مسمی: میں وٹامنز اے اور بی پائے جاتے ہیں

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز) مسمی جسے انگریزی میں کہتے ہیں کا رنگ پختہ حالت میں زرد سرخی مائل ہوتا ہے۔ اس کا ذائقہ شیریں اور مزاج سرد تر ہے۔ یہ موسم سرما کا بہترین تحفہ ہے۔ اس کی مقدار خوراک چار سے چھ عدد ہے‘ اس کے حسب ذیل فوائد ہیں۔ مسمی کے فوائد: 1- مسمی زود ہضم اور طاقت بخش پھل ہے۔ 2- یہ خون پیدا کرتا ہے۔ 3- ملیریا‘ بخار‘ سل اور تپ دق میں بے حد مفید ہے۔ 4- مسمی میں اسّی فیصد پانی ہوتا ہے۔ اس میں معقول تعداد میں گوشت بنانے والے روغنی اور نشاستہ دار اجزا کے ساتھ ساتھ سوڈیم‘ فاسفورس اور پوٹاشیم کی آمیزش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس میں وٹامنز اے اور بی پائے جاتے ہیں جو انسانی صحت کیلئے ضروری ہوتے ہیں۔ 5- یہ قبض کشا ہے ۔
6- معدہ کی تیزابیت کو دور کرنے کیلئے یہ قدرت کا بہترین تحفہ ہے۔ 7- صبح نہار منہ چار عدد مسمیاں کھانے سے بڑھا ہوا پیٹ کم ہوتا ہے بشرطیکہ یہ عمل تین ہفتے تک جاری رہے۔ 8- معدے کی جلن میں مسمی کا استعمال بہترین رہتا ہے۔ 9- مسمی کے استعمال سے خون کی تیزابیت دور ہو جاتی ہے۔ 10- پھوڑے‘ پھنسیاں اور خارش والے مریض چھ عدد مسمیاں روز کھا کر اس موذی مرض سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔ کم از کم یہ عمل دس روز تک جاری رکھنا ہوگا۔ 11- یورک ایسڈ کی زیادتی کے باعث جوڑوں میں درد اور سوجن ہو جانے کی صورت میں سورنجاں شیریں اور سفید زیرہ ہم وزن لے کر سفوف بنائیں۔ یہ سفوف چھ ماشہ (آدھ چمچہ چائے والا) ہمراہ دودھ صبح بطور ناشتہ لیں اور شام کے وقت تقریباً چار بجے دو گلاس مسمی کا جوس پی لیں۔ چند روز میں صحت بحال ہو جائے گی۔ 12- مسمی کے بیج اور زرد چھلکا ہم وزن لے کر عرق گلاب میں بانس کی لکڑی سے دو روز تک کھرل کر کے سرمہ بنا لیں۔ اس سرمے کو رات سوتے وقت آنکھوں میں دو دو سلائیاں لگانے سے جالا‘ دھند دور ہو جاتا ہے اور نظر تیز ہو جاتی ہے۔
13- مسمی کے موٹے زرد چھلکے کو خشک کر کے جلالیں اس کی راکھ میں شہد ملا کر چاٹنے سے کھانسی دور ہو جاتی ہے۔ 14- اسی طرح تین ماشے مذکورہ راکھ ایک تولہ شہد یا شربت بنفشہ میں ملا کر بار بار چٹانے سے گلے کی خرابی‘ کھانسی فوراً ٹھیک ہو جاتی ہے اور بلغم خارج ہوتا ہے۔ 15- یہ پیشاب آور ہے۔ 16- مسمی کے استعمال سے جسم میں بیماریوں سے بچنے کی قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے ۔




مسلسل ڈپریشن دل کے مریضوں کیلیے قبل ازموت

لاہور( وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ،میمونہ عزیز) ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ قلبی شریانوں کا مرض ( کورونری ہارٹ ڈیزیز) لاحق ہونے کے بعد اگر آپ مسلسل ڈپریشن میں رہتے ہیں تو 10 سال کے اندر اندر موت کے قریب بھی پہنچ سکتے ہیں۔ ماہرین کی جانب سے کیے گئے ایک نئے مطالعے کے مطابق دل کے مریض اگر ڈپریشن کے شکار ہوجائیں اور ہر بات دل پر لینے لگیں تو وہ دل ہار کر موت کے منہ میں جاسکتے ہیں۔ اس مطالعے میں شریک ایک ماہر کا کہنا ہےکہ قلبی شریانوں کے مریضوں میں مایوسی، ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا مسلسل جائزہ لیا جانا ضروری ہے، خواہ ڈپریشن تھوڑے عرصے کے لیے ہو یا پھر کئی سالوں پر محیط، دل کے مریضوں کو اس سے دور رہنا چاہیے، کسی ڈپریشن کی صورت میں اس کا علاج اور فالو اپ بھی بہت ضروری ہوتا ہے۔ اس سے قبل بھی ماہرین ڈپریشن اور دل کے امراض کے درمیان تعلق پر ایک عرصے سے غور کررہے ہیں۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ دل کے مریض چند ماہ کے اندر ہی ڈپریشن کے چنگل میں چلے جاتے ہیں۔ماہرین نے اس کے لیے 10 برس تک 25 ہزار دل کے مریضوں کا بغور جائزہ لیا۔ ان میں سے 3646 مریض ڈپریشن میں مبتلا پائے گئے جب کہ ان کی نصف تعداد مطالعے کے دوران ہی انتقال کرگئی لیکن 20 ہزار سے زائد افراد ڈپریشن سے دور رہے اور زندہ رہے۔ اس طرح ماہرین کا خیال ہےکہ قلبی شریانوں کے مریضوں میں ڈپریشن جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کے مریضوں کو خوش رہنا چاہیے، صبح کو چہل قدمی کریں اور مناسب غذا کھائیں۔




مضر صحت مشروبات سے ذیابیطس (شوگر) اور یگر بیماریوں میں اضافہ

لاہور(وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز) وفاقی وزیر صحت عامر محمود کیانی نے وفاقی اور صوبائی وزراء برائے تعلیم سے تعلیمی اداروں کے اندر اور 100 میٹر کی حدود میں مضر صحت مشروبات کی فروخت پر پابندی کی درخواست کی ہے وفاقی وزیر صحت نے کہا ہے کہ مضر صحت مشروبات سے ملک میں ذیابیطس (شوگر) اور یگر بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ مضر صحت مشروبات میں چینی کی زائد مقدار کی وجہ سے بچوں کے موٹاپن میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کی تحقیق کے مطابق موٹاپا ، دل کی بیماری ، کینسر اور دیگر بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے ۔ حالیہ قومی ذیابیطس سروے 2016-17 کے مطابق پاکستان میں 26 فیصد بالغ افراد ذیابیطس کا شکار ہیں ۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق 2 سے 18 سال کی عمر کے بچوں کو روزانہ 6 چائے کے چمچ سے کم چینی استعمال کرنی چاہیے۔یاد رہے کہ پنجاب اور سندھ فوڈ اتھارٹیز نے تعلیمی اداروں کے اندر اور 100 میٹر کی حدود میں مضر صحت مشربات کی فروخت پر پہلے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے۔ اب وفاقی وزیر صحت عامر محمود کیانی نے وفاقی اور کے پی کے ، بلوچستان اور گلگت بلتستان کے صوبائی وزراء تعلیم کو ایک خط میں درخواست کی ہے کہ وہ بھی تعلیمی اداروں میں مضر صحت مشروبات پر پابندی عائد کریں۔




بھارتی حیدرآباد میں سوائن فلو سے متاثرہ دوکم عمر خواتین ہلاک

حیدرآباد(وائس آف ایشیا)شہر حیدرآباد کے گاندھی اسپتال میں سوائن فلو سے 2 خواتین کی موت ہوگئی ۔ایک خاتون کی عمر 24سال اور دوسری کی عمر80برس ہے۔یہ دونوں کچھ عرصہ سے گاندھی اسپتال میں زیر علاج تھیں۔بھارتی ٹی وی کے مطابق ڈاکٹروں نے کہا کہ پہلے ان خواتین کا علاج پرائیویٹ اسپتال میں کیاگیاجس کے بعد ان کو گاندھی اسپتال منتقل کیاگیا۔گاندھی اسپتال میں مزید 5مریض سوائن فلو سے متاثر ہیں جن کا علاج کیاجارہا ہے۔مزید 4 مشتبہ مریض بھی زیرعلاج ہیں۔ حیدرآباد کے فیور ہسپتال کے سپرنٹنڈنٹ نے کہاکہ عوام احتیاطی اقدامات کو یقینی بنائیں اورشدید بخار چھینک کھانسی اور بدن درد جیسی سوائن فلو کی علامات پر اسپتال سے رجوع کریں۔




کیڑے مار دواؤں کے انسانی صحت پر سنگین اثرات، ماہرین پریشان

لاہور(وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز) دنیا بھر کے کھیتوں میں فصلوں کو متاثر کرنے والے کیڑے مکوڑوں کو تلف کرنے میں عام استعمال ہونے والی حشرات کش دوا کو ماہرین نے انسانوں کے لیے انتہائی مضر قرار دے کر اس پر پابندی کی درخواست کردی۔بین الاقوامی ماہرین کی ٹیم نے آرگینو فاسفیٹس کے ماحول میں کام کرنے والی  حاملہ خواتین کے بچوں میں دماغی رکاوٹ اور دیگر امراض کا انکشاف کیا ہے۔ اس کی تفصیلات پبلک لائبریری آف سائنس (پی ایل او ایس) میڈیسن میں شائع ہوئی ہیں۔ ماہرین نے کہا ہے کہ پوری دنیا میں اب انہیں درجہ بہ درجہ ختم کرنا ہوگا۔یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کی ماہر ماحولیات ڈاکٹر اِروا ہرٹز پیچیاٹو نے بتایا ’اس بات کے ثبوت بڑھتے جارہے ہیں کہ کھیتوں میں کام کرتی ہوئی حاملہ خواتین کو آرگینو فاسفیٹس پر مشتمل کیڑے مار دواؤں کی معمولی مقدار کا سامنا بھی ہوجائے تب بھی ان کے بچوں میں آئی کیو کی کمی، سیکھنے، یاد کرنے، توجہ اور ارتکاز کی مشکلات و مسائل بڑھ سکتے ہیں۔‘وہ کہتی ہیں کہ امریکا سمیت دیگر ممالک میں صرف ایک قسم کے آرگینو فاسفیٹ پر بحث جاری ہے لیکن ہماری تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ اس نسل کے سارے مرکبات یکساں طور پر مضر ہیں۔ واضح رہے کہ یہ کیمیکل جنگی ہتھیار کے طور پر بطور اعصابی گیس بنایا گیا تھا۔ آج آرگینو فاسفیٹس کھیتوں، گالف کے میدانوں ، اسکولوں اور شاپنگ مراکز میں کیڑے مار دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ ان کے چھڑکتے ہی کیڑوں کے اعصاب شل ہوجاتے ہیں اور وہ مرجاتے ہیں۔

ماہرین نے کہا ہے کہ نہ صرف اپنے ماحول بلکہ تمام غذائی اجناس میں بھی یہ کیمیکلز جذب ہوکر خود غذا کا حصہ بھی بن جاتے ہیں۔ اسی بنا پر ماہرین نے اس پر پابندی، پانی کے ذخائر میں اس کی موجودگی کی شناخت، اس سے بیماریوں کا ایک باقاعدہ سسٹم اور کسانوں کو ان کے خطرات سے آگاہ کرنے پر زور دیا ہے۔




انار کا رس کئی جان لیوا امراض کو دور رکھتا ہے

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)آج کل بازار سرخ اور گلابی اناروں سے بھرے ہوئے ہیں جو اپنی رنگت اور ذائقے کی وجہ سے ہمیں اپنی جانب متوجہ کررہے ہیں۔ اس اہم سوغات میں غذائی اجزا اور کئی امراض سے شفا بھری ہوئی ہے۔جدید سائنسی تحقیق سے دیکھیں تو انار ان گنت غذائی اجزا اور ایک سو سے زائد فائٹو کیمیکلز سے بھرے ہوتے ہیں۔ یہ کیمیکلز کینسر سے بچانے کے علاوہ دل کو بھی بہترین حالت میں رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں برس سے انار طبی مقاصد کے لیے استعمال ہوتے رہے ہیں۔ انار کے مصدقہ فوائد میں سے چند یہ ہیں۔’’کینسر سے بچاؤ‘‘ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ انار کا رس پروسٹیٹ کینسرکا خطرہ کم کرنے اور سرطان کے بعد کی صورتحال کو مزید پھیلنے سے روکتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی دیگر بہت سے اقسام کے کینسر میں انار اور اس کے رس کی افادیت ثابت ہوچکی ہے۔’’دماغی صحت کے لیے مفید‘‘انار میں بعض اینٹی آکسیڈنٹس ایسے ہوتے ہیں جو کسی اور پھل میں بہت کم مقدار میں ملتے ہیں۔ یہ اینٹی آکسیڈنٹس دماغی افعال کو بہتر رکھنے، یادداشت بڑھانے اور الزائیمر کے مرض کو روکتے ہیں۔’’ہاضمے میں مددگار‘‘معدے اور آنتوں میں اندرونی جلن بہت سی بیماریوں کی جڑ سمجھی جاتی ہے۔ انار کا رس اس کا مؤثر انداز میں خاتمہ کرتا ہے۔ ڈاکٹر انار کا رس ڈائریا کی صورت میں استعمال کرنے سے منع کرتے ہیں لیکن عام حالات میں اس کا استعمال بہت مفید ہوتا ہے۔’’جوڑوں کا درد بھگائے‘‘ایک جانب تو انار کے رس میں جلن اور سوزش دور کرنے والے اجزا پائے جاتے ہیں تو اس میں موجود خاص فلیوینولز ان تمام راستوں کو روکتے ہیں جن سے جوڑوں کا درد اور گٹھیا پیدا ہوتا ہے۔ اس ضمن میں ماہرین نے کئی مطالعے کیے ہیں جن میں انار کے رس کی افادیت سامنے آئی ہے۔’’ انار اور امراضِ قلب‘‘اگر کسی پھل کے رس کو دل کا سب سے بہتر دوست کہا جائے تو یہ اعزاز بھی انار کے جوس کو ہی ملے گا۔ محدود لیکن مضبوط شواہد کی بنیاد پر ہونے والے سروے سے معلوم ہوا ہے کہ انار کا رس دل کی شریانوں میں خون کا بہاؤ برقرار رکھتا ہے۔ اس کے کئی اجزا شریانوں کی تنگی کو روکتے ہیں۔لیکن یاد رہے کہ اگر آپ بلڈ پریشر کے مریض ہیں یا کولیسٹرول کم کرنے کی دوا لے رہے ہیں تو انار کا رس ان کا اثر کم کردیتا ہے۔ اسی بنا پر دل کے مریض اپنیمعالج سے مشورے کے بعد ہی انار کا رس استعمال کریں۔انار کے اینٹی وائرس اجزاوٹامن سی اور وٹامن ای سے بھرپور انار کا رس کئی طرح کے وائرس اور انفیکشنز سے بچاتا ہے۔ تجربہ گاہوں میں انار کا رس بہت مؤثر ثابت ہوا ہے ساتھ ہی یہ سرد موسم کے انفیکشن سے بھی بچاتا ہے۔




طرز زندگی ہماری صحت پر اثر انداز

 

لاہور(وائس آف ایشیا رپورٹ محمد جمیل بھٹی )طرز زندگی ہماری صحت اور شخصیت دونوں پر اثر انداز ہوتا ہے اور کچھ عادتیں ایسی ہوتی ہیں جو درحقیقت موت کی جانب لے جاتی ہیں جن سے بچنا طویل عمر کی خواہش پوری کرنے کیلئے ضروری ہے۔ خراب غذائی عادات جنک یا فاسٹ فوڈ کا استعمال بہت عام ہوگیا ہے جو مختلف امراض کا سبب بن کر قبل از وقت موت کا سبب بھی بن سکتا ہے، طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کم چینی اور ریفائنڈ کاربوہائیڈریٹ والی غذائیں صحت کیلئے بہترین ثابت ہوتی ہیں، جبکہ کچھ تحقیقی رپورٹس کے مطابق سبزیوں و پھلوں کا استعمال طویل زندگی کا سبب بنتا ہے۔ کولیسٹرول چیک نہ کرنا ہائی بلڈ پریشر کی طرح ہائی کولیسٹرول بھی امراض قلب اور فالج کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔ تو اپنے کولیسٹرول کا چیک اپ کرانا معمول بنالینا ایک اچھا خیال ہے خاص طور پر اگر آپ زیادہ چربی والی خوراک اور کولڈ ڈرنکس وغیرہ کے شوقین ہیں تو۔ کچھ مخصوص غذائیں جیسے مٹر یا مونگ پھلی وغیرہ فائبر اور انٹی آکسائیڈنٹ سے بھرپور ہوتی ہیں جو کولیسٹرول کی شرح رکھنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔ ممنوعہ یا بغیر ڈاکٹر کی ہدایت کے ادویات کا استعمال نیند کی ادویات کا ڈاکٹر کی ہدایات کے بغیر استعمال جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔ ذیابیطس سے بے خبر رہنا ذیابیطس میں مبتلا افراد کی تعداد میں سالانہ لاکھوں کا اضافہ ہوتا ہے اور لگ بھگ ہر پانچ میں سے ایک شخص اس کا شکار ہے۔ اس جان لیوا مرض کے باعث بنیائی ختم ہونے، جسمانی اعضاء4 سے محرومی اور خون کی رگیں جمنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جو دل کے دورے اور فالج کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ خون کے ایک سادہ سے ٹیسٹ کے ذریعے آپ ہر چھ ماہ یا سالانہ بنیادوں پر اس مرض میں مبتلا ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں جان سکتے ہیں۔ موٹاپا موٹاپا اس وقت ایک عالمی وباء کی شکل اختیار کرچکا ہے، جس کی وجہ یہ ہے کہ عمر بڑھنے کیساتھ ہمارے میٹابولزم سست ہوجاتا ہے اور کیلیوریز جلنے کی تعداد کم ہوجاتی ہے، اگر ہم اپنی غذائی اور ورزش کی عادات میں تبدیلی نہ لائیں تو جسمانی وزن بڑھنا لازمی ہوجاتا ہے۔ موٹاپا ہائی بلڈ پریشر، امراض قلب اور دیگر متعدد جان لیوا امراض کا سبب بن سکتا ہے۔ اپنے جسمانی وزن میں صرف دس فیصد کمی لانا ہی طبی فوائد کا باعث بنتا ہے تو اسے اپنا مقصد بنالینا ہی بہتر ہے۔ دل کے دورے کے اشاروں کو نظرانداز کرنا سینے میں درد نہ ہونے کا مطلب دل کا دورہ نہ ہونا نہیں ہے۔ خواتین کو اکثر دل کے دورے بدہضمی اور تھکان کے باعث پڑتے ہیں، جبکہ مردوں کو سینے کے درمیان درد کا احساس ہوتا ہے جو گردن، کندھوں یا جبڑے تک پھیل جاتا ہے۔ کم نیند آج کل اوسطاً ہر فرد ایک ماہ میں تیرہ راتیں مکمل نیند نہیں لے پاتا، اگرچہ یہ جان لیوا تو نہیں مگر جب آپ نیند سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ گاڑی چلارہے ہو تو آپ خود کو اور دیگر افراد کو خطرے میں ڈال رہے ہوتے ہیں، کیونکہ توجہ نہ ہونا اور سست ردعمل عمل حادثات کا سبب بن جاتا ہے۔ ورزش سے گریز صحت مند رہنے کیلئے ہفتے میں دو بار مسلز مضبوط کرنے والی ورزش کرنا ضروری ہے، اس کے ساتھ سات روز میں ڈھائی گھنٹے کی عام سرگرمیاں جیسے چہل قدمی صحت کیلئے فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔ ہفتے میں تین بار چہل قدمی سے دماغ کے یاداشت کو کن ٹرول کرنے والے حصوں کا حجم بڑھتا ہے، جس سے بڑھاپے میں یاداشت کا مسئلہ نہیں ہوتا۔ بہت زیادہ ذہنی بوجھ اکثر افراد اپنے کندھوں پر خاندان، دفتر اور دوستوں وغیرہ کی ذمہ داریاں اٹھالیتے ہیں، جس سے ہمارے ذہن بہت بری متاثر ہوتے ہیں اور تنا? و مایوسی جیسے ذہنی امراض زندگی سے دلچسپی ختم کردیتے ہیں۔ توند یہ اضافی وزن نہیں جو ہم لیکر گھومتے ہیں بلکہ یہ ہمارے پیٹ میں چربی کا بہت زیادہ بڑھ جانا ہوتا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ توند یا چربی کا یہ ذخیرہ مجموعی صحت کیلئے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔ تمباکو نوشی تمباکو نوشی کے نقصانات کے بارے میں سب ہی جانتے ہیں اور اس عادت کو اپنانا مختلف قسم کے کینسر اور دیگر امراض کا سبب بن کر جلد زندگی کا خاتمے کا سبب بن سکتی ہے۔




بعض اقسام کے کینسر کے علاج میں اسپرین مفید ثابت ہوسکتی ہے

لاہور (وائس آف ایشیا) سائنس دانوں کے ایک گروہ نے کہا ہے کہ اب ہمیں یہ اعلان کردینا چاہیے کہ بعض اقسام کے کینسر کے علاج میں اسپرین مفید ثابت ہوسکتی ہے۔برطانیہ میں کارڈف یونیورسٹی میں واقع کوکرین انسٹی ٹیوٹ آف پرائمری کیئر اینڈ ہیلتھ سے وابستہ پیٹر ایل وُڈ نے اس ضمن میں 71 تحقیقی جائزوں (ریسرچ سرویز) اور مطالعات کا بغور تجزیہ کیا ہے اور اس کے نتائج پبلک لائبریری آف سائنس ون کی ویب سائٹ پر شائع کرائے ہیں۔

ایل وُڈ کے مطابق اسپرین کی کم خوراک دل، فالج اور کینسر کی بیماریوں میں مؤثر ثابت ہوچکی ہے اور اب اس بات کے مزید ثبوت ملے ہیں کہ اسپرین کئی اقسام کے کینسر کو روکنے یا انہیں دور رکھنے میں مفید ثابت ہوسکتی ہے۔ اس سے قبل ممتاز طبی جریدے لینسٹ میں شائع شدہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ادھیڑ عمری میں کینسر کے شکار ہونے والے افراد میں اسپرین فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔

گزشتہ برس چوہوں پر تجربات کے بعد یہ بات سامنے آئی تھی کہ کینسر کے مروجہ معالجے کے ساتھ ساتھ اگر اسپرین بھی استعمال کی جائے تو اس سے علاج کی اثر پذیری اور رفتار، دونوں بڑھ جاتی ہیں۔ ڈاکٹر پیٹر اور ان ساتھیوں نے 120,000 ایسے مریضوں کا ڈیٹا کھنگالا جو کینسر کا علاج کروا رہے تھے اور ساتھ میں اسپرین بھی کھارہے تھے۔ پھر اس ڈیٹا کا موازنہ چار لاکھ ایسے مریضوں سے کیا گیا جو اسپرین نہیں لے رہے تھے۔

اس ضمن میں بڑی آنت کے کینسر، بریسٹ کینسر اور پروسٹیٹ کینسر کے مریضوں کی رپورٹس دیکھی گئیں۔ ماہرین یہ جان کر حیران رہ گئے کہ سرطان کے جن مریضوں نےعلاج کے ساتھ ساتھ اسپرین کھائی تھی، ان میں بقیہ مریضوں کے مقابلے میں زندہ بچ جانے کی شرح 20 سے 30 فیصد زیادہ تھی۔ بہ الفاظ دیگر، اسپرین سے ان کی زندگی کا دورانیہ بڑھ گیا تھا۔ تاہم ماہرین نے اس ضمن میں مزید آزمائش اور تحقیق پر بھی زور دیا ہے




گریپ فروٹ, چکوترا جسمانی وزن میں کمی کے لیے مفید ہے

  لاہور(وائس آف ایشیا)  گریپ فروٹ یا چکوترا اکثر افراد کو پسند ہوتا ہے اور ہوسکتا ہے آپ کو معلوم ہے کہ یہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے مفید ہے۔ مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ جلد کو بھی بہتر کرتا ہے؟ یہاں اس مزیدار پھل کے کچھ فوائد دیئے جارہے ہیں جبکہ اس کے بہت زیادہ کے خطرات کو جاننا بھی بہت ضروری ہے۔ خون کی گردش بہتر کرے چکوترے کو کھانے کی عادت خون کی گردش یا سرکولیشن کو بہتر کرنے میں مدد دیتی ہے، خون کی گردش ٹھیک ہو تو جسم میں پانی یا دیگر سیال کا اجتماع نہیں ہوپاتا، اس کے علاوہ جگر اور پتے کو متحرک کرنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ ڈپریشن کے خلاف مفید چکوترا یا اس کے تیل کی مہک ذہن اور جسم کے مختلف حصوں کو متحرک کرتی ہے، جس کے نتیجے میں مختلف ہارمونز جیسے ڈوپامائن اور آکسی ٹوکین خارج ہوکر مزاج پر خوشگوار اثرات مرتب کرتے ہیں، ایسا ہونے پر ذہنی بے چینی اور ڈپریشن کے خلاف لڑنے مین مدد ملتی ہے۔ بڑھاپے کے عمل کے خلاف مزاحمت چکوترے میں کافی مقدار میں اینٹی آکسائیڈنٹس موجود ہوتے ہیں جو جلد کو بحال کرنے کے ساتھ ساتھ جھریوں کے خلاف مزاحمت بھی کرتے ہیں۔ اس پھل میں ایک جز سپیرمیڈائن بھی پایا جاتا ہے اور ایک طبی تحقیق کے مطابق یہ جز خلیات کے عمر بڑھنے کے عمل کو سست کردیتا ہے۔ جسمانی وزن میں کمی کے لیے مفید طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ ایک گلاس چکوترے کا جوس پینا خوراک کی خواہش پر قابو پانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ اس پھل میں ایسے اجزاءموجود ہوتے ہیں جو میٹابولزم کی رفتار کو بڑھا دیتے ہیں اور چوہوں پر تجربات کے دوران ایک جاپانی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ چکوترے کے تیل کی خوشبو کو 15 منٹ تک سونگھنا بھی خوراک کی اشتہا اور جسمانی وزن کو کم کرنے میں مدد دیتا ہے۔ چکنی جلد کے خلاف جدوجہد چکوترے میں قدرتی طور پر ایسی خصوصیات موجود ہوتی ہیں جو جلد میں زیادہ تیل کو ختم کرکے مساموں کو تنگ کرتا ہے۔ یہ پھل جراثیم کش خصوصیات کا بھی حامل ہے جو بیکٹریا کو ختم کرکے کیل مہاسوں کا خاتمہ کرتا ہے۔ کولیسٹرول کی سطح میں کمی ایک طبی تحقیق کے مطابق سرخ چکوترے کا ایک ماہ تک روزانہ استعمال کولیسٹرول کی سطح میں 15 فیصد تک کمی کرتا ہے۔ تاہم چکوترے کے پھل کے ساتھ مخصوص ادویات بشمول امراض قلب کی ادویات کا امتزاج خطرناک بھی ثابت ہوسکتا ہے تو اسے اپنی غذا کا حصہ بنانے سے پہلے معالج سے ضرور مشورہ کریں۔ بالوں کی خشکی سے نجات اس پھل کے جوس میں ایک ایسا جز پایا جاتا ہے جو جسم کے اندر پائے جانے والے خمیر کی سطح کو کم کرتا ہے جس کے نتیجے میں بالوں کی خشکی کا خاتمہ بھی ہوتا ہے۔ اس کو پینے کی بجائے تیل کی طرح سر پر لگانے سے خشکی کا باعث بننے والی فنگس کا خاتمہ ہوتا ہے۔ گردوں میں پتھری کا خطرہ گردوں میں پتھری کی بڑی وجہ کیلشیئم کی ایک قسم کا بڑھ جانا ہوتا ہے، چکوترے، سیب اور مالٹے وغیرہ کیلشیئم کی سطح کو بڑھاتے ہیں جس کے نتیجے میں پتھری کا خطرہ بڑھتا ہے۔ تاہم طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پھلوں کا بہت زیادہ استعمال کرنا اس خطرے کا باعث بنتا ہے لہذا معتدل مقدار میں انہیں کھانا نقصان دہ نہیں ہوتا پھر بھی گردوں میں پتھری کے تجربے سے گزرنے والے افراد ڈاکٹر سے رجوع کرکے ان کا استعمال کریں۔ منہ کے چھالوں کا مسئلہ بڑھا دے اگر منہ میں چھالے ہورہے ہیں تو چکوترے کو کھانے یا اس کا جوس پینے سے گریز کریں، کیونکہ اس میں موجود تیزابیت جلن مزید بڑھادے گی، اور ہاں چکوترے کو تیزابیت کی وجہ سے دانتوں کے لیے بدترین غذاﺅں میں سے ایک مانا جاتا ہے، جس کا زیادہ استعمال دانتوں کی سطح ختم کرسکتا ہے۔  یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں۔




شور کی آلودگی، دل اور خون کی بیماریوں کے پھیلنے کا سبب

جنیو(وائس آف ایشیا) عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو، ایچ، او) نے آواز کی آلودگی سے متعلق رپورٹ جاری کردی جس میں کہا گیا ہے کہ کُرہ ارض پر پیدا ہونے والے شور کی وجہ سے دل اور خون کی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں آلودگی کی ایک کئی  ایک اقسام ہیں جن میں سے ایک قسم (نوائس پلوشن) یعنی شور سے پیدا ہونے والی آلودگی ہے، یہ انسانی صحت پر بری طرح سے اثر انداز ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق کسی مصروف ترین شاہراہ پر دن کے وقت گاڑیوں کی آمدورفت اور ریل کے چلنے سے پیدا ہونے والی آواز کی حد 54 فیصد تک ہونا چاہیے۔ (یہ حد آواز ناپنے والے آلے سے لی گئی) ڈبلیو ایچ او کی رپورٹ میں 54 فیصد شور کو اس طرح سمجھایا گیا ہے کہ کوئی شخص جب آہستہ آواز میں کسی دوسرے سے سرگوشی کرتا ہے تو اُس وقت آواز کی حد 30 فیصد ہوتی ہے جو قابل برداشت ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ہیڈ فون لگا کر ہلکی آواز میں ریڈیو یا موبائل سے گانے سنے جائیں تو آواز کی شدت 50 فیصد ہوتی ہے جبکہ مختلف صنعتوں سے پیدا ہونے والی آواز 100 فیصد ہوتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے اس حوالے سے شور کی حدود کا تعین کیا تاکہ شہریوں کو آلودگی اور صحت کے خطرات سے بچایا جاسکے۔ ڈبلیو ایچ او کی سفارشات میں رکن ممالک کی حکومتوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ شہری علاقوں میں ایسے اقدامات کریں جن کے ذریعے آوازوں کو اُسی حد تک رکھا جائے یا پھر اس سے کم کیا جائے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی ڈائریکٹر سوزانا یاکب کے مطابق ’کرہ ارض پر بہت زیادہ شور کی وجہ سے انسان کے غصے اور پریشانیوں میں اضافہ ہوا اور نئی بیماریوں نےبھی جنم لیا جن میں دل اور خون کے کئی امراض شامل ہیں‘۔



بادام دل کے امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں؟

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)خشک میوہ جات کے استعمال کے ان گنت فوائد ہیں اور ان کے باقاعدہ استعمال سے جسم توانا اور دماغ تر رہتا ہے۔ ان ہی میں ایک اہم مغز بادام بھی ہے جس کے استعمال کے بے پناہ فوائد ہیں جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جا رہا ہے۔
بادام میں بڑے پیمانے پر چکنائی موجود ہوتی ہے تاہم یہ ناسیر شدہ چکنائی ہوتی ہے جو کہ دل کے لیے نہایت مفید ہوتی ہے کیوں کہ اس کی وجہ سے جسم میں ہائی ڈینسٹی لیپو پروٹین یعنی ایچ ڈی ایل کولیسٹرول (اچھے کولیسٹرول) کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے اور انسان دل کی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ بادام میں فائبر اور پروٹین بھی موجود ہوتا ہے۔ بادام کے استعمال سے جسم میں وٹامن ای، سیلینیم، زنک، کیلشیم، مگنیشیم اور وٹامن بی کی کمی پوری ہو جاتی ہے۔بادام کتنی مقدار میں استعمال کیا جائے؟بادام کے استعمال کے حوالے سے کوئی خاص حد متعین نہیں البتہ کسی بھی چیز کی زیادتی فائدے کے بجائے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ہونے والی بعض تحققیات کے مطابق یومیہ 20 سے 25 گرام بادام استعمال کرنا بہتر ہے جبکہ بچوں میں یہ مقدار مزید کم ہونی چاہیے۔عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ بادام کے استعمال سے وزن بڑھ جاتا ہے کیوں کہ اس میں چکنائی موجود ہوتی ہے تاہم برٹش جرنل آف نیوٹریشن میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق یومیہ 55 گرام تک بادام استعمال کرنے سے دل کے امراض کا خطرہ کافی حد تک کم ہوجاتا ہے اور ساتھ ہی اس سے وزن میں بھی کوئی خاص اضافہ نہیں ہوتا۔ ایک اور تحقیق میں یہ بات سامنے ا?ئی ہے کہ جب بادام کو بھوک مٹانے کے لیے استعمال کیا جائے تو یہ وزن میں اضافہ نہیں کرتا۔

بادام دل کے امراض کا خطرہ کم کرتے ہیں؟
بادام میں فیٹی ایسڈ، فائیٹوسٹیرولز، میگنیشیم، وٹامن ای، کاپر اور مینگنیز موجود ہوتے ہیں جو دل کو قوت بخشتے ہیں۔ تاہم 2012 اور 2014 میں ہونے والی دو تحقیقوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بادام کا زیادہ استعمال دل کی بیماریوں کا سبب بھی بن سکتا ہے، خاص طور پر ان افراد میں جو پہلے ہی موٹاپے کا شکار ہوں۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے فائدہ مند
بھارت میں ہونے والے تازہ تحقیق کے مطابق بادام کو اپنی روز مرہ کی غذا میں شامل کرنے والے افراد میں ذیابیطس کا خطرہ بھی کم ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چین میں اس سلسلے میں کی جانے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ بادام کا باقاعدہ استعمال جسم میں فاسٹنگ انسولین اور فاسٹنگ گلوکوس کی سطح کو کم کرتا ہے لہٰذا ذیابیطس کے مریضوں کے لیے یہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے البتہ اپنی ڈائٹ میں تبدیلی سے قبل ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کر لینا چاہیے۔
بادام اور دماغ

یہ بات مشہور ہے کہ بادام کھانے سے یادداشت بہتر ہوتی ہے اور سائنسی اعتبار سے بھی یہ درست ثابت ہوا ہے۔ بادام میں ا?ئی کارنیٹائن، فیٹی ایسڈ اور وٹامن ای موجود ہوتا ہے جو دماغی صحت کے لیے بہترین ہوتا ہے اور اس سے یادداشت بھی بہتر ہوتی ہے۔

بادام اور طویل العمری
ہالینڈ میں 10 سالہ تحقیق کے بعد یہ بات سامنے آئی ہے کہ اگر باقاعدگی سے خشک میووں بشمول بادام کا استعمال کیا جائے تو اس سے کم عمری میں موت کا خطرہ تقریباً 23 فیصد تک کم ہو جاتا ہے کیوں کہ خشک میوہ جات کے استعمال سے اعصابی نظام مضبوط ہوتا ہے اور ذیابیطس کا خطرہ کم ہوتا ہے۔




الٹا سونے کا ایسا نقصان کہ اگر آپ جان لیں تو کبھی بھی الٹا سونے کی ہمت نہ کریں

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)آج کل کی مصروف زندگی انسان کو بہت تھکا دیتی ہے اور دن بھر کے مصروف دن کے بعد جب رات میں بستر نظر آتا ہے تو دل چاہتا ہے کہ بس اس پر فوراً لیٹ کے سوجائیں۔لہذا کچھ لوگوں کوتھکے ہوئے دن کے بعد جیسے ہی بستر نظر آتا ہے، وہ فوراً الٹے ہوکے اس پر سوجاتے ہیں۔ہر کوئی شخص مختلف طریقے سے سوتا ہے، کچھ افراد زیادہ جگہ لے کے سوتے ہیں، کچھ لوگ بالکل سمٹ کے سوتے ہیں اور کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو پیٹ کے بل اوندھے ہوکے سوتے ہیں۔جاری ہے ۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ پیٹ کے بل سونا کتنا خطرناک ہے؟پیٹ کے بل سونا آپ کی گردن اور پیٹھ کے لیے بہت نقصان دہ ہے۔پیٹ کے بل سونے سے آپ کی نیند میں بھی خلل پیدا ہوتا ہے ، جس کے باعث اگلے دن آپ کا دن بالکل اچھا نہیں گزرتا اور تھکا تھکا محسوس کرتے ہیں۔پیٹ کے بل سونے سے آپ کی ریڑھ کی ہڈی میں کھیچاؤ پیدا ہوجاتا ہے، جس کے باعث آپ کو سونے میں دقت محسوس ہوتی ہےاور آپ اپنے روٹین کے کام بھی صحیح طور پر سرانجام نہیں دے سکتے ۔جاری ہے ۔پیٹ کے بل سونے سے آپ کے جسم کے کون کون سے حصے متاثر ہوتے ہیں، وہ درج ذیل ہے٭ ریڑھ کی ہڈی آپ کے جسم میں ایک اہم کردار ادا کرتی ہے، اگر یہ صحیح طور پر کام نہیں کرے گی توآپ کا پورا جسم متاثر ہوگا اور آپ کوئی بھی کام صحیح طرح سرانجام نہیں دے سکتے۔اس کے علاوہ پیٹ کے بل سونے سے آپ کے جسم کے کئی سارے حصے سن ہونے شروع ہوجاتے ہیں۔ ۔جاری ہے ۔ پیٹ کے بل سونے سے گردن بھی متاثر ہوتی ہے،مسلسل الٹے یا پیٹ کے بل سونے سے آپ کی گردن میں درد بیٹھ جاتا ہے اور آپ آسانی کے ساتھ گردن کو حرکت نہیں دے سکتے ہیں۔ اگر آپ کو پیٹ کے بل سونے کی بہت زیادہ عادت ہے تو آپ اس طرح سوتے ہوئے تکیے کا استعمال بالکل نہیں کریں، یا اگر کریں بھی تو بالکل پتلے تکیے کا استعمال کریں تاکہ اس سےآپ کی گردن میں درد نہیں بیٹھے۔٭ جب آپ صبح سو کے اٹھیں تو اپنی جسم کو اسٹرچ کریں، اس عمل سے آپ کا جسم نارمل ہوجائے گا




دفاتر میں کام کا دباؤ ختم کرنے والے کچھ مزیدار ملک شیک

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز) غذائیات کے ماہرین نے دفتروں اور اداروں میں کام کے تناؤ کو دور کرنے میں کچھ ملک شیک کو فائدہ مند قرار دیا ہے جن سے ایک جانب تو فوری توانائی پیدا ہوتی ہے اور غذائی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں تو دوسری جانب ان میں موجود اجزاء کام کے دباؤ اور ڈپریشن کو دور کرتے ہیں۔ 

 اسٹرابیری اور جو کا ملک شیک

آگر آپ اپنے دن کا اچھا آغاز کرنا چاہتے ہیں تو ناشتے میں یہ بہت مزیدار مِلک شیک ضرور آزمائیں۔ اس میں جو اور اسٹرابیری کو دودھ اور ہلکی کریم کے ساتھ ملاکر تیار کریں۔

ونیلا مِلک شیک

ونیلا اوراس کی پھلیوں کا مِلک شیک ایک تازہ دم کردینے والا نسخہ ہے۔ اسے کم خرچ اور آسانی کے ساتھ خود اپنے اور اہلِ خانہ کے لیے تیار کرسکتے ہیں۔ مِلک شیک کی تیاری میں ونیلا آئس کریم، ونیلا بینزاور چینی استعمال ہوتی ہے جبکہ اسے بہ آسانی بنایا جاسکتا ہے۔

 گِری دار میوہ شیک

نٹس یا گری دار میوے یعنی بادام، پستے اور کاجو ایک جانب تو غذائیت سے بھرپور ہوتے ہیں تو دوسری جانب ان کا ذائقہ بہت اچھا ہوتا ہے۔ ان کا شیک بنائیں جو نہایت طاقتور اور غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔ دودھ میں بادام، پستے، سیاہ کھجور اور وال نٹ ملائیں اور ایک شیک بنا کر اس کا لطف اٹھائیں۔

 سویا ملک شیک

سویا آئسوفلیون اور پروٹین سے بھرپور ہوتا ہے، یہ دل کی بیماریوں اور ہڈیوں کی کمزوری دور کرتا ہے۔ سویا مِلک شیک میں دودھ میں چینی اور سیب ڈال کر اسے تیار کرسکتے ہیں جب کہ ناشتے میں پینے سے اس کے بہتر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

 کیلا اور مونگ پھلی مکھن (پی نٹ بٹر) شیک

دودھ، شہد، مونگ پھلی مکھن، کیلے اور کھجور سے بنا یہ شیک ہر خاص و عام کے لیے ہے۔ یہ زود ہضم اور لذیذ شیک پورے دن توانائی بحال رکھتا ہے۔

 اسٹرابیری اور پپیتا ملک شیک

صبح کے وقت بچوں اور کام کرنے والے خواتین و حضرات کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے اسکمڈ ملک (چکنائی سے پاک دودھ)، دہی، اسٹرابیری، پپیتے، شہد اور برف ملا کر فوری طور اسے تیار کیا جاسکتا ہے۔ ذائقے میں بہترین اور قوت میں اعلیٰ ترین شیک ضرور آزمائیں۔

  مکس فروٹ ونیلا

مکس فروٹ ونیلا ملک شیک ایک بہت صحت مند غذا کی جگہ لے سکتا ہے۔ اسے سیب، آم، سیاہ انگور، اورنج جوس، ونیلا آئس کریم اور کروندا (کرین بیری) کو ملاکر تیار کیا جاسکتا ہے۔ گرمیوں کے لیے اسے خاص سوغات قرار دیا جاسکتا ہے اور یہ بھرپور توانائی فراہم کرتا ہے۔

 انجیر اور کھجور ملک شیک

صرف 5 منٹ میں یہ بہترین شیک آپ کے ہاتھوں میں ہوگا۔ انجیر اور کھجوروں کو دودھ میں ڈالئے اور تھوڑی کریم اور شہد ملاکر یہ فرحت بخش مشروب تیار کیا جاسکتا ہے۔

  چاکلیٹ، جو اور کیلا ملک شیک

صحت سے بھرپور جو، چاکلیٹ اور کیلا شیک فوراً تیار ہوجاتا ہے اور فوری طور پر پیا جاسکتا ہے۔ اس میں موجود پھل اور چاکلیٹ کا ذائقہ اسے بار بار آزمانے پر آمادہ کرتا ہے۔




فضائی و صوتی آلودگی کے باعث ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ

پیرس(وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل عرصے تک فضائی طور پر آلودہ شہروں میں رہنے والے افراد میں بلند فشار خون میں مبتلا ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔اس تحقیق کے لیے طبی و سائنسی ماہرین نے یورپ میں رہائش پذیر 41 ہزار افراد کا تجزیہ کیا۔ تحقیق کے بعد انہوں نے نتائج پیش کیے کہ شہروں میں مختلف اقسام کی آلودگی وہاں کے رہائشیوں میں ہائی بلڈ پریشر کا خطرہ بڑھا دیتی ہیں۔ ماہرین نے واضح کیا کہ اس میں صوتی یعنی شور کی آلودگی کا بھی ایک بہت بڑا ہاتھ ہے جو بلند فشار خون کا باعث بنتی ہے اور اس کی وجہ سے قبل از موت واقع ہوسکتی ہے۔ تحقیق کے لیے 5 یورپی شہروں ناروے، سوئیڈن، ڈنمارک، جرمنی اور اسپین کے رہائشیوں کا 5 سے 9 برس تک جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس شہر کی ہفتہ وار بنیاد پر ہوا کے معیار کا بھی جائزہ لیا گیا۔ ماہرین نے دیکھا کہ وہ علاقے جن میں ہوا کا معیار خراب ہوگیا اور اس میں آلودہ عناصر بڑھ گئے اس علاقے کے رہائشیوں میں ہائی بلڈ پریشر کی ابتدائی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئیں۔ ماہرین نے واضح کیا کہ شور کی آلودگی اور فضائی آلودگی نے مجموعی طور پر خون کے بہاؤ پر خطرناک اثرات مرتب کیے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل بھی کئی بار فضائی آلودگی کے انسانی صحت پر خطرناک اثرات کے بارے میں آگاہ کیا جاچکا ہے۔ اس سے قبل ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ فضائی آلودگی انسانی دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے اور یہ مختلف دماغی بیماریوں جیسے الزائمر وغیرہ کا سبب بن سکتی ہے۔ ریسرچ کے مطابق ایک دماغی اسکین میں فضا میں موجود آلودہ ذرات دماغ کے ٹشوز میں پائے گئے تھے۔ ایک اور تحقیق کے مطابق فضائی آلودگی ان لوگوں پر خاص طور پر منفی اثرات ڈالتی ہے جو کھلی فضا میں کام کرتے ہیں جیسے مزدور اور کسان وغیرہ۔ ماہرین کے مطابق یہ کھلی فضا میں کام کرنے والے افراد کی استعداد کو متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں ان کی کارکردگی میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔




کچی سبزیاں اور پھل ڈپریشن سے محفوظ رکھنے میں اہم ثابت ہوتے ہیں، ماہرین

ولنگٹن(وائس آف ایشیا) نیوزی لینڈ کے ماہرین صحت نے کہا ہے کہ کچی سبزیوں اور پھلوں کا باقاعدہ استعمال ڈپریشن اور ذہنی تناؤ کو دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یونیورسٹی اؤف ولنگٹن کے شعبہ صحت کے ماہرین نی18 سے 25 برس کے 400 بالغ افراد کوایک مطالعے میں شامل کیا کیونکہ اس عمر کے لوگ سبزیاں اور پھل کم کھاتے ہیں اور ان میں ڈپریشن کے امکانات بھی زیادہ ہوتے ہیں۔مطالعے میں شامل افراد کو دو گروہوں میں تقسیم کرکے کچی اور پکی ہوئی سبزیاں اور پھل دیئے گئے۔اس کے علاوہ ان کی طرزِ زندگی، نیند، ورزش، معاشی حالات اور جسمانی صحت کو بھی مدِ نظر رکھا گیا۔ان میں سے جن افراد نے کچے پھل اور سبزیاں براہِ راست استعمال کی تھیں ان کے موڈ میں بہتری اور ڈپریشن میں کمی جیسے عوامل دیکھے گئے جبکہ پکی ہوئی سبزیاں اور پھل کھانے والوں میں کوئی خاص تبدیلی نوٹ نہیں کی گئی۔تحقیق میں شریک ماہرین نے مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ گہری رنگت کے پتوں والی سبزیاں، گاجر، کھیرا، سیب، کیلا ، تازہ بیر اور ترش پھل زیادہ کھائیں یہ بدن میں جلن کم کرتے اور ذیابیطس سے بچاؤ فراہم کرتے ہیں۔




سینکے توس اور بھنے آلوؤں سے کینسر کا خطرہ برطانوی ماہرین

لندن( وائس آف ایشیا) برطانوی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ زیادہ سینکے ہوئے توس اور بھنے ہوئے آلوؤں کے روزانہ استعمال سے کینسر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ فوڈ اسٹینڈرڈز ایجنسی، برطانیہ کے ماہرین نے تحقیق سے دریافت کیا ہے کہ اگر ڈبل روٹی کے توس اور آلو اس حد تک پکائے یا سینکے جائیں کہ ان کی رنگت بھوری (براؤن) ہوجائے تو ان میں ایکرائل امائیڈ نامی ایک مرکب کی مقدار بڑھ جاتی ہے جو کینسر کی وجہ بن سکتا ہے۔ البتہ اگر انہیں صرف اس حد تک سینکا یا پکایا جائے کہ وہ سنہری مائل رنگت کے رہیں تو اس سے ایکرائل امائیڈ زیادہ مقدار میں نہیں بنتا اور انہیں کھانا بھی صحت کےلئے محفوظ رہتا ہے۔ آلوؤں کے علاوہ پودوں کی جڑوں میں اُگنے والی دوسری نشاستہ دار سبزیوں کے بارے میں بھی ماہرین کا یہی مشورہ ہے کہ انہیں بہت زیادہ نہ پکایا جائے ورنہ ان میں بھی ایکرائل امائیڈ کی مقدار ضرورت سے بڑھ جائے گی۔ چپس، کیک، کوکیز، سیریلز اور کافی میں بھی ایکرائل امائیڈ کی زیادہ مقدار موجود ہوتی ہے یعنی ان کے استعمال میں بھی احتیاط برتنی چاہئے اور انہیں روزمرہ غذائی معمولات کا حصہ نہیں بنانا چاہئے۔




بھوک ذہنی دبائومیں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، تحقیق

اونٹاریو(وائس آف ایشیا) بھوک کے دوران جسم میں گلوکوز کی مناسب مقدار میں کمی ذہنی دبائو اور مزاج پر منفی اثرات مرتب کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ نئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جب آپ بھوکے ہوتے ہیں اس دوران جسم میں گلوکوز کی مناسب مقدار میں کمی آپ کے مزاج پر منفی اثرات کا باعث بن سکتی ہے اور دائمی امراض، بلڈ شوگر میں کمی رویوں جیسے ڈپریشن میں اضافے کا خطرہ ہوتا ہے۔ کینیڈاکی اونٹاریوگویلف یونیورسٹی کے پروفیسر فرانسسکو لیری نے کہا ہے کہ نئی تحقیق میں یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ جسم میں گلوکوز کی مقدار میں تبدیلی مزاج پر دیرپا منفی اثرات چھوڑ سکتی ہے۔ سائیکوفارمیکولوجی میں شائع کی گئی تحقیق میں ان چوہوں کے خون کے نمونوں کا ٹیسٹ کیا گیا جو انجکشن کے زریعے گلوکوز میٹابالزم رکنے سے اس کی مقدار میں کمی کا باعث بنے پھر انہیں ایک موقع پر انجکشن سے پانی دیا گیا جس کے بعد انہیں ایک مختلف چیمبر میں رکھا گیا اور جب انہیں کسی چیمبر میں داخلے کا انتخاب دیا گیا تو انہوں نے ہائیپو گلیسیمیا کے تجربے والے چیمبر میں جانے سے پرہیز کیا۔ لیری نے کہا کہ اس قسم کا پرہیزی رویہ دبائو اور پریشانی کا مظہر ہے




یرقان کی تشخیص اور, یرقان کا علاج

 

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ میمونہ عزیز)بڑوں میں یرقان یا جسے جوائنڈس یا پیلیا بھی کہتے ہیں ، ایک ایسا مر123ض ہے جس میں جلد اور آنکھ کا سفید حصہ پیلا پڑجاتا ہے ۔ عموماً یہ مرض نوزائیدہ بچوں میں پایا جاتا ہے لیکن انسان عمر کے کسی بھی حصے میں اس کا شکار ہو سکتا ہے۔ یرقان کی علامات ظاہر ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر سے رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہے ۔ بڑوں میں یرقان جگر، خون یا پتے کے مسائل کی علامت ہوسکتا ہے ۔

بڑوں میں یرقان ہونے کی وجوہات

یرقان تب ہوتاہے جب بلی روبین کی مقدار بڑھ جاتی ہے ۔ بلی روبین خون میں موجود ایک زرد سے نارنجی رنگ کا مادہ ہوتا ہے جو خون کے سرخ خلیات میں پایا جاتا ہے ۔ جب یہ خلیات مر جاتے ہیں ، جگر انھیں خون میں سے چھان لیتا ہے ۔ لیکن اگر اس نظام میں کوئی عضر پیدا ہو جائے تو جگر صحیح طرح کام نہیں کرتا اور بلی روبین زیادہ تعداد میں بننا شروع ہوجاتے ہیں جس سے جلد پیلی معلوم ہوتی ہے ۔ یرقان بڑوں میں اتنا عام نہیں ہے جتنا بچوں میں لیکن اس کے ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں ۔ جن میں سے چند کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے

ہیپاٹائٹس: اکثر یہ انفیکشن ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے ۔یہ قلیل الحیات بھی ہو سکتا ہے اور دائمی بھی ۔ جس کا مطلب ہے کہ یہ چھ ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے ۔ مخصوص ادویات کا استعمال اور مدافعتی نظام کی خرابی ہیپاٹائٹس کا سبب بن سکتی ہے ۔وقت گزرنے کے ساتھ ہیپاٹائٹس پہلے جگر کو نقصا ن پہنچا کریرقان کا سبب بن سکتا ہے ۔
پت نالی میں رکاوٹ: یہ تنگ نالیاں ہوتی ہیں جن میں سیال جسے پت کہتے ہیں دوڑتا ہے ۔ یہ نالیاں پت کو جگر اور پتے سے چھوٹی آنت تک پہنچاتی ہیں ۔ کبھی کبھی یہ پتے کی پتھری ، کینسریا جگر کے مرض کی وجہ سے بلاک ہو جاتی ہیں ۔ اگر ایسا ہو تو یہ یرقان کا باعث بن سکتی ہیں ۔
لبلبے کا کینسر: یہ مردوں میں پائے جانے والا دسواں اور عورتوں میں نواں سب سے عام کینسر ہے ۔اس سے بھی پت نالی بلاک ہو سکتی ہے ، جس سے یرقان ہو سکتا ہے ۔
 بعض ادویات کا استعمال :پینسیلین، ضبط ولادت کی دوائیں اور اسٹیرائڈکے استعمال کا تعلق جگر کے امراض سے ہے ۔

یرقان کی علامات

جلد اور آنکھوں کے سفید حصے کا زرد ہو جانا۔
خارش
متلی یا الٹی
وزن گھٹنا
بخار
پشاب کا رنگ گہرا ہو جانا ۔

یرقان کی تشخیص

ڈاکٹر عموماًیرقان کی علامات ظاہر ہونے پر بلی روبین کا ٹیسٹ کراتے ہیں جس سے یہ پتا چلتا ہے کہ خون میں یہ مادہ کتنی مقدار میں موجود ہے ۔ اگر مریض کو یرقان ہے تو اسکے خون میں بلی روبین کی مقدار ذیادہ ہو گی ۔ معالج علامات کے بارے میں معلوم کرنے کے بعد چیک اپ اور دیگر ٹیسٹ بھی لکھ کر دے سکتے ہیں جس سے جگر کے بارے میں پتا چل سکے ۔ اس کی وجہ جاننے کے لیے سی بی سی بھی کرایا جاتا ہے جس میں خون کے خلیات کی گنتی کی جاتی ہے ۔

یرقان کا علاج

اس کے علاج کے لیے اس کی وجہ کو جاننا اور اس کا علاج کرنا ضروری ہے ۔ اگر ہیپاٹائٹس یرقان کا باعث بنا ہے تو جیسے جیسے مرض دور ہوگا اور جگر صحت مند ہونا شروع کرے گا یرقان اپنے آپ ٹھیک ہونے لگے گا ۔
پت نالی میں اگر کوئی رکاوٹ ہو اور اس کے باعث یرقان کا مرض لاحق ہوگیا ہے تو ڈاکٹر سرجری سے نالی کھولتے ہیں ۔




معدے کے امراض میں اضافہ کی ایک وجہ ذہنی ٹینشن بھی ہے

لاہور (وائس آف ایشیا) معدے کے امراض میں اضافہ کی ایک وجہ ذہنی ٹینشن بھی ہے۔ ٹینشن سے معدے کی تیزابیت بڑھ جاتی ہے جس سے معدے میں سوزش ہو جاتی ہے، جس سے معدے میں زخم ہو جاتے ہیں اور وہ زخم السر بن جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ناقص خوراک کا استعمال بھی معدے کے امراض کا سبب ہے جس میں اشیاء خوردونوش میں ملاوٹ اور کیمیکل اسپرے والی سبزیاں ہیں۔ان خیالات کا اظہاراے ایم ایس ایڈمن جنرل ہسپتال لاہورڈاکٹرجعفرشاہ نے اپنے آفس میں سینئرصحافی ڈاکٹرمحمدعدنان،سیدصدا حسین کاظمی سے خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کیا،ڈاکٹرجعفرشاہ کا کہنا ہے کہ سیوریج کے پانی سے اْگنے والی سبزیاں بہت خطرناک ہوتی ہیں۔ ان کے استعمال سے معدے اورانتڑیوں میں انفیکشن ہوتی ہے، پیٹ میں کیڑے ہو جاتے ہیں، پیٹ خراب رہتا ہے۔قبض ہوجاتی ہے، معدے میں زہریلے مادے جمع ہونے سے ہیضہ ہوجاتا ہے۔اس لئے اس کو ریگولیٹ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ڈاکٹرجعفرشاہ کا مزیدکہنا ہے کہ مشروبات اور مٹھائیوں میں فوڈ کلر کی بجائے کپڑوں کو رنگنے والی ڈائی استعمال کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے معدے کے علاوہ مثانے، گردوں، منہ اور مختلف نظام انہضام کے کینسر ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کھلے گندے نالوں کے اردگرد رہنے والے ماحولیاتی فضائی آلودگی کی وجہ سے بہت سی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں اس لیے گندے نالوں کو اوپر سے کور کرنا بے حد ضروری ہے۔



جسم میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھنے سے گردے فیل ہونے کا خدشہ

کراچی(وائس آف ایشیا)معروف یورپی یورالوجسٹ پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کے مطابق تازہ ترین تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ جسم میں یورک ایسڈ بڑھ جانے سے مریضوں میں گردے فیل ہوجانے کا خطرہ تین گنا بڑھ جاتا ہے۔تفصیلات کے مطابق یورپی ماہرِ امراض گردہ پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کے مطابق جسم میں یورک ایسڈ کا بڑھ جانا میٹابولک سینڈروم کا ایک حصہ ہے، جس کے نتیجے میں دل اور فالج کے حملے کے امکانات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔پروفیسر آسٹِن جی اسٹیک کے مطابق جدید تحقیق کے مطابق یہ کیمیکل نہ صرف گردے ناکارہ کرنے، بلند فشار خون کا مرض لاحق کرنے بلکہ دل کے دورے اور فالج کے حملے کا بھی اہم سبب بنتا ہے۔واضح رہے کہ شراب پینے، سرخ گوشت کھانے، لوبیا اور کچھ دالوں کے کھانے سے جسم میں یورک ایسڈ کا اضافہ ہوجاتا ہے۔ ان غذاں کا کم سے کم استعمال آپ کو کئی موذی امراض سے بچا جا سکتا ہے۔