اقوام متحدہ کوفوجی امن دستے بھیجنے والے ممالک کے تجربات سے مستفیدہوناچاہئے‘پاکستان

نیویارک ( وائس آف ایشیا)اقوا م متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کوفوجی امن دستے بھیجنے والے ممالک کے تجربات سے مستفیدہوناچاہئے،عالمی برادری کویواین امن مشن کوششوں کی حمایت کرنی چاہئے۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے امن سازکمیشن کی کارکردگی پرمباحثے سے خطاب کرتے ہوئے کامیاب اورموثرامن سازی کیلئے جامع سیاسی عمل پرزور دیا۔ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کوفوجی امن دستے بھیجنے والے ممالک کے تجربات سے مستفیدہوناچاہیے ،عالمی برادری کویواین امن مشن کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ امن سازکمیشن کے بانی رکن کی حیثیت سے پاکستان اس کی اہمیت سے آگاہ ہے،متعلقہ ممالک کی ترجیحات کونظراندازکرکے امن سازی عمل کامیاب نہیں ہوسکتا۔
وائس آف ایشیا21مئی2019 خبر نمبر28




ایف آئی اے مقدمات ‘سندھ ہائیکورٹ نے فریال تالپور کی درخواست مسترد کردی

کراچی( وائس آف ایشیا)سندھ ہائیکورٹ نے پیپلز پارٹی کی رکن صوبائی اسمبلی فریال تالپور کی ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمات کے خلاف درخواست مسترد کردی ،عدالت نے سابق صوبائی وزیر ضیا الحسن لنجار کی ضمانت میں بھی 9جولائی تک توسیع کردی۔عدالت نے درخواست غیر موثر ہونے کی بنیاد پرفریال تالپور کی درخواست مسترد کی۔سابق صدر آصف علی زرداری کی بہن فریال تالپور نے میگا منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے کی جانب سیکی گئی کارروائی کو چیلنج کیا تھا۔عدالت کو بتایا گیا کہ منی لانڈرنگ کیس ایف آئی اے سے نیب اسلام آباد منتقل ہوچکا ہے اس لیے ہائیکورٹ میں دائر درخواست غیرموثر ہوگئی ہے، عدالت نے غیر موثر ہونے کی بنیاد پرفریال تالپورکی درخواست مسترد کردی۔سندھ کے سابق صوبائی وزیر ضیا الحسن لنجار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے معاملے کی سماعت بھی سندھ ہائیکورٹ میں ہوئی۔ درخواست ضیا الحسن لنجار کی جانب سے جمع کرائی گئی تھی۔نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ ملزم ضیا الحسن لنجار کے خلاف تمام انکوئری مکمل کرلی ہے۔ریفرنس منظوری کیلئے چیئرمین نیب کو بھیج دیا ہے، ملزم کے خلاف جلد ریفرنس دائر کردیا جائے گا۔عدالت نے نیب حکام کو ضیا الحسن لنجار کے خلاف ریفرنس جلد دائر کرنی ہدایت کرتے ہوئے کیس کی سماعت 9جولائی تک ملتوی کردی۔عدالت نے سابق صوبائی وزیر ضیا الحسن لنجار کی ضمانت میں بھی 9 جولائی تک توسیع کردی ۔




آصف زرداری نے ضمانت ازقبل گرفتاری کی ایک اور درخواست دائر کردی

اسلام آباد( وائس آف ایشیا ) سابق صدر آصف زرداری نے ضمانت ازقبل گرفتاری کی ایک اور درخواست دائر کردی ، جس میں کہا گیا نیب نے کال آف نوٹس 16مئی کو جاری کیا تھا، نیب نے مجھے انکوائری کیلیے بلایاہے گرفتاری کا خدشہ ہے۔تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق صدر آصف زرداری نے ضمانت ازقبل گرفتاری کی ایک اور درخواست دائر کردی ، درخواست وکیل کی جانب سے دائر کی گئی، آصف زرداری اپنے وکلا کے ساتھ پیش ہوں گے۔وکیل نے درخواست کیساتھ متفرق درخواست دائر کی ہے، جس میں کہا گیا نیب نے مجھے انکوائری کے لیے بلایا ہیگرفتاری کا خدشہ ہے ، نیب نے کال آف نوٹس 16 مئی کو جاری کیا تھا۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ کیسز کی سماعت مکمل ہونے تک ہائی کورٹ ضمانت دے۔یاد رہے نیب نے سابق صدرآصف علی زرداری کیخلاف ہریش کمپنی کیس میں ضمنی ریفرنس دائر کرنے اور ملزم نامزد کرنے کا فیصلہ کیا تھا اور کہا آصف علی زرداری کو نیب تحقیقات میں تعاون نہ کرنے پر ملزم بنایا جارہا ہے۔قومی احتساب بیورو (نیب) نے ہریش کمپنی کیس میں آصف علی زرداری کو 16 مئی کو طلب کیا تھا اور سابق صدر آصف زرداری نے 8 ارب روپیکی مشکوک ٹرانزیکشن اور اوپل 225 میں ایک ارب روپے رشوت لینے کے الزام پر نیب کے سامنے پیش ہوکر بیان ریکارڈ کرایا تھا۔بعد ازاں آصف زرداری کی نیب پیشی کی اندرونی کہانی سامنے آئی تھی، پی پی کے شریک چیئرمین نے تحقیقاتی ٹیم کو جواب دیا تھا کہ آج نیب کوآخری مرتبہ دستیاب ہوں، آئندہ پیش نہیں ہوں گا۔آصف زرداری کا کہنا تھا تحقیقاتی ٹیم سے غصے میں کہا کہ اب نیب نہیں ہوگی، یا تو نیب رہے گا یا پھر پاکستان کی معیشت، ہرایک کیپاس بلیک منی اوربزنس اکانٹس ہیں۔نیب کی تحقیقاتی ٹیم نے جعلی اکانٹس سے متعلق آصف زرداری سے سوال کیا تھا تو انہوں نے مشکوک اکانٹس اور ٹرانزیکشنز کو برنس اکانٹ کہا، تحقیقاتی ٹیم کے سوال دہرانے پر آصف زداری غصے میں آگئے تھے۔خیال رہے عدالت نے اوپل 225 انکوائری اور پارک لین کیس میں آصف زرداری کی 12 جون تک عبوری ضمانت منظور کی جبکہ توشہ خانہ ویکل انکوائری میں سابق صدر کی 20 جون تک عبوری ضمانت میں توسیع کردی گئی اور ہریش کمپنی کیس میں ان کی ضمانت میں 29 مئی تک توسیع کردی گئی۔




اسی کی دہائی میں امریکا نے پوری دنیا سے افغانستان میں لوگ جمع کئے،رحمان ملک

واشنگٹن( وائس آف ایشیا)پیپلزپارٹی کے سینیٹررحمان ملک نے کہا کہ80کی دہائی میں امریکانے پوری دنیا سے افغانستان کے لیے لوگ اکٹھے کئے، انہیں سوویت یونین کیخلاف استعمال کیا اور اپنے مقاصد پورے ہونے کے بعد چھوڑ دیا۔رحمان ملک نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ تقریب میں پاکستانیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسامہ کا نیٹ ورک سعودی عرب،یمن، صومالیہ اور افغانستان سے پوری دنیا میں پھیلا۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار پاکستانی شہری اور 10 ہزار سے زائد فوجی جوان شہید ہوئے، بین المذاہب ہم آہنگی دہشت گردی کم کرنے کا واحد راستہ ہے۔
وائس آف ایشیا21مئی2019 خبر نمبر103




بھارت اپنی فوج اورکالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کی آوازدبانے کی کوشش کررہاہے,شاہ محمودقریشی

 
اسلام آباد(وائس آف ایشیا)وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے بھارت پرزوردیاہے کہ وہ عام انتخابات کے بعدنئی حکومت کے برسراقتدارآنے پرعلاقائی امن کی خاطرپاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میزپرآئے۔پاکستا ن ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جنگ سے ہمیشہ تباہی آتی ہے اور خصوصا جب دونوں ملکوں کے پاس ایٹمی طاقت ہوتواس بارے میں سوچابھی نہیں جاسکتا۔وفاقی وزیرنے افسوس ظاہر کیاکہ کشمیرجل رہاہے کیونکہ بھارت اپنی فوج اورکالے قوانین کے ذریعے کشمیریوں کی آوازدبانے کی کوشش کررہاہے۔انہوں نے کہاکہ الیکٹرانک میڈیااورانٹرنیٹ کے جدیددورمیں کشمیریوں کی آوازکودبایانہیں جاسکتا۔شاہ محمودقریشی نے کہاکہ یورپی کمیشن اوراقوام متحدہ نے دوٹوک الفاظ میں کہاہے کہ کشمیری اپنے حق خودارادیت کے حصول کے لئے جدوجہدکررہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو نے پاکستان میں تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کااعتراف کیاہے۔ انہوں نے کہاکہ بھارت اس کی رہائی چاہتاہے تاہم اس پرپاکستانی قوانین کے تحت مقدمہ چلایاجائے گا۔
وائس آف ایشیا21مئی2019 خبر نمبر17




وزیراعظم نے جرات مندانہ فیصلے کئے ثمرات جلد قوم کو ملیں گے‘فردوس عاشق اعوان

اسلام آباد ( وائس آف ایشیا)کہ وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہاہے کہ وزیراعظم نے جرات مندانہ فیصلے کئے ہیں جن کے ثمرات جلد قوم کو ملیں گے اور پاکستان معاشی وسماجی لحاظ سے طاقتور ملک بن کر ابھرے گا-ٹوئٹر پر اپنے ایک بیان میں وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات ونشریات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ روایتی جماعتوں کے قائدین صرف اپنے بچوں اور اپنے مستقبل کیلئے فکر مند ہیں-وزیراعظم عمران خان کو قوم کے بچوں کا مستقبل سنوارنے کی فکر ہے-انہوں نے کہا کہ جماعتوں کو کمپنیاں سمجھ کر چلانے والوں کی خواہش ہے کہ پہلے انہوں نے لوٹا اب اگلی نسل کو قوم پر مسلط کر جائیں -انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے جرات مندانہ فیصلے کئے ہیں جن کے ثمرات جلد قوم کو ملیں گے اور پاکستان معاشی وسماجی لحاظ سے طاقتور ملک بن کر ابھرے گا-فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ حیرت ان پر ہے جو جمہوریت کی بات تو کرتے ہیں لیکن عمل سے موروثی غلامی کا درس دے رہے ہیں-
وائس آف ایشیا21مئی2019 خبر نمبر114




نیب نے حمزہ شہباز کی عبوری ضمانت خارج کرانے کی تیاری کرلی‘ذرائع

 
لاہور( وائس آف ایشیا) قومی احتساب بیورو ( نیب ) نے پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت خارج کرانے کی تیاری کرلی۔ذرائع کے مطابق نیب کے تفتیشی افسران نے حمزہ شہباز کے خلاف چارج شیٹ تیار کرلی ہے اور تمام شواہد اور ریکارڈ پراسیکیوشن ٹیم کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔نیب شہباز شریف خاندان کے گرفتارفرنٹ مینوں سے ہونے والی تفتیش سے متعلق عدالت کو آگاہ کرے گا۔شریف فیملی کی کمپنیوں میں کام کرنے والی ملازمین کے اکاؤنٹس میں ہونے والی ٹرانزیکشن سے متعلق بھی عدالت کا آگاہ کیا جائے گا ۔نیب کے مطابق شریف فیملی کی کمپنی کے چپڑاسی کے اکاؤنٹس سے 3 ارب روپے سے زائد کی ٹرانزیکشنز کی گئیں۔ملک مقصود احمد شریف فیملی کی ملکیت چنیوٹ انرجی آفس میں بطور چپڑاسی کام کرتا ہے۔ حمزہ شہباز اور سلمان شہباز بے نامی اکاؤنٹس میں رقم رکھتے جسے کیش کرایا جاتا رہا۔شہباز شریف، حمزہ شہباز اور سلمان شہباز نے خطیر رقم فضل داد عباسی کی معاونت سے بیرون ملک بھجوائی۔ عدالت میں حمزہ شہباز سے تحقیقات میں عدم تعاون کا الزام بھی عائد کیا جائے گا۔
وائس آف ایشیا21مئی2019 خبر نمبر144




جتنی جلدی حکومت جائے گی اتنا ملک اور عوام کیلئے بہتر ہے،شاہد خاقان عباسی

اسلام آباد ( وائس آف ایشیا)پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہچیئرمین نیب نے میاں محمد شہباز شریف کے حوالہ سے ایک کالم نگار کے ساتھ انٹرویو میں کوئی بات کہی ہے تو چیئرمین نیب کو یہ بات کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے،وہ سیاست میں نہیں ہیں انہوں نے کارروائی کرنی ہے کارروائی کریں، سیاسی آدمی کبھی یہ کام نہیں کرتا جو چیئرمین نیب نے باتیں کہی ہیں اور اگر کہی ہیں تو عوام کے سامنے آکر ان کا دفاع کر لیں، آکر بتائیں کس نے یہ کہا ہے، کیوں کہا ہے، کب کہا ہے، کون سا ثبوت ان کے پاس ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں این آر او لینے والے پر بھی لعنت اور دینے والے پر بھی لعنت۔ عمران خان نے کہا تھا کہ نریندر مودی دوبارہ جیت جائیں گے تو یہ ان کی پہلی بات ہے جو پچھلے نو ماہ میں سچ ثابت ہوئی ہے۔ عمران خان کی خواہش تھی کہ نریندر مودی دوبارہ جیت جائیں۔حکومت گر چکی ہے، یہ ایک جنازہ ہے جو پڑا ہوا ہے ، اس پہ آپ نے ماتم کرنا ہے تو ماتم کرتے رہیں، جتنی جلدی یہ جائے گی اتنا ملک کے عوام کے لئے بہتر ہے۔ حکومت اخلاقی اور سیاسی طور پر گری ہوئی ہے، اس کو پڑا رہنے دینا ہے پڑا رہنے دیں کوئی فرق نہیں پڑے گا، اس حکومت کا ہر لمحہ پاکستان پر بھاری ہے۔حکومت کا رویہ دیکھ لیں، کارکردگی دیکھ لیں، پالیساں دیکھ لیں ، کوئی امید کی کرن نہیں ہے۔ مریم نواز شریف پہلی دفعہ پارٹی سیاست میں آئی ہیں ،مریم نواز کی پارٹی ورکر کے دل میں جگہ ہے سپورٹرز اور عوام کے دل میں بھی جگہ ہے۔ مریم نواز سیاست میں ہیں پہلے ان کا کوئی باضابطہ کردار نہیں تھا لیکن اب ان کا باضابطہ کردار ہے۔ان خیالات کا اظہا شاہد خاقان عباسی نے نجی ٹی وی سے انٹرویو میں کیا۔ان کا کہنا تھا کہ نیب چیئرمین کا نام نہاد انٹرویو بڑا تشویشناک مسئلہ ہے کیونکہ یا کالم نگار جھوٹ بول رہے ہیں انٹرویو نہیں ہوا یا یہ ہوا ہے اور یہ باتیں نیب چیئرمین نے کی ہیں تو پھر ذرا آکر جواب دے دیں۔ ہم اس کی تحقیق مانگیں کے اورسپریم جوڈیشل کونسل میں جائیں گے، یہ ہمارا حق ہے، اگر وہ تردید جاری نہیں کرتے تویہ ہمارا حق ہے۔ نام لے کر باتیں کرنے کا کوئی قانونی حق چیئرمین نیب کو نہیں ہے بلکہ جس عہدے اور پوزیشن پر وہ بیٹھے ہیں اس کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری خارجہ پالیسی بھی معیشت کے تابع ہو گئی ہے اور وہ بھی پیسے لینے کے لئے داؤ پر لگا دی ہے۔ہو سکتا ہے کل سیاست بھی پیچھے رہ جائے اور معیشت اوورٹیک کر لے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت خطرناک صورتحال ہے۔ ان کا کہنا تھا کی وزیر اعظم سے لے کر ہر وزیر جھوٹ پہ جھوٹ بولے جا رہا ہے اور پرواہ ہی نہیں ہے کہ کل کوئی کہے گا کہ آپ نے جھوٹ بولا یا نہیں بولا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کے اجلاس میں ملکی مسائل پر بات ہوئی اور فیصلہ کیا گیا کہ کل جماعتی کانفرنس بلائی جائے گی جس میں مشترکہ لائحہ عمل بنائیں گے۔ اجلاس میں مہنگائی، بیروزگاری پر بات ہوئی، معیشت پر ہر شخص نے تشویش کا اظہار کیا۔ہم پاکستان کے عوام کے مسائل کے حل کی بات کر رہے ہیں ، اس کے لئے حکومت گرانا ہوا تو حکومت گرائیں گے،احتجاج کرنا ہوا تو احتجاج کریں گے، الیکشن کا مطالبہ ہوا تو الیکشن کا مطالبہ کریں گے، اس مسئلہ کا حل نکالیں گے کہ آج جو مہنگا ئی ہے، ملک میں جو ترقی کی رفتار ختم ہو گئی ہے، جو ملک کو آئی ایم ایف کے حوالہ کر دیا گیا ہے اس کا حل کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ (ن)لیگ کے اپنے اجلاس میں ہم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کم از کم تنخواہ 20ہزار مقرر کی جائے، گیس اور بجلی کی قیمتیں پرانی سطح پر لائی جائیں، ڈی اے پی اور یوریا کی پرانی قیمتیں بحال کی جائیں ورنہ ذراعت کا شعبہ بھی تباہ ہو گیا ہے اور کسان پریشان ہے، پیٹرول اور ڈیزل پر لگائے جانے والے اضافی ٹیکس ختم کئے جائیں، آئی ایم ایف کی جو بھی شرائط ہیں وہ بھی عوام کے سامنے رکھنی ضروری ہیں کیونکہ بڑے شدید شکوک و شبہات ہیں۔ ماضی میں جب آئی ایم ایف ہوتے تھے تو ملک بہتری کی طرف جا رہا ہوتا تھا، ریکوری شروع ہو چکی ہوتی تھی جب آئی ایم ایف پروگرام پر عمل ہوتا ہے، اس وقت معیشت گراوٹ کا شکار ہے اور آپ آئی ایم ایف پروگرام میں جا رہے ہیں اور ہر شخص آپ پر شبہ کر رہا ہے،اس لئے بڑا ضروری ہے کہ عوام کے سامنے رکھا جائے کہ ہوا کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ مزید بڑھے گا اور رواں سال ختم ہونے سے قبل یہ 15یا 16فیصد پر پہنچ سکتا ہے، یہ معاشی خود کشی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں۔ حمزہ شہباز اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں آئے پھر بھی تبصرے ہورہے ہیں اور اگر نہ آتے تو پھر بھی تبصرے ہوتے،لیکن پارٹی متحد ہے، شریف خاندان کے اندر کوئی دراڑ نہیں ہے، یہ بہت سے لوگوں کی خواہشات ماضی میں بھی رہی ہیں اور شائد آج بھی ہوں تاہم نہ ایسا ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے پارلیمنٹ میں فوری طور پر آنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، ابھی کوئی سیٹ خالی نہیں ہے اور جب کوئی سیٹ خالی ہو گی تو اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت محوس ہوئی تو تمام اپوزیشن جماعتیں حکومت کے خلاف تحریک بھی چلائیں گی، تحریک آخری مرحلہ ہے اور وہ اس وقت ہوتا ہے اس سے پہلے کے عوام آجائیں اورملک میں انارکی پھیل جائے ، سیاستدانوں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ ایک چینلائز طریقہ سے عوام کو سڑکوں پر لے کر آئیں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ نئے الیکشن کروائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی جون کے درمیان تک ہو جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ (ن)لیگ چاہتی ہے اپوزیشن مشترکہ حکمت عملی اپنائے اور عوام کے مسائل کی بات سب سے پہلے پارلیمنٹ میں کی جائے ۔ حکومت نے پارلیمنٹ کو مفلوج کر دیا ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ وزیر اعظم اپوزیشن کو گالیاں نکالتا ہے، ملک کیسے چلے گا۔ شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا جو کچھ آٹھ ماہ میں ملک میں ہوا ہے۔ شرح نمو آدھی رہ گئی ہے، مہنگائی دوگنی ہو گئی ہے اور ڈالر 25فیصد مہنگا ہو گیا ہے اس کا کوئی حل نظر نہیں آتا۔ میں یہ پیشگوئی کر سکتا ہوں بے پناہ مہنگائی ہو گی، بے پناہ بیروزگاری ہو گی اور حکوم کا کوئی گیم پلان نہیں ہے، معیشت آج فری فال میں ہیں۔ (ن)لیگ کی حکومت کی جانب سیمتعارف کروائی گئی ٹیکس اصلاحات کو اگر حکومت نافذ کر دے تو یہ بات یقینی ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نیٹ وسیع ہو گا اور حکومت کو موقع ملے گا کہ جو لوگ ٹیکس ادا نہیں کرتے جس میں ہمارے وزیر اعظم اور ان کی کابینہ کے 99فیصد لوگ بھی شامل ہیں وہ بھی اس ٹیکس نیٹ میں آجائیں گے۔
وائس آف ایشیا21مئی2019 خبر نمبر140




اسپیکرسندھ اسمبلی،آغا سراج درانی کے ریمانڈ میں30 مئی تک توسیع

کراچی( وائس آف ایشیا)آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں گرفتار اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے ریمانڈ میں 30مئی تک توسیع کردی گئی ہے جبکہ ریفرنس کی تیاری کیلئے نیب افسر نے مزید مہلت طلب کرلی ہے۔منگل کواسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کو سخت سیکیورٹی میں احتساب عدالت میں پیش کیا گیا،جہاں نیب حکام بھی عدالت کے روبرو پیش ہوئے۔سماعت کے آغاز پر ہی نیب حکام نے ریفرنس کی تیاری کیلئے مزید مہلت دینے کی استدعا کی ، جسے عدالت نے منظور کرلیا اس کے ساتھ ساتھ آغا سراج درانی کے جوڈیشل ریمانڈ میں 30مئی تک توسیع کردی۔پیشی سے قبل آغا سراج نے صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کی، جہاں ایک صحافی نے ان سے سوال کیا کہ اگر آج آپ کے خلاف ریفرنس بن گیا ہے تو اسکا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں؟ جس پر آغاسراج درانی نے کہا کہ تحقیقات ہوتی رہتی ہیں، جواب دینے کے لیے تیاری ہونی چاہیے۔اس موقع پر صحافی کے سوال پر جواب دیتے ہوئے آغا سراج درانی نے کہا کہ میرے ملازم کام چھوڑ کر کیوں جائینگے؟انہوں نے نے غلط کام تھوڑی کیا ہے۔صحافی کی جانب سے سوال کیا گیا کہ پیپلز پارٹی نے لاڑکانہ کو پیرس بنانے کی باتیں کی تھی، وہ جگہ ایڈز کا گڑھ بن چکی ہے، جس پر اسپیکر سندھ اسمبلی ایڈز پر سوال کا جواب گول کرگئے۔واضح رہے کہ آغا سراج درانی کی گرفتاری کو تین ماہ مکمل ہوچکے ہیں، انہیں 20 فروری 2019 کو اسلام آبادسے گرفتار کیا گیا تھا،آغا سراج درانی پر زائد اثاثہ جات کیس، غیر قانونی بھرتیوں اور سندھ اسمبلی بلڈنگ کی تعمیر کے فنڈز میں خردبرد کا بھی الزام ہے۔

وائس آف ایشیا21مئی2019 خبر نمبر147




قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق قواعد و ضوابط کا اجلاس کل ہوگا

اسلام آباد ( وائس آف ایشیا)قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے استحقاق قواعد و ضوابط کا اجلاس آج (بدھ کو)ہوگا، وزیراعظم کے وقفہ سوالات، قومی معاملات پر پورے ایوان کی کمیٹی کی تشکیل، ہر نماز کی اذان ہونے پر ایوان کی کارروائی 20 منٹ کے لئے معطل کرنے کے تین الگ الگ بلزبھی زیرغور آئیں گے، وزارت خارجہ کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول کے خلاف تحریک استحقاق پر بھی غور کیا جائے گا ۔رکن قومی اسمبلی فیض اﷲ خان نے وزارت خارجہ کے ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد عدیل پرویز کے خلاف تحریک استحقاق کے محرک ہیں ۔ کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاوس میں ہو گا ۔ کمیٹی کے چیئرمین رانا محمد قاسم نون بھی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے ایک تحریک کے محرک ہیں ۔ پی آئی اے کے خلاف بھی تحریک استحقاق ایجنڈے پر ہے ۔اسی طرح ارکان پارلیمنٹ کے طبی سہولت سے متعلق استحقاق پر بھی بریفنگ طلب کی گئی ۔ کمیٹی نے اس معاملے کا از خود نوٹس لیا ہے ۔ ارکان کو ملک کے تمام بڑے شہروں میں جدید ہسپتالوں میں طبی سہولیات کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ پارلیمنٹ ہاؤس پارلیمنٹ لاجز میں ڈسپنسری کی صورتحال لاجز میں تزئین و آرائش کے فنڈز کی عدم فراہمی اسی طرح ارکان کو سی ڈی اے کی طرف سے سامان کی فراہمی کے ناقص انتظام کا بھی نوٹس لیا گیا ہے ۔ متذکرہ اہم ایجنڈا آئٹمز کے سلسلے میں سیکرٹری خارجہ کو ڈپٹی چیف پروٹوکول کے ہمراہ کمیٹی میں آنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔قائمہ کمیٹی میں مختلف بلز بھی زیرغور آئیں گے ۔قومی اسمبلی میں ہر بدھ کو وزیراعظم کے وقفہ سوالات، قومی معاملات پر پورے ایوان کی کمیٹی کی تشکیل، ہر نماز کی اذان ہونے پر ایوان کی کارروائی 20 منٹ کے لئے معطل کرنے کے تین الگ الگ بلز شامل ہیں ۔ قومی اسمبلی میں وقفہ برائے نماز کے لئے قواعد میں ترمیم کے محرک متحدہ مجلس عمل کے رکن صلاح الدین ایوبی ہیں۔ ترمیم کے تحت قومی اسمبلی کی کارروائی ہر نماز کی اذان پر 20 منٹ کے لئے معطل کر دی جائے گی اور سپیکر ڈپٹی سپیکر وصدر نشین کو ضابطہ کار کے تحت لازمی طور پر وقفہ برائے نماز کا پابند بنایا جا رہا ہے۔ ترمیم کو کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا تھیا ۔ ہر کمیٹی میں ایک چوتھائی ارکان خواتین کو نامزد کرنے کی ترمیم کی محرک شازیہ مری ہیں۔ جبکہ نفیسہ شاہ ہر بدھ کو وزیراعظم کے وقفہ سوالات اور قومی معاملات پر پورے ایوان کی کمیٹی کے بلز کی محرک ہیں۔
وائس آف ایشیا21مئی2019 خبر نمبر141




داتا دربار دھماکے کے سہولت کار محسن خان گرفتارکا تعلق چارسدہ سے ہے

لاہور ( وائس آف ایشیا)داتا دربار خودکش حملے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے دھماکے کے سہولت کار محسن خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔محسن خان کا تعلق چارسدہ کے علاقے شبقدر سے ہے۔خود کش حملہ آور کی شناخت صدیق اللہ مہمند کے نام سے ہوئی۔خودکش حملہ آور صدیق اللہ اور محسن خان 8مئی کولاہور آئے تھے۔دونوں ملزمان نے داتا دربار کے قریب ایک مکان میں رہائش اختیار کی تھی۔سہولت کارنے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ 6مئی کو طور خم کے راستے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے۔حملہ آور کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا گیا ہے۔سی ٹی ڈی ذرائع کے مطابق خود کش حملہ آور کے سہولت کار سے بارودی مواد بھی برآمد ہوا ہےیاد رہے کہ 8 مئی کو بدھ کی صبح تقریباً 8 بج کر 45 منٹ کے قریب داتا دربار کے گیٹ نمبر 2 پر ایلیٹ فورس کی گاڑی کے قریب ایک زور دار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں سمیت 11 افراد شہید جبکہ 30 افراد زخمی ہو گئے تھے۔سانحہ داتا دربار کی تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جا چکی ہے۔سانحہ داتا دربار کے شہداء کی مالی امداد کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا ئی گئی تھی ۔ قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حنا پرویز بٹ کی جانب سے جمع کروائی گئی تھی۔ جس کے متن میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ سانحہداتا دربار حملے کے شہداکی مالی امداد کی جائے۔متن میں کہا گیا ہے کہ داتا دربار حملے میں شہید ہونے والا رفاقت علی تین بیٹیوں کا باپ تھا، محکمہ اوقاف نے رفاقت کو گزشتہ چار ماہ سے تنخواہ بھی ادا نہیں کی گئی، رفاقت کے جنازہ میں کسی حکومتی شخصیت نے شرکت تک نہیں کی، حکومت شہید رفاقت علی کے تینوں بیٹیوں کی کفالت کا ذمہ اٹھائے اور ان بچیوں کے تمام تعلیمی و گھریلو اخراجات بھی حکومت ادا کرے۔تاہم اب حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے امدادی پیکج کا اعلان کیا تھا۔ سانحہ داتا دربار میں شہید ہونے والے اہلکاروں کے اہل خانہ کی مالی امداد کے لیے حکومت پنجاب نے پیکج کی منظوری دے دی ہے۔ سانحہ داتا دربار میں شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کےاہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے مالی امداد کے طور پر دئے جائیں گے۔ شہید اہلکاروں کے اہل خانہ کو گھر لینے کے لیے ایک کروڑ پینتیس لاکھ روپے کی علیحدہ رقم ملے گی جبکہ سات سات مرلے کا پلاٹ اور اہل خانہ کو ہر ماہ تنخواہ بھی دی جائے گی جبکہ بیس ہزار روپے مینٹننس الاؤنس بھی دیا جائے گا۔




ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے اخراج کیلئے پاکستان کو سفارتی حمایت درکار

اسلام آباد( وائس آف ایشیا)تکنیکی امور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اائندہ 4 ہفتوں کے دوران بھرپور سفارتی کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے حمایت اور مطلوبہ تعداد میں ووٹس حاصل کیے جاسکیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ 16 سے 21 جون تک امریکی ریاست اورلینڈو کے شہر فلوریڈا میں ہونے والا ایف اے ٹی ایف کا پلانری اینڈ ورکنگ گروپ اجلاس پاکستان کے گرے لسٹ سے چھٹکارے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے بصورت دیگر اسے بلیک لسٹ میں شامل کردیا جائے گا جس کے سنگین اقتصادی نتائج ہوں گے۔فلوریڈا میں ہونے والا اجلاس دراصل پاکستان کے مستقبل کی راہ متعین کرے گا جبکہ باضابطہ اعلان 28 سے 23 اکتوبر کو پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ایف اے ٹی ایف کی ذیلی تنظیم ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) کے اجلاس میں شرکت کرنے والے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان اب اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ 2 ماہ میں ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر پورا اترنے کی غرض سے ریگولیٹری اور مانیٹرینگ کے حوالے سے بھرپور اقدامات کیے ہیں اور اب اس کا قانونی نظام بھی بہترین ہے، سوائے انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں کچھ ترامیم کے، جو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کے پاس زیرِ التوا ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے 15 سے 16 ووٹ درکار ہیں جبکہ بلیک لسٹ میں اندراج سے بچنے کے لیے کم از کم 3 ووٹ لازمی ہیں۔ایف اے ٹی ایف میں اس وقت 36 اراکین ممالک کے پاس ووٹ کا اختیار ہے اور 2 علاقائی تنظیمیں ہیں، جو دنیا بھر کے بڑے مالیاتی اداروں کی نمائندگی کرتی ہیں۔خیال رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے گزشتہ برس جون میں انسدادِ منی لانڈرنگ میں ’اسٹریٹجک خامیوں‘ کی بنا پر اس وقت پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کردیا تھا جب وہ دوست ممالک کے ذاتی سیاسی اہداف کے باعث 3 ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا تھا۔اس وقت صرف ترکی تھا، جو امریکا، برطانیہ، بھارت اور یورپ کی بھرپور مہم کے باوجود پاکستان کی حمایت پر ڈٹا رہا، دوسری جانب ائندہ برس چین ایف اے ٹی ایف کی صدارت کا منصب سنبھال لے گا جبکہ سعودی عرب خلیج تعاون کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے ایف اے ٹی ایف کا مستقل رکن بنے گا۔عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ اے پی جی اجلاس میں پاکستانی وفد نے اراکین کے سخت سوالات کے باوجود 10 نکاتی ایکشن پلان کے تحت اٹھائے گئے اقدامات پر بھرپور کیس پیش کیا، جس پر اے پی جی عمومی طور پر اسلام آباد کی کارکردگی پر مطمئن نظر آئے لیکن یہ اجلاس ایسا نہیں تھا کہ جس سے کوئی توقع یا نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔عہدیدار کے مطابق چین میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان نے اپنی کارکردگی رپورٹ جمع کروادی ہے اور کچھ معاملات کی وضاحت کے لیے اے پی جی اراکین کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔اب اے پی جی پاکستانی رپورٹ اور سوالات و جوابات کی روشنی میں امریکا میں 16 سے 21 جون کے درمیان ہونے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔
وائس آف ایشیا20مئی2019 خبر نمبر74




کیوں نہ نظر ثانی کر کے جعلی ڈگری والوں کیخلاف پرچہ درج کرنے کا حکم دیں،جسٹس عظمت سعید

اسلام آباد ( وائس آف ایشیا) سپریم کورٹ نے پائلٹس جعلی ڈگری کیس میں 8نظر ثانی و متفرق درخواستیں خارج کردیں ۔پیرکو سپریم کورٹ آف پاکستان میں پی آئی اے پائلٹس کی جعلی ڈگری کے کیس کی جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 3رکنی بنچ نے سماعت کی،سپریم کورٹ نے پی آئی اے کے 8ملازمین کی نظرثانی ومتفرق درخواستیں خارج کر دیں۔جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دئیے کہ عدالت اپنے فیصلے پر کیا نظر ثانی کرے، کیوں نہ نظر ثانی کر کے جعلی ڈگری والوں کے خلاف پرچہ درج کرنے کا حکم دیں، سپریم کورٹ کا مذاق بنایا ہوا ہے، عدالت کا ادب و احترام رہا ہی نہیں۔درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں استدعا کی کہ عدالت نے جو حکم دیا اس کی غلط تشریح کی جا رہی ہے، متعلقہ عدالتیں سپریم کورٹ کے فیصلے کی وجہ سے ہماری بات سننے کو تیار نہیں۔عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ عدالتیں قانون کے مطابق پی آئی اے کے ملازمین کی درخواستوں پر فیصلہ کریں۔سپریم کورٹ میں شازیہ آفریدی، ثمینہ قریشی، عبد الرؤف بیگ، نذر خان،کامران خان، طاہرہ سلطانہ، ثنا گل اور شکیب شوکت نے درخواستیں دائر کی تھیں۔دورانِ سماعت جسٹس عظمت سعید نے پی آئی اے کے وکیل عمر لاکھانی پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ تقریر کا شوق ہے تو کہیں اور جا کر کریں، آپ کو کیس کا پتہ نہیں ہوتا اور آ جاتے ہیں، جا کر دوبارہ لا کالج میں داخلہ لیں۔
وائس آف ایشیا20مئی2019 خبر نمبر69




لاہور ہائیکورٹ میں وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق درخواست سماعت کیلئے مقرر

لاہور( وائس آف ایشیا)لاہور ہائیکورٹ نے وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کیخلاف درخواست سماعت کے لیے مقرر کرنے کا کرنے کا حکم دے دیا ،عمران خان کے خلاف متفرق درخواست پر کیس کی سماعت آئندہ ہفتے میں ہوگی ۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد وحید خان نے وزیر اعظم عمران خان کی نا اہلی کے لیے کیس کی جلد سماعت کے لئے لائرز فاؤنڈیشن فار جسٹس کیمتفرق درخواست پر ابتدائی شنوائی کے بعد وزیراعظم عمران خان کی نااہلی سے متعلق درخواست آئندہ ہفتے میں سماعت ے لیے مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔درخواست میں وفاقی حکومت اور وزیر اعظم عمران خان کو فریق بنایا گیا ۔درخواست گزار نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں عمران خان نے لوگوں کو سول نافرمانی کے لیے اکسایا ہے۔ عمران خان نے لوگوں کو اکسایا کہ وہ ٹیکس نہ دیں اور بیرون ممالک سے رقوم بھی نہ بھیجیں۔عمران خان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ انہوں نے حامیوں سمیت پارلیمنٹ کی بلڈنگ پر دھاوا بولا اور اور گیٹ توڑے۔درخواست گزار نے عمران خان پر یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ انہوں نے ملکی سالمیت کے خلاف اقدامات کیے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے ملکی سیاسی نظام کو تباہ کرنے کی کوشش کی ہے۔درخواست گزار کی طرف سے استدعا کی گئی کہ عدالت وزیر اعظم عمران خان کو آرٹیکل 62 ون جی کے تحت نا اہل کرے اور آئین کے آرٹیکل 124 اے کے تحت کارروائی کا حکم دے۔یاد رہے رواں سال 21جنوری کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر اعظم عمران خان کے خلاف نااہلی کی درخواست خارج کر دی تھی۔عمران خان کے خلاف دائر درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ عمران خان نے کاغذات نامزدگی میں اپنی بیٹی کو چھپایا ہے جب کہ کیلیفورنیا کی عدالت نے عمران خان کے خلاف فیصلہ سنایا تھا۔عدالت نے درخواست گزار سے استفسار کیا کہ آپ کا کیس آئین کے کس آرٹیکل کے تحت ہے ؟ کیا آپ نے آرٹیکل 63 ایچ دیکھا ہے جو کہ اخلاقی اقدار سے متعلق ہے۔
وائس آف ایشیا20مئی2019 خبر نمبر67




نوازشریف کی العزیزیہ ریفرنس میں طبی بنیاد پردرخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد( وائس آف ایشیا) اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پرضمانت کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کرلی گئی ہے، نوازشریف متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں،العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطل کرکے ضمانت دی جائے،کل عدالت کا2 رکنی بنچ درخواست ضمانت پرسماعت کرےگا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قائد ن لیگ اور سابق وزیراعظم نوازشریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت کی درخواست سماعت کے مقرر کرلی گئی ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کا 2 رکنی بنچ کل درخواست ضمانت پرسماعت کرےگا۔ عدالت کے ڈویژن بنچ میں جسٹس عامرفاروق اورجسٹس محسن اخترکیانی شامل ہیں۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی ضمانت کی درخواست میں مئوقف اختیار کیا گیا ہے کہ میڈیکل بورڈ کی رائے کے مطابق نوازشریف متعدد بیماریوں میں مبتلا ہیں۔نوازشریف کا بلڈ پریشراورشوگر لیول ابھی تک معمول کے مطابق نہیں۔درخواست میں عدالت کو مزید بتایا گیا کہ نوازشریف کا بلڈ پریشر اور شوگرعارضہ ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے جو جان لیوا ہوسکتا ہے۔ نوازشریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا معطل کرکے ضمانت دی جائے۔ درخواست میں برطانیہ، امریکا اورسوئیزرلینڈ کے اسپیشلسٹ ڈاکٹروں کی رائے شامل کی گئی ہے۔ درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ نوازشریف چاہتے ہیں ان کا علاج بیرون ملک انہی ڈاکٹرزسے کرایا جائے۔نوازشریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت دی جائے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نے وکیل خواجہ حارث کے کے توسط سے ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی۔ درخواست میں چیرمین نیب، سپرنٹنڈنٹ جیل کوٹ لکھپت اوراحتساب عدالت کوفریق بنایا گیا ہے۔ واضح رہے سابق وزیر اعظم کو سپریم کورٹ نے علاجکروانے کے لیے 6 ہفتوں کی ضمانت دی تھی جس کی مدت 7 مئی کو ختم ہو ئی. سپریم کورٹ نے 26 مارچ کو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں میاں نواز شریف کو چھ ہفتوں کی ضمانت دی تھی. چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم میاں نواز شریفکی ضمانت میں توسیع سے متعلق نظرثانی کی درخواست کو مسترد کردیا تھا جبکہ میاں نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ تھاکہ ان کے موکل کی طبیعت میں بہتری نہیں آئی لہذا ان کی ضمانت کی مدت میں مزید 8 ہفتوں کی توسیع کی جائے. جس پر بینچ کے سربراہ نے استفسار کیا کہ کیا اس عرصے کے دوران ان کے موکل کا علاج شروع کیا گیا جس پر میاں نواز شریف کے وکیل کا کہنا تھا کہ اس عرصے کے دوران عارضہ قلب کا علاج تو نہیں ہوسکا البتہ ان کی شوگر اور گردوں کے امراض کا علاج ضرور کیا گیا ہے. واضح رہے کہ اسلام آباد کی احتساب عدالت نے گذشتہ برس دسمبر میں میاں نواز شریفکو العزیزیہ سٹیل ملز کے مقدمے میں 7 سال قید کی سزا سنائی تھی سابق وزیر اعظم لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے۔




چیک باونس کیس: سابق گورنر عشرت العباد کے بھائی عامر العباد کو جیل بھیج دیا گیا

کراچی(وائس آف ایشیا) عدالت نے چیک باونس کے مقدمے میں گرفتار سابق گورنر سندھ عشرت العباد کے بھائی عامر العباد کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔پولیس نے عامر العباد کو جوڈیشل مجسٹریٹ ساتھ کی عدالت میں پیش کیا جہاں ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی گئی۔عدالت نے تفتیشی افسر سے سوال کیا کہ آپ نے اب تک کیا تفتیش کی؟ اس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم اور دیگر گواہوں کیبیانات ریکارڈ کرلیے ہیں، تفتیشی افسر کے جواب پر عدالت نے کہا کہ یہ آدھے گھنٹے کا کام ہوتا ہے۔عامر العباد کے وکیل نے کہا کہ عدالت میں ملزم کی ضمانت کی درخواست جمع کرارہے ہیں اس پر جرح کرلی جائے جس پر عدالت نے آج منگل صبح کا وقت دیا۔تاہم عدالت نے پولیس کی جانب سے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مستردکرکے ملزم عامر العباد کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔واضح رہے کہ سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کے بھائی عامر العباد کو 17 مئی کو کراچی کے علاقے گلستان جوہر سے گرفتار کیا گیا ان پر تھانہ سٹی کورٹ میں چیک بانس ہونے کا مقدمہ درج ہے۔




وزیراعلیٰ پنجاب سے وزیر داخلہ کی ملاقات

لاہور (وائس آف ایشیا) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار سے وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ نے ملاقا ت کی جس میں مذہبی منافرت پر مبنی لٹریچر کی اشاعت و تقسیم کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ ایوان وزیراعلی میں وزیراعلی عثمان بزدار اور وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر اعجاز شاہ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں صوبے میں امن و امان اور سکیورٹی کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کے حوالے سے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پرامن وامان اور سکیورٹی کی صورتحال کی مزید بہتری کیلئے ہرممکن اقدام اٹھانے پر اتفاق کیا گیا اورمذہبی منافرت پر مبنی لٹریچر کی اشاعت و تقسیم کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا۔ ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہوگی۔ امن عامہ کی بہتری کیلئے پنجاب اور وفاق کے درمیان مربوط کوآرڈینیشن پر بھی اتفاق کیا گیا۔ وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار کا کہنا تھا کہ قانون ہاتھ میں لینے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔ کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ صوبے میں قانون کی عملداری کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔ وفاقی وزیر داخلہ بریگیڈیئر (ر) اعجاز شاہ کا کہنا تھا کہ وفاقی وزارت داخلہ امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے پنجاب حکومت کو سپورٹ کرے گی۔ پنجاب کے بعد دیگر صوبوں کے بھی دورے کروں گا۔




پیرا گون ہاؤسنگ سوسائٹی ،خواجہ برادران کی درخواست ضمانت کی سماعت

لاہور (وائس آف ایشیا) لاہور ہائیکورٹ نے پیرا گون ہاؤسنگ سوسائٹی میں ملوث خواجہ برادران کی جانب سے دائر کردہ درخواست ضمانت پر سماعت کرتے ہوئے آئندہ سماعت 27 مئی تک ملتوی کر دی ہے۔ عدالت نے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی ضمانت کی درخواستوں پر وکلا کو حتمی دلائل دینے کی ہدایت کر دی۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بنچ نے خواجہ برادران کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کی۔ بنچ کے استفسار پر خواجہ برادران کے وکیل امجد پرویز نے بتایا کہ دونوں بھائیوں کیخلاف ابھی تک ریفرنس داخل نہیں کیا گیا، وکیل کے مطابق خواجہ برادران پر بے بیناد الزام لگایا گیا۔ نیب کے وکیل نے بتایا کہ دونوں بھائیوں کے بینک اکاونٹس میں رقم منتقلی کے ثبوت ملے ہیں۔ خواجہ برادران کے وکیل نے آگاہ کیا کہ ان کے ٹیکس گوشوارے میں تمام تفصیلات ظاہر کی ہیں، وکیل کے مطابق نیب جس رقم کا تذکرہ کر رہے وہ سروسز چارجز ہیں جو وصول کیے ہیں۔ نیب کے وکیل نے بتایا کہ خواجہ برادران نے پیراگون ہاوسنگ سوسائٹی میں شہریوں کیساتھ فراڈ کیا ہے۔ عدالتی استفسار پر نیب نے بتایا کہ اب تک 68 شہریوں کی شکایات موصول ہوئی ہیں، ضمانت کی درخواستوں پر مزید کارر 27 مئی کو ہوگی۔




افطار میں لوٹ مار کے مال کے تحفظ کا تجدید عہد کیا گیا،فردوس عاشق

اسلام آباد( وائس آف ایشیا)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ افطار میں لوٹ مار کے مال کے تحفظ کا تجدید عہد کیا گیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ قصیدہ گو اور دربان موروثی سیاسی آمریت کے ہاتھ پر بیعت کی گردانیں پڑھنا شروع کر دیں گے، غلامی میں نہیں جانے دیں گے، عمران خان قوم کو غلام ابن غلام بنانے سے بچانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔یاد رہے گزشتہ روز چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے افطار ڈنر پر اپوزیشن جماعتیں حکومت کیخلاف مشترکہ لائحہ عمل بنانے پر متفق ہوئیں، اس مقصد کیلئے عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس(اے پی سی)بلائی جائے گی۔
وائس آف ایشیا20مئی2019 خبر نمبر73




پاکستان کو جمہور اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے حصول کے تحت ہی چلایا جا سکتا ہے،مریم نواز

 
اسلام آباد ( وائس آف ایشیا) پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کو کسی اپوزیشن ،کسی دشمن ،کسی تحریک کی ضرورت نہیں ہے یہ خود ہی گرتی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان کو جمہور اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے حصول کے تحت ہی چلایا جا سکتا ہے۔ ان قیادت کا اظہار انہوں نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس میں پارٹی اجلاس سے قبل میڈیا سے مختصر بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ مریم نواز نے کہا کہ پاکستان کو پارلیمنٹ جمہوریت سویلین بالادستی عوامی بالادستی کے اصولوں پر ہی چلایا جا سکتا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ موجودہ حکومت خود گرتی نظر آ رہی ہے اس کو کسی اپوزیشن، دشمن اور تحریک کی ضرورت نہیں ہے۔ بعدازاں مریم نواز نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے چیمبر میں پارٹی کے محدود اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی، پارٹی کا محدود مشاورتی اجلاس چیئرمین سینیٹر راجہ ظفر الحق، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی صدارت میں ہوا۔ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز، رانا تنویر حسین، مریم اورنگزیب اور دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ قومی اسمبلی کے آج منگل سے شروع ہونے والے اجلاس کی حکمت عملی طے کی گئی۔ شاہد خاقان عباسی نے متحدہ اپوزیشن کے گزشتہ روز کے اجلاس کے فیصلوں کے بارے میں اعتماد میں لیا۔ یاد رہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے متفقہ فیصلے کے مطابق عید کے بعد مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں کل جماعتی کانفرنس ہو گی۔ تمام اپوزیشن جماعتیں اپنے فورمز پر ایجنڈا طے کر کے اے پی سی میں تجاویز پیش کریں گی۔
وائس آف ایشیا20مئی2019 خبر نمبر86