سعودی قیادت نے خطے میں امن و سلامتی کیلئے وزیراعظم عمران خان کے کردار کی تعریف

 
ریاض (وائس آف ایشیا)سعودی قیادت نے خطے میں امن و سلامتی کیلئے وزیراعظم عمران خان کے کردار کو خوب سراہتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم عمران خان کی کوششوں سے خطے میں کشیدگی اور تناؤ میں کمی ہوگی، پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات باہمی اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں اور پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے جاری اعلامیے کے مطابق عمران خان کا دورہ خطے میں امن و سلامتی کیلئے وزیراعظم کی کوششوں کا حصہ تھا۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دورے میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقاتیں کیں جس میں دوطرفہ تعلقات، خطے میں امن و امان اور عالمی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، معاون خصوصی زلفی بخاری اور سینئر افسران بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات باہمی اعتماد کی بنیاد پر قائم ہیں اور پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔جاری اعلامیے کے مطابق دونوں ممالک میں توانائی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔اعلامیے میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے سعودی قیادت کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا جس پر سعودی عرب نے اپنی حمایت جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔اس موقع پر سعودی قیادت نے مسئلہ کشمیر کو پْرامن طریقے سے حل کرنے پر زور دیا اور خطے میں امن کے لیے وزیراعظم عمران خان کے کردار کو سراہا۔سعودی قیادت نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی کوششوں سے خطے میں کشیدگی اور تناؤ میں کمی ہوگی۔اعلامیے میں بتایا گیا کہ ملاقات کے دوران پاکستان اور سعودی عرب قیادت نے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی مشاورت اور روابط جاری رکھنے پر اتفاق بھی کیا۔خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان ایران اور سعودی عرب میں مصالحت کے لیے گزشتہ روز ایک روزہ دورے پر ایران کے بعد سعودی عرب گئے تھے۔وزیراعظم عمران خان سعودی عرب کا ایک روزہ دورہ مکمل کرکے وطن واپسی کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، مدینہ ائیرپورٹ پر اعلیٰ سعودی حکام اور پاکستانی سفیر راجا علی اعجاز نے وزیراعظم کو رخصت کیا۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر102




ترقی کی دوڑ میں جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے،صدر مملکت

 
اسلام آباد /لاہور(وائس آف ایشیا)صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ ترقی کی دوڑ میں شامل رہنے کے لئے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے، موجود ہ دور میں مینوفیکچررز، فروخت کنندگان اور صارفین کے مابین رابطے بہت بہتر ہوگئے ہیں، ان تبدیلیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نوجوان خود کو تعلیم اور ہنر سے آراستہ کریں، تاجروں کو منافع کے ساتھ ساتھ عوامی بھلائی کا بھی خیال رکھناچاہیے، ترقی پذیر ممالک میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔وہ لاہور میں اوپن یونیورسٹی کی ایسوسی ایشن کی33 ویں سالانہ کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ صدر مملکت نے کہا کہ فاصلاتی ذرائع تعلیم کا فروغ وقت کی ضرورت بن چکا ہے، اس سے وقت اور اخراجات کی بچت ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جو افراد یا قومیں ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کا ادراک نہیں کرتیں وہ ترقی کی دوڑ میں جو پیچھے رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علم کے اعتبار سے تاریخ میں اسناد کا بہت بڑا مرتبہ اور اہمیت تھی تاہم پرنٹنگ پریس کی ایجاد اور بعد ازاں صنعتی انقلاب کے نتیجے میں علم کے فروغ کے شعبہ میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ اس طرح انٹرنیٹ عام ہونے کے بعد علم کا حصول بہت آسان ہوگیا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی پسندیدہ کتابوں تک آسان رسائی جو ممکن ہوتی ہے، یہ حصول علم اور اس کے پھیلاؤ کا بہت بڑا ذریعہ ثابت ہوا ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ موجود ہ دور میں مینوفیکچررز، فروخت کنندگان اور صارفین کے مابین رابطے بہت بہتر ہوگئے ہیں، ان تبدیلیوں کو مد نظر رکھتے ہوئے نوجوان خود کو تعلیم اور ہنر سے آراستہ کریں۔گزشتہ شب برطانوی دارالامراء کے رکن اور پاکستانی سرمایہ کار ضمیر اے چوہدری کے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت نے کہا کہ انہیں اور پوری قوم کو ضمیر اے چوہدری پر فخر ہے، انہوں نے اپنی محنت، مخیرانہ سرگرمیوں اور کاروباری کامیابیوں سے نام کمایا، انہیں برطانوی دارالامراء میں تعیناتی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ صدر مملکت نے کہا کہ بیسٹ وے گروپ اور یونائٹڈ بینک لمیٹڈ ان کی سرپرستی میں پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا بڑا گروپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں محفوظ سرمایہ کاری کے مواقع بڑھ رہے ہیں۔ انہوں نے برطانوی شاہی مہمانوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن نے پاکستان میں مخیرانہ سرگرمیوں میں شرکت میں بھرپور آمادگی ظاہر کی ہے۔ انہوں نے بریسٹ کینسر سے متعلق آگاہی مہم کو سراہا ہے۔ قبل ازیں برطانوی ملکہ الزبتھ اور لیڈی ڈیانا نے بھی پاکستان کے دورے کئے تھے۔ برطانوی شاہی مہمانوں کے دورہ پاکستان کے حوالے سے دنیا کو یہ پیغام ملے گا کہ پاکستان سکیورٹی کے لحاظ محفوظ ملک ہے، اس سے پاکستان میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگا۔صدر عارف علوی نے کہا کہ تاجروں کو منافع کے ساتھ ساتھ عوامی بھلائی کا بھی خیال رکھناچاہیے، ترقی پذیر ممالک میں غربت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے بھارت سمیت خطے کے تمام ممالک سے بار بار امن کے قیام اور غربت کے خاتمہ کی بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیسٹ وے گروپ اور یونائٹڈ بینک لمیٹڈ پاکستان کے مختلف شعبوں میں مخیرانہ سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کررہا ہے جس پر ان کے شکر گزار ہیں۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر120




پاکستان کی مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی حمایت

 
نیو یارک(وائس آف ایشیا) پاکستان نے مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی حمایت کردی۔ڈاکٹرملیحہ لودھی نے ہائی کمشنرانسانی حقوق کی سالانہ رپورٹ پرردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفترکے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔ متنازعہ ریاست کی صورتحال اب خطرناک ہوچکی ہے۔ انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے دفتر کوسفارشات پر عمل درآمد کرنے میں مدد فراہم کی جانی چاہئے۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ کشمیری عوام دوماہ سے زیادہ عرصے سے جابرانہ قید میں رہ رہے ہیں، خوراک اور طبی سامان کی عدم فراہمی اور نقل و حمل کی عدم دستیابی کی وجہ سے صورتحال خراب ہوگئی، ہزاروں افراد ، خاص طور پر نوجوانوں کو گرفتار کرکے ہندوستان کے شہروں میں منتقل کیا گیا، مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر تشویش ظاہرکرنے میں انسانی حقوق ہائی کمشنر بیچلیٹ تنہا نہیں بلکہ سیکرٹری جنرل، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیمیں اور بین الاقوامی میڈیا بھی خدشات کا اظہارکرچکے۔




یہ ڈھکی چھپی بات نہیں وفاق کراچی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے،مراد علی شاہ

 
کراچی(وائس آف ایشیا)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاہے کہ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں وفاق کراچی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، گورنرسندھ کا وفاق سے کوئی تعلق نہیں ہوتا، میں عمران اسماعیل کی باتوں کو سنجیدہ نہیں لیتا، کتے کے کاٹے کی ویکسین موجود ہے، سپلائی کررہے ہیں، شہر میں کافی بہتری دیکھنے میں آئی ہے، میں بھی خود کچرا نہیں اٹھارہا، انتظامیہ کی مدد سے اٹھا رہا ہوں۔ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہاکہ یہ ڈھکی چھپی بات نہیں وفاق کراچی پر قبضہ کرنا چاہتا ہے مگر ہم آئین کے برعکس کوئی کام نہیں ہونے دیں گے اور جو آئین توڑنے کے لیے بضد ہیں انہیں سزا بھی ملے گی۔انہوں نے کہاکہ کراچی کا نام کوئی بھی تبدیل نہیں کر رہا۔ علامہ اقبال نے یہ خواب نہیں دیکھا تھا کہ پاکستان میں روزگار دینا تو دور کی بات، لیکن لوگوں کو بیروزگار کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ کچرے کی صفائی جاری ہے،ہماری کچرا مہم سے کراچی میں کافی حد تک فرق نظر آرہا ہے،، 3 لاکھ ٹن کچرا اٹھا چکے ہیں، ابھی کچھ دن باقی ہیں کچرا اٹھ جائے گا، وفاقی حکومت نے جو کچرا اٹھایا اس کے غلط اعداد پیش کئے گئے ہیں، 1.5 لاکھ ٹن کچرا اٹھانے کا دعوی غلط ہے، کراچی سے اٹھایا گیا کچرا وزن کرکے ٹھکانے لگایا جا رہا ہے، 70 فیصد کچرا ان اضلاع میں تھا جہاں سے کچرا اٹھایا نہیں جا رہا تھا۔ 3لاکھ ٹن سے زائد کچرا لینڈ فل سائٹ پر پہنچ چکا ہے، کچھ دن پہلے وفاق کی طرف سے ایک کچرا مہم چلی تھی، لیکن ناکام ہوگئی۔انہوں نے بتایا کہ ڈپٹی کمشنرز سے کہا تھا جہاں کچرا نظر آئے اسے اٹھانا ہے، کئی جگہ پر کچرا ہے مگر کچھ ڈسٹرکٹ میں اٹھایا ہی نہیں جارہا۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کے پاس چھ اضلاع ہیں جبکہ 70 سے 75 فیصد کچرا یہاں موجود ہوتا ہے تاہم یہاں ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کام نہیں کررہا تھا۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ کے فور پر اجلاس ہوئے، اس منصوبہ کی ڈزائن کو جو مسائل ہوئے انکو حل کرنے کیلئے بیٹھے تھے، میری کوشش ہے کہ کے فور کا ڈیزائن ٹھیک کر کے شروع کریں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ کل وزیر صحت نے کتے کاٹنے کی انجکشن کے حوالے سے بات کی تھی۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر129




مجھے پورا یقین ہے دھرنا نہیں ہوگا، اجازت نہیں ملے گی ، شیخ رشید

 
اسلام آباد (وائس آف ایشیا) وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا ہے کہ مجھے پورا یقین ہے دھرنا نہیں ہوگا، آسانی سے دھرنے کی اجازت نہیں ملے گی ، مولانافضل الرحمان سیاسی آدمی ہیں وہ جانتے ہیں دھرنے کا انجام کیا ہوگا۔وزیر ریلوے شیخ رشید نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یقین ہے دھرنا نہیں ہوگا یہ اتنا آسان کام نہیں ، ان کو اتنی آسانی سے دھرنے کی اجازت نہیں ملے گی۔ انہوں نے کہاکہ شہبازشریف نے ہمیشہ اداروں کیساتھ صلح کی پالیسی اپنائی ہے۔وزیر ریلوے نے کہا کہ وزیراعظم نے تین بجے میٹنگ بلائی ہے لائحہ عمل طے کیا جائیگا ۔ انہوں نے کہاکہ دھرنے سے متعلق حتمی صورتحال 26اکتوبر تک ہی سامنے آئے گی، مولاناصاحب سے بات چیت کرنیوالے کررہے ہیں ابھی نتیجہ نہیں نکلا۔شیخ رشید نے کہا کہ دھرنے پر ناخوشگوار واقعہ ہوا توقانون حرکت میں آئے گا، وزیراعظم عمران خان کوئی مذاکرات نہیں کررہے ہیں لیکن بات چیت کرنیوالے لوگ مولاناصاحب سے رابطے میں ہیں، ضروری نہیں کہ دھرنا ہو صرف جلسہ بھی ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ فضل الرحمان سیاسی آدمی ہیں وہ جانتے ہیں دھرنے کا انجام کیا ہوگا، صورتحال واضح ہے پیپلزپارٹی دھرنے میں شریک نہیں ہوگی ، ن لیگ دو حصوں میں تقسیم ہوچکی ہے، شہبازشریف میں اتنی جرات نہیں کہ وہ کھل کر سامنے آسکیں ، نوازشریف دھرنے کے حامی اورشہبازشریف حامی نہیں ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ شہباز شریف چاہتے ہیں معاملات کو صلح سے حل کیا جائے جبکہ سعد رفیق، خواجہ آصف، ایاز صادق مثبت سوچ والے لوگ ہیں، ن لیگ میں کسی کے پاس ابھی فائنل ایجنڈا نہیں ، ن لیگ دھرنے میں گئی تواس کی قیمت اپوزیشن ادا کرے گی۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر121




ایل او سی پر جارحیت، بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر دفتر خارجہ طلب احتجاج ریکارڈ کروایا

  
اسلام آباد (وائس آف ایشیا)پاکستان نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر کو دفتر خارجہ طلب کرکے بھارتی فوج کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر بلااشتعال فائرنگ پر احتجاج ریکارڈ کروایا۔دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر گورو اہلووالیا کو دفتر خارجہ طلب کیا اور بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرل کے نیزہ پور سیکٹر میں 15 اکتوبر کو بھارتی فوج کی جانب سے جنگ بندی کے معاہدے کی خلاف کی شدید مذمت کی۔خیال رہے کہ گزشتہ روز لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے سیکٹر نیزا پور کے مختلف گاؤں میں بھارتی فوج کی بلا اشتعال شیلنگ سے ایک ہی گھر کے 3 افراد شہید اور 8 زخمی ہوگئے تھے۔ڈاکٹر فیصل نے کہا کہ بھارتی افواج مسلسل ایل او سی اور ورکنگ باؤنڈری پر 2003 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں، بھارت کی مسلسل خلاف ورزیوں سے علاقائی امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو رہے ہیں اور یہ خلاف ورزیاں کسی بھی تزویراتی غلطی کا باعث بن سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی کی خلاف ورزی میں غیر معمولی اضافے کا سلسلہ 2017 سے جاری ہے اور ایک ہزار 970 بار خلاف ورزیاں کی جاچکی ہیں۔ترجمان دفتر خارجہ نے بیان میں بھارت کو اپنی مسلح افواج کو جنگ بندی معاہدے کا احترام کرنے کا کہا اور ورکنگ باؤنڈری اور ایل او سی پر امن کو بحال رکھنے کا پابند بنانے کی ہدایت کی۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر124




امت مسلمہ کا باہمی اتحاد و اتفاق خطے میں امن اور معاشی استحکام کا ضامن ہے،فردوس عاشق اعوان

 
اسلام آباد (وائس آف ایشیا)وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ امت مسلمہ کا باہمی اتحاد و اتفاق خطے میں امن اور معاشی استحکام کا ضامن ہے،مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب نے اپنی حمایت کے عزم کا اعادہ اور تنازعہ کے پرامن طریقے سے حل پر زور دیا،وزیر اعظم عمران خان کے دورے سے پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور مختلف شعبوں میں قریبی تعاون پر مبنی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ بدھ کو ٹوئٹر پر اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ ایران کے بعد سعودی قیادت کا خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے فروغ کیلئے وزیراعظم پاکستان کی مخلصانہ کاوشوں کو سراہانہ عمران خان کو بطور رہبرِ امت مسلمہ ممتاز کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان برادر اسلامی ممالک کے مابین جذبہ اخوت اور ہم آہنگی کے فروغ کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہاکہ امت مسلمہ کا باہمی اتحاد و اتفاق خطے میں امن اور معاشی استحکام کا ضامن ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے سعودی قیادت کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال، مواصلاتی پابندیوں اور مسلسل لاک ڈاؤن سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ کرفیو کو 73 روز ہوگئے،80 لاکھ سے زائد کشمیری گھروں میں محصور ہیں،وادی جنت نظیر جیل میں بدل چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب نے اپنی حمایت کے عزم کا اعادہ اور تنازعہ کے پرامن طریقے سے حل پر زور دیا۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان کے دورے سے پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور مختلف شعبوں میں قریبی تعاون پر مبنی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہاکہ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا ہو گا۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر94




دنیا بھرمیں کوئی عدالت احتجاج کے حق کوختم نہیں کرسکتی، چیف جسٹس اطہر من اﷲ کے ریما رکس

 
اسلام آباد(وائس آف ایشیا)چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اﷲ نے جمعیت علماء اسلام (ف)کے امیر مولانا فضل الرحمان کی جانب سے اعلان کردہ آزادی مارچ اور دھرنے کے خلاف دائر دونوں درخواستوں کو نمٹاتے ہوئے حکم دیا ہے کہ مقامی انتظامیہ اس معاملہ کو دیکھے۔عدالت نے قرار دیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کرنا ریاست کا کام ہے۔ چیف کمشنر سے دھرنے والوں نے رجوع کیا انتظامیہ کو اس پر فیصلہ کرنے دیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ انتظامیہ درخواست پر فیصلہ کرتے ہوئے قانون اور اس حوالہ سے جاری کئے گئے عدالتی فیصلوں کو بھی مدنظر رکھے۔جو احتجاج نہیں کرنا چاہتے ان کے حقوق کی بھی ریاست ذمہ دار ہے۔عدالت نے قراردیا کہ ریاست احتجاج کرنے والوں کے حقوق کی بھی حفاظت کرے گی،انتظامیہ احتجاج کرنے اور نہ کرنے والوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ جسٹس اطہر من اﷲ کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو اس عدالت نے 2014میں احتجاج کی اجازت دی تھی،مقامی انتظامیہ ہر کسی کے حقوق کی حفاظت کرے گی۔چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اﷲ نے بدھ کے روز ریاض حنیف راہی ایڈووکیٹ کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے خلاف دائر درخواست پر سماعت کی۔ جسٹس اطہر من اﷲ نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور دھرنے کے خلاف دائر دونوں درخواستوں کو یکجا کر کے ایک ساتھ سماعت کے لئے مقرر کرنے کا حکم دیا۔ درخواست گزار کا کہنا تھا کہ چیف کمشنر کے پاس جو درخواست دی گئی ہے اس کا اسٹیٹس معلوم کرلیا جائے۔ تاہم اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ ابھی اس چیز کی ضرورت نہیں ہے، اس درخواست پر حکومت نے خود فیصلہ کرنا ہے۔ جسٹس اطہر من اﷲ نے کہا ہے کہ احتجاج کسی بھی شہریکا بنیادی حق ہے اس کو ختم نہیں کیا جاسکتا،دنیا بھر میں احتجاج کرنے سے کسی کو روکا نہیں جا سکتا۔ دنیا بھر میں کوئی عدالت احتجاج کے حق کو ختم نہیں کر سکتی۔صرف لوکل انتظامیہ کو دوسرے شہریوں کے حقوق کو بھی تحفظ دینا ہے۔ دوران سماعت درخواست گزار کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے اکتوبر میں حکومت کے خلاف آزادی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔اس پر جسٹس اطہر من اﷲ نے درخواست گزار کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ کہنا چاہتے ہیں کہ ان کو احتجاج کا حق نہیں؟اس پر وکیل حنیف راہی کا کہنا تھا کہ پالیسی کے خلاف احتجاج کا حق ہے ، جمہوری حکومت کے خلاف نہیں۔درخواست گزار کا کہنا تھا کہ جے یو آئی (ف)اور پاکستان مسلم لیگ (ن)کو احتجاج سے روکا جائے۔ اس پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کا کہنا تھا کہ اس تمام تر صورتحال پر مقامی انتظامیہ مناسب فورم ہے، مقامی انتظامیہ نے امن و امان کو برقرار رکھنا ہے اور دیکھنا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق صلب نہ ہوں، لہذا اس کے لئے انتظامیہ نے تمام تر انتظامات کرنا ہیں اور قانون کی عملداری قائم کرنی ہے، تاہم کسی بھی شہری کو احتجاج سے نہیں روکا جاسکتا۔ جسٹس اطہر من اﷲ نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے خلاف دائر دونوں درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کے لئے مقرر کرنے کا حکم دیا ہے۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر1




شاہی جوڑے کا چترال پہنچنے پر شاندار استقبال ،رویتی ٹوپی پہنائی گئی

 
چترال(وائس آف ایشیا)برطانوی شاہی جوڑا شہزادہ ولیم اور ان کی اہلیہ کیٹ مڈلٹن کاچترال پہنچنے پر ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور انہیں روایتی ٹوپی پہنائی گئی۔ذرائع کے مطابق برطانوی شاہی جوڑے نے کوہ ہندوکش کے برف پوش پہاڑوں اور وہاں کے خوبصورت نظاروں کا فضائی جائزہ لیا ہے۔اس کے علاوہ شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ میڈلٹن نے موسمیاتی تبدیلیوں سے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز کو بھی دیکھا اور تشویش کا اظہار کیا ۔ذرائع کے مطابق شاہی جوڑے نے چترال میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور سرچ اینڈ ریسکیو ٹیموں کی استعداد کار کا جائزہ لیابعد ازاں شہزادہ ولیم اوران کی اہلیہ شہزادی کیٹ میڈلٹن نے مقامی کیلاش قبیلے کے روایتی رہن سہن کو بھی دیکھا
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر125




پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں خواجہ برادرز کی بریت کی درخواستیں مسترد

 
لاہور(این این آئی) احتساب عدالت نے پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی بریت کی درخواستیں مسترد کردیں۔لاہور کی احتساب عدالت میں پیراگون ہاؤسنگ کیس کی سماعت ہوئی جس سلسلے میں نیب نے خواجہ برادران کو عدالت میں پیش کیا۔دورانِ سماعت خواجہ برادران کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ پیراگون سوسائٹی پرائیویٹ ہے اس لیے نیب تحقیقات نہیں کر سکتا کیونکہ پرائیویٹ کمپنی کا کیس ایس ای سی پی کے دائرہ اختیار میں آتا ہے، نیب نے غیر قانونی طور پر تحقیقات کیں اور ریفرنس دائر کیا۔خواجہ برادران کے وکیل کی استدعا پر نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ہے جس کے بعد عدالت ایسی کسی درخواست کی سماعت نہیں کر سکتی لہذا عدالت دائر درخواست خارج کرنے کا حکم دے۔احتساب عدالت کے جج جواد الحسن نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد خواجہ برادران کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے بریت کی استدعا مسترد کردی۔عدالت نے خواجہ برادران کی عدالتی دائرہ کار چیلنج کرنے اور عائد فرد جرم ختم کرنے کی درخواستیں بھی مسترد کردیں جب کہ عدالت نے ملزمان کے جوڈیشل ریمانڈ میں مزید 14 روز کی توسیع کرتے ہوئے انہیں واپس جیل بھیج دیا۔علاوہ ازیں عدالت نے آئندہ سماعت پر مقدمے کے گواہان کو طلب کرتے ہوئے سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ نیب نے پیراگون ہاؤسنگ کیس میں گزشتہ برس دسمبر میں ضمانت منسوخ ہونے کے بعد خواجہ برادران کو لاہور ہائیکورٹ سے گرفتار کیا تھا۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر127




اسحاق ڈار آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 23اکتوبر تک ملتوی

اسلام آباد (وائس آف ایشیا)احتساب عدالت نے سحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت 23اکتوبر تک ملتوی کر دی ،آئندہ سماعت پر بھی وکیل صفائی قاضی مصباح تفتیشی افسر نادر عباس پر جرح جاری رکھیں گے۔ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت جج محمد بشیر نے کی ۔دور ان سماعت ملزمان سعید احمد، منصور رضا، نعیم محمود عدالت میں پیش ہوئے ،نیب تفتیشی افسر نادر عباس نے اسحاق ڈار کے خلاف تفتیش مکمل ہونے کا خط احتساب عدالت میں پیش کیا ۔ تفتیشی افسر نے کہاکہ اسحاق ڈار کے خلاف آف شور کمپنیوں، آمدن سے زائد اثاثوں، اندرون و بیرون ملک جائیدادوں سے متعلق تفتیش کی۔وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہاکہ اسحاق ڈار کے ریفرنس سے متعلق کیا تمام ریکارڈ ساتھ لائے ہیں ۔تفتیشی افسر نادر عباس نے کہاکہ ریفرنس سے متعلق تمام ریکارڈ ساتھ نہیں لایا ہوں۔ انہوکں نے کہاکہ اسحاق ڈار کے اثاثوں، بنک اکاؤنٹس کی تصدیق مختلف اداروں سے کروائی گئی۔ وکیل صفائی قاضی مصباح نے کہاکہ تفتیش کے دوران کیا اسحاق ڈار کی جانب سے فروخت کی گئی 24جائیدادوں کے ریکارڈ کا علم تھا۔ تفتیشی افسر نے کہاکہ مجھے اس کے لئے ریکارڈ دیکھنا ہوگا۔ نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے وکیل صفائی کے سوال پر اعتراض اٹھا دیا اور کہاکہ قاضی صاحب آپ اسحاق ڈار کے وکیل نہیں ہیں اور اسحاق ڈار کے متعلق سوال نہیں کر سکتے۔نیب پراسیکیوٹر افضل قریشی نے کہاکہ اسحاق ڈار کو عدالت نے اشتہاری قرار دیا ہے۔ افضل قریشی نے اعتراض اٹھایا کہ شریک ملزمان کے وکیل ایک اشتہاری ملزم کا دفاع کر رہے ہیں۔نیب تفتیشی افسر نے کہاکہ نیب ریکارڈ کے مطابق اسحق ڈار نے 15پراپرٹیز فروخت کی۔ تفتیشی افسر نادر عباس نے کہاکہ اسحق ڈار کی جائیدادیں شریک ملزمان منصور رضا اور نعیم محمود کو ٹرانسفر نہیں ہوئی ۔آئندہ سماعت پر بھی وکیل صفائی قاضی مصباح تفتیشی افسر نادر عباس پر جرح جاری رکھیں گے۔اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات ضمنی ریفرنس کی سماعت 23 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی ۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر103




آشیانہ ،رمضان شوگرملزم کیسز ،شہباز شریف کو آئندہ سماعت پر پیش کرنے کا حکم

 
لاہور (وائس آف ایشیا)لاہور کی احتساب عدالت نے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمد شہباز شریف، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمد حمزہ شہباز شریف ، سابق وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری فواد حسن فواد اور سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد خان چیمہ کے خلاف آشیانہ ہاؤسنگ سکینڈل اور رمضان شوگر ملز کیسز کی سماعت 30اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ جیل حکام کی جانب سے حمزہ شہباز شریف ، فواد حسن فواد اور احد خان چیمہ ک کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ جبکہ شہباز شریف کمر درد کی وجہ سے عدالت میں پیش نہ ہو سکے۔ شہباز شریف کے وکیل خواجہ امجد پروزیز کی جانب سے اپنے مؤکل کی ایک روزہ عدالتی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی اور کہا کہ شہباز شریف کی صحت ٹھیک نہیں اور ان کی کمر میں درد ہے اس لئے وہ پیش نہیں ہو سکتے ان کی ایک روزہ حاضری معافی کی درخواست منظور کی جائے۔ اس پر عدالت کے جج کا کہنا تھا کہ کمر درد تو عام سی بات ہے اور شہباز شریف گزشتہ پانچ سماعتوں سے مسلسل غیر حاضر ہو رہے ہیں اور عدالت میں پیش نہیں ہو رہے۔ اس پر امجد پرویز کا کہنا تھا کہ شہباز شریف عدالت سے مکمل تعاون کر رہے ہیں لہذا حاضری معافی کی درخواست منظور کی جائے،عدالت نے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔اس پر عدالت نے شہباز شریف کو آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ جبکہ شہباز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اگر شہباز شریف پیش نہیں ہوتے تو ان کی عدم موجودگی میں ٹرائل کیا جاسکتا ہے۔عدالت نے سماعت 30اکتوبر تک ملتوی کرتے ہوئے حمزہ شہباز اور دیگر ملزمان کو جیل واپس منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ جبکہ سماعت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ گزشتہ25 سال سے ہم نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان اختلافات کی خبریں سن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم سب ایک ہیں ، نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان کوئی اختلاف نہیں۔مسلم لیگ (ن)کی پارٹی کا ایک ہی مؤقف ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کا ما رچ جعلی حکومت کے خلاف ہے۔مولانا ملک کو بیروزگاری اور مہنگائی سے نجات دلانے کے لئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ (ن)لیگ مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں ضرور شرکت کرے گی،(ن)لیگ دھرنے کے سے متعلق فیصلہ پارٹی مشاورت سے کرے گی۔ ا نہوں نے کہا کہ مہنگائی نے لوگوں کی ز ندگی کو مشکل بنا دیا ہے۔ ا نہوں نے کہا کہ غریب کے پاس روٹی نہیں اور بیمارکے پاس دوائی نہیں۔حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام کو تبدیلی بہت مہنگی پڑی ہے۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر2




مریم اورنگزیب کی حمزہ شہباز سے میڈیا کو بات کرنے سے روکنے اور صحافیوں پر تشدد کی مذمت

 
اسلام آباد (وائس آف ایشیا)پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے حمزہ شہباز سے میڈیا کو بات کرنے سے روکنے اور صحافیوں پر تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک پر عمران صاحب کی سیاہ فسطائی سوچ مسلط ہے،عمران صاحب آوازین بند کرنے سے سچائی چھپ نہیں سکتی ، نہ ہی جھوٹ سچ بن جائے گا۔ بدھ کو ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ نالائق اور نااہل حکومت نے تمام سیاسی مخالفین کو اغوا کیا ہوا ہے اور اْن کی آوازیں بھی بند کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ عمران صاحب آوازین بند کرنے سے سچائی چھپ نہیں سکتی ، نہ ہی جھوٹ سچ بن جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ سیاسی مخالفین کے خلاف کرپشن مل نہیں رہی، بوکھلائی فسطائی حکومت اب آوازیں بند کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ آزادی اظہار رائے پرتاریخ کی بدترین پابندیاں عائد ہیں، نالائق حکومت صرف عمران نامہ چاہتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ میڈیا پر تشدد اور صحافیوں سے بدسلوکی فسطائی حکومت کے خوف میں مبتلا ہونے کا ثبوت ہے ۔انہوں نے کہاکہ سرکاری افسران، اداروں اور میڈیا پر تشدد اور حملے کرنا عمران صاحب کی جماعت کا پرانا وطیرہ ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران صاحب سیاسی مخالفین کے خلاف آپ کے الزامات جھوٹ ثابت ہورہے ہیں تو اس میں میڈیا کا کیا قصور؟۔انہوں نے کہاکہ عمران صاحب اپنی فسطائیت، تکبر اور جھوٹ کی سزا میڈیا کو دینے سے حقیقت نہیں بدلے گی ۔انہوں نے کہاکہ سیاسی اسیران کا ہر کیس حکومت کی فسطائیت، جھوٹ اور انتقام کا آئینہ بن چکا ہے ۔انہوں نے کہاکہ میڈیا پر تشدد کرنے والے اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے اور قانونی کارروائی کی جائے۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر95a




آزادی مارچ ،نوازشریف اور شہباز شریف میں کوئی اختلاف نہیں ‘ حمزہ شہباز

لاہور(وائس آف ایشیا )پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہبا ز نے کہا ہے کہ انشا اﷲ آزادی مارچ میں شامل ہونگے،نوازشریف اور شہباز شریف میں کوئی اختلاف نہیں ۔احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ قو م کوتبدیلی بہت مہنگی پڑی ہے اور وہ اس پر لعنت بھیج رہی ہے ۔آج غریب کے گھرمیں روٹی نہیں ہے ،بیمار کے پاس دوائی کے پیسے نہیں ہے او راس کی قیمتوں میں بھی تین گنا اضافہ کر دیا گیا ہے ، اﷲ تعالیٰ اس ملک پر رحم کرے ۔انہوں نے آزادی مارچ میں شرکت کے حوالے سے کہا کہ انشااﷲ آزاد ی مارچ میں شامل ہوں گے،مولانا فضل الرحمان کا لانگ مارچ جعلی حکومت کے خلاف ہے ،یہ مارچ ملک کو بیروز گاری، مہنگائی اور معاشی عدم استحکام سے نجات دلوانے کے لیے ہے ۔نواز شریف اور شہباز شریف کے درمیان اختلافات کے سوال پر کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں گزشتہ تیس سال سے یہ باتیں سن رہا ہوں الحمد اﷲ ہم سب ایک ہیں ،پارٹی کا ایک ہی موقف ہے ۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر104




مصر پاکستان سے سیمنٹ اور سرجیکل آلات درآمد کرسکتا ہے، مشیر تجارت

 
اسلام آباد (وائس آف ایشیا) وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ مصر پاکستان سے سیمنٹ اور سرجیکل آلات درآمد کرسکتا ہے، دونوں ممالک کی دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کا حجم کم ہے جس کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وہ بدھ کو مصر کے تجارتی وفد سے ملاقات کے دوران بات چیت کررہے تھے جس نے احمد انتر کی سربراہی میں وزارت تجارت کا دورہ کیا۔ پاکستان میں تعینات مصر کے سفیر احمد فدیل بھی وفد کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر سیکرٹری تجارت سردار احمد نواز سکھیرا اور وزارت تجارت کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور مصر کے بہت اچھے تعلقات ہیں، دونوں کی دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کا حجم کم ہے جس کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ مشیر تجارت نے کہا کہ پاکستانی سرجیکل آلات بھی بڑی تعداد میں برآمد ہوتے ہیں۔ مصر پاکستان سے سیمنٹ اور سرجیکل آلات درآمد کرسکتا ہے ۔ ملاقات میں وفد نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں وفد کے سربراہ احمد انتر نے کہا کہ جوائنٹ بزنس کونسل کے قیام سے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔
وائس آف ایشیا16اکتوبر2019 خبر نمبر126




آمدن سے زائد اثاثہ کیس میں خورشید شاہ مزید 6 روز کے لیے نیب کے حوالے

کراچی(وائس آف ایشیا)پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ اپنے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں رو پڑے۔انہوں نے کہا کہ آج میری آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں؟ کیوں کہ مجھ پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔منگل کوسکھر کی احتساب عدالت میں خورشید شاہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس کی سماعت ہوئی، جس کے دوران نیب حکام نے سابق اپوزیشن لیڈر کو عدالت میں پیش کیا۔ اس موقع پر سیدنوید قمر ،سنیٹرفرحت اﷲ بابر،سینٹر مولا بخش چانڈیو، صوبائی وزیر توانائی امتیاز شیخ ، منظور وسان ، نفیسہ شاہ اور اویس قادر شاہ بھی موجود تھے۔نیب پراسیکیوٹرنے احتساب عدالت سے خورشید شاہ کے 15 روزہ ریمانڈ کی استدعا کی، جس پر عدالت نے خورشید شاہ کے ریمانڈ میں 6 روز کی توسیع کر دی۔عدالت نے نیب حکام کو حکم دیا کہ خورشید شاہ کو 21 اکتوبر کو عدالت میں دوبارہ پیش کیا جائے۔دورانِ سماعت خورشید شاہ نے جج سے مکالمے میں کہا کہ آج میری آنکھوں میں آنسو کیوں ہیں؟ کیوں کہ مجھ پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں۔جج نے مسکراتے ہوئے کہا کہ شاہ صاحب آپ سے ایک غلطی یہ ہوئی کہ آپ نے اپنے دور میں نیب قانون ختم نہیں کیا۔خورشید شاہ نے کہا کہ میں اگر باہر ہوتا تو نیب کو ہر ثبوت فراہم کرسکتا تھا، لوگ ہم کو ڈر کر نہیں بلکہ پیار سے ووٹ دیتے ہیں۔جج نے خورشید شاہ سے کہا کہ شاہ صاحب میرے پاس آپ کو ضمانت دینے کا اختیار نہیں، ضمانت و رہائی کے لیے آپ کو پراپر فورم پر جانا ہوگا۔خورشید شاہ نے جواب دیا کہ آپ مجھے 3 ماہ کے ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیں، عزت دار سیاستداں ہوں، مجھے اس سب سے تکلیف ہو رہی ہے، میں نے اس سال 27 لاکھ روپے ٹیکس دیا جبکہ میرے بچوں نے الگ ٹیکس دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کہ مجھے عارضہ قلب لاحق ہے، آکسیجن کی کمی کا مسئلہ بھی ہے، گزشتہ رات بھی میری طبیعت خراب ہو گئی تھی، اس وقت نیب حکام میرے ساتھ تھے لیکن میں نے کسی کو نہیں کہا کہ میری طبیعت خراب ہے، بلکہ سپاہی نے خود ہی دیکھا۔اس سے قبل دورانِ سماعت خورشید شاہ کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے حکم کے باوجود خورشید شاہ کو چیک اپ کے لیے نہیں بھیجا گیا۔نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کا چیک اپ نیب کے ڈاکٹرز روزانہ کی بنیاد پر کرتے ہیں اور نیب کے ڈاکٹرز کے مطابق خورشید شاہ کو باہر علاج کے لیے بھیجنے کی ابھی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے عدالت کو بتایاکہ خورشید شاہ سے آمدن کے ذرائع پوچھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ فیملی سے پوچھ لو، ان کے ایک اکاؤنٹ میں 30 کروڑ روپے کہاں سے آئے؟۔نیب وکیل نے کہا کہ جب اس بارے میں خورشید شاہ سے پوچھتے ہیں تو وہ کوئی جواب نہیں دیتے جب کہ ان کے اکاؤنٹ میں اس وقت تک 28 کروڑ روپے کی ٹرانزکشن ہوچکی ہے لیکن خورشید شاہ نے اس رقم کے بارے میں نیب کو اب تک کو کوئی ثبوت نہیں دیا۔انہوں نے عدالت کو بتایا کہ خورشید شاہ کے پاس 25 کروڑ روپے کا گھر ہے، جس کے علاوہ ان کی سکھر اور کراچی میں کروڑوں روپے کی بے نامی جائیداد بھی ہے۔جج نے وکیل سے پوچھا کہ آپ کے پاس وکیل بننے سے قبل کتنے اثاثے تھے یہ آپ کو یاد ہے؟۔نیب کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جی میں بتا سکتا ہوں کہ میرے کتنے اثاثے تھے اور میرا کیا کاروبار ہے۔نیب وکیل نے کہا کہ خورشید شاہ کے پاس پبلک پراپرٹی ہے، ان کو جواب دینا ہوگا، ان کے تین بینک اکاؤنٹس مل گئے ہیں جن میں 28 کروڑ ہیں۔نیب نے عدالت سے خورشید شاہ کے جسمانی ریمانڈ میں مزید 15 روز کی توسیع کی استدعا کی، جس پر جج نے کہا کہ 90 دن کا ریمانڈ بھی دے دیا جائے تو بھی آپ آخر میں صرف الزامات کی فہرست لائیں گے۔بعد ازاں عدالت نے خورشید شاہ کے جسمانی ریمانڈ میں 6 روز کی توسیع کر دی اور نیب کو انہیں 21 اکتوبر کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی۔عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی رہنما مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ہم احتساب سے نہیں گھبراتے اور ڈرتے، ہم ہمیشہ انصاف کے لیے پیش پیش رہتے ہیں، خورشید شاہ ایک نیک انسان ہیں، اگر خورشید شاہ ڈرتے یا مجرم ہوتے تو پہلے ہی ضمانت کراتے مگر نہیں انہوں نے خود کو انصاف کے لیے پیش کیا۔ آٓصف علی زرداری، فریال تالپور اور خورشید شاہ کے ساتھ انتقامی رویہ ہے جوکہ ناقابل قبول ہے۔ اس طرح کا انتقامی رویہ ہمیں ٹھنڈا نہیں بلکہ بھڑکا رہا ہے۔مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ ہم پاکستان کو چلانا چاہتے ہیں، ہم اس ملک کی سالمیت چاہتے ہیں۔ آپ لوگ تو معصوم خواتین تک کو نہیں بخشتے یہاں تک کہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کا خون بہایا گیا۔ عوام خود ہی فیصلہ کرے کہ وہ بہادر اور نڈر نوجوان لیڈر بلاول بھٹو کا ساتھ دیگی یا ایک سلیکٹڈ کا۔
وائس آف ایشیا15اکتوبر2019 خبر نمبر123




بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کا بیان اشتعال انگیزانہ ہے، پاکستان

 
اسلام آباد (وائس آف ایشیا)پاکستان نے بھارتی وزیر دفاع کا بیان مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ کا بیان اشتعال انگیزانہ ہے، بھارتی وزیر دفاع کا بیان پاکستان مخالف، انتہا پسندی اور طاقت کے نشے میں چور سوچ کی عکاسی کرتا ہے، پاکستان کی مسلح افواج اور عوام مادر وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں،دشمن کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ منگل کو ایک بیان میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہاکہ بھارتی وزیر دفاع نے ہریانہ میں انتِابی ریلی میں اشتعال انگیزانہ بیانات دیئے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان بھارتی وزیر دفاع کے بیانات کی شدید مذمت کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان بی جے پی حکومت کے ذہن کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیر دفاع کا بیان پاکستان مخالف، انتہا پسندی اور طاقت کے نشے میں چور سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ ترجمان نے کہاکہ بھارتی وزیر دفاع انتہائی غیر ذمہ دارانہ انداز میں ایک خود مختار ریاست کو توڑنے کی دھمکیاں دیتا ہے۔ ترجمان نے کہاکہ پاکستان کی مسلح افواج اور عوام مادر وطن کا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دشمن کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ترجمان نے کہاکہ پاکستان کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں بارے منفی بیانات کی بھی مذمت کرتے ہیں۔ترجمان نے کہاکہ بھارت پہلے مقبوضہ کشمیر میں ریاستی دہشت گردی بند کرے۔ترجمان نے کہاکہ بھارتی کئی دہائیوں سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو دبانے کیلئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔ترجمان نے کہاکہ بھارت پاکستان کے خلاد دہشت گردی کو سپانسر کرنا بند کرے۔ انہوں نے کہاکہ جب بھی بی جے پی اقتدار میں آئی پاکستان مخالف سوچ کو ہوادی گئی۔ ترجمان نے کہاکہ بی جے پی الیکشن کیلئے کوئیاور نعرہ اور جواز ڈھونڈے۔




آزادی مارچ کے معاملے پر مولاناسے بات چیت جاری ہے ، معاملہ ٹھیک ہو جائیگا ، شیخ رشید

آز
ننکانہ صاحب(وائس آف ایشیا)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ آزادی مارچ کے معاملے پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ فضل الرحمان اور دوسرے لوگوں سے بات چیت جاری ہے اور یہ معاملہ ٹھیک ہو جائیگا،شہباز شریف وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں، ان سے کہوں گا ایک طرف کھیل لیں،ممکن ہے مولانا کو کشمیر کی ریلی نکالنے کی اجازت مل جائے ، اسلام آباد دھرنے کی کوئی گنجائش نہیں ،کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے، پاک فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہر لمحہ تیار ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 23 سے 26 اکتوبر کے درمیان آزادی مارچ پر اپنی رائے دوں گا۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف وکٹ کے دونوں طرف کھیل رہے ہیں، ان سے کہوں گا کہ ایک طرف کھیل لیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شہزادے نے اپنی تحریک شروع کر دی ہے۔انہوں نے کہاکہ بلاول اسلام آباد نہیں جائے گا کیوں وہ ڈرتا ہے، اسے پتہ ہے کہ اسلام آباد میں مولوی دھرنا دے رہے ہیں۔وزیر ریلوے نے کہا کہ ممکن ہے کہ مولانا کو کشمیر کی ریلی نکالنے کی اجازت مل جائے تاہم اسلام آباد میں دھرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔انہوں نے کہا کہ ممکن ہے کوئی درمیانی راستہ نکال لیا جائے اور مولانا صاحب کو فیس سیونگ مل جائے۔شیخ رشید نے کہا کہ کشمیر پاکستان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے اور ہماری حکمت عملی سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پھنستا جارہا ہے، یہ ایک دن کی لڑائی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہر لمحہ تیار ہے۔انہوں نے کہاکہ فضل الرحمان کے حوالے سے ہماری میڈیا پالیسی مناسب نہیں ہے، کابینہ اجلاس میں بھی کہا تھا کہ ہم مولانا کو زیادہ لفٹ کروارہے ہیں۔وزیر ریلوے نے کہا کہ مولانا کو خومخوا کا ہوا بنا رکھا ہے، اسلام آباد میں سب اچھا ہے، جسے آنا ہے آ جائے۔ڈنڈوں اور سوٹوں کے ساتھ اسلام آباد کے سوال پر انہوں نے کہاکہ یہ دنیا میں اسلامی قوتوں کو بدنام کرنے کی سازش ہے، مدرسے اسلام کا قلعہ ہیں اور ہمیں علمائے کرام کی عزت کرنی ہے۔انہوں نے کہاکہ بعض بے وقوف طاقتیں فضل الرحمان کا چہرہ دہشت گرد کے طور پر پیش کر رہی ہیں حالانکہ مولانا خود ایک دو دفعہ دہشت گردی کی نظر ہونے سے بچے ہیں۔شیخ رشید احمد نے کہا کہ یہ ڈنڈے انتظام کے لیے رکھتے ہیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔اس سے قبل شیخ رشید نے بابا گرونانک ریلوے اسٹیشن پر جاری ترقیاتی کام کا جائزہ لیا۔شیخ رشید نے کہا کہ ریلوے میں نیا ٹریکر سسٹم متعارف کرایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوشش ہے کہ بابا گرونانک ریلوے اسٹیشن بابا گورو نانک کی 550 ویں جنم دن سے قبل مکمل ہو جائے۔انہوں نے اپیل کی کہ ننکانہ صاحب علاقے کے لوگ خالصتان سے آئے یاتریوں کی خاص طور پر آؤ بھگت کریں۔
وائس آف ایشیا15اکتوبر2019 خبر نمبر97




صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت،فریقین کو نوٹس جاری

 
اسلام آباد (وائس آف ایشیا) سپریم کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دو نئی آئینی درخواستوں پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے ہیں اور جسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل سے گزارشات کے نکات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آج ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔ منگل کو جسٹس عمرعطابندیال کی سربراہی میں دس رکنی لارجر بینچ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی صدارتی ریفرنس کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کا آغاز کیا تو بیرسٹر افتخار گیلانی نے کہا کہ عدالت کی طرف سے اس معاملہ میں دائردو درخواستوں پر ابھی تک نوٹس نہیں ہوا، جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ آپ کی درخواستوں پر نوٹس کر دیا جائے گا،لیکن تمام وکلا ذہن میں رکھیں کہ ہم صرف ریفرنس پر دلائل سنیں گے، بعض درخواستوں میں ریفرنس سے ہٹ کر بھی نکات اٹھائے گئے ہیں،ایسے نکات پر وقت کی کمی کے باعث بحث نہیں کر سکتے، تمام درخواستوں میں اگر ایک ہی بات ہے تو ایک وکیل کو سننا کافی ہے، پٹیشنز اور وکلا کی تعداد سے فرق نہیں پڑے گا، دلائل کی اہمیت ہے،قاضی فائز عیسیٰ کے وکیل منیر اے ملک نے دلائل شروع کرتے ہوئے کہاکہ فیض آباد دھرنا کیس پر نظر ثانی درخواستیں مارچ میں دائر کی گئیں ،دس اپریل 2019 کو ایسٹ ریکوری یونٹ کو ایک صحافی نے خط لکھا،منیر ملک نے صحافی عبد الوحید ڈوگر کا ایسٹ ریکوری یونٹ کو لکھا گیا خط پڑھ کر سنایااور کہا کہ صحافی کے خط میں قاضی فائز عیسیٰ کی کسی بھی جائیداد کا ذکر نہیں کیا گیا،اس خط پر فون نمبر اور پتا درج نہیں ہے،جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ وزیر اعظم آفس میں ایسٹ ریکوری یونٹ کس نوعیت کا ہے یہ وزیراعظم سیکرٹریٹ میں کیوں ہے؟ منیر ملک نے کہاکہ وہ اس ضمن میں وضاحت کریں گے دس مئی کو وزیر قانون کو ایک خط لکھا گیا جس میں ان سے موقف مانگا گیا، پہلی بار زرینہ کھوسو کریرہ اور ارسلان کھوسو کے نام سامنے آئے،وحید ڈوگر نے لندن کی جائیداد کے بارے میں وائس آف ایشیا سرچ کر کے دستاویز سامنے رکھیں، وحید ڈوگر نے الزام لگائے کہ قاضی فائز عیسیٰ کی جائیداد لندن میں ہے۔جو انہوں نے اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔ منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ وحید ڈوگر نے جسٹس کے کے آغا کی جائیداد سے متعلق بھی معلومات دیں، وحید ڈوگر نے یہ بھی ایسٹ ریکوری یونٹ کو بتایا کہ کے کے آغا کے پاس دوہری شہریت ہے،لیکن دستاویزی ثبوت نہیں دیئے،ایسٹ ریکوری یونٹ نے کہا ہے کہ وحید ڈوگر نے لندن لینڈ ڈیپارٹمنٹ کی ایک کاپی فراہم کی ہے،8 مئی کو ایسٹ ریکوری یونٹ نے ایک خط لکھا جس میں جج کی جائیداد کے بارے میں ذکر ہے، دس مئی کو ایف آئی اے کی ایسٹ ریکوری یونٹ والوں سے میٹنگ ہوئی، اس میٹنگ میں درخواست گزار کی اہلیہ کا نام اور سپین کی شہریت سامنے آئی،جسٹس عمرعطابندیال نے کہاکہ ویزا درخواست کی وجہ سے نام سامنے آیا،جسٹس قاضی فائز کی اہلیہ کو پانچ سال کا ویزہ دیا گیا، منیر ملک نے کہاکہ لیکن جسٹس قاضی کی اہلیہ کا نام ڈوگر کو کیسے پتا چلا؟کیسے ایک جج کیخلاف تحقیقات شروع کی جاسکتی ہیں میرا یہی مدعا ہے،کل پھر ایک ایس ایچ او بھی درخواست پر کاروائی شروع کر دے گا۔ ججز کیخلاف تحقیقات سے متعلق قانون میں کچھ سیف گارڈز ہیں۔جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ ججز کے حوالے سے دو فورمز ہیں جو رائے دے سکتے ہیں،منیر ملک نے کہاکہ شکایت وصول کرنا،ثبوت اکٹھے کرنا اور ریفرنس فائل کرنا مختلف اوقات میں سیریز کیساتھ ہوئے ہیں۔جسٹس مقبول باقر نے کہاکہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ بغیر اجازت کے جج کیخلاف تحقیقات شروع کی گئیں؟ کیا آپ ایسٹ ریکوری یونٹ کی قانونی حیثیت عدالت کو بتا سکتے ہیں، آپ کیمطابق تحقیقات ایسٹ ریکوری یونٹ کیوجہ سے شروع ہوئیں،جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ وحید ڈوگر کو ایف آئی اے اور ایف بی آر نے تمام معلومات فراہم کیں؟ جس پر منیر ملک نے کہاکہ شکایت کنندہ کی درخواست کی تصدیق نہیں کی گئی،تصدیق سے پہلے ہی جج کے خلاف تحقیقات شروع کر دی گئیں،انتظامیہ کا عدلیہ سے الگ ہونے کا تصور کیا ہے؟شکایت موصول ہوتے ہی شہزاد اکبر نے تحقیقات شروع کر دیں،ایسیٹ ریکوری یونٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے ، جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ دیکھنا ہو گا کہ جج کے خلاف شکایت کی تصدیق کا طریقہ کار کیا ہے،منیر اے ملک نے کہاکہ شکایت کنندہ وحید ڈوگر محض فرنٹ مین ہے،ایف آئی اے اور ایف بی آر نے خفیہ معلومات وحید ڈوگر کے ساتھ شئیر کیں،وحید ڈوگر کوئی سول سرونٹ نہیں ہے،لگتا ہے وحید ڈوگر کے پاس سوپر نیچرل طاقت ہے، جسٹس منصور علی شاہ نے سوال کیا کہ کیا نام سے برطانیہ میں جائیداد کو تلاش کیا جا سکتا ہے؟منیر ملک نے جواب دیا کہوائس آف ایشیا پراپرٹی تلاش کرنے کے لیے بھی ابتدائی معلومات کا ہونا ضروری ہے،سوال یہ ہے کہ ڈوگر کو جج کی اہلیہ کی جائیداد کی معلومات کیسے ملیں؟صرف گوگل پر سرچ کرنے سے معلومات نہیں مل جاتیں،منیر ملک کا کہنا تھا کہ شکایت کنندہ وحید ڈوگر سے پوچھا گیا کہ آپ نے ججز کے اثاثوں کی خبر کیوں نہیں دی؟تو ان کا کہنا تھا کہ خبر شائع نہیں ہوتی ، وحید ڈوگر نے قومی انگریزی اخبار کے رپورٹر احمدنوارانی پر ہونے والے تشدد سے متعلق جھوٹی خبر شائع کی جس پر اس اخبار اور وحید ڈوگر کو معافی مانگنا پڑی ، جسٹس قاضی محمد امین نے سوال کیا کی کیا احمد نورانی نے حملے کا الزام کسی ادارے پر عائد کیا تھا؟ اس پر منیر ملک کاکہنا تھا کہ احمد نورانی نے کس پر الزام لگایااس بارے میں انہیں معلوم نہیں۔جسٹس منیب اختر نے کہاکہ آپ نے دلائل میں احمد نورانی پرتشدد کا حوالہ دیا۔احمد نورانی کیس کا ججز کیخلاف ریفرنس سے کیا تعلق؟منیر ملک نے جواب دیا کہ وحید ڈوگر کی ساکھ پر سوالات اٹھا رہا ہوں۔وحید ڈوگر کو لندن کی لینڈ رجسٹری بھی دیکھنا نہیں آتی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا فلیٹ نقد خریدا گیا؟۔منیر ملک نے کہاکہ جسٹس فائز عیسی کا فلیٹ سے تعلق نہیں اس لیے جواب نہیں دے سکتا۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہاکہ ریکارڈ سے لگتا ہے فلیٹ نقد خریدا گیا ہے۔جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ یہ تعین کیسے کیا گیا کہ پہلا فلیٹ جج بننے سے پہلے کا ہے؟منیر ملک نے کہاکہ اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی اپنی رپورٹ کے مطابق فلیٹ جج بننے سے پہلے کا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسی 2004 والے فلیٹ کی لیز تجدید 2013 میں ہوئی اور ملکیت میں بیٹے کا نام شامل ہوا، منیر اے ملک نے کہاکہ وزیر قانون نے اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے سربراہ کو وحید ڈوگر سے شواہد لینے کا کہا یو کے میں آن لائن پراپرٹی سرچ کے ذریعے جائیداد ڈھونڈی گئی،آن لائن پراپرٹی سرچ کرنے والے کا نام نہیں آیا،وحید ڈوگر کی شکایت ایک فلیٹ کے حوالے سے تھی،جسٹس قاضی فائز عیسی کے اہلخانہ کی باقی جائیدادیں کون سامنے لایا نہیں بتایا گیا،اثاثہ جات ریکوری یونٹ کے اختیارات کیا ہیں معلوم نہیں،وفاق نے تاحال اثاثہ جات ریکوری یونٹ کی قانونی حیثیت نہیں بتائی۔جسٹس فیصل عرب نے کہاکہ کوئی جج برطانیہ میں اپنے گھر جائے تو قونصلیٹ اور پروٹوکول کو علم ہوتا ہے، کیا جج کے گھر کا پتہ معلوم کرنا کوئی مشکل کام ہے؟ منیر اے ملک کا کہنا تھا کہ حکومت کو کہنے دیں کہ ایڈریس پروٹوکول افسران سے ملے،کیا ، جسٹس عمر عطا بندیال نے سوال کیا کہ کیا جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنی اہلیہ کو کبھی رقم تحفے میں دی؟منیر ملک نے کہاکہ اس ضمن میں وہ معلوم کر کے بتا سکتے ہیں ۔ جسٹس عمر عطابندیال نے کہاکہ اس سوال کا جواب معلوم کرکے بتا دیں۔بعد ازاں عدالت نے کونسل کی کارروائی کے خلاف دو نئی آئینی درخواستوں پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے اورجسٹس قاضی فائز عیسی کے وکیل سے گذارشات کے نکات طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت آج ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کر دی۔
وائس آف ایشیا15اکتوبر2019 خبر نمبر164




آمدن سے زائد اثاثہ جات چیئرمین نیب نے احسن اقبال کیخلاف انکوائری کی منظوری

اسلام آباد (وائس آف ایشیا ) چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے مسلم لیگ نون کے راہنما احسن اقبال کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس میں انکوائری کی منظوری دے دی ، احسن اقبال کیخلاف پہلے بھی نارووال اسپورٹس سٹی خوروبرد کی انکوائری جاری ہے. تفصیلات کے مطابق مسلم لیگ نون کے راہنما احسن اقبال کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ، احسن اقبال کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے الزام پر نئی انکوائری شروع کی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے احسن اقبال کیخلاف انکوائری کی منظوری دیتے ہوئے نیب راولپنڈی کو فوری طور پر انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے احسن اقبال کیخلاف پہلے بھی نارووال اسپورٹس سٹی خوروبرد کی انکوائری جاری ہے‘ نارووال اسپورٹس سٹی کرپشن کیس میں سابق وفاقی وزیر احسن اقبال پر الزام ہے انھوں نے خلاف قانون تین ارب روپے کامنصوبہ شروع کیا، سابق وفاقی وزیر نے اپنے حلقے میں بین القوامی سر حد سے چند سو میٹر پر کروڑوں کا منصوبہ بنوایا، اسپورٹس سٹی نارووال پاک بھارت سرحد سے 800سو میٹر دور ہے۔زرائع کے مطابق کیس میں سابق ڈی جی پی ایس بی اختر نواز اور ریاض پیرزادہ کا نام بھی شامل ہیں جبکہ اسپورٹس سٹی کی تعمیر میں پاکستان اسپورٹس بورڈ نے بھی اختیارات سے تجاوز کیا. دوسری جانب وزیراعظم کے قائم انکوائری کمیشن کواحسن اقبال کیخلاف پہلاکیس بھی موصول ہوگیا، دستاویز کے مطابق احسن اقبال نے قومی خزانے کو 70 ارب کا نقصان پہنچایا۔واضح رہے کہ جولائی میں نارووال اسپورٹس سٹی کرپشن کیس میں احسن اقبال نے نیب میں بیان ریکارڈ کراوایاتھا، سابق وفاقی وزیر پر الزام ہے انھوں نے اپنے حلقہ میں پاک بھارت سرحد سے بہت قریب مہنگا منصوبہ بنوایا. نون لیگ کے سینئر رہنما احسن اقبال نیب راولپنڈی کے دفتر میں پیش ہوئے تھے، نیب ٹیم نے احسن اقبال سے منصوبے میں کرپشن سے متعلق پوچھ گچھ کی اور سوالنامہ دیتے ہوئے جواب جمع کرانے کی ہدایت کردی کی تھی. احسن اقبال نے کہا تھا نیب نے کہا ہے ہمارے پاس کیس ہے اس کے حوالے سے تفصیلات دیں تو نیب بھی الزامات کی کاپی فراہم کرئے، وزیر اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کی حیثیت سے احسن اقبال نے3ہزار ارب کے منصوبوں کی نگرانی کی تھی۔