانچ وقت نما ز کیلئے وضو اور غسل کا بندوبست کریں تو جلدی بیماریوں سے کافی حد تک بچاؤ ممکن ہے ،اسی طرح خواتین کو اشتہار بازی کے ذریعے فروخت ہونے والی میک اپ کریموں سے اجتناب کرنا چاہیے اور اپنی سکن پر آئے روز نت نئے تجربات نہیں کرنے چاہئیں ،ڈاکٹرجعفرشاہ نے کہا کہ جلد پر نمودار ہونے والی علامات کے ذریعے جگر اور معدے کے کینسر کا پتہ چل سکتا ہے اسی طرح ہیپاٹائٹس سی (کالا یرقان ) کے جراثیم کی موجودگی کا علم بھی جلدی رنگت اور ساخت سے ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جلدی امراض کی تشخیص اور علاج ممکن ہو چکا ہے لہذا لوگوں کو خوف میں مبتلا ہونے یا ٹوٹکوں کے پیچھے چلنے کی بجائے باقاعدہ علاج کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔




ذیابیطس کی 10 خاموش علامات

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)ذیابیطس دنیا میں تیزی سے عام ہوتا ہوا ایسا مرض ہے جسے خاموش قاتل کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ یہ ایک بیماری کئی امراض کا باعث بن سکتی ہے اور حیرت انگیز طور پر ذیابیطس ٹائپ ٹو کے شکار 25 فیصد افراد کو اکثر اس کا شکار ہونے کا علم ہی نہیں ہوتا۔ تاہم اس مرض کا شکار ہونے کی صورت میں کچھ علامات ایسی ہوتی ہیں جس سے عندیہ ملتا ہے کہ آپ کو اپنا چیک اپ کروا لینا چاہئے تاکہ ذیابیطس کی شکایت ہونے کی صورت میں اس کے اثرات کو آگے بڑھنے سے روکا جاسکے۔ تو ایسی ہی خاموش علامات کے بارے میں جانیے جو آپ کو اس مرض میں مبتلا ہونے کی صورت میں باخبر کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

ٹوائلٹ کا زیادہ رخ کرنا

جب آپ ذیابیطس کے شکار ہوجائیں تو آپ کا جسم خوراک کو شوگر میں تبدیل کرنے میں زیادہ بہتر کام نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں دوران خون میں شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے اور جسم اسے پیشاب کے راستے باہر نکالنے لگتا ہے، یعنی ٹوائلٹ کا رخ زیادہ کرنا پڑتا ہے۔ تاہم اس مرض کے شکار اکثر افراد اس خاموش علامت سے واقف ہی نہیں ہوتے اور نہ ہی اس پر توجہ دیتے ہیں۔ خاص طور پر رات کو جب ایک یا 2 بار ٹوائلٹ کا رخ کرنا تو معمول سمجھا جاسکتا ہے تاہم یہ تعداد بڑھنے اور آپ کی نیند پر اثرات مرتب ہونے کی صورت میں اس پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

معمول سے زیادہ پیاس لگنا

بہت زیادہ پیشاب کرنے کے نتیجے میں پیاس بی زیادہ محسوس ہوتی ہے اور ذیابیطس کے مریض افراد اگر جوسز، کولڈ ڈرنکس یا دودھ وغیرہ کے ذریعے اپنی پیاس کو بجھانے کی خواہش میں مبتلا ہوجائیں تو یہ خطرے کی علامت ہوسکتی ہے۔ یہ میٹھے مشروبات خون میں شکر کی مقدار کو بڑھا دیتے ہیں جس کے نتیجے میں پیاس کبھی ختم ہونے میں ہی نہیں آتی۔

جسمانی وزن میں کمی

جسمانی وزن میں اضافہ ذیابیطس کے لیے خطرے کی علامت قرار دی جاتی ہے تاہم وزن میں کمی آنا بھی اس مرض کی ایک علامت ہوسکتی ہے۔ طبی ماہرین کے مطابق جسمانی وزن میں کمی دو وجوہات کی بناءپر ہوتی ہے، ایک تو جسم میں پانی کی کمی ہونا (پیشاب زیادہ آنے کی وجہ سے) اور دوسری خون میں موجود شوگر میں پائے جانے والی کیلیوریز کا جسم میں جذب نہ ہونا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کا علم ہونے کی صورت میں جب لوگ اپنے بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنا شروع کرتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وزن بڑھ سکتا ہے مگر یہ اچھا امر ہوتا ہے کیونکہ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ بلڈ شوگر ک لیول زیادہ متوازن ہے۔

کمزوری اور بھوک کا احساس

یہ کوئی غیرمعمولی بات نہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کو اچانک ہی بھوک کا احساس ستانے لگے اور ان کے اندر فوری طور پر زیادہ کاربوہائیڈیٹ سے بھرپور غذا کی خواہش پیدا ہونے لگے۔ بی ماہرین کے مطابق جب کسی فرد کا بلڈ شوگر لیول بہت زیادہ ہوا تو جسم کے لیے گلوکوز کو ریگولیٹ کرنا مسئلہ بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں جب آپ کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذا استعمال کرتے ہیں تو مریض کا جسم میں انسولین کی مقدار بڑھ جاتی ہے جبکہ گلوکوز کی سطح فوری طور پر گرجاتی ہے جس کے نتیجے میں کمزوری کا احساس پیدا ہوتا ہے اور آپ کے اندر چینی کے استعمال کی خواہش پیدا ہونے لگتی ہے اور یہ چکر مسلسل چلتا رہتا ہے۔

ہر وقت تھکاوٹ

یقیناً تھکاوٹ تو ہر شخص کو ہی ہوتی ہے مگر ہر وقت اس کا طاری رہنا ذیابیطس میں مبتلا ہونے کی اہم علامت ثابت ہوسکتی ہے۔ ذیابیطس کا شکار ہونے کی صورت میں خوراک جسم میں توانائی بڑھانے میں ناکام رہتی ہے اور ضرورت کے مطابق توانائی نہ ہونے سے تھکاوٹ کا احساس اور سستی طاری رہتی ہے۔ اسی طرح ذیابیطس ٹائپ ٹو میں شوگر لیول اوپر نیچے ہونے سے بھی تھکاوٹ کا احساس غلبہ پالیتا ہے۔

پل پل مزاج بدلنا یا چڑچڑا پن

جب آپ کا بلڈ شوگر کنٹرول سے باہر ہوتا ہے تو آپ کو کچھ بھی اچھا محسوس نہیں ہوتا، ایسی صورت میں مریض کے اندر چڑچڑے پن یا اچانک میں غصے میں آجانے کا امکان ہوتا ہے۔ درحقیقت ہائی بلڈ شوگر ڈپریشن جیسی علامات کو ظاہر کرتا ہے، یعنی تھکاوٹ، ارگرد کچھ بھی اچھا نہ لگنا، باہر نکلنے سے گریز اور ہر وقت سوتے رہنے کی خواہش وغیرہ۔ ایسی صورتحال میں ڈپریشن کی جگہ سب سے پہلے ذیابیطس کا ٹیسٹ کرالینا زیادہ بہتر ثابت ہوتا ہے خاص طور پر اس وقت جب اچانک مزاج خوشگوار ہوجائے کیونکہ بلڈ شوگر لیول نارمل ہونے پر مریض کا موڈ خودبخود نارمل ہوجاتا ہے۔

بنیائی میں دھندلاہٹ

ذیابیطس کی ابتدائی سطح پر آنکھوں کے لینس منظر پر پوری طرح توجہ مرکوز نہیں کرپاتے کیونکہ آنکھوں میں گلوکوز کی مقدار بڑھ جاتی ہے جس کے نتیجے میں عارضی طور پر اس کی ساخت یا شیپ بدل جاتی ہے۔ چھ سے آٹھ ہفتے میں جب مریض کا بلڈ شوگر لیول مستحکم ہوجاتا ہے تو دھندلا نظر آنا ختم ہوجاتا ہے کیونکہ آنکھیں جسمانی حالت سے مطابقت پیدا کرلیتی ہیں اور ایسی صورت میں ذیابیطس کا چیک اپ کروانا ضروری ہوتا ہے۔

زخم یا خراشوں کے بھرنے میں تاخیر

زخموں کو بھرنے میں مدد دینے والا دفاعی نظام اور پراسیس بلڈ شوگر لیول بڑھنے کی صورت میں موثر طریقے سے کام نہیں کرپاتا جس کے نتیجے میں زخم یا خراشیں معمول سے زیادہ عرصے میں مندمل ہوتے ہیں اور یہ بھی ذیابیطس کی ایک بڑی علامت ہے۔

پیروں میں جھنجھناہٹ

ذیابیطس کی شکایت دریافت ہونے سے قبل بلڈ شوگر میں اضافہ جسمانی پیچیدگیوں کو بڑھا دیتا ہے ۔ اس مرض کے نتیجے میں اعصابی نظام کو بھی نقصان پہنچتا ہے اور اس کے نتیجے میں آپ کے پیروں کو جھنجھناہٹ یا سن ہونے کا احساس معمول سے زیادہ ہونے لگتا ہے کہ جو کہ خطرے کی گھنٹی ہوتا ہے۔

مثانے کی شکایات

پیشاب میں شکر کی زیادہ مقدار بیکٹریا کے افزائش نسل کا باعث بنتی ہے جس کے نتیجے میں مثانے کے انفیکشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ بار بار انفیکشن کا سامنے آنا فکرمندی کی علامت ہوسکتی ہے اور اس صورت میں ذیابیطس کا ٹیسٹ لازمی کرالینا چاہئے کیونکہ یہ اس مرض میں مبتلا ہونے کی بڑی علامات میں سے ایک ہے۔




کابل کی فضائی آلودگی جنگ سے بڑی قاتل،ہزاروں شہری زندگی ہارگئے

کابل (وائس آف ایشیا)افغانستان کا دارالحکومت کابل گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگ کا شکار ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان کھو بیٹھے ہیں جبکہ شہر میں آلودگی سے اموات کی شرح بھی تشویش ناک صورت اختیار کر چکی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق افغانستان کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ کابل میں آلودگی کے باعث سالانہ 3 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔کابل کے واحد چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر محمد اکبر اقبال کا کہنا تھا کہ آلودہ فضا کا برا اثر خاص کر بچوں پر پڑ رہا ہے جن کا مدافعتی نظام مضبوط نہیں ہوتا اسی لیے وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ جب ایک مرتبہ سینے پر اثر پڑا تو صورت تشویش ناک ہوسکتی ہے اور اس کی وجہ سے بچے کی جان بھی فوری طور پر جاسکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں فضائی آلودگی جنگ سے زیادہ ہلاکتوں کا باعث ہے۔قطری نشریاتی ادارے نے امریکا کے ایک ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا کہ افغانستان میں 2016 تک فضائی آلودگی سے 51 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئی۔کابل کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے جہاں چلنے والی ہوا مختلف بیماریوں کا باعث بن جاتی ہے اور سب سے بڑا شکار بچے ہوتے ہیں۔افغانستان میں فضائی آلودگی کے اسباب میں پرانی گاڑیاں، ناقص ایندھن، گلیوں میں کچرے کو جلانا شامل ہے۔محکمہ ٹیکنیکل امور کے ڈائریکٹر جنرل عزت اللہ صدیقی کا کہنا تھا کہ کابل میں خاص کر صبح اور شام کے وقت ٹریفک جام رہتی ہے جبکہ کابل میں 5 لاکھ گاڑیوں کی گنجائش ہے لیکن 8 لاکھ سے زائد گاڑیاں 24 گھنٹے کے دوران سڑک پر موجود ہوتی ہیں۔عزت اللہ کا کہنا تھا کہ اس چھٹکارا پانے کے لیے ہم فیکٹریوں کی سرگرمیوں سے بچا سکتے ہیں، ہم سرکاری ٹرانسپورٹ کی نقل و حرکت کو بند کرسکتے ہیں اور دیگر اقدامات کرسکتے ہیں۔یاد رہے کہ 5 جنوری کو طالبان نے گزشتہ ایک برس کے دوران ہونے والی ہلاکتوں پر رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ 2018 میں مجموعی طور پر 4 ہزار 170 شہری متاثر ہوئے جن میں سے 2 ہزار 294 افراد جاں بحق اور 1876 افراد زخمی ہوئے۔دوسری جانب افغانستان میں موجود نیٹو مشن نے ان اعداد وشمار کو پراپیگنڈا قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا اور ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان نے 2018 میں بدترین واقعات میں شام کو پیچھے چھوڑ دیا۔اقوام متحدہ کے معاون مشن کی جانب سے 2018 کے ابتدائی 9 ماہ میں ہونے والے جانی نقصان کے حوالے سے جاری کیے گئے اعداد و شمار اور طالبان کی رپورٹ میں تقریباً 50 فیصد کا فرق تھا۔




اپنی آنکھوں کو خراب ہونے سے بچائیں

لاہور( وائس آف ایشیا)آج یعنی ماہ اکتوبر کی دوسری جمعرات کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں بینائی کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد نظر کی کمزوری اور نابینا پن سمیت آنکھوں کی مختلف بیماریوں سے بچاؤ کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے۔ ماہرین چشم کے مطابق آنکھوں کی بیماریوں میں سے 80 فیصد کو با آسانی روکا جاسکتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا بھر میں 18 کروڑ افراد بر وقت تشخیص نہ ہونے کے باعث نابینا پن کی جانب بڑھ رہے ہیں جن کی تعداد سنہ 2020 تک 36 کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ صرف پاکستان میں 66 فیصد افراد موتیا، 6 فیصد کالے پانی اور 12 فیصد بینائی کی کمزوری کا شکار ہیں۔ یہ بیماریاں بتدریج نابینا پن کی طرف لے جاتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل اشیا جیسے کمپیوٹر اور موبائل فون ہمیں ڈیجیٹل بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کی دین ان اشیا کی جلتی بجھتی اسکرین ہماری آنکھوں کی صحت کے لیے بے حد نقصان دہ ہیں اس کے باوجود ہم ان چیزوں کے ساتھ بے تحاشہ وقت گزار رہے ہیں۔ ان کے مطابق موبائل کی نیلی اسکرین خاص طور پر آنکھوں کی مختلف بیماریوں جیسے نظر کی دھندلاہٹ، آنکھوں کا خشک ہونا، گردن اور کمر میں درد اور سر درد کا سبب بنتی ہیں۔ ان اسکرینوں کے ساتھ زیادہ وقت گزارنا نہ صرف آنکھوں کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ یہ دماغی کارکردگی کو بھی بتدریج کم کردیتا ہے جبکہ یہ آپ کی نیند پر بھی منفی اثرات ڈالتا ہے۔ آپ رات میں ایک پرسکون نیند سونے سے محروم ہوجاتے ہیں اور سونے کے دوران بار بار آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق سب سے پہلا اصول 20 ۔ 20 ۔ 20 کا ہے۔ اپنے کمپیوٹر کی اسکرین سے ہر 20 منٹ کے بعد 20 سیکنڈز کے لیے 20 فٹ دور موجود کسی چیز کو دیکھیں۔ اپنی پلکوں کو بار بار جھپکائیں۔ بعض افراد کام میں اس قدر منہمک ہوجاتے ہیں کہ انہیں پلکیں جھپکانا یاد نہیں رہتا۔ پلکیں نہ جھپکانے کی عادت سے آہستہ آہستہ آنکھیں خشک ہوجاتی ہیں۔اپنے موبائل اور کمپیوٹر کی اسکرین کی برائٹ نیس کو کم کریں۔ ایسے چشمے بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں جن میں ایسے آئینے لگے ہوں جو الٹرا وائلٹ شعاعوں کو روک کر انہیں واپس بھیج دیں اور آنکھوں کی طرف نہ جانے دیں۔ اس طرح کے چشمے بازار میں عام دستیاب ہیں۔ بینائی کی بہتری کے لیے مختلف سمتوں میں دیکھنا بہترین ورزش ہے۔ سب سے پہلے اوپر اور نیچے کی جانب آنکھ کی پتلی کو گھمائیں۔ اوپر اور نیچے کی جانب 5 بار دیکھیں اور یہ عمل 3 بار دہرائیں۔ اس کے بعد آنکھوں کی پتلیوں کو دائیں اور بائیں جانب حرکت دیں اور اس میں بھی 5 بار دائیں اور 5 بار بائیں دیکھیں اور یہ عمل بھی 3 بار دہرائیں۔ ایک اور ورزش میں آپ آنکھوں کو ترچھا کر سکتے ہیں اور دائیں اور اوپر کے جانب دیکھنے کی بجائے درمیان میں دیکھیں اور پھر آنکھ کی پتلی کو نیچے بائیں جانب لائیں۔ اسے بھی اوپر بتائے گئے طریقے کے مطابق دہرائیں۔ آنکھوں کا مساج بھی بہترین ورزش ہے۔ اپنی آنکھوں کو ہتھیلیوں کی مدد سے مساج کر کے پرسکون بنانے کے ساتھ نظر کو بہتر بنایا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ سے آنکھوں اور اردگرد خون کی گردش بہتر ہوگی۔ رات کو سونے سے پہلے اور صبح اٹھ کر آنکھوں کی اندر کی جانب والے کناروں کا مساج ضرور کریں۔ ان جگہوں کو ایک سے دو منٹ تک دبائیں۔ ایک تولیے کو گرم پانی اور دوسرے کو ٹھنڈے پانی میں بھگوئیں۔ گرم تولیے کو چہرے پر اس طرح رکھیں کہ آنکھیں بھی ہلکا سا کور ہوجائیں۔ 2 سے 3 منٹ بعد گرم تولیے کو ہٹائیں اور ٹھنڈے تولیے کو 3 منٹ تک رکھیں۔ تولیے کو گرم پانی میں بھگو کر آنکھوں، ماتھے، گالوں اور چہرے پر لگائیں اور آنکھیں بند کر کے ماتھے اور آنکھوں کا مساج کریں۔ اپنے ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں، اپنی آنکھوں کو بند کریں اور اپنے انگلیوں کی مدد سے بھنوﺅں کے اوپر ایک سے دو منٹ تک مساج کریں۔ ساتھ ہی آنکھوں پر ہلکا سا دباؤ بھی ڈالتے جائیں۔ اس طرح آنکھوں کا دوران خون بہتر ہو جائے گا۔ ایسی غذائیں جو آپ کی آنکھوں کی صحت کے لیے بہترین ہیں انہیں اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں۔ ان میں سب سے عام غذائیں کھیرا اور گاجر ہیں۔ مچھلی بھی بینائی کے لیے بہترین ہے۔ کام کرنے کے دوران موٹاپے میں اضافہ کرنے والے اسنیکس کے بجائے بادام کھائیں۔ یہ آنکھوں اور دماغ دونوں کی صحت کے لیے مفید ہیں۔ انتباہ: یہ مضمون قارئین کی معلومات میں اضافے کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ مضمون میں دی گئی کسی بھی تجویز پر عمل کرنے سے قبل اپنے معالج سے مشورہ اور ہدایت ضرور حاصل کریں۔




جوڑوں کے درد میں فائدہ دینے والی غذائیں

کراچی( و ائس آف ایشیا)پاکستان سمیت دنیا بھر میں لاکھوں افراد گٹھیا اور جوڑوں کے شدید درد کے عارضے میں مبتلا ہیں جن کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس ضمن میں ورزش، فزیو تھراپی، ادویہ اور غذائیں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ماہرینِ غذائیات نے اس ضمن میں ایسی عام غذاؤں کی ایک فہرست بنائی ہے جو گٹھیا کے مرض میں انتہائی مفید ثابت ہوسکتی ہیں۔ اس ضمن میں کئی پھل اور سبزیاں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں تاہم کئی ویب سائٹ پر غلط خبروں کے ساتھ ایسی غذاؤں کا دعویٰ بھی کیا جارہا ہے جو مرض کی شدت کم کرتی ہیں لیکن حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔اس ضمن میں دنیا کے ممتاز غذائی ماہرین اور ڈاکٹروں نے بعض غذاؤں کو بہترین قرار دیا ہے۔

میڈیٹرینیئن غذا
یونیورسٹی آف ساؤتھ ایمپٹن کے پروفیسر فلپ کالڈر کہتے ہیں کہ میڈیٹرینیئن ڈائٹ پھل، سبزیوں، پورے اناج، دالوں، پھلیوں، تھوڑی مچھلی، کم چکنے گوشت اور زیتون کے تیل پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس میں شامل اینٹی آکسیڈنٹس، اومیگا تھری ، مونو سیچیوریٹڈ فیٹس ہر طرح بدن کے لیے مفید ہوتے ہیں لیکن یہ جوڑوں کی سوزش کم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔اگر اس غذا میں سبزی بڑھادی جائے تو دو ہفتے میں جوڑوں کا درد کم ہونے لگتا ہے جو 2015ء کے ایک مطالعے سے ثابت ہوچکا ہے۔ میڈیٹرینیئن ڈائٹ تین ماہ مسلسل کھانے سے اس مرض کی شدت بہت حد تک کم ہوجاتی ہے۔




بڑھاپے میں اچھی صحت زندگی کو بامقصد بنائیے، ماہرین

 

  لاہور(وائس آف ایشیا) امریکی ماہرین نے دریافت کیا ہے کہ جن لوگوں کی زندگی بامقصد ہوتی ہے اور جو اپنی زندگی میں کوئی منزل حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ بڑی عمر میں بھی چاق و چوبند اور صحت مند رہتے ہیں۔2016 میں شروع کیے گئے اس مطالعے میں 50 سال یا زیادہ عمر کے تقریباً 4500 افراد شریک کیے گئے تھے جن کی عمومی صحت اور نفسیاتی کیفیت کا جائزہ ہر تین سے چار سال میں لیا جاتا رہا۔2018 تک جاری رہنے والی اس تحقیق سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو اپنی زندگی کو بامقصد سمجھتے تھے یا اپنی زندگی کی منزل پانے کی جستجو میں رہتے تھے وہ 60 سال یا اس سے زیادہ عمر میں بھی جسمانی طور پر زیادہ صحت مند تھے، انہیں کم بیماریوں کا بھی کم سامنا کرنا پڑا جبکہ وہ بڑھاپے کے باوجود بہت متحرک بھی تھے۔ان کے برعکس مطالعے میں شریک وہ افراد جو زندگی میں کسی مقصد کے قائل نہیں تھے اور نہ ہی کسی منزل تک پہنچنے کی خواہش رکھتے تھے ان کی صحت اس دس سالہ مدت کے دوران زیادہ تیزی سے خراب ہوئی جبکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ زیادہ سے زیادہ بیماریوں کی زد میں آتے چلے گئے۔اس نکتے کی مزید تصدیق ان افراد میں چلنے کی اوسط رفتار اور مختلف چیزوں کو بہتر انداز سے پکڑنے کی آزمائش (گرپ ٹیسٹ) سے بھی ہوئی۔ بامقصد زندگی گزارنے والے افراد میں پیدل چلنے کی عمومی رفتار ایسے افراد سے کہیں تیز تھی جو زندگی میں مقصد کے احساس سے محروم تھے؛ جبکہ بے مقصد زندگی کی سوچ نے ان کے پٹھوں کو بھی زیادہ متاثر کیا تھا، جس کی وجہ سے گرپ ٹیسٹ میں ان کا اسکور بامقصد زندگی گزارنے والوں سے بہت کم تھا۔ہارورڈ ٹی ایچ چانگ اسکول آف پبلک ہیلتھ، بوسٹن کے ڈاکٹر ایرک کم کی قیادت میں کیے گئے اس مطالعے اور اس سے حاصل شدہ نتائج کی تفصیلات تحقیقی مجلے ’’جاما سائیکاٹری‘‘   کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔




ہاضمے کے لیے کیوی کیوی کے دو پھل کھائے جائیں

لاہور(وائس آف ایشیا)چینی تہذیب میں ہاضمے کے لیے کیوی پھل کا استعمال صدیوں سے کیا جارہا ہے جس کی تصدیق اب جدید سائنس بھی کرچکی ہے۔ ماہرین نے کہا ہے کہ کیوی کا باقاعدہ استعمال دیرینہ قبض کو ختم کرتا ہے۔کھٹا میٹھا مزیدار کیوی پھل کئی طرح کے اینٹی آکسیڈنٹس اور فائبر سے بھرپور ہوتا ہے جو اندرونی سوزش کم کرکے پورے نظامِ ہاضمہ کو بہتر بناتے ہیں۔ کیوی میں یہ خاصیت ہے کہ یہ اجابت ممکن بنانے والی معدے کی حرکت کومنظم کرتا ہے جس سے دھیرے دھیرے قبض ختم ہوجاتا ہے۔اس ضمن میں ایشیا پیسفک جرنل آف کلینکل نیوٹریشن میں شائع ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کیوی کا استعمال خصوصاً عمررسیدہ افراد میں قبض کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ یہ پھل دائمی قبض کا دشمن ہے اور اسے ختم کرتا ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ کم ازکم چھ ہفتوں تک روزانہ کیوی کے دو پھل کھائے جائیں۔

اس ضمن میں جن افراد کو کیوی کھلایا گیا ان میں معدے کی حرکت (بوویل موومنٹس) بڑھی اور معلوم ہوا کہ اس سے معدے کی جلن بھی کم ہوتی ہے جس سے معدے کے کئی امراض ختم ہوتے ہیں۔ کیوی میں شامل دو اجزا ایکٹی نیڈن اور پیکٹن قبض ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ایکٹی نیڈن ایک اینزائم ہے جو ہاضمے کو بڑھاتا ہے اور فضلے کو حرکت دے کر اپنے آخری مقام تک پہنچانے میں مدد دیتا ہے۔ جبکہ پیکٹن پودے کا ریشہ (فائبر) ہے جو معدے کو بہترحالت میں رکھتا ہے۔

ایکٹی نیڈن اور پیکٹن دونوں ہی پری بایوٹکس کے زمرے میں آتے ہیں جو مرض پیدا کرنے والے بیکٹیریا کو بھی ختم کرتے ہیں




سب سے قدیم انسان کی ہڈیاں ساڑھی10ہزار سال پرانی

لندن(وائس آف ایشیا)دنیا کے قدیم ترین انسان کے ڈھانچے کے ڈی این اے ٹیسٹ سے کئی راز سامنے آئے ہیں۔ایک برطانوی سائنس ویب سائٹ کے مطابق جنوبی امریکہ میں ایک غار سے ملنے والی ہڈیوں کو دنیا کے سب سے قدیم انسان کا ڈھانچہ قرار دیا جا سکتا ہے ڈی این اے رپورٹ کے مطابق یہ ہڈیاں 10 ہزار 600سال پرانی ہیں جو کہ قدیم امریکی قبائل سے تعلق رکھتا تھا۔ اس سے پہلے الاسکا سے ایک لڑکی کا دانت ملا تھاجو تقریباً9ہزار سال پرانا تھا۔سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ شمالی امریکہ کی نسبت جنوبی امریکہ میں انسان سب سے پہلے آ کر آباد ہوئے ۔




پاکستان میں ادویات مہنگی ہونے کا انکشاف، 45 اراکین اسمبلی کمپنیوں کے مالک ہیں

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی نے ملک بھر میں مختلف ادویات کی قیمتوں میں 9 سے 15 فیصد تک اضافہ کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔تاہم اب ملک بھر میں ادویات مہنگی ہونے کی وجہ سامنے آ گئی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں بااثر مافیا کا ادویایت مہنگی کرانے میں ملوث ہونے کا انکشاف ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کے اندر ہی بننے والی ادویات کی قیمتوں میں زیادہ اضافہ کیا گیا ہے۔جب کہ پاکستان میں ادویات بنانے والی کمپنیوں میں 48 فیصد کمپنیاں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین اسمبلی اور رہنماؤں کی ملکیت ہیں۔ 45 اراکین اسمبلی ایسے ہیں جو ادویات بنانے والی کمپنیوں کے مالک ہیں۔جب کہ 23 فیصد کمپنیاں پرائیویٹ اسپتالوں کے مالکان یا پر اسپتالوں میں اہم عہدے پر فائض ڈاکٹروں اور ان کے قریبی لوگوں کی ہیں۔دوائیوں کی قیمتیں بڑھانے سے قبل ہی ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کی گئی تھی۔خیال رہے جمعہ کو ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) نے فارما سیوٹیکل کمپنیوں کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جس کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ا?ف پاکستان کے ترجمان کے مطابق مختلف ادویات کی قیمتوں میں9 اور 15 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ادویات میں یہ اضافہ مختلف وجوہات کی بنائپر ناگزیر تھا۔ پچھلے ایک برس میں ڈالر کی قیمت میں 30 فیصد تک اضافہ کے بعد مارکیٹ میں ادویات میں استعمال ہونے والے خام مال اور پیکنگ میٹریل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اسی طرح یوٹیلیٹی (جس میں گیس اور بجلی شامل ہیں) کی قیمتیں بڑھنے سے بھی فارما سیوٹیکل انڈسٹری پر اضافی بوجھ پڑا۔ مزید برآں ایڈیشنل ڈیوٹی میں بھی اضافہ ہوا۔انٹرسٹ ریٹ اور ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔ پاکستان کی زیادہ فارماسیوٹیکل درآمدات چین سے ہوتی ہیں۔ چین میں ماحولیاتی وجوہات کی بناء پر آدھی سے زیادہ انڈسٹری کی بندش سے خام مال کی قیمتوں میں 2 گنا اضافہ ہوا۔ ملک میں آئے دن کچھ ادویات اور ویکسین کی عدم دستیابی کی شکایات موصول ہو رہی تھیں جس کی وجوہات میں ایک وجہ ادویات کی قیمت بھی پائی گئی۔ انڈسٹری سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ بہت سی ادویات کم قیمت ہونے کی وجہ سے تیار کرنا کاروباری لحاظ سے موزوں نہیں رہا ہے ، ڈریپ کے لیے جان بچانے والی اور ضروری ادویات کی فراہمی ایک اولین ترجیح ہے،




زیادہ گوشت کھانے سے ذیابیطس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے

سنگاپور( وائس آف ایشیا)سنگاپور میں کی گئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ سرخ گوشت اور مرغی کھانے سے ذیابیطس کے مرض کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ یہ تحقیق سنگاپور کی آبادی میں کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر اس کی جگہ مچھلی اور دیگر سمندری غذائیں کھائی جائیں تو اس سے کوئی نقصان نہیں ہوتا اور کئی طبی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس سے قبل ماہرین کہہ چکے ہیں کہ سبزیوں اور پھلوں کا استعمال صحت کے لیے ازحد مفید ہوتا ہے اور ذیابیطس سمیت کئی امراض کو روکنے میں مددگار ہوتا ہے۔ سنگاپور میں واقع ڈیوک این یو ایس میڈیکل اسکول کے پروفیسر وون پوائے کوہ اور ان کے ساتھیوں نے لال گوشت اور مچھلی کھانے اور ٹائپ ٹو ذیابیطس کے درمیان تعلق پر تحقیق کا فیصلہ کیا۔ اس مطالعے میں گوشت میں موجود فولاد پر بطورِ خاص غور کیا گیا۔ اس کے لیے ماہرین نے سنگاپور کی آبادی کے 63 ہزار سے زائد افراد کا جائزہ لیا جن کی عمریں 45 سے 74 برس کے درمیان تھیں۔ ان افراد کا پانچ سال یعنی 1993 سے 1998 تک جائزہ لیا گیا۔ بعد ازاں 1999 اور 2004 میں اور پھر 2006 سے 2010 تک ان کے انٹرویو لیے گئے۔ ماہرین اس نتیجے پر پہنچے کہ سرخ گوشت اور مرغی کھانے والوں میں ذیابیطس کا خطرہ بلند تھا جبکہ مچھلی اور سمندری غذا کھانے والے افراد میں اس مرض کا حملہ بہت کم کم ہوا۔ ماہرین اب اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ سرخ گوشت اگر معمول سے زیادہ کھایا جائے تو ذیابیطس کا خطرہ 23 فیصد اور اگر پولٹری مصنوعات مثلاً مرغی وغیرہ کھائی جائے تو اس سے ذیابیطس کا خطرہ 15 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔ اگر اس کے بجائے مچھلی کھائی جائے تو یہ خطرہ معکوس یعنی پلٹ کر ختم ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سرخ گوشت اور پولٹری میں موجود فولاد یا ہیم (آئرن) اس کیفیت کو بڑھاتا ہے جو آگے چل کر ٹائپ ٹو ذیابیطس کی وجہ بنتی ہے۔




پاکستان بھر میں2022 ء تک کھْلے دودھ کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کردی جا ئے گی

لاہور(وائس آف ایشیا) 2022ء تک کھْلے دودھ کی فروخت پر مکمل پابنید عائد کردی جائے گی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب فوڈ اتھارٹی نے گذشتہ روز کیمیکل ملے دودھ کی جانچ پڑتال کے لیے راولپنڈی ڈویڑن کے داخلی و خارجی راستوں پر 414 گاڑیوں کو چیک کر کے بڑی مقدار میں ملاوٹ شدہ دودھ ضائع کیا۔ پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق ڈیری سیفٹی ٹیموں نے مختلف شہروں کے داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کی۔صوبہ بھر میں 1544 گاڑیوں میں موجود 1 لاکھ 88 ہزار 961 لیٹر دودھ کے موقع پر ٹیسٹ کیے گئے جس کے دوارن 4 ہزار 915 لیٹر کیمیکل سے تیارکردہ ملاوٹی دودھ ضائع کر دیا گیا۔ذرائع کے مطابق اس دودھ میں مقدار اور گاڑھا پن بڑھانے والے مضر صحت کیمیکل، پاؤڈر، یوریا اور پانی کی ملاوٹ پائی گئی تھی۔داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کے دوران راولپنڈی زون میں 414، لاہور زون میں769، ملتان میں 273 اور مظفر گڑھ زون میں 88 گاڑیوں کو چیک کیا گیا۔پنجاب بھر میں چیکنگ کے دوران4 ہزار 915 لیٹر کیمیکل سے تیارکردہ ملاوٹی دودھ موقع پر ضائع کر دیا گیا۔ دور دراز علاقوں میں جعلی دود ھ تیا ر کر کے شہروں میں سپلائی کے لیے لایا جا رہا تھا۔کیمیکل زدہ ملاوٹی دودھ کا استعمال بچوں اوربڑوں میں متعدد بیماریوں کا باعث بنتا ہے۔اس حوالے سے کیپٹن(ر)محمد عثمان نے کہا کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کی مسلسل اور کڑی نگرانی سے ناقص دودھ کی سپلائی میں واضح کمی خوش آئندہے۔دودھ میں ملاوٹ کے خاتمے کا موثر حل جدید ممالک کی طرح پاسچرائزیشن قانون کو لاگو کرنا ہے۔ جعلی اور ناقص دود ھ کے مکمل خاتمے کے لیے پاسچرائزیشن کی قانون سازی کر چکے ہیں۔ خیال رہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے جعلی اور ناقص دودھ کے مکمل خاتمے کے لیے پاسچرائزیشن کی قانون سازی کر لی ہے۔اس حوالے سے 2022ء تک عملی کام مکمل ہونے پر کْھلے دودھ کی فروخت پر مکمل پابندی عائد ہو گی جس کے بعد صرف پاسچرائزڈ اور پیکنگ والا دودھ ہی فروخت کرنے کی اجازت ہو گی۔




امریکی تحقیق کاروں نے پاکستان میں لاعلاج ٹائیفائیڈ بیماری کا انکشاف کردیا

واشنگٹن( وائس آف ایشیا ) ایک امریکی رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں ادویات سے بھی نہ ختم ہونے والا ٹائیفائیڈ تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے 2016 سے 2018 کے درمیان 5 ہزار 372 کیسز سامنے آئے۔امریکی سینٹر فور ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری ونشن نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس بیماری کے زیادہ تر کیسز کراچی اور حیدر آباد میں سامنے آئے۔سی ڈی سی کے تحقیق کاروں نے خبر دار کیا کہ پاکستان میں پھیلی اس بیماری میں سالمونیلا انٹیریکا سروٹائپ ٹائیفائی اسٹرین بھی موجود ہے جو ٹائیفائیڈ بخار کے علاج میں استعمال ہونے والی زیادہ تر اینٹی بائیوٹکس سے بھی ختم نہیں ہوتا۔رپورٹ میں نشاندہی کی گئی کہ 2016 سے 2018 کے درمیان امریکا میں 29 افراد میں ٹائیفائیڈ بخار سامنے آیا اور یہ تمام افراد پاکستان کا سفر کرچکے تھے۔ان مریضوں میں 5 بچے بھی شامل تھے جن میں ادویات اثر نہ کرنے کی صلاحیت والے انفیکشنز تھے۔اس کے علاوہ برطانیہ کا سفر کرنے والے ایک شخص میں بھی یہ مرض سامنے آیا تھا۔رپورٹ میں 2006-15 کے عرصے کا موازنہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ 79 فیصد امریکا سے پاکستان سفر کرنے والے افراد میں واپسی پر ٹائیفائیڈ بخار کی علامات سامنے آئی تھیں، جن پر تھیراپیوٹک اینٹی بائیوٹکس نے اثر کیا تھا۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں نومبر 2016 سے ستمبر 2017 کے درمیان 339 کیسز ایسے سامنے آئے تھے، جن پر ادویات نے اثر نہیں کیا اور یہ کیسز حیدر آباد اور کراچی میں سامنے آئے تھے تاہم 2018 کے اختتام تک مذکورہ کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ سامنے آیا، جو 5 ہزار 372 تک جا پہنچا ہے۔تحقیق کاروں کا ماننا تھا کہ ویکسینیشن کے ذریعے ٹائیفائیڈ بخار سے بچا حاصل کیا جاسکتا ہے۔




ملک میں ھیپاٹائٹس کے مریضوں میں اضافہ

اسلام آباد(وائس آف ایشیا) ملک میں ھیپاٹائٹس کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ پولی کلینک کے شعبہ انتقال خون نے گزشتہ سال 2018 ء کے دوران 1767 مریضوں کے خون کے نمونوں میں ھیپاٹائٹس بی اور سی وائرس کی تصدیق کی جبکہ ماہرین نے مہنگائی اقدامات کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 1151 مریضوں کے خون کے نمونوں میں ہیپاٹائٹس بی کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ۔ رپورٹس میں کہا گیا کہ گزشتہ سال پولی کلینک کے شعبہ انتقال خون نے ہیپاٹائٹس کا پتہ لگانے کے لئے 22550 مریضوں کے خون کے نمونے حاصل کئے جبکہ 4743 خون کے بیگز ہیپاٹائٹس بی اور سی کی تشکیل کے لئے سکرین کئے گئے ۔ دریں اثناء ہسپتال کے ترجمان ڈاکٹر شریف استوری نے کہا ہے کہ ہسپتال کا بلڈ بنک شہر میں مفت سروس فراہم کرنے کا ادارہ ہے انہوں نے کہا کہ ملک میں ھیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے اور اس پر قابو پانے کے لئے فوری اقدامات کرنا ہوں گے ۔




ادویات کی قیمتوں میں اضافہ عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوگا

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز) پاکستان ان ملکوں میں سے ایک ہے جہاں آبادی کی اکثریت خط غربت سے بھی نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور ضروریات زندگی کی قیمتیں اس کی قوت خرید سے باہر ہیں. اس کا سب سے زیادہ اثر علاج معالجہ پر پڑا ہے‘ زندگی بچانے والی بہت سی دوائیں جو پاکستان میں نہیں بنتیں یا اگر کچھ یہاں تیار ہوتی ہیں تو ان کا خام مالدرآمد کرنا پڑتا ہے ڈالر کی قیمت میں اضافے کے بعد ادویہ ساز کمپنیوں نے ان دواﺅں کی قیمتوں میں اضافے کے لئے سفارشات تیار کر رکھی ہیں.بلاشبہ اس کے اثرات غریب عوام برداشت نہیں کر سکیں گے اس بات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کے سی ای او کی تقرری تک دواﺅں کی قیمتوں میں اضافہ منجمد کرنے کا بروقت فیصلہ کیا ہے. چیف جسٹس کی سربراہی میں ایک کیس کی سماعت کے موقع پر دوا ساز کمپنیوں کے وکیل نے عدالتکو بتایا کہ حکومت اور دوا ساز کمپنیوں میں قیمتوں پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، ڈریپ آئندہ ہفتے اپنی سفارشات کابینہ کو بھجوائے گی اور پھرکابینہ کے فیصلے کے بعد دواﺅں کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری ہوگا.فاضل عدالت نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کا مستقل سی ای او تعینات نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے دو دن میں اس کی تقرری کی سمری تیار کرنے کا حکم دیا ہے. ان تمام مستحسن اقدامات کے باوجود ڈالر کی تلوار مقامی مارکیٹ پر لٹکی رہے گی ہمیں اس صورت حال سے نکلنا ہوگا‘وطن عزیز میں فارمیسی کاشعبہ پھل پھول رہا ہے اور ملک کی سرکاری اور پرائیویٹ یونیورسٹیاں ہر سال ہزاروں گریجویٹ، ایم فل اور پی ایچ ڈی اسکالرز تیار کرر ہی ہیں.ہمارے بہت سے فارماسسٹوں سے دوسرے ممالک فائدہ اٹھا رہے ہیں، ملک میں سستی ادویات تیار کرنے کے لئے بہترین انفرا اسٹرکچر موجود ہے، برآمدی صنعتوں کا فروغ موجودہ حکومتی ترجیحات کا حصہ ہے ادویات اورانسانی زندگی کا آپس میں گہرا تعلق ہے اب مزید وقت ضائع کئے بغیر مقامی فارما انڈسٹری کو فروغ دیا جائے.




طبی ماہرین کا بڑھاپے سے بچانے والی دوا کی تیاری کا دعویٰ

لندن(وائس آف ایشیا)ویسے تو عمر بڑھنے سے جسم میں آنے والی تبدیلیوں کی روک تھام لگ بھگ ناممکن ہے مگر سائنسدانوں کے خیال میں وہ بڑھاپے کی آمد کو روک سکتے ہیں۔درحقیقت وہ یہ کام ایک دوا کے ذریعے کرنا چاہتے ہیں اور اس میں انہوں نے کافی حد تک کامیابی کا دعویٰ بھی کیا ہے۔میڈیاپورٹس کے مطابق سائنسدانوں نے مختلف ادویات کے امتزاج سے ایسی دوا کو دریافت کیا جو کہ جسم میں ایسے خلیات کو صاف کرتا ہے جو کہ بڑھاپے کے آثار کا باعث بنتے ہیں۔مایو کلینک، ویک فوریسٹ باپسٹ ہاسپٹل کی مشترکہ تحقیق کے دوران لوگوں کو کینسر کے مریضوں کو استعمال کرائی جانے والی دوا اور نباتاتی کیورسیٹین سپلیمنٹ کا استعمال کرایا گیا۔یہ جز پیاز اور سبز چائے میں پایا جاتا ہے اور دیکھا گیا کہ یہ ان خلیات پر کس طرح اثرانداز ہوتا ہے۔تین ہفتے میں ہی ان افراد میں مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں اور سائنسدانوں کے خیال میں اس طرح عمر بڑھنے سے جسم پر طاری ہونے والے اثرات اور امراض کی روک تھام ممکن ہوسکتی ہے۔محققین کے مطابق یہ خلیات کم از کم 20 سنگین امراض کا خطرہ بڑھاتے ہیں مگر اس طریقہ کار سے ان سے بچنا ممکن ہوسکے گا۔اس کاک ٹیل دوا کی پہلی آزمائش چوہوں پر کی گئی تھی اور اب انسانوں پر اس کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔بزرگ افراد کو اس دوا کا استعمال کرایا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ اس دوا کے استعمال سے چہل قدمی کے ٹیسٹ میں ان کی کارکردگی نمایاں حد تک بہتر ہوئی جبکہ وہ کرسی سے 2 سیکنڈ زیادہ تیزی سے کھڑے ہونے لگے۔محققین نے اس دوا کے عام استعمال سے پہلے مزید تحقیق کی ضرورت پر زور دیا۔اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہوئے۔




جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھنے سے گردے فیل ہونے کا خدشہ

کراچی(وائس آف ایشیا)معروف یورپی یورالوجسٹ پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کے مطابق تازہ ترین تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جسم میں یورک ایسڈ بڑھ جانے سے مریضوں میں گردے فیل ہوجانے کا خطرہ تین گنا بڑھ جاتا ہے۔تفصیلات کے مطابق یورپی ماہرِ امراض گردہ پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کے مطابق جسم میں یورک ایسڈ کا بڑھ جانا میٹابولک سینڈروم کا ایک حصہ ہے، جس کے نتیجے میں دل اور فالج کے حملے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کے مطابق جدید تحقیق کے مطابق یہ کیمیکل نہ صرف گردے ناکارہ کرنے، بلند فشار خون کا مرض لاحق کرنے بلکہ دل کے دورے اور فالج کے حملے کا بھی اہم سبب بنتا ہے۔واضح رہے کہ شراب پینے، سرخ گوشت کھانے، لوبیا اور کچھ دالوں کے کھانے سے جسم میں یورک ایسڈ کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان غذاں کا کم سے کم استعمال آپ کو کئی موذی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔




زندگی بڑھانے والا پروٹین دماغی بیماریوں کے لیے خطرناک

 لاہور(وائس آف ایشیا) تازہ تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ قدرتی طور پر پایا جانے والا ایک پروٹین ’’کلوتھو‘‘ نہ صرف زندگی بڑھاتا ہے بلکہ دماغ کی اکتسابی صلاحیتوں کو بہتر بناتے ہوئے الزائیمر، پارکنسن اور دوسری کئی دماغی بیماریوں کے خلاف ڈھال کا کام بھی کر سکتا ہے۔اگرچہ یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو میں یہ تحقیق چوہوں پر کی گئی ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی نتائج انسانوں میں بھی حاصل کیے جاسکیں گے۔ اب اس پروٹین کو استعمال کرتے ہوئے ابتدائی انسانی تجربات کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔واضح رہے کہ کلوتھو پروٹین انسانی دماغ اور گردوں میں قدرتی طور پر تیار ہوتا ہے جو دورانِ خون (بلڈ سرکولیشن) میں ایک ہارمون کے طور پر شامل ہو کر مختلف افعال انجام دیتا ہے۔ ایک طرف یہ جسم میں انسولین کی پیداوار کو بہتر بناتا ہے تو دوسری جانب یہ پٹھوں کو مضبوط بنانے والے خلیوں یعنی ’’فائبروبلاسٹس‘‘ کی افزائش میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔ماضی کی تحقیقات سے پہلے ہی یہ معلوم ہو چکا ہے کہ جن لوگوں میں کلوتھو پروٹین کی زیادہ مقدار بنتی ہے وہ نہ صرف دوسروں سے زیادہ ذہین ہوتے ہیں بلکہ لمبی عمر بھی پاتے ہیں۔ عام طور پر لوگوں میں عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ اس پروٹین کی بننے والی مقدار کم ہوتی چلی جاتی ہے جس کے اثرات دماغی اور جسمانی صحت پر بھی پڑتے ہیں۔ان مطالعات کو دیکھتے ہوئے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، سان فرانسسکو میں نیورولوجی کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ڈینا ڈیوبال اور ان کے ساتھیوں نے مختلف دماغی امراض کے علاج میں کلوتھو پروٹین پر مزید تجربات کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ یہ پروٹین دماغی امراض کے علاج میں بطور دوا استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔اس مقصد کے لیے جینیاتی ترمیم (جینیٹک موڈیفکیشن) کے ذریعے ایسے چوہے تیار کیے گئے جو الزائیمر اور پارکنسن بیماریوں میں مبتلا تھے۔ یہ بیماریاں بیک وقت کئی ایک دماغی اور اکتسابی (سیکھنے سے متعلق) صلاحیتوں پر اثر انداز ہوتی ہیں اور بڑی عمر کے لوگوں کو زیادہ متاثر کرتی ہیں۔تجربات کے دوران جب ان چوہوں کو ’’کلوتھو پروٹین‘‘ کی اضافی مقداریں استعمال کرائی گئیں تو ان میں نمایاں طور پر افاقہ دیکھا گیا اور دونوں بیماریوں (الزائیمر اور پارکنسن) کی شدت کمزور پڑنے لگی۔اس تحقیق نے مختلف دماغی امراض میں کلوتھو پروٹین کو بطور دوا استعمال کرنے کے امکانات روشن کیے ہیں جبکہ اس دریافت کی تفصیلات ریسرچ جرنل ’’سیل رپورٹس‘‘ کے تازہ شمارے میں شائع ہوئی ہیں۔الزائیمر، پارکنسن اور ڈیمنشیا جیسی بیماریوں کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور ان کی وجہ سے مریض کا دماغ آہستہ آہستہ ناکارہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان کی ابتدائی علامات میں حالیہ واقعات کے بارے میں کمزور یادداشت سب سے نمایاں ہے جبکہ ارتکازِ توجہ کی کمی اور سمت کے درست تعین میں مشکلات جیسے مسائل بھی عموماً مشاہدے میں آتے ہیں۔