کرپشن کے خاتمے سے متعلق پاکستان ہمارے تجربات سے استفادہ کرسکتاہے، ملائیشین وزیر اعظم

اسلام آباد (وائس آف ایشیا)ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد   نے کہا ہے کہ بدعنوانی کے حوالے سے بہت تشویش ہے، کرپشن کے خاتمے سے متعلق پاکستان ہمارے تجربات سے استفادہ کرسکتاہے ،انتہا پسندی اور اسلامو فوبیا کے خاتمے کیلئے کوششیں کرنا ہوں گی،پاکستان ملائیشیا کے درمیان براہ راست سرمایہ کاری پر بات ہوئی ہے ، معیشت اور تجارت میں بہتری کے لیے مل کر کوششیں کریں گے جبکہ وزیراعظم عمران خان نے کرائسٹ چرچ حملے کو اسلامو فوبیا کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں جان بوجھ کر اسلامو فوبیا کی ترغیب دی گئی،مہاتیر محمد کا بدعنوانی کے خلاف مؤقف قابل تعریف ہے، بدعنوانی انسانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور کسی بھی ملک کو کمزور کردیتی ہے جمعہ کو ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کے اعزاز میں وزیراعظم ہاؤس میں استقبالیہ دیا گیا، ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد کے وزیراعظم ہاؤس پہنچنے پر عمران خان نے معزز مہمان کا استقبال کیا۔وزیراعظم ہاؤس میں پاک فوج کے چاق و چوبند دستوں نے معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا اور مہاتیر محمد نے پریڈ کا معائنہ بھی کیا جبکہ اس موقع پر دونوں ملکوں کے قومی ترانوں کی دھنیں بھی بجائی گئیں۔وزیراعظم عمران خان نے مہاتیر محمد کا کابینہ ارکان سمیت دیگر سینئر حکام سے تعارف کرایا، ملائیشین وزیراعظم نے بھی اپنے پاکستانی ہم منصب کا اپنے وفد سے تعارف کرایا۔کابینہ اراکین سے تعارف کے بعد مہاتیر محمد کی جانب سے وزیر اعظم ہاؤس میں پودا بھی لگایا۔ ملائیشین وزیر وزیراعظم عمران خان اور ان کے ملائیشین ہم منصب ڈاکٹر مہاتیر محمد نے وزیراعظم ہاؤس میں مشترکہ نیوز کانفرنس کی۔اس موقع پروزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اسلامو فوبیا نے مسلم امہ کو نقصان پہنچایا، دہشت گردی نے مسلم ممالک کو بہت متاثر کیا، دنیا میں جان بوجھ کر اسلامو فوبیا کی ترغیب دی گئی۔عمران خان نے کہاکہ مغرب میں اسلاموفوبیا پھیلا اور کسی بھی ایک مسلمان کی جانب سے کیے جانے والے جرم کو ایک ارب 30 کروڑ مسلمانوں سے جوڑا جانے لگا۔انہوں نے کہاکہ نیوزی لینڈ واقعہ میں دہشت گرد نے بے دردی سے مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کیا اور ویڈیو بنائی اس پر اسے کوئی افسوس بھی نہیں ہوا ۔انہوں نے کہا کہ مہاتیر محمد کا بدعنوانی کے خلاف مؤقف قابل تعریف ہے، بدعنوانی انسانی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور کسی بھی ملک کو کمزور کردیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ میری جماعت نے 22 سال قبل کرپشن کے خلاف جدوجہد کا آغاز کیا، ہم سمجھتے ہیں کہ ملک غریب نہیں ہوتا کرپشن اسے غریب کردیتی ہے، کرپشن سے ادارے تباہ ہوجاتے ہیں اور اس میں انسانی وسائل پر خرچ ہونے والی رقم کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے۔عمران خان نے کہا کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد کا دورہ پاکستان کیلئے اعزاز ہے، انہیں مسلمانوں کے قائد کی حیثیت سے دیکھتے ہیں، مہاتیر محمد کے قائدانہ کردار کے متعرف ہیں، ملائشیا مسلم دنیا کیلئے ماڈل کے طور پر ابھرااور اس نے مسلم دنیا کے معاملات کو حل کرنے کیلئے کردار ادا کیا۔وزیر اعظم نے کہاکہ بدقسمتی سے بہت کم مسلم رہنما ایسے ہیں جنہوں نے ان معاملات پر موقف اپنایا جس نے مسلم دنیا کو متاثر کیا۔اس موقع پر معزز مہمان ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کہا کہ پاکستان آمد پر بے انتہا خوش ہوں اور یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت میری لیے اعزاز کی بات ہے۔انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان سے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات پر بات چیت ہوئی، مسلم امہ کو درپیش مسائل پر وزیراعظم عمران خان سے بات ہوئی ، تجارت میں اضافے کے لیے اقدامات کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا، پاکستان ملائیشیا کے درمیان براہ راست سرمایہ کاری پر بھی بات ہوئی، معیشت اور تجارت میں بہتری کے لیے مل کر کوششیں کریں گے،ہم دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے قوانین معلوم ہونے چاہئیں تاکہ تاجروں کو سرمایہ کاری میں آسانی ہونی ہو۔مہاتیر محمد نے کہا کہ بدعنوانی کے حوالے سے بہت تشویش ہے، کرپشن کے خاتمے سے متعلق پاکستان ہمارے تجربات سے استفادہ کرسکتاہے جب کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے کاوشیں کرنی ہوں گی، اسلامو فوبیا کے خاتمے کیلئے بھی کوششیں کرنا ہوں گی۔انہوں نے کہا کہ ہم نے بہت سے ایسے معاملات پر بات چیت کی جو دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرسکتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم اپنی تجارت بڑھائیں گے تو معیشت میں بہتری آئیگی۔مسلم دنیا پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کی دنیا میں کوئی ایک مسلم ملک کو ترقی یافتہ تصور نہیں کیا جاتا، تاہم ملائیشیا کا عزم ہے کہ 2020 سے 2025 تک ترقی یافتہ ملک بنیں، یہی نہیں دیگر مسلم ممالک کو بھی ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔سانحہ کرائسٹ چرچ پر بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس واقعہ میں 9 پاکستانی اور 3 ملائیشین کو قتل کیا گیا اور یہ عمل اس نفرت کا ہے جسے پھیلایا گیا۔خیال رہے کہ 21 مارچ کو ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد اپنے 3 روزہ دورے پر پاکستان پہنچے تھے جہاں نور خان ایئربیس پر عمران خان نے ان کا استقبال کیا تھا۔وزیر اعظم عمران خان کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کرنے والے مہاتیر محمد 23 مارچ کو یوم پاکستان پریڈ کے مہمان خصوصی ہوں گے۔




جنرل اسمبلی کا اجلاس فوری بلا کر اسلامو فوبیا پر موثر قانون سازی ہونی چاہیے ، شاہ محمود قریشی

استنبول/اسلام آباد( وائس آف ایشیا ) پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا فوری اجلاس بلاکر اسلاموفوبیا پر موثر قانون سازی ہونی چاہئے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کی طرف سے نفرت اورجرم پر مبنی تقاریر روکنے کے لئے نظام وضع کرنے کی حمایت کی جائے، اقوام متحدہ میں انسداد دہشت گردی کے لسٹنگ فریم ورک پر جامع نظرثانی کی جائے، اسلاموفوبیا کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دیاجائے۔اوآئی سی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ انتہائی غم کی کیفیت میں یہاں اکٹھے ہوئے ہیں، سانحہ کرائسٹ چرچ دنیا بھر میں کروڑوں انسانوں کے لئے رنج و الم کا باعث بنا ہے۔ پاکستان اس دکھ اور کرب سے واقف ہے کیونکہ ہم اس دہشت گردی کا سامنا کر چکے ہیں، نیوزی لینڈ سانحہ خطرناک رجحانات کا پتہ دیتا ہے، مغربی معاشروں میں مسلمان مخالف جذبات کا ابھرنا خطرناک رجحان ہے، احترام اور برداشت کے کلچرکی جگہ تعصب اور نکال باہر کرنے کا بیانیہ جگہ لے رہا ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ کرائسٹ چرچ سانحہ مغرب میں در آنے والی اسلاموفوبیا کی لہر کا غماض ہے، نسلی بالادستی کی ناقابل قبول اور قابل مذمت سوچ پر مبنی معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش ہے، یہ واقعہ سال ہا سال سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دانستہ برتے جانے والے تعصب کی معراج ہے۔او آئی سی کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ کرائسٹ چرچ واقعہ مرض نہیں بلکہ اس کی علامت ہے، یہ زیادہ خطرناک اور سرایت کرجانے والے موذی مرض کی موجودگی کی جھلک ہے، آج بڑے پیمانے پر اس کی تبلیغ کی جارہی ہے، دائیں بازو کی جماعتیں مسلمانوں کو نکال باہر کرنے کا منشور دے رہی ہیں، نقل مکانی کرنے والی آبادی کے راستے میں دیواریں اوررکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔پردے پرپابندیاں اور اسے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیاجارہا ہے، اسلامی مقامات اور علامات پر حملے ہورہے ہیں، اظہار رائے کی آزادی کے نام پر نفرت پھلائی جارہی ہے، دانشتہ توہین آمیز خاکوں کے مقابلے کرائے جاتے ہیں، مسلمان جہاں اقلیت میں ہیں، انہیں خاص طورپر منفی انداز سے پیش کیا جارہا ہے، ان کے خلاف نسلی تعصب کو ہوا دی جارہی ہے، مسلمانوں کو سفید فام پر بوجھ قرار دے کر نسلی تعصب کو ابھارا جارہا ہے، یہ رجحان مغرب تک ہی محدود نہیں رہا۔شاہ محمود قریشی نے خطاب میں کہا کہ پاکستان کا مشرقی ہمسایہ جمہوریت اور سیکولرازم کا دعویدار ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے بھارت میں بی جے پی مسلمانوں کے خلاف تعصب رکھتی ہے، سماجی، سیاسی اور معاشی امتیاز برتا جارہا ہے، ہندتوا بریگیڈ کے ہاتھوں مسلمانوں کی توہین کی جاتی ہے اور تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے، گائے کی حفاظت کے نام پر مسلمانوں کو قتل کیاجاتا ہے، زبردستی مذہب تبدیل کرایا جاتا ہے، سکھوں، مسیحیوں اور دلت اقلیتوں کو جبروتشدد کا نشانہ بنایاجاتا ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ اقوام متحدہ کے پاس کوئی نظام نہیں جو ہندتوا کی سوچ اور سفید فام متعصبانہ برتری سے لاحق دہشت گردی کرنے والوں کو کالعدم قرار دے، کرائسٹ چرچ کے شہدا اس مسئلے کی وجہ سے نشانہ بنے ہیں، یہ پہلی بار نہیں ہوا، نہ ہی آخری واقعہ ہے، ہمیں گہرائی سے اس مسئلے پر غور کرنا ہوگا اور اصلاح احوال کی کوشش کرنا ہوگی، یہ منفی سوچ کے درخت پر اگنے والا امتیازات، تعصبات، نسلی برتری، اینٹی سیمیٹ ازم کا زہریلا پھل ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بنیادیں جھوٹ ہیں جن پر اسلامو فوبیا پھیلایا اور تعصب برتا جاتا ہے، اس رجحان کو ختم کرنا ہوگا، اسلامو فوبیا کے مسئلے کی موجودگی سے انکار کیاجاسکتا ہے اور نہ ہی نظر انداز ، اس مسئلے کا سامنا کرنا ہوگا، سیاسی طاقتوں کی جانب سے مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے کی مقبول لہر کو روکنا ہوگا۔شاہ محمود نے کہا کہ مسلمان ممالک میں اتحاد کے بغیر اس لہر کے سامنے بند باندھنا ممکن نہیں ہوگا، اسلام سے دہشت گردی کو نتھی کرنے کے زہرناک پراپگنڈے کو روکنا ہوگا، نہ تو تمام مسلمان دہشت گرد ہیں اور نہ ہی تمام دہشت گرد مسلمان ہیں، ہمیں اس صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لئے زیادہ متحرک اور فعال انداز اپنانا ہوگا، مذہبی عدم برداشت پر اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اور اوآئی سی کی قراردادوں میں عالمی ذمہ داریوں کو بہتر بنایاجائے۔پاکستانی وزیرخارجہ نے کہا کہ اوآئی سی کی سطح پر ادارہ جاتی طریقہ کار وضع کیا جائے جو مسلمان اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لئے کام اورنگرانی کرے، مستقل بنیادوں پر رپورٹس کا اجرا کیا جائے جس میں مسلمانوں کے خلاف ایسے رویوں کی نگرانی پر مبنی حقائق جمع ہوں، ہمیں مسلح تنازعات، عدم مساوات،مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک کی وجوہات کو حل کرنے کے لئے کردار ادا کرنا ہوگا۔




یوم پاکستان میں شرکت میرے لیے باعث اعزاز ہے ملائیشین وزیراعظم

اسلام آباد(وائس آف ایشیا) پاکستان اور ملائیشیا کے وزیراعظم نے پاکستان میں مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے۔اس موقع پر وزیراعظم مہاتیر محمد کا پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ یوم پاکستان میں شرکت میرے لیے باعث اعزاز ہے۔پاکستان اور ملائشیا کے درمیان سرمایہ کاری پر بات چیت ہوئی۔یقین ہے پاکستان کے ساتھ تجارت میں اضافہ ہو گا۔پاکستان کے ساتھ تجارت میں اضافے کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال ہوا۔دونوں ممالک میں گہری دوستی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بہت خوشی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کرپشن ہمیں غریب بنا دیتی ہے۔کرپشن کسی بھی ملک کو غریب بنا دیتی ہے اس لیے کسی بھی ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ بہت ضروری ہے۔کرپشن کے خاتمے کے لیے پاکستان ملائیشیا سے استفادہ حاصل کر سکتا ہے۔جب کہ سانحہ نیوزی لینڈ سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر مہا تیر محمد کا کہنا تھا کہ اسلام فوبیا کے خاتمے کے لیے مل کر کوشش کرنا ہوں گی۔ مسلم امہ کو درپیش مسائل پر وزیراعظم عمران خان سے بات ہوئی۔جب کہ وزیراعظم عمران خان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملائشیا مسلم دنیا کے لیے ایک مثال ہے،ملائشین وزیراعظم کا بدعنوانی سے متعلق موقف قابل تعریف ہے۔دونوں ممالک میں مثبت بات چیت ہوئی۔ ڈاکٹر مہا تیر محمد کو مسلم امہ کیقائد کی حیثیت سے دیکھتے ہیں اور یہ تمام مسمانوں کے لیے رول ماڈل ہے۔مہا تیر محمد نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے ملائیشیا کو مشکلات سے نکالا۔ ملائشیا کی ترقی میں مہا تیر محمد نے اہم کردار اد اکیا۔اسلام فوبیا نے مسلم امہ کو نقصان پہنچایا ہے۔اسلام فوبیہ کی وجہ سے مسلمانوں کی سیاسی جدجہد کونقصان پہنچا۔ دہشت گردی نے اسلامی ممالک کو بہت متاثرکیا۔دہشت گرد نے نہتے مسلمانوں کو نشانہ بنایا۔سفاک قاتل کو اپنے کیے پر شرمندگی نہیں تھی۔




ملائیشین وزیر کی ایوان وزیر اعظم میں باضابطہ استقبالیہ تقریب ، گارڈ آف آنر پیش کیا گیا

اسلام آباد (وائس آف ایشیا)ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کے اعزاز میں ایوان وزیراعظم میں باضابطہ استقبالیہ تقریب کاانعقاد کیا گیا ۔جمعہ کو ملائیشیا کے وزیراعظم ایوان وزیراعظم پہنچے تو وزیراعظم عمران خان نے خود ان کا پرتپاک خیرمقدم کیا ،ملائیشین وزیر اعظم سلامی کے چبوترے پر پہنچے تو دونوں ممالک کے قومی ترانے بجائے گئے۔ مسلح افواج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی دی۔ ملائیشیا کے وزیراعظم نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ بعدازاں وزیراعظم عمران خان نے اپنی کابینہ کے ارکان کو اپنے ملائیشیا کے ہم منصب سے متعارف کرایا جبکہ ملائیشیا کے وزیراعظم نے اپنے وفد کے ارکان کا وزیراعظم سے تعارف کرایا۔۔




میگا منی لانڈرنگ کیس ، آصف زرداری اور فریال تالپور سمیت 24ملزمان کو 8 اپریل کو طلب

 اسلام آباد(وائس آف ایشیا )احتساب عدالت نے جعلی اکانٹس اور میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف علی زرداری اور فریال تالپور سمیت 24ملزمان کو 8 اپریل کو طلب کر لیا ہے ۔ کراچی کی بینکنگ کورٹ سے اسلام آباد منتقل ہونے والے کیس کی جانچ پڑتال اور سکروٹنی کا عمل مکمل ہونے کے بعد احتساب عدالت کے ایڈمنسٹریٹو جج محمد بشیر نے کیس احتساب عدالت نمبر دو میں منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے ۔ احتساب عدالت نمبر دو کے جج محمد ارشد ملک نے کیس منتقلی کے بعد تمام ملزمان کے سمن جاری کرتے ہوئے 8 اپریل کو عدالت طلب کر لیا ہے۔ طلب کیے جانے والے ملزمان میں سابق صدر آصف علی زرداری،فریال تالپور ، حسین لوائی، طحہ رضا،انور مجید، عبدالغنی مجید، زین ملک ، نمر مجید، علی کمال مجید ، مصطفی ذوالقرنین ، عدیل شاہ، محمد قاسم ، محمد اشرف، اقبال خان نوری ، داد، شیر محمد، شہزاد علی ، کرن امین ، نورین سلطان، محمد ناصر شیخ ، کرسٹوفر ڈی کروز، غضنفر احسن ، راحیل مبین اور اسلم مسعود شامل ہیں۔




سانحہ ماڈل ٹاؤن کی نئی جے آئی ٹی کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ

لاہو(وائس آف ایشیا) لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کیلئے نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی ) کیخلاف درخواستوں کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔ہائیکورٹ کے جسٹس قاسم خان کی سربراہی تین رکنی فل بنچ نے انسپکٹر رضوان قادر ہاشمی،، کانسٹیبل خرم رفیق کی درخواستوں پر سماعت کی۔ جسٹس ملک شہزاد احمد خان اور جسٹس مس عالیہ نیلم بھی بنچ میں شامل تھے۔درخواست گزاروں نے موقف اختیار کیا تھا کہ ایک جے آئی ٹی کے بعد اسی معاملے پر دوسری جے آئی ٹی نہیں بن سکتی، معزز عدالت سے استدعا ہے کہ پنجاب حکومت کا نئی جے آئی بنانے کا اقدام کالعدم قرار دیا جائے۔ سرکاری وکیل نے کہا کہ درخواستیں ناقابل سماعت ہیں اور انہیں مسترد کیا جائے۔ ہائیکورٹ کے فل بنچ نے ابتدائی دلائل مکمل ہونے پر درخواست کے قابل سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔




ثاقب نثار نے ڈیم فنڈ کے لیے کینیڈا کی مسجد میں خطیررقم جمع کر لی

اوٹاوا(وائس آف ایشیا )سابق چیف جسٹس ثاقب نثارجنہوں نے ڈیم فنڈ قائم کیا تھا نے کینیڈا کے شہر اوٹاوا کی مسجد مین بیان کیا اور ڈیم فنڈ کے لیے چندہ دینے کی درخواست کی تو سمندر پار موجود پاکستانیوں نے 4لاکھ ڈالر سے زیادہ رقم چندے کے لیے اکٹھی کر دی۔ سمندر پار پاکستانی اس سے پہلے بھی ڈیم فنڈ کے لیے کروڑوں روپے جمع کروا چکے ہیں۔سابق چیف جسٹس نے بتایا کہ اگر ڈیم نہ بنایا گیا تو 2025میں پاکستان پانی کے لیے ترسے گا اور خشک سالی آنے کا خطرہ ہے اسی لیے انہوں نے ڈیم بنانے کا حکم دیا تھا اور ڈیم فنڈ بھی قائم کیا تھا۔ یاد رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثارنے اپنے دور میں ڈیم بنانے کے لیے پاکستان کے تمام بنکوں میں فنڈاکٹھا کرنے کے لیے اکانٹ کھولنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد یہ فنڈ قائم کیا گیا تھا۔ابتدائی تخمینے میں بتایا گیا تھا کہ ان ڈیموں کی تعمیر کے لیے 14کھرب روپے کی ضرورت ہے اور پوری دنیا میں موجود پاکستانیوں سے چندہ دینے کی اپیل کی گئی تھی جس کے بعد اس فنڈ میں پیسے جمع ہونا شروع ہو گئے اور اس وقت اس اکانٹ 03-593-299999-001-4 میں 10ارب 9کروڑ روپے سے زیادہ رقم جمع ہو چکی ہے اور اب ثاقب نثار صاحب نے کینیڈا کی مسجد بلال میں بیان کیا اور 4لاکھ ڈالر اکٹھے کر لیے ہیں جو کہ فنڈ اکانٹ میں جمع کروا دیے گئے ہیں۔




پیپلزپارٹی نیشنل ایکشن پلان پرحکومتی بریفنگ کا بائیکاٹ کرے گی،خورشید شاہ

اسلام آباد(وائس آف ایشیا) پاکستان پیپلز پارٹی نے نیشنل ایکشن پلان پر حکومتی بریفنگ کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں رہنما پاکستان پیپلزپارٹی خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ بریفنگ دفتر خارجہ کے بجائے پارلیمنٹ میں دی جائے، عمران خان پارلیمنٹ کی بالا دستی ماننے کو تیار نہیں، سمجھ نہیں آتی عمران خان پارلیمنٹ سے بھاگتے کیوں ہیں، دفتر خارجہ میں بریفنگ رکھی گئی تاکہ عمران خان کی عدم شرکت کا ایشونہ بنے۔خورشید شاہ نے کہا کہ عمران خان پارلیمنٹ میں آنا نہیں چاہتے، پارلیمنٹ میں بریفنگ ہوگی تو عمران خان کو آنا پڑے گا، نیشنل ایکشن پلان پرحکومت پوری پارلیمنٹ کواعتماد میں لے، عمران خان کی پہلے دن سے یہی سوچ ہے کہ انہیں پارلیمنٹ کی ضرورت نہیں۔




دنیا میں مسلمانوں کا اسرائیل سے بڑا کوئی دشمن نہیں،مہاتیر محمد

اسلام آباد(وائس آف ایشیا) ملائیشیاء کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا ہے کہ ہمارا اسرائیل سے بڑا کوئی دشمن نہیں،ملائیشیاء کے سب ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں،لیکن اسرائیل کے ساتھ ہم نے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھا ہوا ہے۔وہ آج یہاں وزیراعظم عمران خان کے ہمراہ سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ سرمایہ کاری کانفرنس کے انعقاد پر شکر گزار ہیں۔اس طرح کی کانفرنسز دوسروں کے خیالات کو سمجھنے کا موقع دیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آزادی کے وقت ملائیشیاء ایک بہت غریب ملک تھا۔ہم نے کورین اور جاپانی لوگوں سے سبق سیکھا اور پھر خوط محنت کی۔ہمیں دونوں ممالک کی سرمایہ کاری کوبڑھانا ہوگا۔ملائیشیاء تمام ممالک کے ساتھ بھی صرف تجارت چاہتے ہیں۔ملائیشیاء میں بیرونی سرمایہ کاری لیکر آئے۔روزگار فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ صنعتیں ہیں،زراعت کے شعبے سے ہم ایک فیصد،جبکہ ایک فیکٹری پانچ سولوگوں کو روزگار فراہم کررہی ہے۔ صنعتیں ہوں گی تولوگوں کو روزگار ملے گا۔ انہوں نے پاکستان میں پروٹون کار انڈسٹری لگانے کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کو ملائیشاء کی انڈسٹری کی بنی ہوئی کار بھی گفٹ کی۔ ہم نے غیرملکی سرمایہ کاروں کو اپنے ملک میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے۔تاجروں کے درمیان اشتراک کے مواقع پیدا کرنا بہت ضروری کام ہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کیلئے امن اور استحکام کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔ امن اور استحکام ہوگا تو سرمایہ کاری بھی آتی ہے۔ سڑکیں ، ریلوے، واٹرسپلائی، بجلی بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سب ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ لیکن ہمارا اسرائیل سے بڑا کوئی دشمن نہیں ہے۔اسرائیل سے ہم نے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھا۔ اسرائیل کے ساتھ ہم نے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھا ہوا ہے۔ اس موقع پروزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ مہاتیر کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں۔ مہاتیر کا دورہ پاکستان قابل فخر ہے۔ کل قوم دن یوم پاکستان ہے۔ ہر پاکستانی مہاتیر کے قائدانہ کردار کی تعریف کررہا ہے۔انہوں نے کہا کہ لیڈر وہ ہوتا ہے جس کے پاس آئیڈیالوجی ہو، اور مشکل وقت میں کھڑا ہوسکے۔مہاتیر نے ملائیشیاء کو تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ مسلم ممالک میں ایک ماڈل ملک ہے جس نے اپنے وسائل سے ترقی کی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مہاتیر یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کریں گے۔ یہ وہ دن ہے جب 1940ء4 میں قرارداد پاکستان منظور کی گئی تھی۔اس وقت پاکستان کے عظیم لیڈر قائداعظم نے پاکستان کی بنیاد رکھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ ایسا وقت ہے جب وسیع سرمایہ کاری کے مواقع موجود ہیں۔ اس موقع پردونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کیلئے کمیٹی بنا رہے ہیں۔پاکستان مستقبل کی ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ چین اور دوسرے ممالک کے ساتھ منسلک ہے۔انجینئرنگ ایند ٹیکنالوجی کی بنیاد پر سرمایہ کاری شروع کررہے ہیں۔




پاکستان میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش میں بڑی کامیابی، پریشر کِک مل گئی

کراچی/اسلام آباد(وائس آف ایشیا ) پاکستان میں تیل و گیس کے ذخائر کی تلاش میں بڑی کامیابی، گہرے سمندر میں ڈرلنگ کے دوران پریشر کِک مل گئی، پریشر کِک گیس کے بڑے ذخائر کی موجودگی کی نوید ہوتی ہے۔بحیرہ عرب کے پانیوں میں الٹرا ڈیپ واٹر ڈرلنگ جاری ہے، گہرے سمندر میں سوئی سے بھی زیادہ گیس ذخائر ملنے کا امکان ہے، تیل وگیس کی تلاش کیلئے 3 ہزار میٹر تک ڈرلنگ ہو چکی ہے، سمندر میں الٹرا ڈیپ ڈرلنگ 4 ہزار میٹر سے زائد تک کی جائے گی۔ڈرلنگ سمندر میں کیکرا ون نامی کنویں میں کی جا رہی ہے، پی پی ایل، اوجی ڈی سی ایل، ای این آئی اور ایگزون موبل ڈرلنگ میں شامل ہیں۔دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے امکان ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کو تیل کے بڑے ذخیرے کی دریافت کی صورت میں ایک قسم کا جیک پاٹ(انعام) ملنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دعا کریں کہ ایگزون موبل کی سربراہی میں قائم کنسورشیم کی جانب سے کی جانے والی آف شور ڈرلنگ کے حوالے سے ہماری توقعات اور امیدیں سچ ثابت ہوجائیں۔وزیر اعظم نے بتایا کہ اس میں پہلے ہی 3 ہفتوں کی تاخیر ہوچکی ہے لیکن ہمیں کمپنیز کی جانب سے ملنے والے اشارے اگر قابلِ عمل ہوئے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ ہمارے سمندر میں ایک بڑا ذخیرہ دریافت ہوسکتا ہے اور اگر ایسا ہوگیا تو پاکستان ایک یکسر مختلف درجے میں ہوگا۔سینئر صحافیوں اور اخبارات کے مدیران سے ایک غیر رسمی ملاقات میں انہوں نے آفشور ڈرلنگ کے بارے میں مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔اور نہ ہی اس حوالے سے ایگزون موبل اور تیل دریافت کرنے والی بین الاقوامی کمپنی ای این آئی کی جانب سے اب تک کوئی باقاعدہ بیان سامنے آیا ہے جو جنوری سے تیل کی تلاش کے لیے کیکڑا-1 علاقے میں 230 کلومیٹر تک انتہائی گہری کھدائی کررہی ہے۔خیال رہے کہ ایگزون موبل تقریبا ایک دہائی بعد گزشتہ برس ہونے والے اس سروے کے بعد پاکستان مں واپس آئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی سمندر میں تیل کا بہت بڑا ذخیرہ ہوسکتا ہے۔اس لیے وزیراعظم عمران خان کو یقین ہے کہ اگر تیل کے ذخائر دریافت ہوگئے تو پاکستان کے زیادہ تر اقتصادی مسائل حل ہوجائیں گے اور پھر ملک کی ترقی میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی۔اپنی حکومت کو درپیش چیلنجز کا تذکرہ کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ ملک میں اقتصادی استحکام لانا اب بھی سب سے پڑا چیلنج ہے۔اس موقع پر انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ تاجروں کو خوفزدہ کر کے دور کررہے ہیں جس کی وجہ سے ہم پالیسی ساز اختیارات دوسرے ادارے کو منتقل کرنے پر مجبور ہوگئے اور ایف بی آر کو صرف ٹیکس جمع کرنے تک محدود کردیا۔وزیراعظم کا مزید کہنا تھا کہ ملکی معیشت کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ اداروں کو مضبوط کرنا اور ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنا بھی اہم مسائل ہیں جس کے لیے حکومت کی اعلان کردہ ہاسنگ اسکیم کچھ حد تک مددگار ثابت ہوگی۔اس کے ساتھ انہوں نے دہشت گردی کی روک تھام اور جہادی کلچر کے حوالے سے تفصیلی گفتگو بھی کی اس دوران ان سے امریکی وزیر خارجہ کے حالیہ بیان کے حوالے سے سوال کیا گیا تو انہوں نے براہِ راست جواب دینے کے بجائے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان تنہا نہیں رہ سکتا۔انہوں نے مزید کہا کہ درحقیقت دنیا میں کوئی ملک اپنی مرضی سے نجی ملیشیاز کو کام کرنے اجازت نہیں دے سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایک طرف پلوامہ حملے کے بعد جیشِ محمد کی جانب سے ذمہ داری قبول کرنے کے بیان پر بھارت پاکستان پر غلط الزامات لگا رہا ہے تو دوسری طرف ایران بھی شکایت کررہا ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں ہماری سرزمین کا استعمال کر کے حملے کررہی ہیں۔وزیر اعظم نے جہادی تنظیموں کے ماضی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکا کی سربراہی میں سوویت یونین کے خلاف ہونے والی افغان جنگ سے موجود ہیں اور یہاں دہائیوں سے سرگرم ہیں۔انہوں نے کہا کہ اب پاکستان میں اس قسم کی تنظیموں کی کوئی گنجائش نہیں کیوں کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دنیا اس بات پر یقین کرے کے پاکستان نہ صرف امن پسند ملک ہے بلکہ مختصر اور طویل مدتی پالیسیوں کی بدولت جہادی کلچر اور دہشت گردی ختم کرنے کے لیے بھی مخلص ہے۔ملاقات کے اختتامی لمحات میں وزیراعظم نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی ریٹائرمنٹ کی مدت میں توسیع کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں نے ابھی اس بارے میں سوچا تک نہیں، نومبر ابھی بہت دور ہے۔




چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی نے غیر ملکیوں سے ملاقاتوں اداروں کے خلاف بولنا شروع کیا

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) چئیرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے حال ہی میں اداروں پر تنقید شروع کی اور حکومت کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کئی متنازعہ بیانات دئے۔ بلاول بھٹو زرداری کے جس بیان کو سب سے زیادہ متنازعہ قرار دیا وہ ان کا کالعدم تنظیموں کے خلاف حکومتی ایکشن سے متعلق بیان تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کالعدم تنظیموں کے ٹھکانوں اور ان کے سربراہان کو گرفتار نہیں کر رہی بلکہ ان کو حفاظتی تحویل میں لے رہی ہے تاکہ بھارت ان پر بم نہ برسا دے۔بلاول بھٹو زرداری کے ان بیانات پرکئی رہنماؤں نے تشویش کا اظہار کیا اور چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ آخر بلاول بھٹو اچانک اداروں کے خلاف بیانات کیوں دینے لگے ؟ تاہم اب کی بلاول بھٹو کی اچانک حکومت پر اس قسم کی تنقید اور اداروں کے خلاف بیانات کی وجوہات سے متعلق اہم انکشاف سامنے آئے ہیں۔ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کی طرف سے سنگین الزامات اور اداروں پر تنقید کے حوالے سے یہ سب کچھ کرنے کا فیصلہ سابق وزیراعظم نوازشریف اور بلاول بھٹو ملاقات اور اس سے قبل بلاول بھٹو کی بیرون ملک چند غیر ملکیوں سے ہونے والی ملاقاتوں کے بعد کیا گیا۔اداروں پر تنقید کرنے کے اس فیصلے کو صرف پارٹی کے چند ایسے افراد کی حمایت حاصل تھی جو کسی نہ کسی طریقہ سے بیرونی قوتوں سے رابطوں میں ہیں۔ ذرائع کے مطابق اس حوالے سے اہم اداروں کے پاس نہ صرف شواہد موجود ہیں بلکہ کچھ ایسی چیزیں بھی اداروں کے پاس موجود ہیں جس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ پاکستان مخالف قوتوں کو راضی کرنے کے لیے نوازشریف کے بعد بلاول بھٹو نے پاکستان کے اداروں کے خلاف بیانات دینا شتروع کر دئے ہیں۔بلاول بھٹو کے اس جارحانہ اور اداروں کے خلاف رویہ پر پارٹی کے اندر بھی واضح طور پر گروہ بندی ہو چکی ہے۔ پیپلزپا رٹی کے بہت سے اہم ذمہ داران اسے پاکستان کے خلاف سازش قرار دے رہے ہیں اور انہوں نے برملا کہنا شروع کر دیا کہ بلاول بھٹو سے جو لوگ تقریریں کروا رہے ہیں، وہ پاکستان کے خلاف سازش کر رہے ہیں۔ جبکہ کئی رہنماؤں نے تو اس کی مخالفت کرتے ہوئے صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اس قسم کی کسی سازش کا حصہ نہیں بنیں گے۔قومی اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ حکومت مخالف اپوزیشن اتحاد نے بلاول بھٹو کے بعد اب مولانا فضل الرحمان ، اسفند یار ولی اور محمود اچکزئی سے بھی اسی طرح کے بیانات دلوا کر پاکستان مخالف قوتوں کو خوش کرنے اور حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوششیں شروع کر دی ہیں۔ بلاول بھٹو کے الزامات اور بین الاقوامی قوتوں کے ایجنڈے پر چلنے کے بعد اب بلاول بھٹو کی مخالف سیاسی جماعتوں نے بھی اس کا بھرپور جواب دینے کا فیصلہ کر لیا ہے۔پیپلز پارٹی کے اہم رہنماؤں کے کن کن دہشت گردوں سے رابطے تھے اور کس طرح ان کو سپورٹ کیا جاتا تھا، سندھ کے اندر کس طرح ان کو سہولتیں دی جاتی تھیں، عزیر بلوچ سمیت لیاری گینگ اور سکھر ، گھوٹکی اور کراچی سے پکڑے جانے والے دہشت گردوں نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کے حوالے سے کیا کیا انکشافات کئے تھے ، اس کو دوبارہ نہ صرف سامنے لایا جائے گا بلکہ ان حقائق کو بھی سامنے رکھا جائے گا کہ آخر سندھ میں دہشتگردوں کی حمایت اور ان کی سرپرستی کون کیا کرتا تھا ؟




مریم نواز کا جیل کے باہر دھرنا دینے کا اعلان انہیں فوری علاج کی ضرورت ہے۔

لاہور(وائس آف ایشیا)سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کل جیل کے باہر دھرنے کا اعلان کر دیا۔مریم نواز کا ٹویٹ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نواز شریف کا گردوں کا مرض سنگین ہوتا جا رہا ہے ان کے گردوں کا ٹیسٹ درست نہیں۔نواز شریف کا گردوں کا مرض اسٹیج 3 پر ہے۔ان کے گردوں کا لیول خراب ہو گیا ہے اس لیے نواز شریف کے گردوں کا فوراَ علاج ہونا چاہئیے۔نواز شریف کے ڈاکٹر دو گھنٹے تک جیل کے باہر انتظار کرتے رہے لیکن انہیں اندر نہ جانے دیا گیا۔مریم نواز نے کہا کہ میں کل کوٹ لکھپت جیل کے باہر دھرنا دوں گی۔انہوں نے کہاکہ اگر نواز شریف کے ڈاکٹرز اور مجھے ان تک رسائی نہ دی گئی تو میں دھرنا دوں گی اور ڈاکٹرز کو اجازت ملنے تک جیل کے باہر دھرنا دوں گی۔ واضح رہے گذشتہ روز سابق وزیر اعظم و پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف سے کوٹ لکھپت جیل میں خاندان کے افراد نے ملاقات کر کے صحت بارے دریافت کیا ،انکی صاحبزادی مریم نواز نے ملاقات کے بعد بتایا کہ نواز شریف کی طبیعت ٹھیک نہیں ،انہیں انجائنا کی درد کی شکایت ہے ملاقات کے دوران بھی انہوں نے درد کو کم کرنے کیلئے سپرے کا استعمال کیا۔سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے قوم سے والد کے لیے دعاؤں کی اپیل کر کی۔اپنے ٹویٹر پیغام میں کہنا تھا کہ نواز شریف سے ملاقات کر کے ابھی جیل سے باہر نکلی ہوں۔نواز شریف کی طبعیت بدستور خراب ہے۔نواز شریف کو دوران ملاقات بھی اجائنا کی تکلیف رہی۔نواز شریف انجائنا درد کی دوا کھا رہے ہیں۔کارکن نواز شریف کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں۔گذشتہ روز کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے انکی والدہ بیگم شمیم اختر ،صاحبزادی مریم نواز سمیت خاندان کے دیگر افراد اور ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے ملاقات کر کے انکی صحت بارے دریافت کی تھی۔




ملائیشین وزیراعظم آج پاکستان کے 3 روزہ دورے پر 35رکنی اعلیٰ وفد کے ساتھ پہنچیں گے

اسلام آباد(وائس آف ایشیا ) ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد آج جمعرات کو پاکستان پہنچیں گے ۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی خصوصی دعوت پر یوم پاکستان کی تقریبات میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرنے کیلئے خاتون اول ڈاکٹر سٹی حسمہ اور تقریباً 35رکنی اعلیٰ وفد کے ساتھ اکیس مارچ کی سہ پہر ملائیشین وزیراعظم پاکستان پہنچیں گے ۔ وفد میں ملائیشیا کے نائب وزیر خارجہ داتومارزوکی یحییٰ ، ملائیشین ایکسٹرنل ٹریڈ ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے اعلیٰ عہدیداران ، پیٹرو ناس ملائیشیا کے چیئرمین داتو احمد نظام صالح اور منسٹری آف انٹرنیشنل ٹریڈ ااینڈ انڈسٹری ملائیشیا کے عہدیداران کے علاوہ دیگر معروف کاروباری شخصیات بھی شامل ہیں ۔ مہاتیر محمد کے اس انتہائی اہم دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان مختلف معاہدوں اور ایم او یوز پر دستخط ہونگے ۔ ڈاکٹر مہاتیر بن محمد 23مارچ کو یوم پاکستان کی مرکزی تقریب میں مہمان خصوصی ہونگے اور 23مارچ کو تین روزہ دورہ مکمل کرکے ملائیشیا واپس روانہ ہوجائینگے۔




پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام سے متعلق مائیک پومپیو کا بیان دباؤ ڈالنے کے حربے ہیں

اسلام آباد(وائس آف ایشیا)امریکی محکمہ خارجہ کے سیکرٹری مائیک پومپیو نے اپنے حالیہ انٹرویو میں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو امریکہ کی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا جس پر اعلیٰ حکومتی ذرائع نے مائیک پومپیو کے تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دے دیا ہے جبکہ مائیک پومپیو کے اس متنازعہ بیان پر پارلیمں ٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق مائیک پومپیو کے حالیہ انٹرویو پر بات کرتے ہوئے اعلیٰ حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ کہ امریکہ نے پاکستان کی ایٹمی پالیسی کے بارے میں کوئی قطعی الزام عائد نہیں کیا۔ ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لیے پاکستان میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی قائم ہے ، دہشتگرد گروپوں کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائی جاری ہے۔پلوامہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سیکورٹی اہلکاروں پر مبینہ خودکش حملے کے بارے میں پاکستانی حکومتی ذرائع نے کہا کہ بھارت کے دیئے گئے ڈوزئیر کا جائزہ لیا گیا اور وزیراعظم عمران خان نے بھی اس کا مشاہدہ کیا ہے۔ اسلام ا?باد جلد نئی دہلی کو جواب دے گا۔ تاہم حکام کا کہنا تھا ڈوزئیر میں کچھ نہیں اور یہ وقت کا ضیاع ہے۔ واضح رہے کہ حالیہ انٹرویو میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ایٹمی پروگرام امریکی سلامتی کو درپیش دنیا کے پانچ بڑے خطرات میں سے ایک ہے۔خصوصی انٹرویو میں مائیک پومپیو نے امریکی سلامتی کو درپیش پانچ بڑے مسائل بتاتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے غلط ہاتھوں میں لگ جانے کا خدشہ ان میں سے ایک ہے۔ پاکستان کے جوہری اثاثوں کی حفاظت کا انتظام ہر لحاظ سے عالمی معیار کا ہے اس پر کوئی دو رائے نہیں ہے۔ بین الاقوامی ادارے اس پراپنی رپورٹ بھی دے چکے ہیں۔ اعلیٰ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان ایٹمی عدم پھیلاؤ کا حامی ہے۔اس حوالے سے وفاقی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی ایٹمی پالیسی کے بارے میں کوئی قطعی الزام عائد نہیں کیا گیا حالانکہ پاکستان ایٹمی عدم پھیلاؤ اسلحہ کے بین الاقوامی معاہدوں کا پابند اور پاکستان اس حوالے سے اپنے وعدے کو سنجیدگی سے لیتا اور ان کا پابند ہے۔ سیکریٹری خارجہ کے مطابق اسے بین الاقوامی معاہدوں میں کیمیائی ہتھیاروں، حیاتیاتی ہتھیاروں، ایٹمی مواد اور سہولتوں کے تحفظ کے کنونشن اور ا?ئی اے ای اے کے ضابطہ اخلاق سے متعلق معاہدے شامل ہیں۔پاکستان نے ایٹمی اثاثوں کی حفاظت کے لئے نیشنل کمانڈ اتھارٹی (این سی اے) قائم کر رکھی ہے جس پر بین الاقوامی طور پر اطمینان کا اظہار کیا گیا۔ اس حوالے سے اسٹرٹیجک پلان ڈویڑن بھی پاکستان نیو کلیئر ریگولیٹری کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ جسے 2001ء میں قائم کیا گیا تھا۔ دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سینیٹر رضا ربانی امریکی سیکریٹری ا?ف اسٹیٹ مائیک پومپیو کی جانب سے پاکستان کے جوہری پروگرام کے بارے میں دیے گئے بیان پر حکومت سے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ عوام کو اس بارے میں اعتماد میں لیا جا سکے۔رضا ربانی نے امریکی سیکریٹری ا?ف اسٹیٹ کے بیان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھرپور مزاحمت کے حامل ملک کے جوہری پروگرام پر سب سے سنگین الزام قرار دیا۔




نئی دہلی میں اتنا حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ حملے کی مذمت میں مسلمان یا مسجد کا الفاظ استعمال کرے.شاہ محمود قریشی

بیجنگ(وائس آف ایشیا) وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نیوزی لینڈ کی مساجد میں مسلمانوں پر دہشت گردی کے حملے پر بھارتکی جانب سے کی گئی مذمت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئی دہلی میں اتنا حوصلہ نہیں ہوا کہ وہ حملے کی مذمت میں مسلمان یا مسجد کا الفاظ استعمال کرے. صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر خدانخواستہ مندر پر حملہ ہوتا تو پاکستان بھارت کے ساتھ کھڑا ہوتا.وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے، بھارت کو خدشہ ہے کہ پاکستان سے مذاکرات میں ان کو انتخابات میں نقصان ہوسکتا ہے.اپنی گفتگو کے دوران وزیر خارجہ نے کہا کہ دنیا نے کرتارپور راہداری کھولنے کے عمل کو سراہا اور اسے کرتارپور جذبے کا نام دیا. چین کے دورے کے حوالے سے وزیر خارجہ نے کہا کہ بیجنگ نے ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا کہ وہ پاکستان کا لازوال دوست ہے، حالیہ بحران میں جس طرح اس نے پاکستان کا ساتھ دیا اس سے ہمارا ان پر اعتماد مزید بڑھ گیا ہے.انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں چین کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرت کی اہمیت دوبالہ ہوگئی، اجلاس کی نوعیت اس لیے تبدیل ہوگئی کیونکہ خطے کی صورتحال تبدیل ہوچکی ہے، چین، پاکستان کا ایسا دوسرے ہے جس پر مکمل اعتماد کیا جاسکتا ہے. پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) سے متعلق انہوں نے کہا کہپاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے سی پیک کے حوالے سے اجلاس میں شرکت کی اور اس پر مکمل اتفاق رائے پیدا ہوچکا ہے.انہوں نے کہا کہ چین نے 40 برسوں میں کروڑوں لوگوں کو غربت سے نکالا ہے، وزیراعظم عمران خان ہمیشہ چینی قیادت کے وڑن کو بہت متاثر ہیں، پاکستانمیں چینی سرمایہ کاروں کو سیکورٹی فراہم کی جارہی ہے، چینی سرمایہ کار بے دھڑک پاکستان آئیںہم ان کے تحفظ کا ذمہ لیتے ہیں. شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ کسی سرمایہ کار کو تصدیق نامہ عدم اعتراض (این او سی) میں کوئی رکاوٹ ہے تو ہمیں بتائے. کراچی میں چینی قونصلیت پر حملے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس حملے کے پیچھے کارفرما قوتیں بے نقاب ہوچکی ہیں، اس واقعے میں ملوث لوگ گرفتار ہوچکے ہیں اور انہیں منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا. 




سپریم کورٹ نے جھوٹی گواہی سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) سپریم کورٹ نے جھوٹی گواہی سے متعلق تحریری فیصلہ جاری کر دیا ہے۔چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے 31 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا۔سپریم کورٹ کے فیصلے میں قرآنی آیات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔اور کہا گیا کہ اس سنگین غلطی کو درست کرنے کا وقت آ گیا،جھوٹ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، فیصلہ میں تحریر کیا گیا ہے کہ جھوٹی گواہی دینے پر کاروائی کی جائے گی،عدالتیں جھوٹے گواہ کے خلاف کسی قسم کی لچک نہ دکھائیں۔گواہی کے کسی حصے میں جھوٹ پرساری گواہی جھوٹی تصور ہو گی،جو ایک جگہ جھوٹا ہو گا وہ ہر جگہ جھوٹا ہو گا۔ہمارے عدالتی نظام کو سچ سے انحراف کرنے کا بہت نقصان ہوا۔انصاف کسی مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔سچ انصاف کی بنیاد ہے۔سچ پر سمجھوتہ دراصل معاشرے کے مستقبل پر سمجوتہ ہے۔ سپریم کورٹ نے جھوٹی گواہی پر جھوٹے گواہ کے خلاف کاروائی کا حکم دیا۔عدالت نے عدلیہ کو جھوٹی گواہی دینے پر کسی بھی قسم کی لچک نہ دکھانے کا حکم دیا۔ سپریم کورٹ نے رجسٹرار آفس کو فیصلے کی کاپی تمام ہائیکورٹس میں بھجوانے کا حکم دیا ہے۔واضح رہے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا تھا کہ جھوٹی گواہی کی وجہ سے ملزمان بری ہوجاتے ہیں، پھر کہا جاتا ہے کہ عدالت نے ملزم کو بری کر دیا،شواہد اور گواہ ہی جھوٹے ہوں تو سزا کیسے ہو سکتی ہے۔قتل کے مقدمے کے دوران جھوٹی گواہی سے متعلق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس میں بھی وہی مسئلہ آرہا ہے جو دوسرے کیسز میں آتا ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ گواہ اللہ کو حاضر ناظر جان کر بھی جھوٹی گواہی دیتے ہیں۔جب کہ وزیراعظم عمران خان نے بھی کہا تھا کہ جھوٹی گواہی پر سز ا سے متعلق چیف جسٹس کا بیان خوش آئند ہے۔




نیب نے سندھ کی 90 اہم شخصیات کے خلاف کرپشن اور بدعنوانیوں کے شواہد حاصل کر لیے

کراچی(وائس آف ایشیا)نیب نے سندھ کی 90 اہم شخصیات کے خلاف کرپشن اور بدعنوانیوں کے شواہد حاصل کر لیے۔ زرائع کے مطابق نیب نے منی لانڈرنگ اور بے نامی اکاؤنٹس کیس میں سابق صدر آصف زرداری، فریال تالپور، قائم علی شاہ، مراد علی شاہ، سابق چیف سیکرٹری غلام علی شاہ پاشا، محمد صدیق میمن، 50 افسران، 20 بینکرز اور 15 ٹھیکیداروں کو اپریل میں گرفتار کرنے کی تیاری کرلی ہے۔ نیب کی جانب سے حکومت سندھ کے 25 محکموں سے مکمل تفصیلات حاصل کرلی گئی ہیں۔ 10 سال کے بجٹ کی کاپیاں حاصل کرلی گئیں جبکہ محکمہ خزانہ سے بجٹ کی رقوم جاری کرنے اور خرچ کرنے کی تفصیلات بھی لی گئی ہیں جن کو نیب کے ایگزیکٹو بورڈ میں قانونی طور پر منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا جس کے لیے تمام قانونی تقاضے مکمل کیے جارہے ہیں، تاہم جب بورڈ گرفتاری کی منظوری دے گا تو ان کے خلاف کارروائی کا ا?غاز کر دیا جائے گا۔ اس وقت پی پی پی کی قانونی ٹیم نے اکثر پی پی پی رہنماؤں کی ضمانت قبل ازوقت گرفتاری کی تیاریاں کر لی ہیں جبکہ مرکزی قیادت نے قانونی ماہرین سے مشاورت بھی تیز کر دی ہے تاکہ کوئی قانونی پہلو نکال کر گرفتاریوں سے بچا جاسکے۔




پیپلز پا رٹی نے ما رشل لا ء کی سختیو ں کو برداشت کیا ان کو بھی کر لے گی،خورشید شاہ

سکھر(وائس آف ایشیا )پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ نے کہا ہے کہ حکو مت نیب کی آڑمیں انتشاراورگرفتاریوں کی کوششیں کر رہی ہے ، آئین اورقانون سب کیلئے برابرہوناچاہئے،حکومت میں شامل افرادکیخلاف کارروائی نہیں ہورہی، پیپلز پا رٹی نے ما رشل لا ء کی سختیو ں کو بھی برداشت کیا ان کو بھی کر لے گی لیکن ہمیں ان حربوں سے جھکا یا نہیں جا سکتا ۔ سابق صدر آصف علی زرداری اور بلا ول بھٹو زرداری کی نیب آفس آمد کے مو قع پر پو لیس کی جا نب سے جیا لو ں پر لا ٹھی چارج اور گرفتاریو ں کے حو الے سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا کہ سندھ اور اس کی عدالتوں پر اعتما د نہیں کیا جا رہا سند ھ سے کیس وفاق میں ٹرانسفر کیے جا رہے ہیں جبکہ نیب کی آڑ میں انتشار اور گرفتا ریو ں کی کو شش کی جا رہی ہیں لیکن حکو مت میں شامل افراد کے خلا ف کو ئی کا ررائی نہیں ہو رہی آئین اورقانون سب کیلئے برابرہوناچاہئے۔ انہو ں نے کہا کہ کا رکن اپنے لیڈر کو ویلکم کر نے آئے تھے مگر پو لیس نے نہتے کا رکنو ں پر لا ٹھی چارج کیا اور ان کو گرفتا کر کے قیدیو ں کی بس میں ڈال کر تھا نے منتقل کر دیا ایسے واقعات تو ما رشل لاء دور میں بھی نہیں ہو تے ہم نے ما رشل لا ء کی سختیو ں کو بھی برداشت کیا حا لا ت جا ن بوجھ کر خراب کیے جا رہے ہیں ، پیپلزپا رٹی کو مختلف حربوں سے جھکا یا نہیں جا سکتا کا رکنو ں پر تشد د بدتر ین مثال ہے ۔ انہو ں نے مزید کہا کہہ ہما رے معاشی حالا ت تباہ ہے جبکہ حکو مت قرضے لینے پہ لگی ہو ئی ہے فواد چوہد ری کے حوالے سے انہو ں نے کہا کہ ان کو بیان دینے کے علا وہ کچھ نہیں آتا وہ کا م کی بجا ئے بیا ن بازی میں ما ہر ہیں ۔




آصف زرداری اور بلاول بھٹو نے نیب کے سامنے بیانات قلمبند کرادیے

اسلام آباد(وائس آف ایشیا ) سابق صدر آصف علی زرداری اور پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پارک لینڈ اسٹیٹ کرپشن کیس کی تحقیقات کے سلسلے میں قومی احتساب بیورو (نیب) میں پیش ہوکر اپنے بیانات قلم بند کرادیے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بلاول بھٹو زرداری اور ان کے والد سے تفتیش کے لیے مجموعی طور پر 16 رکنی ٹیم تشکیل دی گئی اور دونوں سے علیحدہ علیحدہ ٹیموں نے نیب کی عمارت میں الگ الگ تفتیش کی جبکہ دونوں رہنماوں کے آڈیو اور ویڈیو بیانات بھی ریکارڈ کیے گئے۔ڈی جی نیب راولپنڈی عرفان منگی نے دونوں ٹیموں کی قیادت کی جبکہ بلاول بھٹو اور آصف زرداری دونوں کو متعدد سوالات پر مشتمل سوالنامے دیے گئے۔آصف زرداری سے 11 اور بلاول بھٹو سے 5رکنی نیب کی ٹیم نے پارک لین کمپنی کے حوالے سے سوالات کیے، آصفہ بھٹو زرداری بھی اپنے بھائی بلاول کے ہمراہ تھیں۔نیب میں پیشی کے بعد کارکنان سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے اپنے دور میں نیب کا کالا قانون ختم نہ کر کے غلطی کی لیکن ہم اس کا مستقبل میں ازالہ کریں گے ، اقتدار میں آ کر آمر کا بنایا ہوا ہر کالا قانون آئین سے نکال دیں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ نیب کا ادارہ پولیٹیکل انجینئرنگ کے لیے بنایا گیا، 2002 میں جیتے ہوئے الیکشن میں پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ چوری کرنے کے لیے نیب کو بنایا گیا۔انہوں نے کہا کہ سابق آمر پرویز مشرف پیپلز پارٹی کا پیراسائٹ گروپ بنایا اور مشرف کی سلیکٹڈ حکومت اور اپوزیشن لیڈر کو بٹھایا، یہ نیب کا ماضی ہے۔بلاول نے کہا کہ آج مجھے جس مقدمے میں طلب کیا گیا اس میں، میں کمپنی کا شیئرہولڈر اس وقت بنا جب میری عمر ایک سال سے بھی کم تھی، یہ لوگ میرا احتساب ایک سال سے کم عمر سے شروع کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہیں تو ہمیں جے آئی ٹی، نیب یا کٹھ پٹھلی اداروں سے ہمیں نوٹس ملتا ہے لیکن ہم ان نوٹسز سے نہیں ڈرتے کیونکہ ہم شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے جاں نثار ہیں۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ہم کٹھ پتلی حکومت کو للکارتے رہیں گے اور کالعدم تنظیموں کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ وہ وزرا جو دہشت گردوں کے ساتھ کام کرتے تھے، جو کالعدم تنظیموں کے ساتھ کام کرتے تھے، جو دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپ چلاتے تھے اور جو مین اسٹریمنگ کے نام پر کالعدم تنظیموں کے ساتھ مل کر الیکشن لڑے تھے، ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ان تین وزرا کو فی الفور وفاقی کابینہ سے فارغ کیا جائے۔، ہم کٹھ پتلی حکومت کو للکارتے رہیں گے کالعدم تنظیموں کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ملک میں سیاسی بحران کے خلاف آواز اٹھا رہا ہوں، جو معاشی دہشتگردی اور کسانوں کا معاشی قتل ہورہا ہے اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے ہر آمریت کا مقابلہ کیا اس کٹھ پتلی حکومت کا بھی مقابلہ کریں گے۔ہم آئین کی بالادستی پر یقین کرتے ہیں، میں بے نظیر بھٹو کا بیٹا ہوں اور ذوالفقار بھٹو کے نظریئے پر ڈٹا ہوا ہوں۔




سانحہ ماڈل ٹاؤن:نوازشریف کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے جے آئی ٹی جیل پہنچ گئی

لاہور(وائس آف ایشیا)سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے بنائی گئی جے آئی ٹی سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچ گئی ہے. لاہور میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جے آئی ٹی سابق وزیر اعظم نواز شریف کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کوٹ لکھپت جیل پہنچ گئی ہے، جے آئی ٹی کی سربراہی آئی جی موٹر وے اے ڈی خواجہ کررہے ہیں.جے آئی ٹی سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق نواز شریف سے مختلف سوالات کرے گی‘جے آئی ٹی نے احتساب عدالت سے نواز شریف کا بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت لی تھی. دوسری جانب شہباز شریف، رانا ثناء اللہ، خواجہ آصف اور پرویز رشید جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوچکے ہیں.واضح رہے کہ سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی شہبازشریف نے گزشتہ روز سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کروایا تھا.جے آئی ٹی نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب کا بیان ریکارڈ کیا جس کے بعد شہبازشریف واپس روانہ ہوگئے تھے. سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی آئی جی موٹروے پولیس اے ڈی خواجہ کررہے ہیں جو سندھ پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دے چکے ہیں. شہباز شریف نے ایک گھنٹے تک اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا.گزشتہ روز سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کو بیان ریکارڈ کروایا تھا. جے آئی ٹی نے چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب کا بیان ریکارڈ کیا جس کے بعد شہبازشریف واپس روانہ ہوگئے تھے. سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہی آئی جی موٹروے پولیس اے ڈی خواجہ کررہے ہیں جو سندھ پولیس کے سربراہ کی حیثیت سے بھی فرائض انجام دے چکے ہیں. شہباز شریف نے ایک گھنٹے تک اپنا بیان ریکارڈ کرایا تھا۔