بھارت نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے جموں کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کر دیا

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کی حریت پسند جماعتوں نے کہا ہے کہ بھارت نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے جموں کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کر دیا ہے ۔رضوان اسد پنڈت کی شہادت المیہ ہے انسانی حقوق کیلئے سرگرم کارکنوں کو یہ معاملہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس تک لیجاکر مجرموں کو قرار واقعی سزا دلانی چاہئے۔تحریک حریت،فریڈم پارٹی،پیپلز لیگ،تحریک مزاحمت،انجمن شرعی شیعیان ،محاذ آزادی،مسلم لیگ اور پیروان ولایت نے رضوان احمد پنڈت ساکن اونتی پورہ کی زیر حراست شہادت کو بربریت سے تعبیرکیا ہے۔تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے رضوان احمد پنڈت کی زیر حراست شہادت کو ایک المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کو چند روز قبل گرفتار کرکے انٹروگیشن سنٹرکارگو کی تحویل میں دیا گیا تھا، جہاں انہیں شدید جسمانی ا ذیتیں دے کر جاں بحق کیا گیا۔صحرائی نے کہا کہ رضوان احمد کی زیر حراست ہلاکت مہذب اورموجودہ علمی دور میں ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور اس کے قائدین خود کو ایک مہذب قوم کہتے ہوئے نہیں تھکتے،مگر جموں کشمیر کے باشندوں کے ساتھ روا رکھے جارہے ظالمانہ کاروائیوں سے بھارتی جمہوریت کے داغ نمایاں ہوئے ہیں ۔ صحرائی نے کہا کہ آخر بھارت کے پالیسی ساز ادارے جموں کشمیر کے عوام کا خون بہاکر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس سانحہ کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے گناہوں کا خون بڑی بے دردی سے بہایا جارہا ہے ،حالانکہ جموں کشمیر کے عوام کاقصور صرف یہ ہے کہ وہ گزشتہ71برسوں سے لٹکتے سلگتے ہوئے متنازعہ مسئلہ کا پائدار اور حتمی حل چاہتے ہیں لیکن بھارت مسئلہ کشمیر کو طاقت کی بنیاد پر دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ رضوان احمد پنڈت کی زیر حراست ہلاکت کی تحقیقات کسی غیر جانبدار بین الاقوامی ادارے کے ذریعے ہونی چاہئے۔صحرائی نے رضوان کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا ۔ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے ہلاکت کو بربریت کی تازہ مثال قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کیلئے سرگرم کارکنوں کو یہ معاملہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس تک لیجاکر مجرموں کو قرار واقعی سزا دلانی چاہئے۔فریڈم پارٹی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیری عوام گذشتہ تین دہائیوں سے سرکاری سطح پر ایسے ہی جرائم کا سامنا کرتے آرہے ہیں جہاں حکومتی سطح پر سیاسی مخالفین کو صف ہستی سے ہی مٹایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے واقعات کیخلاف پہلے ہی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہوتی تو حالات یہاں تک نہیں پہنچتے کہ آج ایک بے گناہ اور معصوم سکول ٹیچر کو حراست کے دوران قتل کیا جاتا۔پیپلز لیگ چیئرمین غلام محمد خان سوپوری اورسینئر لیڈر عبد الرشید ڈار نے مہلوک نوجوان کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کی زیر حراست ہلاکت کا سانحہ کوئی کشمیر میں اس نوعیت کا اکیلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی فورسز کی حراست میں کئی کشمیری نوجوانوں کو جاں بحق کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جاری فورسز کارروائیوں سے اب کوئی بھی فرد بشر محفوظ نہیں رہا ہے۔تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال احمد صدیقی نے ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی پالیسی پر گامزن ہوکر جموں کشمیر کے عوام پر ایسے دلدوز مظالم روا رکھے ہوئے ہے جس کے آگے ہٹلر اور چنگیز کی روحیں بھی شرمندہ ہونگی لیکن جموں کشمیر کے بہادر عوام نئی دہلی کی اس ذہنیت کے آگے پوری یکسوئی اور عزم و استقلال کے ساتھ سینہ سپر ہے۔انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت (گ)لیڈرآغا حسن نے ہلاکت پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اس کارروائی کو سراسر غیر انسانی اور سفاکانہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات سیکورٹی ایجنسیوں کے عزائم اور افسپا کا نتیجہ قرار دیا۔محاذ آزادی کے صدر سید الطاف اندرابی نے زیر حراست ہلاکت کو انسانی حقوق کی پامالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کو افسپا کی صورت میں مار دھاڑ کی لائسنس حاصل ہے۔انہوں نے بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ زیر حراست ہلاکتوں ، پکڑ دھکڑ اور بشری حقوق کی پامالیوں کا سنجیدہ نوٹس لی جائے۔ مسلم لیگ ترجمان محمد صعاد نے ہلاکت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات ایک تسلسل سے رونما ہورہے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان کی لاشیں ورثا کے حوالے کی جارہی ہیں۔انہوں نے اپنے بیان میں اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پیروان ولایت نے استاد کے حراستی قتل کوپورے قوم کا قتل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت منصوبہ بند طریقہ سے یہاں مار دھاڑ کررہا ہے اور جیلوں میں قیدیوں کو عذاب و عتاب کا شکار بنا کر ان کو بے رحمی سے قتل کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قتل کے بعد تحقیقات کا ڈھنڈورا پیٹنا دھوکہ بازی اور فریب کاری ہے اور اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھانکنے کے مترادف ہے ۔




اب کوئی بھی کشمیری محفوظ نہیں رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند قیادت

سری نگر(وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند قیادت ( جے آر ایل ) نے کشمیری نوجوان رضوان احمد پنڈت کی دوران حراست شہادت پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ قیادت نے کہا ہے کہ عالمی برادری اگر کشمیریوں کو انصاف دلانے میں ناکام ہوئی تو مظلوم انسانیت کا اس پر سے اعتماد اٹھ جائے گا ۔ مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند قیادت ( جے آر ایل )سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اب کوئی بھی فرد بشر محفوظ نہیں رہا ہے۔قائدین نے کہا کہ مزاحمتی قیادت ہو یا سیاسی کارکن، بزرگ دینی شخصیات ہوںیا دینی جماعتیں یا مساجد کے اِمام صاحبان ، عام نوجوانوں ،طلبا غرض ہر ایک مکتبہ فکر سے وابستہ لوگوں کو خوف و دہشت کے عالم میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جارہا ہے اور گرفتاریوں اور ہراسانیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا گیا ہے اور پورے کشمیر کو ایک پولیس ا سٹیٹ میں تبدیل کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل، آئی سی آر سی ،اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن و کونسل اور دوسرے اداروں سے کشمیری اسیروں اور مظلوموں کی دادرسی کیلئے اقدامات اٹھانے کی اپیل کرتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کہا کہ عالمی برادری اگر کشمیریوں کو انصاف دلانے میں ناکام ہوئی تو مظلوم انسانیت کا اس پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے رضوان احمد پنڈت کے قتل پرجمعرات21 مارچ کو زندگی کے تمام مکاتب فکر بشمول تاجر برادری، وکلا، سول سوسائٹی اور جملہ شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے اس قتل ناحق کیخلاف بھر پور احتجاج کرنے کی اپیل کی ہے جبکہ22 مارچ جمعتہ المبارک کو کشمیر کی تمام چھوٹی بڑی مساجد، آستانوں، خانقاہوں،اور امام باڑوں میں اس قتل ناحق،سرکاری سطح پر خوف و دہشت کا ماحول برپا کرنے کے خلاف احتجاج کیا جائے۔




مقبوضہ کشمیر،سکول ٹیچر کی دوران حراست ہلاکت کیخلاف احتجاج جاری

سرینگر(وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر میں سکول ٹیچر کی دوران حراست ہلاکت کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ،مزاحمتی خیمے کا عالمی تحقیقات کا مطالبہ،وادی کے مختلف علاقوں میں مظاہرے اور ریلیاں،کاروباری مراکز تجارتی ادارے بند،انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل،ٹرین کا پہیہ بھی رک گیا ،بھارتی فوج کا پنزگام کپواڑہ کا محاصرہ ،گھر گھر تلاشی کے دوران اہل خانہ پر تشدد۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے علاقے اونتی پورہ میں سکول ٹیچر رضوان پنڈت کی زیر حراست تشدد سے ہلاکت کے خلاف مقبوضہ وادی میں تیسرے روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا۔ اس دوران پلوامہ ،کپواڑہ،انت ناگ،سرینگر،بارہمولہ،کولگام ،بڈگام،شوپیاں اور راجوڑی سمیت مختلف اضلاع میں احتجاجی مظاہرے اور ریلیاں نکالی گئیں جن میں مظاہرین نے بھارت کیخلاف شدید نعرے بازی کی ۔ کئی علاقوں میں بھارتی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔اس دوران احتجاج اور کشیدگی کے باعث وادی میں کاروباری مراکز،دکانیں اور بازار بند رہے جبکہ انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل رہی ۔وادی میں ٹرین سروس کو بھی ایک دن کیلئے بند کر دیا گیا ۔رضوان کو پولیس نے تین روز قبل اس کے گھر واقع اونتی پورہ سے گرفتار کیا تھا ۔اس کی موت پولیس حراست کے دوران گذشتہ روز واقع ہوئی اور اس کیخلاف وادی بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ادھر تحریک حریت،فریڈم پارٹی،پیپلز لیگ،تحریک مزاحمت،انجمن شرعی شیعیان ،محاذ آزادی،مسلم لیگ اور پیروان ولایت نے رضوان احمد پنڈت ساکن اونتی پورہ کی زیر حراست ہلاکت کو بربریت سے تعبیرکیا ہے۔تحریک حریت چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے رضوان احمد پنڈت(اونتی پورہ)کی زیر حراست ہلاکت کو ایک المیہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم کو چند روز قبل گرفتار کرکے انٹروگیشن سنٹرکارگو کی تحویل میں دیا گیا تھا، جہاں انہیں شدید جسمانی ا ذیتیں دے کر جاں بحق کیا گیا۔صحرائی نے کہا کہ رضوان احمد کی زیر حراست ہلاکت مہذب اورموجودہ علمی دور میں ناقابل قبول ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اور اس کے قائدین خود کو ایک مہذب قوم کہتے ہوئے نہیں تھکتے،مگر جموں کشمیر کے باشندوں کے ساتھ روا رکھے جارہے ظالمانہ کاروائیوں سے بھارتی جمہوریت کے داغ نمایاں ہوئے ہیں ۔ صحرائی نے کہا کہ آخر بھارت کے پالیسی ساز ادارے جموں کشمیر کے عوام کا خون بہاکر کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس سانحہ کو انتہائی دردناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بے گناہوں کا خون بڑی بے دردی سے بہایا جارہا ہے ،حالانکہ جموں کشمیر کے عوام کاقصور صرف یہ ہے کہ وہ گزشتہ71برسوں سے لٹکتے سلگتے ہوئے متنازعہ مسئلہ کا پائدار اور حتمی حل چاہتے ہیں لیکن بھارت مسئلہ کشمیر کو طاقت کی بنیاد پر دبانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے کہا کہ رضوان احمد پنڈت کی زیر حراست ہلاکت کی تحقیقات کسی غیر جانبدار بین الاقوامی ادارے کے ذریعے ہونی چاہئے۔صحرائی نے رضوان کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کیا ۔ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی نے ہلاکت کو بربریت کی تازہ مثال قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ انسانی حقوق کیلئے سرگرم کارکنوں کو یہ معاملہ انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس تک لیجاکر مجرموں کو قرار واقعی سزا دلانی چاہئے۔فریڈم پارٹی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیری عوام گذشتہ تین دہائیوں سے سرکاری سطح پر ایسے ہی جرائم کا سامنا کرتے آرہے ہیں جہاں حکومتی سطح پر سیاسی مخالفین کو صف ہستی سے ہی مٹایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسے واقعات کیخلاف پہلے ہی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی گئی ہوتی تو حالات یہاں تک نہیں پہنچتے کہ آج ایک بے گناہ اور معصوم سکول ٹیچر کو حراست کے دوران قتل کیا جاتا۔پیپلز لیگ چیئرمین غلام محمد خان سوپوری اورسینئر لیڈر عبد الرشید ڈار نے مہلوک نوجوان کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ موصوف کی زیر حراست ہلاکت کا سانحہ کوئی کشمیر میں اس نوعیت کا اکیلا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس سے قبل بھی فورسز کی حراست میں کئی کشمیری نوجوانوں کو جاں بحق کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں جاری فورسز کارروائیوں سے اب کوئی بھی فرد بشر محفوظ نہیں رہا ہے۔تحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال احمد صدیقی نے ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جموں کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی پالیسی پر گامزن ہوکر جموں کشمیر کے عوام پر ایسے دلدوز مظالم روا رکھے ہوئے ہے جس کے آگے ہٹلر اور چنگیز کی روحیں بھی شرمندہ ہونگی لیکن جموں کشمیر کے بہادر عوام نئی دہلی کی اس ذہنیت کے آگے پوری یکسوئی اور عزم و استقلال کے ساتھ سینہ سپر ہے۔انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور حریت (گ)لیڈرآغا حسن نے ہلاکت پر گہرے رنج و غم اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے اس کارروائی کو سراسر غیر انسانی اور سفاکانہ قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ ایسے سانحات سیکورٹی ایجنسیوں کے عزائم اور افسپا کا نتیجہ قرار دیا۔محاذ آزادی کے صدر سید الطاف اندرابی نے زیر حراست ہلاکت کو انسانی حقوق کی پامالی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فورسز کو افسپا کی صورت میں مار دھاڑ کی لائسنس حاصل ہے۔انہوں نے بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ زیر حراست ہلاکتوں ، پکڑ دھکڑ اور بشری حقوق کی پامالیوں کا سنجیدہ نوٹس لی جائے۔ مسلم لیگ ترجمان محمد صعاد نے ہلاکت پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات ایک تسلسل سے رونما ہورہے ہیں اور ہمارے نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بعد ان کی لاشیں ورثا کے حوالے کی جارہی ہیں۔انہوں نے اپنے بیان میں اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پیروان ولایت نے استاد کے حراستی قتل کوپورے قوم کا قتل قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت منصوبہ بند طریقہ سے یہاں مار دھاڑ کررہا ہے اور جیلوں میں قیدیوں کو عذاب و عتاب کا شکار بنا کر ان کو بے رحمی سے قتل کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قتل کے بعد تحقیقات کا ڈھنڈورا پیٹنا دھوکہ بازی اور فریب کاری ہے اور اقوام عالم کی آنکھوں میں دھول جھانکنے کے مترادف ہے ۔ دوسری جانب پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ،پیپلز ڈیموکریٹک فورم ،بھارتیہ جنتا پارٹی اورعوامی نیشنل کانفرنس نے اونتی پورہ ہلاکت کو جمہوریت پر بدنما داغ قرار دیا ہے۔پی ڈی پی لیڈر عبدالقیوم وانی نے رضوان پنڈت نامی نوجوان استاد کی زیرحراست ہلاکت کو جمہوریت پربدنماداغ قراردیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس ہلاکت میں ملوث افراد کو دن دہاڑے پھانسی پر لٹکایاجاناچاہئے ۔ایک بیان میں عبدالقیوم وانی نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ پوچھ تاچھ کے نام پر اعلی تعلیم یافتہ نوجوان کو بیدردی کے ساتھ قتل کیا گیا۔قیوم وانی نے کہا کہ پوچھ تاچھ کے نام پر جو سفاکی منظرعام پر آئی ہے اس نے ہرذی روح کو ہلا کررکھ دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کشمیر پولیس اور این آئی اے کی طرف سے کشمیری نوجوانوں کو ہراساں کئے جانااب معمول بن چکا ہے اورہرسو اب عدم تحفظ کااحساس پایا جاتا ہے۔پی ڈی ایف چیئرمین حکیم محمدیاسین نے حراستی ہلاکت کی مذمت کی ہے اور اس گھناو نے جرم میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا دینے کی مانگ کی ہے۔ایک بیان میں حکیم یاسین نے کہا ہے کہ رضوان پنڈت نامی نوجوان کی زیر حراست ہلاکت سے کشمیر کے نوجوانوں میں خوف و دہشت اور عدم تحفظ کی لہر دوڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ زیر تفتیش ہلاکتوں کا سلسلہ کشمیر میں کافی دیر سے چلتا آرہا ہے اور اگر کشمیری نوجوانوں کے خلاف دھونس دباو کا یہ سلسلہ جاری رہا تو اس سے وہ قومی دھارے سے اور بھی زیادہ دور ہوں گے اور امن و قانون کے اداروں سے انکا اعتماد اور بھی ہٹ جائے گا۔ حکیم یاسین نے مرحوم ٹیچر رضوان پنڈت کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کے روح کے ایثال ثواب کے لئے بھی دعا کی ہے۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی ترجمان الطاف ٹھاکر نے اونتی پورہ کے استاد کی زیرحراست ہلاکت کی مذمت کرتے ہوئے اس کی معینہ مدت کے اندرمکمل تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا تاکہ اس کا سبب معلوم ہو۔ ایک بیان میں ٹھاکر نے کہا کہ رضوان نامی نوجوان کی پولیس حراست میں موت کی شفاف اور معینہ مدت کے اندر تحقیقات کی جانی چاہئے ۔انہوں نے کہا کہ استاد قوم کااثاثہ ہوتے ہیں اوررضوان کی پولیس حراست میں موت ٹھیک نہیں ہے ۔ عوامی نیشنل کانفرنس نے اونتی پورہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان کی پولیس حراست میں موت واقعہ ہونے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی اس سلسلے میں عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ پارٹی کے نائب صدر ایڈوکیٹ مظفر احمد شاہ نے واقعہ میں ملوث اہلکاروں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ مظفر شاہ نے بتایا کہ عوامی نیشنل کانفرنس معاملے میں ملوث عناصر کو کڑی سزا دینے کے لیے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔انہوں نے بتایا کہ پارٹی سپریم کورٹ کا رجوع کرے گی جہاں معاملے کی نسبت ایک عرضی دائر کی جائے گی۔سرینگر میونسپل کارپوریشن کے ڈپٹی مئیرشیخ محمد عمران نے تحقیقات کیلئے ایک مدت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔دوسری جانب کشمیرہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن نے اونتی پورہ کے رضوان احمد پنڈت جسے تین روزقبل پولیس نے گرفتار کرکے ایس اوجی کیمپ کارگومنتقل کیاتھا،کی حراستی ہلاکت کی پرزورالفاظ میں مذمت کی ہے ۔بار کے ایک بیان کے مطابق رضوان احمد جو پیشے سے ایک استاد تھااوراپنااسکول چلا رہاتھا،کوپولیس نے چھ ماہ قبل بغیرکسی وجہ کے گرفتار کیا تھااور پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کٹھوعہ جیل میں بند کیا۔اس کی نظربندی کو اگرچہ عدالت نے کالعدم قراردیا لیکن اسے پھر بھی رہا نہ کیاگیا۔بیان کے مطابق اسے اونتی پورہ پولیس نے ایک بے بنیاد معاملے میں پھنسایاجس میں اسے پلوامہ کی عدالت نے ضمانت پررہا کیالیکن اس کے باوجود اسے پولیس تھانہ اونتی پورہ میں غیرقانونی طور 20دنوں تک بند رکھاگیا۔20روزکی غیرقانونی نظربندی کے بعد اسے رہا کردیاگیااورکچھ تین دن قبل اسے دوبارہ گرفتار کیا گیااورحراست کے دوران اسے تشددکا نشانہ بناکر ہلاک کیاگیا۔ بار نے بیان میں مطالبہ کیا کہ رضوان کی حراستی ہلاکت کی تحقیقات سپیشل تحقیقاتی ٹیم سے کرائی جائے جو روزانہ بنیادوں پر چیف جوڈیشل مجسٹریٹ سرینگر کو اپنی رپورٹ پیش کرے ،تاکہ ایک معصوم کی ہلاکت کے ذمہ دار سزاسے نہ بچ پائیں ۔بار نے بین الاقوامی برادری پرزوردیا کہ وہ رضوان احمد پنڈت کی حراستی ہلاکت کا نوٹس لیں اورریاست جموں کشمیر میں فورسزکے ہاتھوں ہورہی انسانی حقوق کی پامالیوں کیخلاف آوازبلند کریں ۔بار نے متاثرہ خاندان کے ساتھ یکجہتی کااظہار کرنے کیلئے مزاحمتی قیادت کی طرف سے 20مارچ کودی گئی ہڑتال کی کال کی حمایت کرنے کافیصلہ کیا۔اس دوران بار کی ایک تعزیتی میٹنگ میں جموں کشمیر ہائی کورٹ کے سینئر ترین ایڈوکیٹ ایس ہردیوسنگھ اوبرائے کی موت پر دکھ اور افسوس کااظہار کیاگیا۔ زعمائے انجمن حمایت الاسلام بالخصوص سرپرست مولانا شوکت حسین کینگ، صدر مولانا خورشید احمد قانونگو، مولانا عبدالحق اویسی نے نوجوان کی ہلاکت پر سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہاکہ مرتکبین کو سزا دی جائے تاکہ لواحقین کو انصاف ملے۔کاروان اسلامی کے امیر مولانا غلام رسول حامی نے انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات امن اور انسانیت کے منافی ہیں جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔دریں اثناء بھارتی فوج اور سی آر پی ایف نے کرالہ پورہ کے مضافاتی گاؤ ں پنزگام علاقہ کو محاصرے میں لیکر گھر گھر تلاشی کاروائی شروع کی ۔منگل کے روز فوج اور فروسز نے پنزگام کو محاصرے میں لیا ۔فوج نے ایک مصدقہ اطلاع ملنے پر اس علاقہ کو محاصرے میں لیا اور منگل کی صبح کو تلاشی کاروائی شروع کی ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ فوج نے گھر گھر تلاشی کی اور باریک بینی سے کھیت اور کھلیانو ں کے علاوہ میوہ با غات کی بھی تلاشی کی ۔تلاشی کے دوران بھارتی فورسز نے لوگوں کو گھروں سے نکال کر کئی گھنٹے باہر کھڑے رہنے پر مجبور کیا اور مکینوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور گھریلو سامان کی توڑ پھوڑ کی ۔




سرجیکل و ایئرسٹرائیک،آرپارفائرنگ سب مودی کے ووٹ لینے کے حربے ہیں،محبوبہ مفتی

مقبوضہ جموں(وائس آف ایشیا)پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ سرجیکل سٹرائیک، ایئرسٹرائیک،آرپارفائرنگ سب مودی کے ووٹ لینے کے حربے ہیں، نریندر مودی کے جنگی جنون کے باعث بھارت اور پاکستان ایٹمی جنگ کے دہانے تک پہنچ چکے ہیں جبکہ بھارتی حکومت کی جابرانہ پالیسیاں کشمیری نوجوانوں کو عسکریت پسندی اور تباہی کی جانب دعوت دے رہی ہیں ، ٹیچرز کی حراستی ہلاکت کا حالیہ واقعہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسیکے اعتبارپر سوال کھڑے کرتاہے۔جموں میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ بھارتی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے )کی حراست میں سکول ٹیچر کی ہلاکت انتہائی افسوسناک ہے ، اسے اٹھایاگیا اور کارگو میں ہلاک کیاگیاجو 1990میں قتل گاہ کیلئے مشہورجگہ تھی جسے پھر بعد میں مفتی صاحب نے بند کردیا ۔ان کاکہناتھا کہ اس طرح کے واقعات نوجوانوں کو عسکریت پسندی اور مزید تباہی کی طرف لی جاتے ہیں ،حال ہی میں ایک نوجوان نے پلوامہ میں سیکورٹی فورسز کی کانوائے پر حملہ کیا جس کے بعد بھارت اور پاکستان نے ایک دوسرے کیخلاف ہتھیار اٹھا لئے اور دونوں ایٹمی ممالک جنگ کے دہانے پر پہنچ گئے یہ سب مودی حکومت کے جنگی جنون کا نتیجہ ہے اور بھارتی سرکار کی ایسی پالیسیاں خطے بالخصوص کشمیر میں تباہی لائیں گی ۔کرتار پور راہداری کا خیر مقدم کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہاکہ دونوں ممالک کے درمیان ایسے مزید روابط کھولے جانے چاہئیں تاکہ لوگوں کا لوگوں کے ساتھ رابطہ ہوسکے جس سے سرحدی کشیدگی کم ہوگی ۔بالاکوٹ ایئرسٹرائیک کو محبوبہ مفتی نے الیکشن کا حربہ قرار دیتے ہوئے کہاجب تک2019کے انتخابات ہیں تب تک یہ انکاؤنٹر، سٹرائیکس اور آر پار فائرنگ خبروں میں رہے گی کیونکہ بدقسمتی سے ملک میں ایک ایسا ماحول پیدا کیاگیاہے جہاں جموں وکشمیر کے ساتھ سختی ، پاکستان کے ساتھ کشیدگی سے ووٹ اور سراہنا ملتی ہے ،چیزیں سکرپٹ کے مطابق سامنے آرہی ہیں اور آپ دیکھیں گے کہ تبدیلی الیکشن کے بعد ہی ہوگی۔ ان کاکہناتھاکہ تمام جائز مسائل بالاکوٹ نے لے لئے ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ این آئی اے 2009سے ریاست میں سرگرم ہے جب نیشنل کانفرنس اور کانگریس کی حکومت تھی اور حراستی ہلاکت کا واقعہ اس ایجنسی کی اعتباریت پر سوال کھڑے کرتاہے ۔ان کاکہناتھااین آئی اے کو اس پر تحقیقات شروع کرنی چاہئے ، ملوث افراد کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ لوگوں کا اداروں پر اعتماد بحال ہوسکے ۔ عمر عبداللہ کے پی ڈی پی پر بھاجپا کو کشمیر میں جگہ دینے اور حالات خراب کرنے کے الزام کے جواب میں محبوبہ مفتی نے کہا پچھلے دو ماہ سے گورنر راج ہے اور پی ڈی پی اپوزیشن میں بیٹھی ہے ، اگر عمر ابھی بھی یہ سوچتے ہیں کہ ریاست میں پیش آرہی ہر چیز کے پیچھے پی ڈی پی ہی ہے تو میں ان کی عقل پر کیا کہہ سکتی ہوں ۔تاہم انہوں نے کہاکہ یہ سیاست کھیلنے کا موقعہ نہیں مگر بدقسمتی سے عمر عبداللہ کے زیادہ تر بیانات سیاسی حملوں سے بھرے ہوتے ہیں ۔پی ڈی پی صدر کاکہناتھا1996میں یہ این سی کی حکومت تھی جس نے گرفتاریوں، فرضی انکاؤنٹروں، حراستی ہلاکتوں کا سلسلہ شروع کیا اور اب اخلاقیات پر باتیں عمر کو زیب نہیں دیتی ۔کانگریس کے ساتھ قبل از انتخابات اتحاد پر محبوبہ مفتی نے کہاکہ ان کی جماعت ریاست کی سبھی 6نشستوں سے امیدوار میدان میں اتارنے کی تیاری کررہی ہے اورابھی تک کسی کے ساتھ بھی اتحاد کے بارے میں کوئی بات نہیں ہوئی ۔ ان کاکہناتھاکہ یہ صرف افواہیں اور قیاس آرائیاں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ اگر ہر ایک سیاسی جماعت انتخابات لڑے گی تو یہ بات مناسب نہیں کہ پی ڈی پی اپنے امیدوار کھڑے نہ کرکے کانگریس کو حمایت دے گی ۔پی ڈی پی صدر نے کہاکہ ملک میں ہر ایک کو الیکشن لڑنے کا حق ہے ۔عمر عبداللہ کے شاہ فیصل کی پارٹی متعارف کرنے سے متعلق بیان پر محبوبہ مفتی نے کہانیشنل کانفرنس یہ سمجھتی ہے کہ پوری ریاست جموں وکشمیر اس کی ذاتی جائیداد ہے ،عمر عبداللہ سوچتے ہیں کہ اگر کوئی نئی پارٹی آئے گی تو وہ این سی کی جائیداد کا حصہ حاصل کرلے گی ،انہوں نے تب بھی ایسا ہی کیاجب میرے والد مرحوم نے کانگریس کو چھوڑ کر پی ڈی پی متعارف کی ،ہم ایک جمہوری ملک میں رہتے ہیں اور ہر ایک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی جماعت بنائے اور الیکشن لڑے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ نریندر مودی کو واضح اکثریت سے منڈیٹ ملا اور مفتی صاحب نے ان کے ساتھ ہاتھ ملاکر کشمیریوں کے دل جیتنے اور مسئلہ کشمیر کو حل کرکے عالمی رہنما بننے کا موقع دیا لیکن بدقسمتی سے مودی ناکام ہوئے ۔ ان کاکہناتھاکہ وہ کسانوں کے مسائل ، بیروزگاری اور جی ایس ٹی مسائل کو حل کرنے میں بھی ناکام ہوگئے ۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ تمام مجرم بیرون ملک بھاگ گئے لیکن چوکیدار سورہاہے ۔ان کاکہناتھانیرو مودی ، وجے مالیا، میہل چوکسی اور دیگر ان لوٹ کھسوٹ کرکے ملک سے بھاگ گئے ،یہ کس قسم کا چوکیدار ہے جو چوری بھی نہیں بچاسکتا۔




موجودہ سسٹم میں ہمیں انصاف فراہم ہونے کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے جگموہن سنگھ

سری نگر(وائس آف ایشیا)آل پا رٹی سکھ رابطہ کمیٹی نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ ا نیس سال گذرجانے کے باوجود چھٹی سنگھ پورہ میں مارے گئے35 سکھ کنبوں کو ابھی تک انصاف نہیں ملاہے۔ بیان میں آل پا رٹی سکھ رابطہ کمیٹی کے چیئرمین جگموہن سنگھ رینہ نے کہا کہ19 سال گذر جانے کے باوجودانصا ف میں تاخیر کی وجہ سے سکھ طبقہ مایوس ہوچکا ہے۔جگموہن سنگھ رینہ نے کہا کہ ریاستی سرکار اور بھارتی حکومت نے کوئی اقدام نہیں کیاہے۔رینہ نے کہا کہ کہ موجودہ سسٹم میں ہمیں انصاف فراہم ہونے کی کوئی امید نہیں رکھنی چاہئے لیکن ہم یہ مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ اس واقعہ کی تحقیقات ہو تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔انہوں نے کہا کہ میں یہ بات سمجھنے میں ناکام ہو رہا ہوں کہ ایسی کونسی بات تھی کہ ریاستی یا مرکزی حکومت نے35سکھوں کے قتل عام کی تحقیقات کرانے میں سنجید ہ کیوں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جبکہ یہ با ت سامنے آچکی ہے کہ پتھری بل میں پانچ عام شہری مارے گئے تھے اور فوج کا وہ دعوی کہ پانچ غیر ملکی جنگجو جو 36سکھوں کے قتل عام میں ملوث تھے مارے گئے ، غلط ثابت ہوا ہے تو چھٹی سنگھ پورہ کے قتل عام کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔۔انہوں نے کہا لوگوں کا جمہوری نظام ، اس کی سیاست اور فوجی انصاف پر اعتماد اٹھ چکا ہے ،ہم نے پہلے بھی ہوم سکریٹری حتی کہ وزیراعظم کو تحریری طور پر یاداشتیں پیش کی تھی کہ ان واقعات کی تحقیقات کی جائے لیکن کہیں سے کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ رینا نے مر کزی اور ریا ستی سرکار سے مطا لبہ کیا ہے کہ وہ اس کیس کی از سر نو تحقیقات کر یں اور اصل مجر موں کو انصا ف کے کٹہر ے میں لائیں۔ انہوں نے کہا کہ تب تک وادی میں مقیم سکھوں کو چین نہیں آ ئے گا جب تک نہ اس واقعہ میں ملوث افرد کے خلاف واقعی سزا نہیں دی جائے۔




کشمیری رہنما کھاتے پیتے تو بھارت کا ہیں مگرانکے دل پاکستان کیلئے دھڑکتے ہیں ،بی جے پی رہنما ارویندررینہ

مقبوضہ جموں(وائس آف ایشیا)بھارتی وزیرمملکت جیتندرسنگھ اور بی جے پی کے ریاستی صدر رویندررینہ نے حریت پسندوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیری قائدین کھاتے پیتے تو بھارت کا ہیں مگر ان کے دل پاکستان کیلئے دھڑکتے ہیں ،کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کیخلاف ایئرسٹرائیک کی سب سے زیادہ چوٹ حریت پسندوں کو لگی ہے ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ہی متعارف کروائی گئی سابق آئی اے ایس افسر ڈاکٹر شاہ فیصل کی پارٹی کو گلی کی کرکٹ ٹیم قرار دیتے ہوئے بھارتیہ جنتاپارٹی کے ریاستی صدر رویندررینہ نے کہاکہ ایسی جماعتیں ان لوگوں کی طرف سے روزانہ کی بنیادپر متعارف کروائی جاتی ہیں جواپنے محلے میں گلی کرکٹ کھیلتے ہیں ۔گوا کے وزیر اعلی و سابق وزیر دفاع منوہرپاریکر کی وفات کے سلسلے میں منعقدہ تعزیتی اجلاس کے حاشئے میں ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے رینہ نے کہاکہ کشمیر کے لیڈران کی مشکل یہ ہے کہ وہ سہولیات اور کھاتے پیتے تو ہندوستان کا ہیں لیکن ان کے دل پاکستان کیلئے دھڑکتے ہیں ۔رینہ کاکہناتھاکشمیر میں ایس پی او خوشبو جان کی ہلاکت کی کسی نے مذمت نہیں کی لیکن اگر کوئی دوسرا واقعہ ہوتو سیاستدان شوپیاں بند اور پلوامہ چلو کی کال دیتے ہیں ، پی ڈی پی ، این سی اور شاہ فیصل خاموش ہیں اور انہوں نے کشمیر کے وطن پرست لوگوں کیلئے ایک لفظ تک نہیں کہا جو ملک کیلئے جانوں کا نذرانہ پیش کررہے ہیں ۔پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے حقیقی مجاہدین کے ریمارکس پر بی جے پی لیڈر نے کہاہر ایک اس لیڈر کی اعتباریت سے واقف ہے، اقتدارسے باہر ہونے کے ساتھ ہی ان کا لہجہ بدل گیا ،ان کی حالت بناپانی کے مچھلی کی مانند ہے جو دوبارہ اقتدا رمیں آنے کیلئے کوشاں ہیں ۔اس موقع پر بھارتی وزیرمملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہاکہ کبھی کبھی ایسا لگتا ہے کہ پاکستان کے خلاف ایئر سٹرائیک کی سب سے زیادہ چوٹ کشمیر مرکزیت والی سیاسی جماعتوں کے لیڈران کو لگی۔نیشنل کانفرنس صدرفاروق عبداللہ کے گزشتہ روز کے بیان کے رد عمل میں انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم مودی نہیں بلکہ فاروق عبداللہ خود اپنے آپ کو خطرے میں محسوس کررہے ہیں۔ڈاکٹر جتیندر نے کہاکہ پارلیمانی انتخابات میں نوجوانوں کا رول اہم ہے اور ملک کی 60فیصد سے زائد آبادی 40سال سے کم عمر کی ہے ۔ان کاکہناتھاکہ بی جے پی عوام کے پاس ترقی کے مسائل لیکر ووٹ مانگنے جائے گی ۔پارٹی کے باغی لیڈر لعل سنگھ کی طرف سے انتخابات لڑنے کے فیصلے پر انہوں نے کہاکہ یہ جمہوریت کا جشن ہے جہاں ہر ایک الیکشن لڑ سکتاہے اور ہر ایک کسی کا خیر مقدم ہے ۔قبل ازیں پارٹی کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس دوران لوک سبھا انتخابات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیاگیا۔ میٹنگ میں رینہ کے علاوہ جتندر سنگھ، جگل کشور، کویندر گپتا، اشوک کول ، اشوک کھجوریہ ، ست شرما ، ضلع صدور اور دیگر سینئر لیڈران بھی موجود تھے ۔اس موقعہ پر کچھ کارکنان نے پارٹی میں شمولیت بھی کی ۔




بھارتی ایجنسیوں کا استعمال انتقام کی بدترین مثال ہے ، مشترکہ مزاحمتی قیادت

سرینگر(وائس آف ایشیا)مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور لبریشن فرنٹ نے میرواعظ ، سید نسیم گیلانی اور کئی دوسرے لوگوں کے خلاف این آئی اے اور ای ڈی ایجنسیوں کو استعمال کرنے کی کارروائیوں کو آپریشن آل اوٹ کا حصہ اور جمہوری اصولوں کی بیخ کنی سے تعبیر کرتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ فورسز اور ایجنسیوں کو استعمال کرکے من گھڑت کیس تیار کرنا اور پھر اسی آڑ میں قائدین، ان کے بچوں، اہل خانہ اور دوسروں کو تنگ طلب کرنا ثابت کررہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی بے مثال مزاحمت کو کچلنے میں ناکام ہوا ہے اور اب انتقام گیری کے جذبے کے تحت غیر قانونی اور غیر جمہوری اقدامات اٹھاکر کشمیریوں کو مذید پشت بہ دیوار لگانے پر اتارو ہوچکا ہے۔ لبریشن فرنٹ چیئرمین اور مشترکہ مزاحمتی قیادت کے ایک ستون محمد یاسین ملک، جماعت اسلامی کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی، جمعیت اہل حدیث نائب صدرمولوی مشتاق احمد ویری سمیت دوسرے ہزاروں کشمیریوں کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ یا گرفتاریوں ، شبانہ چھاپوں ،لبریشن فرنٹ چیئرمین اور دوسرے لوگوں کے خلاف پرانے فرضی کیسوں کو ازسرنو کھولنے اور ایسے ہی دوسرے ظالمانہ اقدامات کو عرصہ دراز سے جاری آپریشن آل اوٹ کا ہی حصہ ہے۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ سید علی شاہ گیلانی عرصہ دراز سے خانہ نظر بند ہیں جبکہ میرواعظ محمد عمر فاروق بھی آئے روز نظر بند کئے جاتے رہتے ہیں اور اس کا واحد مقصد قائدین کو عوام الناس سے دور رکھنا ہے۔ محمد یاسین ملک پر عائد کئے گئے الزامات کہ جن کے تحت ان پر پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا ہے کو مذاق اور پولیس و سول انتظامیہ کی ذہنی پستی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ ایک علیل قائد کو وادی سے باہر کورٹ بلوال جیل میں قید تنہائی کا شکار بناکر انتظامیہ اپنی بدترین فسطایت کا مظاہرہ کررہی ہے۔ جماعت اسلامی پر باپندی عائد کر نے اور اسکی جملہ قیادت بشمول امیر جماعت ڈاکٹر حمید فیاض کو پابند سلاسل کردینے کو ایک آمرانہ اقدام سے تعبیر کرتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ جو لوگ جیتے جاگتے انسانوں کو دن کے اجالے اور کیمروں کے سامنے مار مار کر ہلاک کرتے ہیں،لوگوں کی املاک کو خاکستر کرتے ہیں ،ذی عزتوں کو مار مار کر لہولہان کرتے ہیں اور میڈیا و سوشل میڈیا پر مسلمانوں کا نام و نشان مٹادینے کے دھمکیاں دیتے ہیں انہیں سرکاری سرپرستی حاصل ہے جبکہ تعلیم کو عام کرنے،سماجی خدمات اور دینی تربیت کے ذریعے امن و استحکام کو فروغ دینے والوں کو پابند کیا جارہا ہے ،ان کے دفاتر اور املاک کو ضبط کیا جارہا ہے اور ان سے وابستہ ہر انسان و نشان کو زیر عتاب لانے کا سلسلہ دراز تر کیا گیا ہے۔




بھارتی فوج آپریشن آل اوٹ کے زریعے کشمیریوں کا جزبہ آزادی ختم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے

سری نگر(وائس آف ایشیا) بھارتی فوج آپریشن آل اوٹ کے تحت کشمیریوں کے قتل عام سے اور بھارتی تحقیقاتی ایجنسی این آئی ائے جعلی مقدمات کے زریعے کشمیریوں کا جزبہ آزادی ختم کرنے میں ناکام ہو گئی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند ( جے آر ایل) قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ محمد عمر فاروق اور یاسین ملک کی طرف سے جاری بیان میں کیا گیا ہے کہ شہداء کے لہو سے مزین و مربوط تحریک کو شکست دینے کا بھارتی خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ آج جبکہ بھارتی حکمران کشمیریوں کی تحریک مزاحمت کو کچلنے کیلئے آپریشن آل آوٹ تیز کرچکے ہیں کشمیری حریت پسندعوام پر لازم ہے کہ وہ قیادت کی جانب سے مشتہر ہر پروگرام کو من و عن عمل میں لاتے رہیں ۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ ظلم و جور سے قوموں کی تحاریک آزادی اور مزاحمت کو کچلنے کے خواب خواب پریشان وبے تعبیر ہی رہے ہیں کیونکہ قومی و ملی مزاحمت کو فوجی و پولیسی طاقت سے زیر کرنا ناممکن ہوا کرتا ہے۔ میرواعظ محمد عمر فاروق ، سید نسیم گیلانی اور کئی دوسرے لوگوں کے خلاف این آئی اے اور ای ڈی نامی ایجنسیوں کو استعمال کرنے کی بھارتی کارروائیوں کو آپریشن آل اوٹ کا حصہ اور جمہوری اصولوں کی بیخ کنی سے تعبیر کرتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ فورسز اور ایجنسیوں کو استعمال کرکے نام نہاد من گھڑت کیس تیار کرنا اور پھر اسی آڑ میں قائدین، ان کے بچوں، اہل خانہ اور دوسروں کو تنگ طلب کرنا ثابت کررہا ہے کہ بھارت کشمیریوں کی بے مثال مزاحمت کو کچلنے میں ناکام و نامراد ہوا ہے اور اب انتقام گیری کے جذبے کے تحت غیر قانونی اور غیر جمہوری اقدامات اٹھاکر کشمیریوں کو مذید پشت بہ دیوار لگانے پر اتارو ہوچکا ہے۔ مشترکہ قائدین نے کہا کہ میرواعظ محمد عمر فاروق، سید نسیم گیلانی اور دوسرے لوگوں کو بار بار دہلی طلب کرنے کے پیچھے بھی بھارتی حکمرانوں کی انتقام گیری اور بھارتی عوا م کو بے وقوف بناکر زیادہ سے زیادہ ووٹ اور سیٹیں حاصل کرنے کا کا جذبہ کارفرماہے جو اپنے آپ میں ایک انتہائی مذموم عمل ہے۔لبریشن فرنٹ کے چیئرمین اور مشترکہ مزاحمت قیادت کے ایک ستون محمد یاسین ملک، جماعت اسلامی کے ترجمان ایڈوکیٹ زاہد علی، جمعیت اہل حدیث کے نائب صدرمولوی مشتاق احمد ویری سمیت دوسرے ہزاروں کشمیریوں کی کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ یا دوسرے قوانین کے تحت گرفتاریوں ،متعدد افراد کے خلاف پولیس اور فورسز کے شبانہ چھاپوں ،لبریشن فرنٹ چیئرمین اور دوسرے لوگوں کے خلاف پرانے فرضی کیسوں کو ازسرنو کھولنے اور چلانے اور ایسے ہی دوسرے ظالمانہ اقدامات کو عرصہ دراز سے جاری آپریشن آل اوٹ کا ہی حصہ قرار دیتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ پچھلے سے زائد برس کا عرصہ اس بات کا شاہد ہے کہ بھارت کے یہ سارے حربے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو زیر کرنے میں ناکام رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ان کا ناکام و نامراد ہونا طے شدہ ہے۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ بزرگ قائد سید علی شاہ گیلانی عرصہ دراز سے خانہ نظر بند ہیں جبکہ میرواعظ محمد عمر فاروق بھی آئے روز نظر بند کئے جاتے رہتے ہیں اور اس کا واحد مقصد قائدین کو عوام الناس سے دور رکھنا ہے۔ جے آر ایل قائد محمد یاسین ملک پر عائد کئے گئے الزامات کہ جن کے تحت ان پر پی ایس اے کا اطلاق کیا گیا ہے کو مذاق اور پولیس و سول انتظامیہ کی ذہنی پستی کا شاخسانہ قرار دیتے ہوئے مشترکہ قیادت نے کہا کہ ایک علیل قائد کو وادی سے باہر کورٹ بلوال جیل میں قید تنہائی کا شکار بناکر انتظامیہ فسطایت کا مظاہرہ کررہی ہے۔




مقبوضہ کشمیر،نامعلوم افراد کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحق،فورسز کے چھاپے،خطیب سمیت 20زائدافراد گرفتار

سرینگر(وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر میں ترال کے مضافاتی گاؤں میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے ایک نوجوان جاں بحق ہو گیا جبکہ وادی کے مختلف علاقوں میں مذہبی جماعتوں کیخلاف کریک ڈاؤن میں مسجد کے خطیب سمیت 20سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے ،گرفتار ہونے والوں میں تین حریت کارکنان بھی شامل ہیں جنھیں چند روز قبل ہی رہا کیا گیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات کو نامعلوم افراد نے محسن وانی ولد غلام محمد وانی ساکن ریشی پورہ ترال پر نزدیک سے گولیاں چلائیں ، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوا۔مقامی لوگوں نے اسے اسپتال پہنچایا تاہم وہ تب تک دم توڑ چکا تھا۔22سالہ محسن کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ اس نے تعلیم ادھوری چھوڑ کر میوہ باغات کے دیکھ ریکھ کیساتھ ہی خود کو وابستہ کیا ہوا تھا۔محسن وانی کے ایک چچازاد بھائی، جوکہ بینک گارڈ بھی ہے، پر بھی مشتبہ جنگجوؤں نے حملہ کیا تھا۔اس دوران قصبہ ترال کے مختلف علاقوں میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 8نوجوانوں کو گرفتار کیا گیا ہے جبکہ گزشتہ کئی روز کے دوران ابھی تک20نوجواں کی گرفتار عمل میں لائی گئی ہے۔ بڈگام میں گزشتہ رات چھاپے کے دوران فورسز نے حریت کارکن سمیت تین افراد کو بڈگام سے گرفتار کر کے تھانے میں بندکردیا ہے۔ خیال رہے مزکورہ گرفتار شدگان کو گزشتہ دنوں رہا کیا گیا تھا ۔اس دوران 55آر آراور ایس او جی اہلکاروں نے شیخ محلہ نائرہ میں جنگجوؤں کے موجود گی کی اطلاع ملنے کے بعدمحاصرے کیاجس دوران گاؤں کے اند یا باہر آنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے، تاہم بعد میں کئی گھنٹوں بعد محاصرہ ختم کیا گیا۔ ادھر تجر شریف سوپور میں فورسز نے بعد دوپہر بستی کو محاصرے میں لے کر گھر گھر کی تلاشی لی۔تاہم تلاشی کاروائیوں کے دوران کوئی بھی قابل اعتراض چیز برآمد نہیں ہو ااور ناہی کسی کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ۔دریں اثناء مذہبی لیڈروں کیخلاف جاری کریک ڈاؤن کو جاری رکھتے ہوئے فورسز نے گذشتہ رات کے دوران جنوبی ضلع پلوامہ میں گیاہ افراد کو گرفتار کرلیا جن میں ایک خطیب بھی شامل ہے۔اطلاعات کے مطابق مولانا محمد امین کو ڈانگر پورہ میں واقع ان کے گھر سے گرفتار کرلیا گیا۔مولانا وشبگ مسجد کے خطیب ہیں۔پولیس ذرائع کے مطابق دس مزید افراد کو بھی شبانہ چھاپوں کے دوران گرفتار کرلیا گیا ہے اور یہ چھاپے زیادہ تر کاکا پورہ علاقے میں مارے گئے۔واضح رہے کہ جماعت اسلامی سے وابستہ سینکڑوں افراد کو پہلے ہی گرفتار کیا گیا ہے۔بھارتی فورسز نے کریک ڈاؤن اور محاصروں کے دوران گھر گھر تلاشی لی اس دوران مکینوں کو گھروں سے نکال کر سردی میں کھڑا رکھا اور خواتین اور بچوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔




میر واعظ دلی نہیں گئے،این آئی اے کو وکیل نے خط لکھ دیا،حریت کانفرنس

سرینگر(وائس آف ایشیا)حریت کانفرنس(ع)نے واضح کیا ہے کہ چیئرمین میرواعظ عمر فاروق کو این آئی اے کی جانب سے 14مارچ کا سمن ،جو انہوں نے 15 مارچ کو وصول کیا اور جس کے تحت انہیں 18 مارچ کو دلی طلب کیا گیا ہے، کا جواب میرواعظ نے بذریعہ اپنے وکیل بھیجا ہے۔میرواعظ نے اپنے جواب میں اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں تعاون کرنے کیلئے تیار ہے تاہم انہوں نے کہا کہ ا ین آئی اے اس سلسلے میں اپنا کام دلی کے بجائے سرینگر میں انجام دے کیونکہ دلی میں رہتے ہوئے ان کو درپیش خطرات جس کا ذکر ان کے وکیل کی جانب سے10 مارچ کو بھیجے گئے جواب میں کیا ہے، وہ خطرات اور خدشات بدستور قائم ہے۔میرواعظ کے وکیل نے یہ بات زور دیکر کہی کہ اس سے قبل بھی سرینگر میں این آئی اے نے کئی افراد سے سرینگر میں سوال جواب کئے ہیں اور یہی طریقہ کارمیر واعظ کے ساتھ کیوں نہیں کیا جاسکتا؟۔




مودی کے واویلے پر کشمیر اور بھارتی علاقوں میں ریڈیو پاکستان کی نشریات کا گلا گھونٹنے کا فیصلہ

لاہور( وائس آف ایشیا رپورٹ : محمد قیصر چوہان)پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت نے جموں و کشمیر اور ممبئی سے ملحقہ علاقوں بھارتی علاقوں میں ریڈیو پاکستان کی نشریات ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسکی منظوری اگلے دو ایک روز میں متوقع ہے ۔ اس فیصلے کے تحت افغانستان کے سرحدی علاقوں میں بھی ریڈیو پاکستان کی نشریات ختم ہوجائیں گی یہ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے مقبوضہ جموں کشمیر اور بھارتی علاقوں میں ریڈیو پاکستان کی نشریات پر تنقید کرتے ہوئے عوام میں شعور اجاگر کرنے پر واویلا کیا تھا ۔ ریڈیو پاکستان کی انتظامیہ نے ریڈیو پاکستان کے وہ مراکز بند کرنے کیلئے اعلیٰ سطحی اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کرلئے ہیں جو ادارہ جاتی اصلاحات کے نام پر دوایک روز میں منعقد ہوگا ، اس اجلاس کے ایجنڈے پر پشاور ، کراچی اور اسلام آباد ٹرانسمیشن سنٹر ز کی بندش کی منظوری شامل ہے ریڈیو پاکستان کے ہائی پاور ٹراسمیشن سنٹر کراچی کی بندش سے ممبئی ، اس سے ملحقہ بھارتی و ساحلی علاقوں، پشاور اسلام آباد ہائی پاور ٹرانسمیشن سنٹر (روات) سے آزاد کشمیر ، مقبوضہ جموں و کشمیر اور ملحقہ علاقوں اور پشاور ٹرانسمیشن سنٹر کی بندش سے صوبہ کے پی کے سے ملحقہ افغان سرحدی علاقوں میں بھی ریڈیو پاکستان کی نشریات کا گھلا گھونٹ دیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل نے ذاتی تعصب کی بنیاد پر بھٹ شاہ اور مٹھی کے ایف ایم ریڈیو سٹیشن بند کرنے کا فیصلہ بھی کیا ہے اور اپنا لسانی تعصب چھپانے کیلئے سرگودھا کے ایف ایم ریڈیو سٹیشن کی بندش بھی ایجنڈے میں شامل کرلی ہے ۔ یہ ایف ایم ریڈیو مذہبی ، سماجی معلوماتی اور تفریحی نشریات کے ساتھ ساتھ ہر گھنٹے ریڈیو پاکستان کا خبرنامہ نشرکرتے ہیں ۔ ہیڈ کورٹرز کے ذرائع کے مطابق ریڈیو پاکستان کے سٹاف میں ڈاؤن سائزنگ بھی حکومتی منصوبے میں شامل ہے ، سٹاف کی کمی کے بعد ریڈیو کا شعبہ خبر اور پروگرام بڑی طرح متاثر ہوگا جس کے بعد ریڈیو پاکستان کو غیر موثر ادارہ قراردیکر سے ریڈیو پاکستان پاکستان کو اُس عمارت میں منتقل کردیا جائے گا جہاں منتقلی کا فیصلہ ملازمین اور سول سوسائٹی کے احتجاج پر موخر کیا گیا تھا اور ریڈیو پاکستان کے ہیڈ کوارٹرز کے عمارت منظورِ نظر افراد کے حوالے نہیں کی جاسکی تھی ۔




جنوبی کشمیر کے پلوامہ ترال اور کولگام اضلاع کے درجن بھر دیہات کا محاصرہ

سری نگر(وائس آف ایشیا) جنوبی کشمیر کے پلوامہ ترال اور کولگام اضلاع کے درجن بھر دیہات کو بھارتی فوج نے محاصرے میں لے کر کئی افراد کر گرفتار کر لیا ہے ۔ لٹی شارٹھ علاقے ،پھر سل یاری پورہ کے دوران بیگ پورہ ،آری ہل پلوامہ ،چوا کھرد ترال کے علاقوں میں کریک ڈاؤن تلاشی تلاشی کاروائیوں سے لوگوں میں خوف ودہشت پیدا ہو گیا ۔ پلوامہ ،شوپیاں کولگام ،اضلاع اور ان کے ملحقہ علاقوں میں چھاپوں تلاشی کاروائیوں کاسلسلہ پچھلے تین ماہ سے جاری ہے جس کے نتیجے میں جنوب کشمیر کے لوگ پریشان ہونے لگے بڑی تعداد میں لوگ نقل مکانی کے بارے میں سنجیدگی سے سو چناشروع کردیاہے جبکہ گرفتاریوں سے بچنے کیلئے نوجوانوں کی بڑی تعداد بھی روپوشی کی زندگی گزر نے پرمجبور ہوگئی ہے ۔جنوب کشمیرکے کولگام پلوامہ ،شوپیاں اور اننت ناگ اضلا ع میں محاصروں کریک ڈاونوں چھاپوں گرفتاریوں خانہ تلاشیوں کی وجہ سے لوگوں کاکاروبار بری طرح سے مفلوج ہوچکا ہے کسان اپنے سیب کے باغوں اور کھیتوں پربھی جانے سے کترا تے ہیں صورتحال دن بدن بد سے بد تر ہوتی جا رہی ہے۔




جب ہم کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کا سیاسی حل ہونا چاہئے تو ہمیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے،سابق وزیر اعلی عمرعبداللہ

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمرعبداللہ نے کہا ہے کہ ہمارے دشمن نہیں چاہتے کہ ہم ایک آواز میں بات کریں، جب ہم کہتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور اس کا سیاسی حل ہونا چاہئے تو ہمیں دبانے کی کوشش کی جاتی ہے ، ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور ایک سازش کے تحت ہمیں ٹولیوں میں بانٹا جاتا ہے۔ اننت ناگ میں پارٹی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے عمر کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی کی حکومت جنوبی کشمیر کے عوام کیلئے ایک ڈراونا خواب ثابت ہوئی، سب سے زیادہ کریک ڈاؤن جنوبی کشمیر میں دیکھنے کو ملتے ہیں، سب سے زیادہ زیادتیاں جنوبی کشمیر میں ہوئیں، سب سے زیادہ پی ایس اے کا اطلاق اور گرفتاریاں جنوبی کشمیر میں ہوئیں، سب سے زیادہ خون خرابہ جنوبی کشمیر میں ہورہا ہے، سب سے زیادہ بنکر جنوبی کشمیر میں بنائے گئے، سب سے زیادہ ٹیئر گیس، پیلٹ اور گولیوں کا استعمال جنوبی کشمیر میں ہوا۔ کیا یہی سب دیکھنے کیلئے پی ڈی پی والوں کو عوام نے ووٹ دیئے تھے؟۔عمر عبداللہ نے کہا کہ محبوبہ جی آج ہر بات پر ہمدردی، افسوس اور آنسو بہاتی ہے لیکن 2016میں جب نوجوان گولیوں کے شکار بنائے جارہے تھے ، اس وقت کسی کو یہ آنسو نظر نہیں آئے، جب یہاں اندھا دھند گرفتاریاں اور مظالم جاری تھے تب محبوبہ جی نے کسی کیساتھ ہمدردی نہیں کی، تب تو موصوفہ کہتی تھی کہ جو لڑکے گولیوں کا شکار ہوئے وہ ٹافی اور دودھ لانے نہیں گئے تھے ، اقتدار کے نشے میں دھت موصوفہ نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ فوجی اور فورسز کی بندوقیں صرف دکھانے کیلئے نہیں ہوتیں بلکہ استعمال کرنے کیلئے بھی ہوتی ہیں،اس کے برعکس تب محبوبہ جی کی آنکھوں سے آنسو نکلے ہوتے تو وہ سب کے دلوں کو چھو جاتے لیکن تب ایسا نہیں ہوا ۔ آج موصوفہ آنسو بہارہی ہیں، یہ آنسو الیکشن کے آنسو ہیں، ان آنسوؤں کی سیاسی قیمت ہوتی ہے۔ جنوبی کشمیر کے لوگوں نے ان سیاسی آنسوؤں کا بہت خمیازہ بھگتا ہے، خدارا دوبارہ غلطی نہ دہرانا۔عمر نے کہا کہ محبوبہ مفتی آج حالات کی خرابی کا رونا رو رہی ہیں، کہتی ہیں کہ گرفتاریاں نہیں ہونی چاہئیں، لیکن شائد بھول جاتی ہیں کہ یہ سب کچھ ان کی اپنی ہی حکومت کی ہی دین ہے۔این آئی اے کارروائیوں پر واویلاکرنے پر پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کو لتاڑتے ہوئے عمر کہا کہ شاہد الاسلام آپ کے دورِ اقتدار میں گرفتار ہوئے، تب آپ نے ہمدردی کیوں نہیں کی تب گرفتاری کی اجازت کیوں دی؟ آج جب میرواعظ مولانا عمر فاروق صاحب کیخلاف این آئی اے والے تحقیقات کررہے ہیں، ان کو پوچھ تاچھ کیلئے دلی بلایا جارہا ہے، تو محبوبہ جی پھر ناراض ہوئیں اور کہا کہ یہ غلط ہے، یہ نہیں ہونا چاہئے، لیکن جب ہم دیکھتے ہیں کہ یہ کون سا کیس ہے تو پتہ چلتا ہے کہ 2017کا کیس ہے، جب محبوبہ مفتی وزیر اعلی تھیں، تب محبوبہ جی نے ان کیخلاف کیس دائر کرنے کی اجازت کیوں دی ؟ تب اپنا اثر و رسوخ کیوں نہیں استعمال کیا؟۔ پی ڈی پی کی طرف سے جماعت اسلامی پر پابندی کیخلاف واویلا کو محض فریب کاری قرار دیتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ جماعت اسلامی پر پابندی عائد ہوئی، اس کی شروعات کہاں سے ہوئی۔




ہندوستان اور پاکستان کشمیر مسئلہ کو بات چیت کے ذریعے حل کریں محبوبہ مفتی

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلی پی ڈی پی کی صدر محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ حریت پسندو ں اور دیگر جماعتو ں کے لوگو ں کو جیل میں بند کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ آنے والے وقت میں اس کے برے نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں۔کپوارہ میں عوامی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کشمیر مسئلہ کو بات چیت کے ذریعے حل کریں کیونکہ مسئلہ کشمیر خیالات کی جنگ ہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ حریت پسندو ں اور دیگر جماعتو ں کے لوگو ں کو جیل میں بند کرنے سے مسئلہ حل نہیں ہو گا بلکہ آنے والے وقت میں اس کے برے نتائج بر آمد ہوسکتے ہیں ۔انہو ں نے کہا کہ اس کے لئے بی جے پی میرے خلاف ایف آئی آر درج کرے اور مجھے جیل میں ڈالے تاہم جمو ں و کشمیر کی اصل صورتحال تبدیل نہیں ہوسکتی۔پی ڈی پی صدر نے کہا کہ جماعت اسلامی اور اہلحدیث جیسی دینی جماعتو ں کے لوگو ں کو جیلو ں میں ڈال کر بند کیا جاتا ہے جسکے نتائج خطر ناک ثابت ہونگے اور آنے والے وقت میں اس کا خمیازہ پوری بھگتنا پڑے گا ۔محبوبہ مفتی نے جماعت اسلامی پرعائد5سالہ پابندی اورجماعت کے لیڈروں واسکولی ٹیچروں کی گرفتاری کیخلاف اختیارکردہ اپنے سخت موقف کااعادہ کرتے ہوئے کہاکہ لوگوں کوقیدکیاجاسکتاہے لیکن خیالات کونہیں ۔انہوں نے واضح کیاکہ جماعت اسلامی پرپابندی اوراسکے لیڈروں یاٹیچروں کی پکڑدھکڑسے جماعت اسلامی کانظریہ ختم نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت نے سابق مخلوط حکومت میں بی جے پی کی ناک میں نکیل ڈالی تھی اور وہ اس طرح کے اقدامات اٹھانے سے روکا تھا۔انکا کہنا تھا کہ 2002میں جب پی ڈی پی پہلی بار حکومت میں آئی تو پوٹا، ٹاسک فورس کو کٹم کیا اور سرینگر مظفر آباد روڑ کھولا۔اسکے بعدامن کی ایک نئی فضا قائم کر کے لوگو ں کے دلوں سے خوف کا ماحول نکال دیا جبکہ ریاست میں تعلیم کے سیکٹر کو نئی جان بخشی ۔انہو ں نے کہا کہ ہمیں معلوم تھا کہ 2014میں بی جے پی کے ساتھ الحاق کرنے پر لوگ ناراض ہو جائیں گے لیکن ان کے پاس اس کے سوا کو ئی چارہ ہی نہیں تھا ،لیکن ایسا کر کے پارٹی کو آج پچھتاوا ہے ۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ مفتی محمد سعید نے پہلے ادوار کے تین برسوں میں بہت کام کئے لیکن لوگوں نے صرف 28نشستیں دیں،اوربی جے پی کو، جس نے کوئی کام نہیں کیا تھا کو بھی 25سیٹیں ملیں۔ انہوں نے کہا کہ پی جے پی کے نا پاک ارادو ں کو روکنے کے لئے ان کے ساتھ الحاق کرنے کے لئے مجبور ہو گئی تاکہ کشمیری قوم کو مزید تکالیف کا سامنا نہ کر نا پڑے ۔لیکن ہوا اسکے الٹ۔انہو ں نے مزید کہا کہ میں نے بھارتی مذاکرات کار دنیشور شروما کو کشمیر لایا تاکہ وہ حریت سے بات چیت کرسکیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بھارتی وزیر داخلہ کو 4بار کشمیر لائی تاکہ حریت والوں سے بات چیت ہوسکے۔




کشمیر میں فوجی آپریشن کے ذریعے انتخابات عمل میں لائے جاتے ہیں محمد اشرف صحرائی

سری نگر(وائس آف ایشیا)تحریک حریت کے چیرمین محمد اشرف صحرائی نے تنظیم کے ضلع صدر بانڈی پورہ دانش مشتاق کو پٹن کے مقام پر اپنی والدہ اور بہن سمیت گرفتار کرنے ، ناصر عبداللہ کو پانچ سال کی قید کے بعد اس کا پی ایس اے عدالت عالیہ کی طرف سے کالعدم قرار دئے جانے کے باوجود تھانے میں بند رکھنے ،سید امتیاز حیدر اور بشیر احمد ( کو دوران شب گرفتار کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دانش مشتاق اپنی والدہ اور ہمشیرہ کے ساتھ گھر جارہا تھا کہ پولیس نے انہیں پٹن کے مقام پر روک کر گرفتار کرلیا اور بعد میں ان کی والدہ اور بہن کو دو گھنٹے کے بعد رہا کیا گیا البتہ دانش مشتاق کو باضابطہ گرفتار کرلیا گیا ۔صحرائی نے کہا کہ پالیمانی انتخابات کا بگل بجتے ہی پوری وادی میں آزادی پسندوں سیا سی قائدین اور اراکین کی گرفتاری کا سلسلہ تیز کیا گیا ہے اور آئے روز وادی کے اطراف و اکناف میں چھاپے ڈال کر گرفتاریاں عمل میں لائی جارہی ہیں ۔صحرائی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ الیکشن نہیں بلکہ ایک فوجی آپریشن ہے ۔صحرائی نے کہا کہ جمہوری اور قانونی عمل میں ایک شخص کو اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے یا نہ دینے کا اختیا رہوتا ہے ،لیکن یہاں جمہوری طرز عمل کو پاؤں تلے روندتے ہوئے اور آمرانہ طرز عمل اختیار کرتے ہوئے فوجی آپریشن کے ذریعہ انتخابات عمل میں لائے جاتے ہیں ۔محمد اشرف صحرائی نے کہا کہ الیکشن کے نام پر گرفتاریوں کا کوئی بھی جواز نہیں ہے کیونکہ لوگ خود ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے کا فیصلہ کرنے کے مجاز ہیں ۔ صحرائی نے کہا کہ نا صر عبداللہ گزشتہ پانچ برسوں سے ایک فرضی کیس گرفتار ہیں اور ان پر اب تک کئی بار پبلک سیفٹی ایکٹ نافز کیا گیا حالانکہ عدلیہ نے ان پر سبھی عائد ایکٹ کالعدم قرار دے کر ان کی رہائی کے احکامات صادر کئے لیکن اس کے باوجود ان کی رہائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے۔جناب صحرائی نے منظور احمد گنائی (کلاروس ) کی مسلسل نظربندی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ انہیں ایک ماہ پہلے گرفتار کیا گیا اور ابھی تک پابند سلاسل ہے ۔انھوں نے تمام قیدیوں کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان گرفتاریوں سے قابض انتظامیہ کچھ حاصل ہونے والا نہیں ۔یہ گرفتاریاں صرف دھونس دباؤاور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کرنے کی فوجی مشن کا ایک حصہ ہوتی ہے ،اس صورت حال پر جتنا بھی افسوس کیا جائے اتنا ہی کم ہے ۔گرفتار شدہ افراد میں مسلم لیگ کے محمد یوسف بٹ بھی شامل ہیں




مقبوضہ کشمیر،کنٹرول لائن کے قریب جھڑپ میں ایک بھارتی فوجی ہلاک،3زخمی ،روایتی الزام پاکستان پر عائد

سرینگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوڑی میں مبینہ مجاہدین کے ساتھ مبینہ جھڑپ میں ایک بھارتی فوجی ہلاک اور تین زخمی ہو گئے ہیں جبکہ بھارتی فوج نے واقعہ کا الزام پاکستان پر عائد کیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب مقبوضہ کشمیر کے ضلع راجوڑی میں مبینہ مجاہدین اور بھارتی فورسز کے درمیان جھڑپ ہوئی جو رات بھر جاری رہی۔اس دوران وقفے وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جو پیر کی صبح تھم گیا۔ جھڑپ کے اختتام پر بھارتی فوج کی طرف سے تصدیق کی گئی ہے کہ اس کا ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ہیں تاہم بھارت کی جانب سے واقعہ کی ذمہ داری حسب معمول پاکستان کے سر تھوپی گئی ہے ۔بھارتی فوج نے الزام عائد کیا ہے کہ سرحد پر سے پاک فوج کی جانب سے راجوڑی کے اکھنور سیکٹر کے کیری بٹل علاقے میں گولہ باری کی جس کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوئے ۔بھارتی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرن ویوندر آنند نے الزام عائد کیا کہ پاک فوج کی جانب سے پیر کی صبح ساڑھے پانچ بجے گولہ باری کی گئی جس میں ہلکے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا۔ فائرنگ کا تبادلہ سوا سات بجے تک جاری رہا ۔کنٹرول لائن پر سندر بنی کے علاقے میں بھی گولہ باری کی گئی جس کا جواب دیا گیا ہے ۔ہے تاہم مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں سیز فائر کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔بھارتی فوجی مبینہ مجاہدین کے ساتھ جھڑپ میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں ۔بھارتی فوج کی جانب سے گولہ باری کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ادھر ضلع رام بن میں تحصیل کھڑی کے آڑمرگ علاقے میں اتوار کی صبح کھڑی مہو رابطہ سڑک پر ایک پسی کے گر آنے کی وجہ سے 2 راہ چلتے مزدور لقمہ اجل بنے جبکہ تین دیگر زخمی ہوئے ۔ادھر ادہمپور اور اوڑی میں سڑک حادثات کے دوران مزید 2افراد لقمہ اجل بن گئے۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ اتوار کی صبح گوجر بستی آڑمرگ کے 5 مزدور راشن خریدنے کی غرض سے کھڑی قصبہ کی طرف نکلے تھے، لیکن تھوڑی دور جانے کے بعد ایک پسی کی زد میں آکر 2افراد ہلاک جبکہ تین دیگر زخمی ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ پسی کی زد میں آئے دو افراد نیچے بہہ رہے مہو نالے میں جا گرے جس کی وجہ سے 33 سالہ محمد قاسم گوجر ولد غلام حسین بنتھ کی موت موقع پرہی واقع ہوئی جبکہ چار زخمیوں میں سے ایک شدید زخمی61 سالہ محمد عبداللہ گوجر ولد نور عالم بنتھ نے سرینگر ہسپتال پہنچانے پر دم توڑ دیا ۔ زخمیوں کی شناخت محمد اقبال ولد عطا محمد ، شبیرا حمد ولد بشیر احمد اور نظیرا حمد ولد شبیر احمد گوجر ساکنان آڑمرگ کھڑی کے طور کی گئی ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ سب ڈویژن بانہال کی تحصیل کھڑی کے مہو منگِت اور ترنہ ترگام بزلہ کے درجنوں دیہات بھاری برفباری کی وجہ سے پچھلے دو مہینے سے بجلی ، سڑک اور رسل و رسائل کے دیگر رابطوں سے مسلسل منقطع ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کی زندگی دشوار بنی ہوئی ہے۔ادھر جموں سے سرینگر کی طرف آر ہی ایک تویرا گاڑی زیر نمبر JK11/6419ٹکری ادھم پور میں حادثے کاشکار ہوئی جس دوران گاڑی میں سوار3افرادبری طرح زخمی ہوئے۔ ان میں سے بعد میں ایک مسافر36سالہ فیصل رشید ولد عبد الرشید ساکن بارہمولہ زخموں کی تاب نہ لا کر دم توڑ بیٹھا ۔ ادھر شمالی کشمیر کے اوڑی سے پیر لا کی طرف آرہی ایک ماروتی کارسڑک سے لڑھک کر حادثے کی شکار ہو ئی جس دوران گاڑی میں سوار 3افرادزخمی ہوئے۔ بعد میں ان میں سے ایک زخمی چل بسا۔دریں اثناء وادی میں شہری ہلاکتوں کے خلاف عوام سراپا احتجاج ہیں ۔اس دوران کئی علاقوں میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے اور ریلیاں نکالی گئیں جس میں مظاہرین نے بھارت مخالف نعرے بازی کی تاہم کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہیںآیا۔اس دوران تعزیتی ہڑتال کے باعث کئی علاقوں میں دکانیں اور بازار بند رہے جبکہ انٹر نیٹ اور موبائل سروس کو معطل رکھ اگیا۔




ہم نے مودی سرکار کا ڈٹ کر مقابلہ کیا مودی سرکار کا پردہ فاش کیا کشمیری خاتون رہنما شہلا رشید کا خطاب

سری نگر(وائس آف ایشیا) کشمیری خاتون رہنما شہلا رشیدمقبوضہ کشمیر کی نئی سیاسی پارٹی جموں اینڈ کشمیر پیپلز مومنٹ میں شامل ہو گئی ہیں۔ سری نگر میں ڈاکٹر شاہ فیصل کی قیادت میں پارٹی کے تاسیسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جواہر لال نہرو یونیورسٹی طلبا یونین کی سابق نائب صدر شہلا رشید نے کہا کہ ان کی جماعت مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے زمین ہموار کرنے کی کوشش کرے گی،شہلا نے کہا کہ ان کی یہ کوشش رہے گی کہ کشمیر کی اس سرزمین پر کسی بے گناہ کا خون نہ بہئے۔ شہلا نے کہا کہ اس نے جب بھی ظلم کے خلاف آواز بلند کی تو اس کے خلاف ایف آئی آر درج کئے گئے۔شہلا کا کہنا تھا کہ میں ایسے سینکڑوں ایف آئی آر برداشت کر لوں گی لیکن ریاست کے باہر کشمیری تاجروں، طلبہ اور دیگر لوگوں پر ہو رہے ظلم کو ہونے نہیں دیں گے۔ شہلا نے کہا کہ اسکے خلاف غداری کے مقدمے درج کئے گئے، گرفتاریاں عمل میں لائی گئیں لیکن ہم نے مودی سرکار کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ۔شہلا نے کہا کہ ہم نے ایسی مہم شروع کی جس سے مودی سرکار کا پردہ فاش ہوا ۔




سجاد لون کی جنوبی کشمیر میں سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنانے کی مذمت

سرینگر(وائس آف ایشیا)پیپلز کانفرنس کے چیئرمین سجاد غنی لون نے جنوبی کشمیر میں دو الگ الگ واقعات میں سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنائے جانے کی سخت مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ پرزوردیا کہ ان حملوں کے مرتکب آزاد گھومنے نہ پائیں۔یہاں پیپلزکانفرنس میں شامل ہونے والے نئے افراد کے استقبالیہ پروگرام میں سجاد غنی لون نے سیاسی کارکنوں پر حالیہ حملوں پر افسوس کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر سیاسی کارکنوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔بجبہاڑہ میں این سی کارکن کو نشانہ بنایاجانا نہ صرف مجرمانہ حرکت ہے بلکہ ذاتی جائزہ کابھی متقاضی ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ تین دہائیوں میں سیاسی کارکنوں کو قتل کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوا،مگر یتیموں اوربیواؤں کی تعداد میں ضرور اضافہ ہواہے۔اہم سیاسی کارکن جاویدجنید کی قیادت میں چدوراکے100سے زیادہ سیاسی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سجاد لون نے کہا کہ سیاسی کارکنوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پیپلزکانفرنس میں شامل ہورہی ہے جو عوام میں پیپلزکانفرنس کی مقبولیت کاواضح اشارہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز کانفرنس ہی وہ واحد سیاسی متبادل ہے جو ریاست کے لوگوں کو گمراہی، جھوٹ اور دھوکہ دہی کے چنگل سے آزاد کرا سکتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم آنے والے پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات میں تبدیلی لانے کے لئے عوام کی طاقت کو صحیح سمت دکھانے کا عزم رکھتے ہیں۔کارکنوں نے پارٹی کے مشن کی حمایت کا وعدہ کیا، نیز انہوں نے پارٹی کو زمینی سطح پر مضبوط بنانے کا بھی عزم ظاہر کیا۔ اس موقع پر جاوید جنید نے روایتی طور پر کمزور افراد کو بااختیار بنانے کے لئے کام کرنے کے تعلق سے پیپلز کانفرنس کی قیادت اور نقطہ نظر پر اعتماد ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم تبدیلی لانے او ر عوام کو بااختیار بنانے کے لئے کوئی بھی کسر نہیں چھوڑیں گے۔اس موقع پر ضلعی صدر کپوارہ حفیظ اللہ میر،پی سی چیئرمین کے سیاسی سکریٹری رشید محمود، ضلعی صدر بدگام شاہد راشد اور پی سی کے ترجمان عدنان اشرف میر بھی موجود تھے۔




بھارتی حکومت کشمیر میں عدم استحکام کا ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے،سید علی گیلانی

سرینگر(وائس آف ایشیا) حریت کانفرنس(گ)کے چیئرمین سید علی گیلانی نے میرواعظ مولوی عمرفاروق اور اپنے فرزندنسیم گیلانی کے نام این آئی اے کی دوباری نوٹس جاری کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی حکومت ریاست کے اطراف واکناف میں عام سیاسی کارکنوں کو پریشان اور ہراساں کرکے یہاں سیاسی غیریقینی اور عدم استحکام کو ماحول پیدا کرنا چاہتی ہے ۔ایک بیان میں گیلانی نے رتنی پورہ پلوامہ میں شبانہ چھاپوں اورتلاشی کارروائی کے دوران14نوجوانوں کی گرفتاری،مولانامشتاق احمد ویری اور جماعت کے متعدد کارکنوں سمیت کئی افراد پر پبلک سیفٹی ایکٹ لاگوکرنے اور این آئی اے کے ذریعے سیاسی قیادت کو طلب کرنے کوسیاسی انتقام گیری اور حقوق انسانی کی پامالی کی کارروائیوں سے تعبیر کیا۔انہوں نے کہا کہ عوام اپنے موقف پر چٹان کی مانند ڈٹے ہوئے ہیں اور کسی بھی صورت میں ظلم کے آگے سرنڈر نہیں کریں گے۔




بھارت کی پالیسیوں کے باعث کشمیری نوجوان خود کش بمبار بننے پر مجبور ہیں،میرواعظ

سرینگر(وائس آف ایشیا)حریت کانفرنس(ع) کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق نے کہا ہے کہ گرفتاریاں اوربھارتی ایجنسیوں کے کاغذی نوٹس ہمیں خوفزدہ نہیں کرسکتے ،تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کیلئے ہماری جدوجہد جاری رہے گی،کیا کشمیریوں کیساتھ کیے گئے بھارتی وعدے کو پورا کرنے کا مطالبہ دہشت گردی ہے ؟بھارتی حکمران سیاسی مفاد کیلئے کشمیر کو بھینٹ نہ چڑھائیں، یہ بھارت کی پالسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ کشمیری نوجوان خود کش بمبار بننے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ بھارتی تفتیشی ایجنسی این آئی اے کی طرف سے میر واعظ عمر فاروق کو دہلی طلب کرنے کی تازہ نوٹس روانہ کرنے کے ایک دن بعد حریت(ع)چیئرمین نے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی انہیں خوفزدہ نہیں کرسکتی،اور وہ تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کا مطالبہ جاری رکھیں گے۔انہوں نے واضح کیاکاغذی نوٹسوں سے وہ اصولی موقف سے دستبردار نہیں ہونگے۔ انہوں نے واضح کیا ہم دہشت گرد نہیں،بلکہ انصاف پسند لوگ ہیں۔ انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا مسئلہ کشمیر کا پرامن حل کا مطالبہ دہشت گردی ہے؟ حریت(ع)چیئرمین کا کہنا تھا کہ انہوں نے کئی بار اس بات کی وضاحت کی ہے ہماری لڑائی کسی مذہب یا ملک کیخلاف نہیں ، بلکہ حکومت ہندکی ان غلط پالیسیوں کیخلاف ہے جو 1947 سے آج تک انہوں نے اس مسئلہ کو دبانے کے حوالے سے فوجی طاقت کے بل بوتے سے عبارت کر اختیارکررکھی ہے ۔ مرکزی تفتیشی ایجنسیاین آئی آئے کا ذکر کرتے ہوئے میرواعظ عمر فاروق نے کہا کہ مزاحمتی خیمے کے خلاف یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا پرانے کیسوں کے تحت گرفتاریاں کرنے کیلئیاین آئی ائیکے ذریعے نوٹس اجرا کرکے قیادت کو ہراساں کرنے کیلئے یہ کوئی نئی چیز نہیں ہے۔حریت(ع) چیئرمین نے کہامیں نے اور میرے والد نے یہ چیزیں دیکھی ہیں، مولانا محمد یوسف شاہ کو حق بات کہنے کی پاداش میں جلا وطن کیا گیا ،اورمیرے والد کو حق کی پاداش میں شہید کیا گیا،تاریخی اسلامیہ سکول کو جلایا گیا، میرے چچا کو مسجد میں شہید کیا گیا، اس کے بعد قدغنیں ، گرفتاریاں، نظربندیاں، جامع مسجد پر پابندیاں یہ سب حربے اور ہتھکنڈے اس لئے استعمال کئے گئے تاکہ یہاں کے عوام کی جائز آواز کو دبایا جائے۔انہوں نے تاہم دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ انکے اثاثہ اور جائیداد یہاں کے لوگ ہیں۔میر واعظ عمر فاروق نے کہامیں حکومت ہندوستان سے کہنا چاہتا ہوں کہ میرا سب سے بڑا ا ثاثہ کشمیری عوام کی پرخلوص محبت اور حمایت ہے اور یہی میری سب سے بڑی طاقت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ تحریک کسی ایک فرد یا جماعت کی تحریک نہیں بلکہ پوری کشمیری قوم کی تحریک ہے اور اس تحریک کیلئے کشمیری عوام اپنی جان، اپنی عزت اور اپنا گھر بار لٹا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں کی قیادت اقتدار کی خواہاں نہیں اور لڑائی اقتدار کیلئے نہیں ۔میرواعظ نے سوالیہ انداز میں کہا کہ مسئلہ کشمیر کے سیاسی حل کا مطالبہ کیا کوئی جرم ہے۔ ؟کیا یہ بات کہنا کسی ملک کیخلاف اعلان جنگ ہے ؟ کیا یہ کہنا کہ کشمیریوں کے ساتھ بھارت اور پاکستان نے جو وعدے کئے ہیں ان کو پورا کیا جائے ،دہشت گردی ہے؟۔میرواعظ عمر فاروق نے مسئلہ کشمیر کو عالمی برادری اوراقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے قدیم حل طلب مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے آج سے نہیں بلکہ 1931 سے یہاں کے عوام مال و جان کی قربانیاں پیش کررہے ہیں ۔مشترکہ مزاحمتی قیادت کے سنیئر لیڈر نے کہا کہ کشمیر کو انتخابات کیلئے ایک میدان بنایا جا رہا ہے اور کشمیریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہامیں بھارت کے ارباب اقتدار سے کہنا چاہتا ہوں کہ وہ سیاسی جماعتوں کے مفاد کیلئے کشمیرکو بھینٹ نہ چڑھائیں ، آج کشمیر کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے اور یہ بھارت کی پالسیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ یہاں کا نوجوان عسکریت کے راستے پر چل نکلا ہے،اور خود کش بمبار بننے پر مجبور ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاسی مکانیت کو مسدود کیا گیا ہے،اور نوجوانوں کو پشت از دیوار کیا جا رہا ہے۔میر واعظ نے کہا کہ انکے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے،اور جو پہلے تھا وہ اس پر قائم ہے۔انہوں نے کہاہمارا موقف بالکل واضح اور دو ٹوک ہے جو بات سابق وزیر اعظم ہند اٹل بہاری واجپائی سے کی ،لعل کشن ایڈوانی سے کی ، منموہن سنگھ سے کی ، جنر ل پرویز مشرف سے کی اور پوری دنیا کی قیادت کے سامنے کی اور وہ موقف یہ ہے کہ مسئلہ کشمیرکو حل کرنے کے دو ہی طریقے ہیں یا اس مسئلہ کے حل کے حوالے سے عالمی برادری کی جانب سے کئے گئے وعدوں کو پورا کیا جائے یا پھر مسئلہ سے جڑے تینوں فریقوں کے درمیان ایک بامعنی مذاکراتی عمل کے ذریعے اس مسئلہ کا کوئی قابل قبول حل تلاش کیا جائے ۔انہوں نے مزاحمتی و مذہبی خیمے و لیڈروں کے علاوہ عام نوجوانوں کے خلاف کریک ڈاؤن کو غیر جمہوری عمل قرار دیتے ہوئے کہا محمد یاسین ملک اور دینی مبلغ مولانا مشتاق ویری کو پی ایس ائے کے تحت پابند سلاسل کیا گیا ، جماعت اسلامی کی پوری قیادت کو گرفتار کیا گیا ،اور یہ سب اس لئے کیا جارہا ہے تاکہ مسئلہ کشمیر کو دبایا جائے ۔تاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی کی پشت پر چلائی جا رہیتحریک نہیں ہے بلکہ کشمیریوں کی اپنیتحریک ہے۔انہوں نے کہاہماری تحریک کوئی کسی کی پشت پناہی والی تحریک نہیں بلکہ یہاں کے عوام کی تحریک ہے اور جو یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ یہاں کے نوجوان پیسوں کیلئے سڑکوں کا رخ کررہے ہیں تو میں بھارت کہتا ہوں کہ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے کروڑوں ، اربوں ر وپے کے پیکیج دیئے لیکن اس کے باوجود یہ تحریک زندہ ہے کیونکہ یہ تحریک اقتدار کی نہیں بلکہ حق و انصاف سے عبارت تحریک ہے اور آج یہاں کی پوری سیاسی ، ملی، دینی قیادت ایک ہی صف میں کھڑی ہے۔