پی ٹی آئی کے نیا پاکستان ہاؤسنگ پراجیکٹ کی عالمی سطح پر بھی پذیرائی

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) پاکستان تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد ملک کی غریب عوام کے لیے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کا اعلان کیا تھا۔ جس میں کئی غیر ملکی کمپنیوں اور کاروباری حضرات نے پاکستان تحریک انصاف کو مالی اور تعمیری معاملے میں مدد فراہم کرنے کی پیشکش کی۔ حال ہی میں مصر کے ایک ارب پتی شخص نے نیاپاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو ایک لاکھ گھر تعمیر کر کے دینے کی پیشکش کر دی ہے۔تفصیلات کے مطابق مصری کے ارب پتی نیگوئب سویرس وزیراعظم عمران خان نے نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں بڑے پیمانے پر اپنا حصہ ڈالنے کے خواہشمند ہیں۔ سویرس وزیراعظم عمران خان کو اس بات کا احساس دلانا چاہتے ہیں کہ وہ غریب عوام کے لیے گھروں کی تعمیر کرکے ان کی مدد کرنے کا بھرپور جذبہ رکھتے ہیں۔سویرس کے اورا ڈیویلپرز اینڈ سیف ہولڈنگ کے ساتھ جوائنٹ وینچر کرنے والے ایلیٹ اسٹیٹ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر طارق حمدی نے بتایا کہ سیویرس نے پاکستان تحریک انصاف کے نیا پاکستان بنانے کی نظریے کے تحت نیا پاکستان ہاؤسنگ اسکیم میں ایک لاکھ گھر تعمیر کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔اس پراجیکٹ سے متعلق مصری ارب پتی شخص کا ماننا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کا یہ پراجیکٹ کافی نمایاں ہے۔ حمدی نے کہا کہ میرے خیال میں تمام ڈیویلپرز کو اس اسکیم کی تعمیر میں موجودہ حکومت کی مدد کرنی چاہئیے۔ ملک بھر میں پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کے لیے صرف حکومت پر ہی انحصار نہیں کرنا چاہئیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اتنی بڑی اسکیم کی تعمیر میں پانچ سال سے زائد یا ایک دہائی سے زیادہ کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔حمدی نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ قابل تعریف ہے لیکن اس کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے باری باری اقدامات کرنا ہوں گے۔ واضح رہے کہ مصر کے مذکورہ ارب پتی شخص نیگوئب سویرس پہلے بھی پاکستان کے مختلف سیکٹرز میں سرمایہ کاری کر چکے ہیں۔ ان کی پاکستان میں کی گئی پہلی بڑی سرمایہ کاری موبائل نیٹ ورک موبی لنک میں تھی۔ جس کے بعد انہوں نے رئیل اسٹیٹ کی دنیا میں قدم رکھا اور اب ان کی فرم ”اورا” 2 بلین کے پراجیکٹ میں 60 فیصد کی شراکت دار ہے۔ اس پراجیکٹ میں ایک فائیو اسٹار ہوٹل، 1068 گھر، 921 رہائشی اپارٹمنٹس،بزنس پارکس،اسپتال ، اسکول،13 دفاتر کی عمارتیں،گالف کورس اور دیگر تعلیمی سہولیات شامل ہیں۔




عمران خان انتخابات میں کئے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے ، خواجہ آصف

اسلام آباد(وائس آف ایشیا ) مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان انتخابات سے قبل کیے گئے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہے، ہمارا زرداری کے ساتھ سیاسی سمجھوتہ ہوا ہے لیکن ہمارا مقصد حکومت گرانا نہیں ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مجھے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ایک دوسرے کے خلاف بیان یاد ہیں، 1988 سے 1999 تک یہ دونوں باہم دست و گریبان رہے لیکن سابق تجربات سے سبق سیکھ کر 2006 میں بے نظیربھٹو اور نواز شریف نے آپس میں میثاق جمہوریت کیا اس کے بعد بھی اختلافات رہے پچھلے چند سال میں بھی تلخی رہی جس میں دونوں جماعتوں کی قیادت نے ایک دوسرے کے خلاف بیانات دیے۔سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ہماراجو اتحاد ہوا ہے اس میں یہ کہیں نہیں کہا گیا کہ یہ اتحاد حکومت کو گرانے کے لیے بنا ہے، ہائی مورل گرانڈ کی باتیں کرنے کے بعد عمران خان نے ایم کیو ایم، شیخ رشید اور پرویز الہی کے متعلق بہت کچھ کہا پھر اس کے بعد انھیں اپنے ساتھ شامل کرلیا، وہ کہتے تھے کہ میں 7 ہزار ارب ٹیکس اکٹھا کرلوں گا، ایک کروڑ نوکریاں دوں گا، 50 لاکھ گھر دوں گا لیکن وہ کچھ بھی کرنے میں ناکام رہا، ہمارا زرداری کے ساتھ سیاسی سمجھوتہ ہوا ہے لیکن ہمارا مقصد حکومت گرانا نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اگرچہ بعض ہدایات نوازشریف سے لیتے ہیں لیکن جب سمجھا جائیگا کہ ان کی ضرورت میڈیا میں ہے تو وہ سامنے آجائیں گے اور جب ضرورت پڑی تو وہ ضروربولیں گے، ہم اپنی اسٹریٹیجی کے تحت کام کر رہے ہیں جس کے نتائج مل رہے ہیں حکومت غلطیوں پرغلطیاں کر رہی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جو تعلقات میں تنا آیا اس میں فریقین نے غلطیاں بھی کیں لیکن اس وقت تعلقات میں کوئی خرابی نہیں ہے، میں چار سال تک وزیر دفاع بھی رہا اور 10ماہ تک وزیر خارجہ بھی رہا، ان دونوں وزارتوں میں فوج کا بہت عمل دخل ہوتا ہے ہمارے جن ممالک کے ساتھ تعلقات ہیں ان کے ساتھ فوجی تعلقات بہت اچھے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ میرے گورنمنٹ کالج کے زمانے کے بہت پرانے تعلقات تھے میں ان کے جانے کے بعد ان پرکوئی تبصرہ نہیں کر سکتا، عدلیہ کے لوگوں کے ساتھ میرے جتنے اختلافات ہوں لیکن اس ادارے کی حفاظت اور تقدس بطور محب وطن ہم سب کا فرض ہے۔




مستقبل میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان آتے دیکھ رہا ہوں,شیخ رشید

لاہور (وائس آف ایشیا)وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا ہے کہ میں مستقبل میں امریکی صدر کو پاکستان آتا دیکھ رہا ہوں۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ صفائی کی مہم اور خوش اخلاقی کی مہم چلا رہے ہیں۔ اسلام آباد میں مرکز شکایات کھول رہے ہیں۔ ہم نے مزید 20 ٹرینیں چلانی ہیں۔تمام اسٹیشن پر واٹر فلٹر پلانٹ لگائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ 25 جنوری کو مال گاڑی کا افتتاح کرنے جا رہے ہیں۔ 2 نئی مال گاڑیاں چلا رہے ہیں۔ اپنے وسائل میں رہتے ہوئے اقدامات کر رہے ہیں۔ عمران خان کے علاوہ کوئی آپشن نہیں۔ وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے فرماں روا پاکستان آئیں گے تو سب کو سرمایہ کاری کا پتہ چلے گا۔میں تو مستقبل میں امریکی صدر کو پاکستان کا دورہ کرتا دیکھ رہا ہوں۔ دوست ممالک سے فنڈز لینے پر وہ شرائط نہیں ہوں گی جو آئی ایم ایف کی ہیں۔ پاکستان کے پاس 6 ماہ کی درآمدات کے لیے ذخائر موجود ہیں۔ تمام ادارے اور قوم عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ زرداری صاحب کا بھی کھاتہ کھلا ہے، انہیں رات کو نیند کیسے آتی ہوگی۔ مجھے بس بلاول کی فکر ہے کہ اس کے ساتھ آگے کیا ہوگا۔بلاول کو پیغام بھیجا ہے بھٹو بنو زرداری مت بنو۔ شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے سینئر رہنماؤں کو بلاول کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئیے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے پتا ہے کہ رانا ثنااللہ کس کی زبان بول رہا ہے، اس کی دم پر پاوں رکھنے پبلک اکاونٹس کمیٹی میں آرہا ہوں۔ انہوں نے کہا شہباز شریف کو پبلک اکاؤنٹس کا چیرمین لگانا سیاسی بد دیانتی ہے، اگراسمبلی چلانے کے لیے عمران خان نے یہ کیا تو ٹھیک ہے میں عمران خان کے ساتھ کھڑا ہوں لیکن شہباز کو چیرمین پبلک اکاؤنٹس لگانا ایک غلط فیصلہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں میرا جانا بہت ضروری ہے، میں پی اے سی میں جا کر ان کا احتساب کروں گا، مجھے پی اے سی کا ممبر بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ شریف اور زرداری خاندان کا اب کوئی مستقبل نہیں ہے، شہباز شریف جتنی بھی کوشش کرلیں این آر او نہیں ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ کرپٹ لوگوں کی ملک میں کوئی گنجائش نہیں، کرپٹ لوگوں کو پذیرائی ملی تو جمہوریت کو خطرات لاحق ہوں گے، کرپشن کو پھر پذیرائی ملی تو جمہوریت کو شدید نقصان ہوگا۔ منی بجٹ سے عام آدمی کو نقصان نہیں ہوگا۔




علیمہ خان کی پاکستان میں کمپنی رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف،2016تک ٹیکس دیا

اسلام آباد(وائس آف ایشیا ) وزیر اعظم عمران خان کی بہن علیمہ خان کی پاکستان میں کمپنی رجسٹرڈ ہونے کا انکشاف،2016تک ٹیکس دیا ۔نجی ٹی وی نے علیمہ خان کی ٹیکس دستاویزات حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ رپورٹ کے مطابق علیمہ خان کے نام پر ایس ای سی پی میں ایک کمپنی رجسٹرڈ ہے۔ علیمہ خان کاٹ کام سورسنگ پرائیویٹ لمٹیڈ کی سی ای او ہیں، دو بیٹے شاہ ریز اور شیر شاہ کمپنی کے ڈائریکٹرز ہیں۔ علیمہ خان کی کمپنی کاٹ کام بھی ایکٹو ٹیکس پیئرز کی فہرست میں موجود ہے۔دستاویزات کے مطابق، کاٹ کام سورسنگ پرائیویٹ لمٹیڈ نے 2016 میں 18 لاکھ 27 ہزار، 2015 میں 32 لاکھ 82 ہزار، 2014 میں 24 لاکھ 90 ہزار روپے سے زائد ٹیکس ادا کیا جبکہ علیمہ خان نے 2013 میں 20 لاکھ 62 ہزار روپے، 2014 میں ایک لاکھ 58 ہزار، 2015 میں ایک لاکھ 86 ہزار جبکہ 2016 میں ایک لاکھ 30 ہزار روپے سے زائد ٹیکس ادا کیا۔




وزیراعلیٰ پنجاب اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کی ملاقات

لاہور (وائس آف ایشیا) وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اور اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کی ملاقات ہوئی۔ تفصیلات کیمطابق دونوں رہنماؤں کے مابین ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے مابین تحفظات دور کرنے کی کوشش ناکام ہو گئی۔ ملاقات میں اسپیکر پنجاب اسمبلی نے وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے سامنے شکووں اور شکایات کی پٹاری کھول دی۔پرویز الٰہی نے کہاکہ آپ کی قیادت سے اتحاد کے جو معاملات طے ہوئے تھے ان پر تاحال عمل نہیں ہوا۔مرکز اور پنجاب میں دو ، دو وزارتیں طے ہوئیں ، تاحال ان پر کوئی عملدرآمد نہیں کیاگیا۔ ذرائع ق لیگ کے مطابق اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کے شکووں پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ یہ تو میرے علم میں ہی نہیں ہے ، میں وزیراعظم سے بات کرتا ہوں۔پرویز الٰہی نے کہا کہ آپ کے والد سے میرے ذاتی تعلقات تھے، پھر بھی معاملات صحیح نہیں چل رہے۔ جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ جو بھی پوسٹنگ ٹرانسفر اور دوسرے انتظامی کام ہیں وہ فوری طور پر ہوں گے۔جس پر پرویز الٰہی نے کہا کہ پوسٹنگ اور ٹرانسفر کوئی ایشو نہیں ہے۔ بس ہمارے مابین ہوئے معاہدوں پر عمل ہونا چاہئیے۔ذرائع ق لیگ کے مطابق وزیر معدنیات کے استعفے کا مطالبہ نہ حل ہوا اور نہ ہی اتحادی مانے۔ جس پر وزیراعلیٰ پنجاب نے لاعلمی کا اظہار کیا اور یہ معاملہ وزیراعظم عمران خان کیپاس لے جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ دوسری جانب وزیرا طلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے دعویٰ کیا کہ ق لیگ سے تمام معاملات طے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمار یاسر کے استعفے کا معاملہ بھی حل کر لیا گیا ہے، اگر وزیراعلیٰ پنجاب سے پہلے بات کر لی جاتی تو یہ معاملہ پہلے ہی حل ہو جاتا۔انہوں نے کہا کہ چوہدری برادران انتہائی سمجھدار سیاستدان ہیں، حکومت کا ایک ستون ہم اور دوسرا ستون وہ ہیں لہٰذا وہ کچھ ایسا نہیں کریں گے جس سے حکومت میں مسئلہ پیدا ہو۔ ایک طرف فیاض الحسن چوہان کا بیان ہے لیکن دوسری جانب در حقیقت اندرونی کہانی کچھ اور ہی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق وزیراعلٰی پنجاب سردار عثمان بزدار سے اسپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الٰہی کی ملاقات بے سود ہونے پر ق لیگ نے اسلام آباد میں اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں اتحاد سے متعلق معاملات زیر غور آئیں گے۔




اگلے 20 سال میں پاکستان کو 81 ہزار 200 اسکول درکار ہوں گے ، رپورٹ

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) اقوامِ متحدہ آبادی فنڈ سروے میں کہاگیا ہے کہ اگلے 20 سال میں پاکستان کو 81 ہزار 200 اسکولوں کی ضرورت ہوگی جبکہ صوبہ بلوچستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی صورتِ حال انتہائی ابتر ہے۔تفصیلات کے مطابق اقوامِ متحدہ آبادی فنڈ اور دیگر اداروں کے اشتراک سے ہونے والے سروے کی چاروں صوبوں کی تعلیمی رپورٹ جاری کر دی گئی ، جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں آئندہ بیس سال میں مزید 35000 ، سندھ میں 25000، خیبر پختونخوا میں 14000 اوربلوچستان میں 7200 اسکول درکار ہوں گے۔رپورٹ میں بتایا گیا پنجاب میں 5 سے 16 سال کی عمر کے چار بچوں میں سے ایک بچہ اسکول داخل نہیں ہوپاتا اور یہاں 22 فیصد لڑکے اور 31 فیصد لڑکیاں پرائمری تعلیم تک حاصل نہیں کر پاتیں۔سروے رپورٹ کے مطابق صوبہ بلوچستان میں لڑکیوں کی تعلیم کی صورتِ حال انتہائی ابتر ہے، جہاں بچیوں کی آدھی سے زیادہ آبادی کو اسکول تک رسائی میسر نہیں جبکہ سندھ میں 5 سے 16 سال کی عمر کی 46فیصدلڑکیاں پرائمری اسکول تک نہیں جا پاتیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا خیبر پختونخوا میں اسکول نا جانے والی بچیوں کی تعداد آبادی کا 40 فیصد ہے، اگر حکومت نے تعلیم کے شعبے کی بہتری کے لئے ترجیحی بنیاد پر کام نہ کیاتو اگلے بیس سال میں بچوں کے لئے پرائمری تک تعلیم حاصل کرنا مزید محال ہو جائے گا۔




بھلے جان چلی جائے منشیات کا ناسور ختم کریں گے، شہریار آفریدی

اسلام آباد(وائس آف ایشیا ) وزیرمملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے کہا ہے کہ بھلے جان چلی جائے منشیات کا ناسور ختم کریں گے۔اسلام آباد میں تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال سے متعلق سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے شہریار آفریدی نے کہا کہ ڈرگ مافیا آنے والی نسلوں سے کھیل رہا ہے، فورسز کو کہہ دیا منشیات کے معاملے پر سمجھوتہ نہیں کرنا، منشیات کے معاملے میں وہ لوگ ملوث ہیں جن کو آپ عزت دیتے ہیں، بھلے جان چلی جائے منشیات کا ناسور ختم کریں گے۔وزیرمملکت داخلہ کاکہنا تھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ ایک مافیا کے خلاف ہمیں بولڈ ہونا پڑے گا، ہم ہمت نہیں ہاریں گے اور ایسے لوگوں کو عبرت کا نشان بنادیں گے۔شہریار آفریدی نے کہا کہ چائلڈ پورنو گرافی بھی منشیات کی وجہ سے ہو رہی ہے، منشیات کی وجہ سے 72 گھنٹے تک بچے اپنے آپ پر قابو نہیں رکھ پاتے۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے خیبرپختونخوا میں تین سال ہمیں گالیاں پڑیں، میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم آخر تک جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جی 11 کے سگنل پر منشیات کے خلاف پمفلٹ تقسیم کیے، کسی نے میرے ساتھ سگنل پر تصاویر بنوائیں اور وہ بعد میں پکڑا گیا۔ پکڑے گئے شخص سے متعلق خبر چلی کہ وہ میرا کوئی خاص ہے۔




پاکستان خوبصورت ملک، یہاں آنا اعزاز کی بات ہے، ماریہ فرنینڈا

 اسلام آباد(وائس آف ایشیا) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ فرنینڈا نے پاکستان کو خوبصورت ملک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں آنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، پاکستان میں 10ارب درخت لگانے کا منصوبہ یقیناً ورلڈ ریکارڈ ہوگا، پاکستان کا قدرتی آفات کو کم کرنے کیلئے شجرکاری مہم اچھا اقدام ہے۔ وزیرخارجہ پاکستان شاہ محمود قریشی اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ فرنینڈا آج یہاں مشترکہ پریس کانفرنس کررہے تھے۔صدراقوام متحدہ جنرل اسمبلی ماریہ فرنینڈا نے کہا کہ وزیرخارجہ پاکستان سے سے ملاقات بہت مفید رہی۔ ماحولیاتی تبدیلی کے چینلجزسے پاکستان کے ساتھ مل کرنبرد آزما ہوں گے۔ ماریہ فرنینڈا نے کہا کہ پاکستان کا قدرتی آفات کو کم کرنے کیلئے شجرکاری مہم اچھا اقدام ہے۔پاکستان میں 10ارب درخت لگانے کا منصوبہ یقیناً ورلڈ ریکارڈ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان جیسے خوبصورت ملک میں آنا میرے لیے باعث اعزازہے۔پاکستان کی 60 فیصد آبادی نوجوانوں پرمشتمل ہے۔ پاکستان جیسے خوبصورت ملک میں آنا میرے لیے باعث اعزازہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی افغان مہاجرین کیلئے خدمات قابل تحسین ہیں۔ افغان امن عمل میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ اس موقع پر پاکستانی وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ صدراقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے کئی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پربات چیت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماریہ فرنینڈا کو آگاہ کیا کہ پاکستان میں ماحولیاتی بہتری کیلئے کئی اقدامات کیے ہیں۔ ماریہ کو وزیراعظم عمران خان کے 10ارب درخت لگانے کے منصوبے سے بھی آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صدر یو این اسمبلی کو بتایا کہ خواتین کے بنیادی حقوق کیلئے بھی حکومت اقدامات کررہی ہے۔ ماریہ فرنینڈا کوسفارتی پوزیشنزپر اپنے ملک کی نمائندگی کا وسیع تجربہ ہے۔




سی پیک کی قبل ازوقت تکمیل سے عوام کووسیع معاشی مواقع ملیں گے، وزیراعظم

اسلام آباد( وائس آف ایشیا)وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ سی پیک منصوبوں کی قبل ازوقت تکمیل سے عوام کو وسیع معاشی مواقع ملیں گے،سی پیک منصوبوں پر کام تیز اور اس حوالے سے بزنس ایڈوائزری کونسل تشکیل دی جائے۔وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت سی پیک سے متعلق اجلاس ہوا، اجلاس میں سی پیک منصوبوں پرپیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعظم کو انفراسٹرکچراور گوادر کی ترقی سے متعلق بھی بتایا گیا۔وزیراعظم نے سی پیک منصوبو ں پرکام کی رفتارتیز کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک منصوبوں کی قبل ازوقت تکمیل سے عوام کووسیع معاشی مواقع ملیں گے اورسی پیک بزنس ایڈوائزری کونسل تشکیل دی جائے، سی پیک منصوبوں سے سماجی اقتصادی سرگرمیاں پیداہوں گی۔وزیراعظم نے کہا کہمنصوبے جلد مکمل کرنا پاکستان کے مفاد میں ہے، پاکستان عوام کوغربت سے نکالنے کیلئے چینی تجربے سے فائدہ اٹھاسکتا ہے، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ سی پیک اقتصادی زونزپرکام تیزکرنے کیلئے چارہفتے میں سفارشات دیں۔




پاکستان کی جمہوریت میں مزید دودرجے تنزلی،دنیا بھر میں 112ویں نمبر پر آگیا

اوسلو(وائس آف ایشیا)مؤقر جریدے اکانومسٹ کے انٹیلیجنس یونٹ نے دنیا بھر میں جمہوریت کی صورت حال سے متعلق اپنا گیارہواں عالمی انڈکس جاری کر دیا ہے،جمہوریت سے متعلق ایک عالمی انڈکس میں پاکستان دو درجے تنزلی کے بعد 112 ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔ گزشتہ برس پاکستان سمیت دنیا بھر میں انتخابی عمل میں شرکت میں اضافہ ہوا۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق مؤقر جریدے اکانومسٹ کے انٹیلیجنس یونٹ نے دنیا بھر میں جمہوریت کی صورت حال سے متعلق اپنا گیارہواں عالمی انڈکس جاری کر دیا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق سن 2018 میں دنیا بھر میں مجموعی طور پر سیاسی عمل میں شرکت کے رجحان میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ سیاسی عمل میں شرکت میں اضافہ اس لیے بھی حیران کن ہے کیوں کہ گزشتہ ایک دہائی کے دوران دنیا بھر میں عام انسانوں کا جمہوریت پر اعتماد کم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اسی وجہ سے امسالہ انڈکس میں سیاسی عمل میں شرکت کو الگ سے پرکھا گیا ہے۔انڈکس میں عالمی سطح پر حکومتوں کو چار حصوں، مکمل جمہوریت، تقریبا جمہوریت، نیم جمہوریت اور مطلق العنانیت میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جمہوریت کی صورت حال پرکھنے کے لیے چھ اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا جن میں انتخابی عمل، حکومتی عمل داری، سیاست میں شرکت، سیاسی کلچر اور شہری آزادی شامل ہیں۔اس ورلڈ انڈکس کے مطابق دنیا بھر کے صرف بیس ممالک ایسے ہیں، جہاں مکمل جمہوریت ہے اور ان ممالک کی آبادی دنیا کی مجموعی آبادی کا محض ساڑھے چار فیصد بنتی ہے۔ دوسری طرف دنیا کی قریب پینتالیس فیصد آبادی ایسے 55 ممالک میں آباد ہے، جہاں کے حکومتی نظاموں کو ناقص ہونے کے باوجود تقریبا جمہوریت کے قریب کہا جا سکتا ہے۔اس کے علاوہ 39 ممالک ایسے ہیں، جہاں انتخابی عمل شفاف نہیں جب کہ سول سوسائٹی اور قانون کی عمل داری بھی کافی کمزور ہے۔ ان ممالک کو ’نیم جمہوریت‘ والے ممالک میں شمار کیا گیا ہے۔دنیا کی ایک تہائی آبادی کو مطلق العنان حکومتوں کا سامنا ہے اور اس انڈکس کے مطابق ایسے ممالک کی تعداد باون بنتی ہے، جہاں جمہوریت کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ ایسے ممالک کی فہرست میں چین بھی شامل ہے۔اس انڈکس میں ناروے سر فہرست ہے جب کہ امریکا کو اس برس بھی مکمل جمہوریت والے ممالک کی فہرست کے بجائے تقریبا جمہوری ملک قرار دیا گیا ہے۔ امریکا میں صدر ٹرمپ کے منتخب ہونے کے بعد ملکی اداروں کے علاوہ میڈیا کی آزادی بھی متاثر ہوئی ہے۔ عالمی درجہ بندی میں امریکا 21 ویں جب کہ برطانیہ 14 ویں نمبر پر ہے۔ جرمنی اس فہرست میں تیرہویں نمبر پر ہے۔ جمہوریت کی صورت حال میں سب سے زیادہ بہتری کوسٹا ریکا میں دیکھی گئی، جسے تقریبا? جمہوری ممالک کی لسٹ سے نکال کر مکمل جمہوریت والی ریاستوں میں سے ایک قرار دیا گیا ہے۔اس برس کے عالمی انڈکس میں پاکستان 4.17 کے مجموعی اسکور کے ساتھ 112ویں نمبر پر رہا۔ گزشتہ انڈکس میں 4.26 کے مجموعی اسکور کے ساتھ پاکستان 110 ویں نمبر پر تھا۔ اس جنوبی ایشیائی ملک کو ’ہائیبرڈ رجیم‘ یا ’نیم جمہوریت‘ کے درجے میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کا ہمسایہ ملک بھارت 41 ویں نمبر پر ہے۔ لیکن بھارت میں بھی سن 2016 کے مقابلے میں جمہوریت کمزور ہوئی ہے کیوں کہ تب بھارت 32 ویں نمبر پر تھا۔امسالہ انڈکس کے مطابق اگرچہ پاکستانی انتخابات میں دھاندلی اور بے ضابطگیاں ہونا ماضی میں بھی معمول کی بات رہی ہے لیکن گزشتہ برس کے عام انتخابات میں سامنے آنے والی بے ضابطگیوں میں سن 2013 کے انتخابات کی نسبت واضح اضافہ دیکھا گیا۔اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان عوامل کے باوجود یہ بات بھی کہی جا سکتی ہے کہ پاکستانی عوام ووٹ کی طاقت سے کرپشن کے الزامات کی شکار پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت کو اقتدار سے ہٹانے میں کامیاب رہے۔پاکستان کے انتخابی عمل اور تکثیریت کو دس میں سے چھ پوائنٹس دیے گئے لیکن سیاسی نظام میں عوامی شرکت کے حوالے سے پاکستان کی کارکردگی عام انتخابات کے برس میں بھی مایوس کن حد تک کم رہی ہے۔ اس درجے میں پاکستان کو دس میں سے 2.2 پوائنٹس دیے گئے۔ اسی طرح سیاسی کلچر میں پاکستان کا اسکور دس میں سے صرف ڈھائی رہا۔ شہری آزادی کے شعبے میں قریب پونے پانچ جب کہ حکومتی کارکردگی کے شعبے میں پاکستان کو 5.36 پوائنٹس دیے گئے۔




فعال اورمضبوط اقوام متحدہ عالمی امن اور استحکام کیلئے ناگزیرہے، شاہ محمود قریشی

اسلام آباد( وائس آف ایشیا )وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ فعال اورمضبوط اقوام متحدہ عالمی امن اور استحکام کے لیے ناگزیرہے، ہم اجتماعی کاوشوں کے فروغ سے ہی عالمی مسائل کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔یہ بات انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی صدر ماریہ فرنینڈا اسپنوزا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جنہوں نے جمعہ کو یہاں وزارت خارجہ میں ان سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران کشمیر سمیت اہم عالمی اورعلاقائی معاملات پربھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ فریقین نے متفقہ طور پر مسائل کے حل اور امن و استحکام کے قیام کے لئے اقوام متحدہ کو ایک ناگزیر پلیٹ فارم قرار دیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے صدر اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے مسلسل انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر پاکستان کی گہری تشویش سے آگاہ کیا۔وزیر خارجہ کی جانب سے جموں و کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لئے یو این سلامتی کونسل کی قراردادوں پر مکمل عملدرآمد کو یقینی بنائے جانے پر زور دیا گیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ فعال اورمضبوط اقوام متحدہ عالمی امن اور استحکام کے لئے ناگزیرہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اجتماعی کاوشوں کے فروغ سے ہی عالمی مسائل کا حل ڈھونڈ سکتے ہیں۔




لائن آف کنٹرول پربھارتی فورسزکی فائرنگ سے ایک شہری زخمی

مظفر آباد /راولپنڈی(وائس آف ایشیا)لائن آف کنٹرول پربھارتی فورسزکی فائرنگ سے ایک شہری زخمی ہوگیا۔آئی ایس پی آرکے مطابق لائن آف کنٹرول پربھارتی فورسزنے ایک بارپھرفائرنگ کرکے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ بھارتی فورسزنے کھوئی رتہ سیکٹرمیں بربریت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقامی آبادی کو نشانہ بنایا جس سے ایک شہری محمد مشتاق زخمی ہوگیا۔ زخمی ہونے والے شہری کو ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔آئی ایس پی آرکے مطابق پاک فوج کے جوانوں نے دشمن کو منہ توڑ جواب بھی دیا۔




وزیر اعظم کا نواز شریف کی 3 امریکی کمپنیوں سے لابنگ کے معاملے کا نوٹس ،

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) وزیر اعظم عمران خان نے سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے تین امریکی کمپنیوں کے ذریعے عالمی سطح پر لابنگ کے ذریعے خطیر رقم دیئے جانے کا نوٹس لیتے ہوئے معاملے کی مکمل تفصیلات طلب کر لی ہیں ۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے قومی خزانے سے خطیر رقم تین امریکی کمپنیوں کو دیئے جانے کا انکشاف ہوا ۔ جس میں ایئرہیلیٹیکا ، کیمبرج اور روبیٹوں گلوبل شامل ہے ان کمپنیوں سے خدمات حاصل کرنے کا مقصد اپنی لابنگ عالمی سطح پر کرانا تھا جس سے قومی خزانہ کو شدید نقصان ہوا ہے اس کے علاوہ نچلی سطح پر بھی لابنگ نواز شریف نے کرائی جب سابق حکومت اقتدار میں تھی تو اس وقت جھوٹے سروے کرائے جاتے تھے کہ ان کی پارٹی دیگر پارٹیوں سے مقبولیت اور کارکردگی میں آگے ہے اور سب سے ریکنگ میں اوپر ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان نے فوری تمام معاملے کی تفصیلات طلب کر لی ہیں اور امریکی کمپنیوں کو بھی رقم کی ادائیگی کا ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔ بیرون ملک قانونی خدمات پر اٹھائے جانے والے اخراجات پر بھی آڈٹ کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے علاوہ ان تمام کیسز پر وکلاء ٹیم تشکیل دینے کا بھی وزیر اعظم نے حکم دے دیا ہے ۔




شہباز شریف کا مہمند ڈیم کے کنٹریکٹ پر ایک بار پھر ایوان کی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ

اسلام آباد (وائس آف ایشیا)قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے مہمند ڈیم کے کنٹریکٹ پر ایک بار پھر ایوان کی کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم کے مشیر رزاق داؤد سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں، مہمند ڈیم کے ٹھیکے کے معاملے پراسپیکر رولنگ دیں،عوام اور مانگے تانگے کا پیسا آنکھوں پر پٹی باندھ کر خرچ کیا جارہا ہے، عوام کا پیسا کہاں خرچ ہورہا ہے ، عوام کو جاننے کا حق حاصل ہے ۔ جمعہ کو قومی اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے قائد حزبِ اختلاف شہبازشریف نے کہا کہ وزیراعظم کے مشیر رزاق داؤد سے کوئی ذاتی مسئلہ نہیں، مہمند ڈیم کے ٹھیکے کے معاملے پراسپیکر رولنگ دیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں سنگل بڈ پر 309ارب روپے کا پروجیکٹ دیا جارہا ہے ، پیپرا رولز کہتا ہے کہ ایک بڈر ہو تو دوبارہ بڈنگ کرائیں یا مارکیٹ سے چیک کریں کہ آفر مناسب ہے لہٰذا مطالبہ کرتاہوں کہ اس معاملے پر ہاؤس کمیٹی فوری قائم کی جائے۔اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ عوام اور مانگے تانگے کا پیسا آنکھوں پر پٹی باندھ کر خرچ کیا جارہا ہے، عوام کا پیسا کہاں خرچ ہورہا ہے عوام کو جاننے کا حق ہے ، ہم نے منصوبوں میں اربوں روپے بچائے۔شہبازشریف نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی تحقیقات کرکے رپورٹ ایوان میں پیش کی جائے۔ وفاقی وزیر توانائی عمر ایوب نے کہاکہ متعلقہ وزیر فیصل واوڈا پیر کو ایوان میں آکر جواب دیں گے جس کے بعد اجلاس پیر کی شام پانچ بجے تک ملتوی کر دی گئی ۔




اپوزیشن کے وسیع تر اتحاد کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) اپوزیشن کے وسیع تر اتحاد کی مشترکہ کمیٹی کا اجلاس پیر کو طلب کر لیا گیا ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) پاکستان پیپلزپارٹی، متحدہ مجلس عمل اور عوامی نیشنل پارٹی کے سرکردہ ارکان پارلیمنٹ شامل ہیں۔ خیال رہے کہ اپوزیشن میں پارلیمنٹ کی سطح پر اتحاد ہو گیا ہے۔ سینیٹ کا مکمل کنٹرول حاصل کرنا بھی اہداف میں شامل ہے۔ پیر کو کل جماعتی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں اپوزیشن لیڈر کے چیمبر میں ہو گا۔فوجی عدالتوں، فنانس بل ترمیمی 2019ء سینیٹ سے متعلق معاملات پر حکمت عملی طے کی جائے گی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اپوزیشن جماعتیں سینیٹ میں تبدیلی کیلئے بھی سرگرم ہیں جبکہ فوجی عدالتوں میں توسیع کی آئینی ترمیم پر اپوزیشن منقسم ہے۔ فنانس ترمیمی بل 2019ء کی مخالفت کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا ہے جبکہ پارلیمنٹ کا دونوں ایوانوں میں حکومت کو سخت دباؤ میں لانے کا لائحہ عمل پیر کو طے کیا جائے گا اور مشاورت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کر دیا جائے گا۔




حکومت نے پانچ ماہ گالی گلوچ طعنہ زنی میں گزار دیئے رانا ثناء اﷲ کی میڈیاسے گفتگو

اسلام آباد(وائس آف ایشیا )اپوزیشن کی بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ(ن) نے نئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر سعید کھوسہ کی اداروں کے درمیان مکالمہ کی تجویز کی حمایت کر دی ہے اور کہا ہے کہ تمام ادارے اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کرلیا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔فوجی عدالتوں میں توسیع کے معاملے پر اپوزیشن میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔پاکستان مسلم لیگ(ن) میں بھی اس بارے میں دو رائے پائی جاتی ہیں کیونکہ ملک میں غیر معمولی حالات نہیں ہیں ان خیالات کا اظہار جمعہ کو پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنماء رانا ثناء اﷲ نے قومی اسمبلی اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ حکومتی ڈبو پانچ ماہ تک اپوزیشن کو گالیاں دیتے رہے اب اپوزیشن نے سخت انداز اختیار کیا تو ان کو اخلاقی کمیٹی یاد آ گئی چلو اچھا ہے کہ حکومت کو کچھ کچھ سمجھ آنے لگی ہے ورنہ تو گالیوں میں وقت ضائع کیا جا رہا تھا مجبوراً رد عمل میں ہمیں کچھ کہنا پڑتا تھا انہوں نے کہا کہ جس طرح پانچ ماہ گزرے ہیں مشکل لگتا ہے کہ یہ حکومت اپنے پانچ سال پورے کرے۔انہوں نے بتایا کہ وزیر ریلویز شیخ رشید احمد کے خلاف ان کا ریفرنس قومی اسمبلی سیکرٹریٹ میں زیر التواء ہے۔سیکرٹری قومی اسمبلی سے رابطہ کیا گیا ہے تاکہ نا اہلی کا یہ ریفرنس الیکشن کمیشن کو بھجوایا جا سکے۔ہمیں بتایا گیا ہے کہ شیخ رشید احمد کے خلاف اس ریفرنس کے حوالے سے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف سے آئندہ ہفتے کاروائی شروع کر دی جائے گی۔رانا ثناء اﷲ نے کہا کہ نئے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ناصر سعید کھوسہ کو اداروں کے درمیان مکالمہ کی تجویز کا خیر مقدم کرتے ہیں اس سے بہترکوئی اور تجویز نہیں ہو سکتی۔تمام اداروں کا اپنے اپنے دائرہ کار تک محدود رہیں۔وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) میں فوجی عدالتوں میں توسیع کے بارے میں آراء تقسیم ہے۔ایک مضبوط رائے یہ ہے کہ غیر معمولی حالات کا جواز پیش کرتے ہوئے۔فوجی عدالتوں میں توسیع مانگی گئی تھی اب تو کیا جا رہا ہے کہ 90 فیصد تک دہشت گردی پر قابو پا لیا گیا ، کوئی غیر معمولی حالات نہیں لہٰذا اس معاملے کو فوجی عدالتوں سے مروجہ عدالتوں میں منتقل ہونا چاہیے، اپوزیشن کے مشترکہ اجلاس میں بھی اس پر غور کیا جائے گا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ(ن) فنانس ترمیمی بل 2019ء کی مخالفت کریگی۔آئے روز عوام پر مہنگائی کا بوجھ بڑھتا جا رہا ہے حکومت نے پانچ ماہ میں گالی گلوچ طعنہ زنی میں گزار دیئے خود اپنے بوجھ کے نیچے دبے جا رہے ہیں۔




جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاکستان کے 26 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھالیا

 اسلام آباد( وائس آف ایشیا ) جسٹس آصف سعید کھوسہ نے پاکستان کے 26 ویں چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اٹھالیا۔ایوان صدر میں ہونے والی باوقار تقریب میں صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس آصف سعید کھوسہ سے حلف لیا۔حلف برداری کی تقریب میں وزیراعظم عمران خان بھی شریک ہوئے وزیراعظم عمران خان بھی اس موقع پر موجود تھے۔حلف برداری کی تقریب میں سپریم کورٹ کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ججز شریک ہوئے۔وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے ارکان کو بھی حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی جبکہ مسلح افواج کے سربراہان، سفارتکار اور دیگر شعبوں کے افراد بھی شریک ہوئے۔حلف برداری کی تقریب میں مختلف ممالک کے چیف جسٹس صاحبان اور سینئر ججز کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ پاکستان کے نئے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ 21 دسمبر 1954 کو ضلع ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے۔1975 میں انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی اور 1977 اور 1978ء4 میں کیمبرج یونیورسٹی سے قانون کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔1979 میں لاہور ہائیکورٹ سے انہوں نے وکالت کا ا?غاز کیا اور 21 مئی 1998 کو لاہور ہائیکورٹ کے جج بنے۔سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف نے 7 نومبر 2007 کو ملک میں ایمرجنسی نافذ کرکے آئین معطل کیا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی اْن ججوں میں شامل تھے جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کردیا۔اگست 2008 میں وکلا تحریک کے بعد وہ بحال ہوئے اور 2010 میں سپریم کورٹ کے جج بنے۔جسٹس آصف سعید کھوسہ سب سے زیادہ فیصلے تحریر کرنے کی شہرت بھی رکھتے ہیں۔ انہیں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف توہین عدالت کیس سے شہرت ملی۔جب سپریم کورٹ نے نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ سنایا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اختلافی نوٹ میں انہیں نااہل قرار دینے کی سفارش کی تھی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ 4 کتابوں کے مصنف بھی ہیں۔ انہیں لمز یونیورسٹی، بی زیڈ یو اور پنجاب یونیورسٹی لاء4 کالج میں پڑھانے کا وسیع تجربہ بھی حاصل ہے۔ایک اندازے کے مطابق بطور جج 19 سال میں جسٹس کھوسہ 50 ہزار کے قریب مقدمات کے فیصلے سنا چکے ہیں۔چیف جسٹس کے عہدے پر 3 سو 47 دن فائز رہنے کے بعد آصف سعید کھوسہ اس سال 20دسمبر کو ریٹائر ہوجائیں گے۔ ان کے بعد جسٹس گلزار احمد چیف جسٹس پاکستان بنیں گے اور یکم فروری 2022 کو ریٹائر ہوجائیں گے۔




سوموٹو کا اختیار بہت کم استعمال کیا جائے گا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا تقریب سے خطاب

  اسلام آباد (وائس آف ایشیا) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار آج اپنے عہدے سے ریٹائر ہو رہے ہیں جس کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس آف پاکستان کا منصب سنبھالیں گے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کے اعزاز میں فْل کورٹ ریفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ فْل کورٹ ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کے ساتھ گذشتہ بیس سال سے ہوں۔ہم ایک ساتھ ہی لاہور ہائیکورٹ کے جج بنے۔ ہم دونوں ایک ساتھ بڑے ہوئے بچوں کی طرح ہیں جو آج الگ ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار نے بہت مشکل حالات میں عدالت چلائی۔ چیف جسٹس نے سیاسی ، سماجی ، معاشرتی اور آئینی سمیت کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے انسانی حقوق کے حوالے سے خدمات یاد رکھی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ میں بطور چیف جسٹس انصاف کی فراہمی میں تعطل دور کرنے کی کوشش کروں گا۔ماتحت عدالتوں میں برسوں سے زیر التوا مقدمات کے جلد تصفیہ کی کوشش کی جائے گی۔ غیر ضروری التوا کو روکنے کے لیے جدید آلات کا استعمال کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرح میں بھی ڈیم کی تعمیر کرنا چاہتا ہوں۔ میں بھی ان کی طرح ملک کا قرض اْتارنا چاہتا ہوں۔ میں ڈیم جعلی مقدمات کے خلاف بناؤں گا۔ مقدمات کی تاخیر کے خلاف ڈیم بناؤں گا۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ میں عرصہ دراز سے زیر التوا مقدمات کا قترض اْتاروں گا۔ اس وقت عدالتوں میں 19 لاکھ کیسز زیر التوا ہیں۔ 3 ہزار ججز 19 لاکھ مقدمات نہیں نمٹا سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سوموٹو کا اختیار بہت کم استعمال کیا جائے گا۔ میری رگوں مکیں بلوچ خون دوڑ رہا ہے اور میں آخری دم تک لڑوں گا۔ واضح رہے کہ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار آج اپنے عہدے سے ریٹائرہو رہے ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے اپنے دور میں کئی اہم کیسز کے فیصلے کیے اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے بھی کام کیا۔جسٹس ثاقب نثار کے بعد جسٹس آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس کا منصب سنبھالیں گے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کل پاکستان کے نئے چیف جسٹس کی حیثیت سے حلف اْٹھائیں گے۔




وزیراعظم عمران خان کی مخالفین پر تنقید ارکان اسمبلی ای سی ایل میں نام آںے پر خوفزدہ کیوں ہیں؟۔

 اسلام آباد (وائس آف ایشیا) وزیراعظم عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے ایک بار پھر مخالفین پر تنقید کی ہے،وزیراعظم کا اپنے ٹویٹر پیغام میں کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آتی کہ کچھ قانون ساز نام ای سی ایل میں شامل ہونے سے ڈرتے کیوں ہیں؟۔وزیراعظم عمران خان نے سوال اٹھایا کہ کچھ قانون ساز ملک سے باہر جانے کے لیے اتنے مضطرب کیوں ہیں؟ لیکن پاکستان میں رہ کر بھی انہیں بہت سارا کام کرنا ہوتا ہے۔پاک سرزمین سے محبت کا دعویٰ تو بہت کرتے ہیں مگر کثرت سے بیرون ملک دوروں سے نہیں رک سکتے،بہت سارے ارکان بیرون ملک اقامے اور رہائش رکھتے ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ایک اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے کچھ ارکانِ اسمبلی ای سی ایل سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہیں؟کیا کوئی شخص اس معاملے کی پاکستان میں رہ کر کام کرنے والوں سے وضاحت کر سکتا ہے ؟ ہم اس ملک میں کام کرتے ہیں کیونکہ ہم اس سرزمین سے پیار کرتے ہیں۔واضح رہے حکومت نے جعلی اکاؤنٹس کیس سے متعلق 172 افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کیے تھے۔حکومت نے جعلی اکاؤنٹس کیس کی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے ا?ئی ٹی) کی رپورٹ میں شامل آصف علی زرداری سمیت 172 افراد کے نام ایگزیٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں ڈالنے کا فیصلہ کیا تھا تاہم عدالت نے اس پر برہمی کا اظہا ر کیا تھا جس کے بعد وفاقی کابینہ نے ای سی ایل میں شامل ناموں کو فوری طور پر نہ نکالنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس حوالے سے وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا تھا جس میں بلاول بھٹو، مراد علی شاہ کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ موخر کر دیا گیا اور کہا گیا کہ سپریم کورٹ کے تحریری فیصلے کا انتظار کیا جائے گا۔




اسپیکر قومی اسمبلی کا جاوید لطیف کو ایوان سے باہر جانے کا حکم

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) گذشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گوشوارے جمع نہ کروانے پر 322 ارکان کی رکنیت معطل کی تھی۔ تحریک انصاف کے 59، اور مسلم لیگ ن کے 45 ارکان کی رکنیت معطل کی گئی تھی۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آج اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ن لیگ کے رکن اسمبلی جاوید لطیف کو گوشوارے بروقت جمع نہ کرانے پر اجلاس سے نکال دیا۔اسد قیصر نے جاوید لطیف سے کہا جاوید لطیف صاحب آپ کی رکنیت معطل ہے آپ ایوان سے چلے جائیں۔اسپیکر کی ہدایت پر جاوید لطیف ایوان سے چلے گئے۔اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے رکن اسمبلی آفرین خان کو بھی اجلاس سے باہر جانے کی ہدایت کر دی۔اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس شروع ہونے سے پہلے ہدایت کی تھتی کی گوشوارے بروقت جمع نہ کرانے پر اراکین اسمبلی باہر چلے جائیں۔جب حکومتی ایم این اے آفتاب صدیقی رکنیت معطل ہونے کے باوجود قومی اسمبلی اجلاس میں شریک رہے۔انہوں نے نا صرف اجلاس میں شرکت کی بلکہ وقفہ سوالات میں حصہ بھی لیا۔واضح رہے گذشتہ روز میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ الیکشن کمیشننے 332 ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل کر دی ہے۔الیکشن کمیشن ذرائع کے مطابق ارکان کی رکنیت سالانہ گوشوارے جمع نہ کروانے پر معطل کی گئی۔معطل کیے گئے ارکان میں وفاقی وزیر فواد چوہدری، وفاقی وزیر برائے مملکت شہریار آفریدی،علی امین گنڈا پور اور صداقت عباسی بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ چوہدری سالک حسین،وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ سلطان محمود، شہزاد وسیم،سینیٹر سرفراز بگٹی، سینیٹر اسحاق ڈار،ستارہ ایاز کی بھی رکنیت معطل کی گئی ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق 322 ارکان اسمبلی ایسے ہیں جنھوں نے اپنے سالانہ گوشوارے جمع نہیں کروائے جس کے بعد ان کی اسمبلی میں رکنیت معطل کر دی گئی ہے۔جن ارکان اسمبلی کی رکنیت معطل کی گئی ہے ان میں وفاقی ورزاء بھی شامل ہیں۔جن ارکاناسمبلی کی رکنیت معطل کی گئی ہے وہ قانون سازی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔