مقبوضہ کشمیر‘قاضی نثار کے یوم شہادت پر اسلام آباد میں مکمل ہڑتال

سرینگر (وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں معروف عالم دین قاضی نثار احمد کے 25ویں یوم شہادت کے موقع پر اور بھارتی فوجیوں کی طرف سے علاقے میں حالیہ قتل وغارت کے خلاف آج اسلام آباد قصبے اور اس سے ملحقہ علاقوں میں مکمل ہڑتال کی جارہی ہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق ہڑتال کی کال جموں وکشمیر امت اسلامی نے دی ہے۔ علاقے میں تمام دکانیں ،کاروباری ادارے اور سکول بند جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کے آمدورفت معطل ہے۔ امت اسلامی کے ترجمان نے پارٹی کے بانی رہنما قاضی نثار احمد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ شہداء کو خراج عقیدت پیش کرنے کا بہترین طریقہ ان کے مشن کی تکمیل کے لیے جدوجہد جاری رکھنا ہے۔ قاضی نثار احمد کو نامعلوم مسلح افراد نے1994ء میں آج ہی کے دن ضلع اسلام آباد کے علاقے بون دیالگام میں شہید کیا تھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امت اسلامی کے چیئرمین قاضی یاسر کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جموں کی جیل میں نظربند ہیں۔دریں اثناء امت اسلامی کے رہنماؤں نے ایک پریس بریفنگ میں مزاحمتی قیادت کے خلاف ظالمانہ کریک ڈاؤن اورآزادی پسند قیادت کو بدنام کرنے کے لیے قابض بھارتی حکام کی طرف سے استعمال کئے جانے والے ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کی ہے۔
وائس آف ایشیا19جون 2019 خبر نمبر94




مقبوضہ کشمیر،بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی مزید دو نوجوان شہید

سرینگر(وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی کی تازہ کارروائی میں مزید دو نوجوان شہید ہوگئے بھارتی میڈیا کے مطابق ضلع اسلام آباد میں بھارتی فوجیوں نے تلاشی اور سرچ آپریشن کی آڑ میں اندھادھند فائرنگ کرتے ہوئے دونوجوانوں کو شہید کردیا دونوں نوجوانوں کی شناخت سجاد احمد بٹ اور توصیف احمد کے طور پر کی گئی نوجوانوں کی شہادت کے بعد عوامی احتجاج کو روکنے کیلئے علاقے میں انٹرنیٹ اور موبائل سروس کو معطل کردیا گیا۔




مقبوضہ کشمیر‘بھارتی پولیس نے ضلع شوپیان میں چھاپوں کے دوران پانچ نوجوان گرفتار

 
سرینگر (وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے ضلع شوپیان کے مختلف علاقوں میں شبانہ چھاپوں کے دوران پانچ نوجوانوں کو گرفتارکیاہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق گرفتارنوجوانوں میں آؤنیرہ سے تعلق رکھنے والے عاقب نذیر راتھر، درپورہ کے عامرنذیروانی، شرمال کے سمیر مشتاق بٹ ،مولوچتراگام کے فیصل فاروق بٹ اورڈانگر پورہ کے رئیس احمد گنائی شامل ہیں۔
وائس آف ایشیا19جون 2019 خبر نمبر95




بجبہاڑہ میں بھارتی فورسز کے محاصرے اور تلاشی کارروائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے

 
سرینگر (وائس آف ایشیا)مقبوضہ میں ضلع اسلام آباد کے علاقے بجبہاڑہ میں بھارتی فورسز کی طرف سے محاصرے اور تلاشی کارروائی کے خلاف لوگوں نے زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق بھارتی فورسز نے بجبہاڑہ کے علاقے آرونی کا محاصرہ کیا تو لوگ اپنے گھروں سے باہر آئے اور بھارتی فورسز کی کارروائی کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ بھارتی فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پیلٹ گن اورآنسو گیس سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا جس کے جواب میں نوجوانوں نے فورسز اہلکاروں پر پتھراؤکیا ۔آخری اطلاعات آنے تک فورسز اہلکاروں اور نوجوانوں کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا۔ قابض انتظامیہ نے ضلع میں انٹرنیٹ سروس معطل کردی ہے ۔دریں اثناء نئی دہلی میں ایک سکھ ڈرائیور پر تشدد کے خلاف ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں احتجاجی مظاہرہ کیاگیا۔ ذرائع ابلاغ کی خبروں میں کہاگیا کہ سکھ اور مسلمانوں نوجوانوں پر مشتمل ایک گروپ قصبے میں بس سٹینڈ کے نزدیک جمع ہوا اور واقعے کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظاہرین نے ٹائر جلائے اور بھارتی فورسز کی گاڑیوں پر پتھراؤ کیا۔
وائس آف ایشیا19جون 2019 خبر نمبر93




مقبوضہ کشمیر‘سابق مجاہدین کی بیویوں کا سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ

 
سرینگر (وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں سابق مجاہدین جو نام نہاد بحالی سکیم کے تحت آزاد کشمیر سے واپس مقبوضہ علاقے میں گئے تھے ، کی بیویوں نے سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آبائی علاقوں کو واپس جانے کے لیے سفری دستاویزات فراہم کرنے کا مطالبہ کیاہے۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق 2010ء میں عمرعبداﷲ کی قیادت میں اس وقت کی کٹھ پتلی حکومت کی طرف سے اعلان کردہ بحالی سکیم کے تحت 450کے قریب خاندان مقبوضہ کشمیر واپس لوٹے تھے ۔ سکیم کے تحت ان خاندانوں کو ماہوار وظیفے کے علاوہ نوجوانوں کوہنر مندی کی تربیت دلانے کا وعدہ کیا گیا تھا۔کنٹرول لائن کے دوسری جانب ہجرت کرنے والے بہت سے نوجوانوں نے وہاں شادیاں کی تھیں اور وہ2010ء میں نام نہاد بحالی پالیسی کے تحت اپنی بیویوں اوربچوں کے ساتھ واپس مقبوضہ کشمیر لوٹے ۔ ان نوجوانوں کی بیویوں نے پریس انکلیوں سرینگر میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آبائی علاقوں میں واپسی کے لیے سفری دستاویزات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے پاکستانی ہم منصب عمران خان سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی واپسی میں سہولت کے لیے اقدامات کریں۔ مظاہرین میں شریک نادیہ یوسف نے کہاکہ وہ آزاد کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کے ایک نوجوان سے شادی کرکے سرینگر آئیں اور یہاں ہمیں نیپال سے غیر قانونی طورپر داخل ہونے کے کیس کا سامنا کرنا پڑرہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم یہاں بحالی سکیم کے اعلان کے بعد انتظامیہ کی دعوت پر آئے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج ہم سے پوچھاجارہا ہے کہ ہم کیوں غیر قانونی طریقے سے نیپال سے بھارت آئے؟انہوں نے کہاکہ ہم نے واہگہ بارڈر سے بھارت میں داخل ہونے کے لیے ویزے کی درخواست دی تھی لیکن ہمیں ویزا نہیں دیا گیا۔ نادیہ نے کہاکہ ہم یہاں بندوق لے کر نہیں آئیں بلکہ ہم حکومت کی دعوت کے بعد آئی ہیں۔ احتجاجی خواتین نے کہاکہ ہم ذہنی دباؤ کا شکار ہیں اور اگر آئندہ ایک ماہ میں ہمیں سفری دستاویزات فراہم نہ کی گئیں تو ہم سرحد پار کرلیں گی۔
وائس آف ایشیا19جون 2019 خبر نمبر92




مقبوضہ کشمیر‘ مذاکرات تنازعہ کشمیر کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے‘ مولاناقمی

 
سرینگر (وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں پیروان ولایت کے سرپرست اعلیٰ مولانا سبط شبیر قمی نے بھارت اورپاکستان پر زوردیا ہے کہ وہ تنازعہ کشمیر اور دیگر دوطرفہ مسائل کو حل کرنے کے لیے مثبت اور حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرکے مذاکرت کریں۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق مولانا قمی نے یہ بات سرینگر میں پارٹی کی جنرل کونسل کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بار بار بھارت کو واضح پیغام دیاکہ وہ مذاکرات کے ذریعے دوطرفہ تنازعات کو حل کرنا چاہتے ہیں لیکن بھارت نے ان کی اپیل کا مناسب جواب نہیں دیا۔ انہوں نے کہا بھارت نے ہر بار مذاکرات سے راہ فرار اختیار کرکے غیر حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کیاہے اور وہ تنازعہ کشمیر سمیت تمام دوطرفہ مسائل کے پرامن حل میں ہمیشہ رکاوٹ بنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کشمیری نوجوان بھارتی مظالم کے باوجود آزادی کے مقدس مقصد کے لیے روزانہ کی بنیاد پر اپنی جانوں کی قربانیاں دے رہے ہیں۔ مولانا قمی نے کہا کہ تنازعہ کشمیرکا حل نہ ہونا علاقائی امن کے لیے مسلسل خطرہ ہے اور تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ عوام کی جائز جدوجہد کو دبانے کی بھارتی کوششیں کشمیریوں کو قبول نہیں اوروہ اپنی خواہشات کے مطابق تنازعہ کشمیر کے حل تک ہرقیمت پر جدوجہد آزای جاری رکھیں گے۔
وائس آف ایشیا19جون 2019 خبر نمبر91




حصول حق خودارادیت کی جدوجہدقربانیاں تاریخ کا روشن باب ہے: ترجمان

سرینگر (وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں جموں وکشمیر عوامی مجلس عمل نے کشمیریوں کے پیدائشی حق، حق خودارادیت کے حصول کی جدوجہد میں تنظیم کی قیادت اورکارکنوں کی بے مثال قربانیوں کو کشمیریوں کی عصری تاریخ کا ایک روشن باب قرار دیا ہے ۔ کشمیرمیڈیا سروس کے مطابق عوامی مجلس عمل کے ترجمان نے تنظیم کے56 ویں یوم تاسیس کے موقع پرجو20 جون بروز جمعرات کو منایا جارہاہے ، کہا کہ عوامی مجلس عمل نے اپنے قیام کے روز اول سے کشمیری عوام کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیا ہے اور اس طویل عرصہ کے دوران بے پناہ عزیمت اور استقامت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تحریک کے ہر اول دستے کی حیثیت سے ایک قائدانہ کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تنظیم کے بانی رہنما شہید میرواعظ مولانا محمد فاروق اور دیگر سینکڑوں شہداء نے اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے عظیم نصب العین کی آبیاری کو اپنی زندگی کا مقصد سمجھ کر ادا کیا ہے اور اس مشن کو تکمیل کے مرحلے تک لیجانا ہم سب کی ذمہ داری ہے ۔ترجمان نے کہاکہ اس سلسلے میں تنظیم کے مرکزی دفتر میرواعظ منزل سرینگر میں پارٹی سربراہ میرواعظ عمر فاروق کی صدارت میں پرایک پُر وقار تقریب کا انعقاد کیا جارہا ہے جس میں نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط تنظیم کے مزاحمتی سفراور شدیدمشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود تنظیم کی قیادت اور کارکنان کے اپنے اصولی موقف پر قائم رہنے اور ان کے صبر و استقامت اور جہد مسلسل کی تاریخ کو اجاگر کیا جائیگا۔
وائس آف ایشیا19جون 2019 خبر نمبر90




مقبوضہ کشمیر،عدم شناخت نوجوان سپرد خاک،مزید دو شہید .جھڑپ , دھماکے میں 3فوجی ہلاک،10زخمی

 سرینگر( وائس آف ایشیا ) مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشتگری کا نشانہ بننے والا عدم شناخت نوجوان سپرد خاک، مزید دو شہید،جھڑپ م اور بارودی سرنگ دھماکے میں 3فوجی ہلاک،دو شہریوں سمیت 10زخمی ، وادی میں احتجاج اور ہڑتال ،قابض فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی، ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے بند،انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے مزید دو کشمیری نوجوانوں کو بھارتی فوج نے ریاستی دہشتگردی میں شہید کر دیا ہے ۔ یہ معرکہ منگل کی صبح ضلع اننت ناگ میں بجبہارہ کے مرہامہ علاقے میں پیش آیا جو آخری اطلاعات ملنے تک جاری تھا۔خبر رساں ایجنسی جی این ایس نے حکام کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ابھی تک اس معرکہ آرائی میں دو نوجوان شہید اور ایک فوجی ہلاک جبکہ دو زخمی ہوئے ہیں ۔فائرنگ کے واقعہ میں تین اہلکار زخمی ہوئے تھے جن میں سے ایک ہسپتال میں دم توڑ گیا۔جبکہ باقی ماندہ دو اہلکاروں کا علاج جاری ہے۔اس سے قبل جنگجوؤں اور فورسز کے مابین معرکہ اس وقت شروع ہوا جب فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیکر تلاشی آپریشن شروع کیا۔یہ جھڑپ اننت ناگ ضلع کے ہی اچھہ بل علاقے میں ہوئی جھڑپ کے محض24گھنٹے بعد ہوئی جس میں ایک جنگجو اور ایک فوجی آفیسر جاں بحق ہوئے تھے۔تازہ جھڑپ میں مارے جانے والے دو میں سے ایک نوجوان کی شناخت سجاد بٹ ولد مقبول بٹ عرف افضل گورو سکنہ مرہامہ سنگم کے طور پر ہوئی جبکہ دوسرے کی شناخت کا عمل جاری ہے ۔بھارتی فورسز کے مطابق میں سجاد احمد بٹ وہ جنگجو ہے جس کی گاڑی جنگجوؤں کے لیتہ پورہ خود کش حملے میں استعمال ہوئی تھی اور اس جس میں40فورسز اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔یہ خود کش حملہ کشمیر شاہراہ پر14فروری کے روز ہوا تھا جس کی ذمہ داری جیش محمد نامی تنظیم نے لی تھی۔پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے خبر رساں ایجنسی جی این ایس نے لکھا ہے کہ سجاد کا تعلق جیش سے تھا اور وہ ضلع اننت ناگ کے مرہامہ علاقے میں اپنے دوسرے ساتھی سمیت فورسز کے ساتھ معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق ہوگیا۔اس معرکہ آرائی کے دوران ایک فوجی اہلکار بھی ہلاک اور دو دیگر زخمی ہوگئے۔سجاد عرف افضل گورو نے لیتہ پورہ حملے کے کچھ روز قبل ہی عسکریت میں شمولیت اختیار کی تھی۔واقعہ کی اطلاع ملتے ہی لوگوں نے باہر نکل کر احتجاج کیا اور جائے وقوعہ کا گھیراؤ کیا ۔اس دوران قابض فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے جبکہ علاقے میں دکانیں اور بازار بند کر دئیے گئے ۔ادھر گزشتہ روز پلوامہ کے علاقے آری بل میں بارددی سرنگ میں زخمی ہونے والے دو فوجی اہلکار بھی دم توڑ گئے ہیں ۔فوجی ذرائع کے مطابق مذکورہ فوجی اہلکار زخمی ہونے کے بعد سے 92بیس اسپتال میں زیر علاج تھے۔آرہی ہل میں گذشتہ روز شام کو ایک بارودی دھماکے میں9فوجی اہلکار زخمی ہوئے تھے۔پولیس نے تاہم کہا تھا کہ اس دھماکے میں 6فوجی اہلکار اور2عام شہری زخمی ہوئے تھے۔ادھرگزشتہ روز انت ناگ کے اچھہ بل علاقے میں جھڑپ کے دوران زخمی ہونے والا فوجی افسر میجر راہول کمار دم توڑ گیا ہے جبکہ مارے جانے والے دونوں نوجوانوں کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے ۔گزشتہ روز کئی گھنٹے تک جاری رہنے والی جھڑپ میں بھارتی فوج کا کیپٹن ہلاک اور ایک نوجوان شہید ہو گیا تھا جس کی شناخت نہیں ہو سکی تھی ۔بھارتی فوج ن ے شہید کی میت پولیس کے سپرد کی پولیس نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر رات کے اندھیرے میں اسے گانٹہ مولہ میں عدم شناخت مجاہدین کے قبرستان میں اس کی تدفین کر دی گئی۔گزشتہ روز 19 آر آر، سی آرپی ایف اور پولیس کے اسپیشل گروپ نے بدوڈا اچھ بل نامی گاوں کو محاصرہ میں لیکر تلاشیاں شروع کیں ۔ معلوم ہوا کہ فورسز کو گاؤں میں جنگجوؤں کی موجودگی کی مصدقہ اطلاع موصول ہوئی تھی جس کے بعد فورسز کی مشترکہ پارٹی نے گاؤں کے ارد گرد سخت محاصرہ عمل میں لاکر فرار کے تمام ممکنہ راستوں پر سخت پہرے بٹھادئے۔ اس دوران تلاشی پارٹی نے جونہی گاؤں کے اندر داخل ہوکر چند رہائشی مکانات کی تلاشی لی تو عین اسی دوران قریبی مکان میں موجود جنگجوؤں نے مکان کے اندر سے تلاشی پارٹی پر خود کار ہتھیاروں سے زبردست فائرنگ شروع کی ۔ اس موقعے پر فورسز نے مذکورہ مکان کے ارد گرد گھیراؤ کو تنگ کرتے ہوئے جنگجوؤں کی فائرنگ کا جواب دیا جس کے ساتھ ہی گاؤں میں جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان جھڑپ کا آغاز ہوگیا۔ گاؤں میں موجود فورسز دستوں نے اس موقعے پر فورسز کی اضافی کمک کو طلب کرتے ہوئے یہاں جگہ جگہ فورسز کو الرٹ کردیا اور کسی بھی شخص کو باہر آنے کی اجازت نہیں دی۔ اس دوران طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔ فوجی ذرائع نے بتایا کہ جھڑپ کی جگہ کے ارد گرد فورسز اہلکاروں نے دوپہر سے قبل تلاشی کارروائی کا سلسلہ شروع کیا تو یہاں 2جنگجوؤں کی لاشیں پائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ جنگجوؤں کی شناخت اور تنظیمی وابستگی سے متعلق تحقیقات عمل ہنوز جاری ہے۔اس دوران جھڑپ کے مقام کی تلاشی لینے کے دوران یہاں ملبے کے اندرموجود جنگجو نے فورسز پر زبردست فائرنگ کی جس کے نتیجے میں فوجی میجر سمیت 4اہلکار شدید طور پر زخمی ہوئے۔ پولیس ذرائع کا کہنا تھا کہ مقام جھڑپ کی تلاشی لینے کے دوران یہاں تیسرے جنگجو نے فورسز پر فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں میجر سمیت 4اہلکار گولیاں لگنے سے زخمی ہوگئے۔ انہوں نے بتایا کہ زخمی ہوئے اہلکاروں کو قریب ہی واقع فوجی ہسپتال منتقل کیا گیا تاہم یہاں کیپٹن چیتن شرما زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ انہوں نے بتایا دیگر زخمی اہلکاروں کا فوجی ہسپتال میں علاج و معالجہ جاری ہے۔اس دوران معلوم ہوا کہ گاؤں میں جھڑپ شروع ہونے کے ساتھ ہی بڈورہ اکنگام اور متصل بستیوں سے نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے سڑکوں کا رخ کرکے فورسز کارروائی کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔مظاہرین نے اس موقعے پر فورسز کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہوئے مقام جھڑپ کی جانب پیش قدمی شروع کی تاہم یہاں تعینات فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کی کوشش ناکام بناتے ہوئے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغنے کیساتھ ساتھ پیلٹ فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی گاؤں میں افرا تفری کے ماحول میں مزید اضافہ دیکھنے کو ملا۔ اس دوران ضلع بھر میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کیلئے انتظامیہ نے سوموار صبح سے ہی موبائل انٹرنیٹ سروس بند کردی ۔معلوم ہوا کہ بڈورہ اچھ بل اور مضافاتی علاقوں میں جھڑپ کے پیش نظر مکمل ہڑتال سے معمولات کی زندگی بری طرح سے متاثر ہوکر رہ گئی۔ ادھر پلوامہ کے آری ہل علاقے میں جنگجوؤں کی جانب سے زیر زمین بچھائی گئی بارودی سنگ کا لرزہ خیز دھماکہ ہوا جس میں 6فوجی اہلکار اور 2 عام شہری زخمی ہوئے جن کو فوری طور اسپتال منتقل کیا گیا ۔اس دوران دھماکے کے بعد دیگر اہلکاروں نے شدید فائرنگ کی جس کے نتیجے میں علاقے میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا ہوا۔ادھر فورسز نے واقعے کے فورا بعد علاقے میں پہنچ کر حملہ آوروں کی تلاش تیز کر دی ہے۔سرینگر میں مقیم دفاعی ترجمان نے میڈیا کو بتایا کہ یہ کوئی حملہ نہیں تھا البتہ ایک گاڑی دھماکے کے زد میں آئی ہے جس کے نتیجے مں کچھ اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ انہوں نے افواہوں کو مسترد کیا۔جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے آری ہل علاقے میں سوموار کی شام اس وقت خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوا جب علاقے میں شام کے 6:30 بجے کے قریب فوج کے44آر آر سے وابستہ کچھ گاڑیاں کیمپ کی طرف جا رہی تھی جس دوران جب قافلہ لار پل کے نذدیک پہنچا تو اس دوران ایک زوردار دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں فوجی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا جبکہ گاڑی میں سوار 6فوجی اہلکار اور2 عام شہری زخمی ہوئے جن کو فوری طور اسپتال منتقل کیا گیا . ذرائع نے بتایا زخمیوں میں بعض اہلکار شدید زخمی ہوئے ہیں ۔اس دوران ایک عام شہری عبد الاحد میر بھی زخمی ہوا ہے جس کو اسپتال منتقل کیا گیا ۔ مقامی لوگوں نے بتایا ہم شام کے قریب علاقے میں ایک زوردار دھماکے کی آواز آئی جس کے نتیجے میں دور دور تک کے علاقے دہل اٹھے جس کیساتھ ہی شدید فائرنگ سنائی دی جو کچھ دیر جاری رہی جس کے نتیجے میں علاقے میں زبردست خوف و دہشت کا ماحول پیدا ہوا اور عام لوگ گھروں میں سہم ہو کر رہ گئے۔واقعے کے فورا بعد فورسز کی ایک بڑی تعداد کو علاقے میں طلب کیا گیا۔ اگر چہ حملے کو ابتدائی طور کار بل حملہ بتایا گیا تاہم سرکاری سطح پر اسکی کوئی تصدیق نہیں ہوئی ۔جبکہ سرینگر میں مقیم فوجی ترجمان راجیش کالیا نے میڈیا کو بتایا یہ ایک ناکام حملہ تھا جس کو ناکام بنایا گیا ہے ۔انہوں بتایا اس واقعے میں کچھ اہلکاروں کو معمولی چوٹیں آئی۔ ترجمان کے مطابق جنگجوؤں کے حملے کو فوج نے ناکام بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا ایک موبائیل گاڑی دھماکہ کی زد میں آئی جس دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ دریں وادی میں احتجاج اور ہڑتال کا سلسلہ جاری ۔اس دوران کارباری مراکز تجاری اور تعلیمی ادارے بند۔انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل رہی ۔
وائس آف ایشیا18جون 2019 خبر نمبر39




یاسین ملک اور دیگرکے خلاف این ائی اے کی چارج شیٹ مضحکہ خیز ہے‘لبریشن فرنٹ

 سرینگر ( وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیرمیں جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ نے پارٹی کے غیر قانونی طورپر نظربند چیئرمین محمد یاسین ملک اور دیگر کے خلاف بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے کی طرف سے اخبارات میں مشتہر کی گئی چارج شیٹ کو جھوٹ پر مبنی ، بے بنیاد اور مضحکہ خیز قراردیا ہے ۔ کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق لبریشن فرنٹ کے قائم مقام چیئرمین عبدالحمید بٹ نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں افسوس ظاہر کیاکہ مظلوموں اور پہلے سے ہی نظربند رہنماؤں کو 2016کے عوامی انتفادہ میں ہونیوالے قتل عام کا ذمہ دار ٹھہرانا انتہائی مضحکہ خیز ہے اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت یہ مفروضہ اسلئے گھڑ رہا ہے تاکہ پہلے سے ہی غیر قانونی طورپر نظربند حریت رہنماؤں اور کارکنوں کی غیر قانونی نظربندی کو طول دیا جاسکے۔انہوں نے کہاکہ یاسین ملک پر الزام ہے کہ انہوں نے پرامن سیاسی عوامی انقلاب کی قیادت کی ،اتحاد قائم کیا اور متاثرین کی مدد و نصرت کا بھیڑا اٹھا۔انہوں نے بھارتی حکمرانوں،عالمی برادری اور قانونی ماہرین سے سوال کیاکہ کیا اتحاد قائم کرنا، پر امن سیاسی مہم چلانا اور عوام کی فلاح و بہبود کا کام کرنا جرم ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ ہے اور اسکے حل کیلئے پر امن سیاسی مہم جاری رکھنا کسی بھی طرح غیر قانونی عمل نہیں ہے ۔عبدالحمید بٹ نے این آئی اے کی چارج شیٹ جو دراصل ایک میڈیا ٹرائل ہے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ محمد یاسین ملک اور دیگر رہنماؤں کو 8جولائی 2016کو معروف نوجوان رہنماء برہان وانی کی شہادت کے فورا بعد گرفتار کرلیا گیا تھا اور انہیں کئی ماہ بعد عوامی احتجاج کے ختم ہونے کے بعد ہی جیلوں سے رہا کیاگیا ۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیاکہ آج این آئی اے اور بھارت کا جانب دار میڈیا2016 کی عوامی تحریک کے دوران بھارتی فوجیوں کی طرف سے پر امن مظاہرین پرگولیوں اور پیلٹ گنز کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے کشمیریوں کی شہادت ،زخمی اور بینائی سے محروم ہونے پر حریت رہنماؤں کو مورد الزام ٹھہرایا جاسکے جو کہ پہلے سے ہی نظربند تھے ۔ انہوں نے سوال کیاکہ آخردنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کا دعویدار بھارت اپنے گناہوں اور جرائم کی ذمہ داری نہتے اور معصوم کشمیریوں یا پھر پہلے سے ہی غیر قانونی طورپر نظربند حریت رہنماؤں پر ڈال سکتا ہے ؟انہوں نے کہاکہ یہ کیسے ممکن ہے کہ مظلوموں اور مقہوروں ہی کو ظالم اور ملزم و مجرم قرار دیدیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ این آئی اے نے یاسین ملک پر 2016کے متاثرین کی مدد کرنے کا بھی الزام عائد کیاہے ۔ لبریشن فرنٹ کے قائم مقام چیئرمین نے کہاکہ یاسین ملک نئی دلی کی تہاڑ جیل میں بھارتی ظلم و تشدد اور جبر کا نشانہ بنے ہوئے ہیں جہاں انہیں انتہائی مخدوش حالات میں رکھا گیاہے۔انہوں نے کہاکہ یاسین دل کے ساتھ ساتھ گردوں کے عارضے میں مبتلا ہونے کے علاوہ اب انکی آنکھیں بری طرح متاثر ہوگئی ہیں اور انہیں جیل میں علاج معالجے کی سہولت سے مسلسل محروم رکھا جارہا ہے۔انہوں نے کہاکہ قابض انتظامیہ نے جمہوری اور پرامن جماعت لبریشن فرنٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جملہ سیاسی سرگرمیوں پر بھی غیر جمہوری طریقے پرپابند ی عائد رکھی ہے ۔تاہم انہوں نے کہاکہ ان تمام انتقامی کارروائیوں کے باوجود لبریشن فرنٹ پر امن سیاسی ی جدوجہد جاری رکھے گی اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا۔
وائس آف ایشیا18جون 2019 خبر نمبر43




یاسین ملک نے حریت قیادت کو کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کیا این آئی اے کا اعتراف

نئی دہلی(وائس آف ایشیا) بھارتی تحقیقاتی ادارے این آئی اے نے واضح طورپرتسلیم کیا ہے کہ مشترکہ حریت قیادت کا قیام جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک کا اصل جرم ہے۔ این آئی اے نے نئی دہلی میں ایک پریس بیان میں کہاکہ یاسین ملک نے 2016 میں مقبوضہ کشمیر میں عوامی احتجاجی تحریک کی قیادت کے لیے کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی اور حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمرفاروق کو یکجا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔یاسین ملک نے 2016 میں کشمیر میں تحریک چلانے کے لیے حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کو اکٹھا کرنے اورمشترکہ حریت قیادت قائم کرنے میں اہم کردار اداکیا ۔ بیان میں کہاگیا کہ مشترکہ حریت قیادت وادی میں چار ماہ سے زائد عرصے تک ہڑتال کے لیے احتجاجی کیلنڈر جاری کرتی رہی۔۔بیان کے مطابق یاسین ملک نے خوداسبات کااعتراف کیاکہ انہوں نے سیدعلی گیلانی اورمیرواعظ عمرفاروق کوملاکر مشترکہ مزاحمتی قیادی یعنی جے آرایل کی تشکیل میں اہم رول یاکردارنبھایا۔
 




قیدیوں کو علاج معالجے اور مناسب خوراک سمیت تمام بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا جارہا ہے

سری نگر(وائس آف ایشیا)کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما اور تحریک حریت جموں و کشمیر کے چیئرمین محمد اشرف صحرائی نے کپواڑہ ڈسٹرکٹ جیل میں غیر قانونی طورپر نظربند پارٹی رہنما دانش مشتاق اور دیگر کشمیری نظربندوں کی گرتی ہوئی صحت اور جیل انتظامیہ کی طرف سے انکے ساتھ روارکھے جانیوالے غیر انسانی سلوک کی شدید مذمت کی ہے ۔محمد اشرف صحرائی نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں پارٹی کے ضلعی صدر دانش مشتاق اور دیگر نظربندوں کی گرتی ہوئی صحت اور جیل انتظامیہ کی طرف سے انہیں علاج معالجے اور مناسب خوراک سمیت تمام بنیادی سہولتوں سے محروم رکھنے پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ جیلوں میں کشمیری سیاسی نظربندوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیا جارہاہے ۔اشرف صحرائی نے کہاکہ ڈسٹرکٹ جیل کپواڑہ میں نظربند دانش مشتاق کے اہلخانہ کے مطابق جیل میں گرنے کی وجہ سے اسکے سر پر گہری چوٹ آئی ہے اور جیل کے ڈاکٹروں نے اسے سرینگر کے کسی ہسپتال منتقل کرنے اور ماہر ڈاکٹروں سے علاج معالجہ کرنے کا مشور ہ دیا تھا تاہم ایک مہینہ گزرنے کے بعد بھی جیل انتظامیہ علاج معالجے کیلئے مشتاق کو سرینگر منتقل نہیں کیا ہے ۔انہوں نے بتایا کہ علاج معالجہ نہ ہونے کی وجہ سے مشتاق انتہائی درد اور کرب میں مبتلا ہے اور اگر اسے علاج معالجے کی مناسب سہولت فراہم نہ کی گئی تو اس کا مرض بگڑنے کا خدشہ ہے ۔ دانش کے اہلخانہ نے اس کی صحت کے بارے میں شدید تشویش ظاہر کی ہے ۔ محمد اشرف صحرائی نے جیل انتظامیہ سے دانش مشتاق اور دیگر اسیران کو مناسب علاج معالجہ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ تحریک حریت کے چیئرمین نے دانش مشتاق اور جیلوں میں غیر قانونی طورپر نظربند تمام آزادی پسند رہنماؤں اور کارکنوں کو علاج معالجے سمیت تمام بنیادی سہولتوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے
 




بھارتی میڈیا کشمیری عوام سے متعلق غلط تاثر دے رہا ہے مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ مزاحمتی قیادت

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ مزاحمتی قیادت نے کشمیری عوام کی مذہبی رواداری ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مہمان نوازی کی عظیم روایات کو پوری دنیا کیلئے ایک مثال قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ امرناتھ کیلئے آنے والے یاتری ہمارے مہمان ہیں اور ان کی مہما ن نوازی ان ہی شاندار روایات کے مطابق کی جائیگی۔سیدعلی گیلانی اورمیرواعظ عمرفاروق پر مشتمل مشترکہ مزاحمتی قیادی یعنی جے آرایل کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ چاہے سیاح ہوں یا یاتری کشمیری عوام نے ہمیشہ مشکل اور بدترین حالات میں بھی اپنی اسلامی اور مہمان نوازی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ان لوگوں کا نہ صرف خیر مقدم کیا ہے بلکہ ان کو تحفظ بھی فراہم کیا ہے۔ بھارت کے سرکاری میڈیا کی جانب سے اس ضمن میں کئے جارہے پروپیگنڈے کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے قائدین نے کہا کہ یاتریوں کے تحفظ کے حوالے سے جو غلط تاثر دیا جارہا ہے وہ حقیقت سے کوسوں دور اور محض پروپیگنڈا ہے جو میڈیا کے اس حصے کا ہمیشہ وطیرہ رہا ہے اور جس کے تحت وہ کشمیر کے حالات کی صحیح عکاسی کرنے کے بجائے یہاں کے حالات کو توڑ مروڑ کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔ قائدین نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ بھارت کے لوگ یہاں آئیں اورکشمیری عوام پر سرکاری سطح پر جو مظالم ڈھائے جارہے ہیں ان کے جملہ حقوق طاقت کے بل پر سلب کئے جارہے ہیں اور بے پناہ فوجی جماؤ اور طاقت کے بل پر یہاں کے عوام کو پشت بہ دیوار کرنے کیلئے جو مذموم حربے استعمال کئے جارہے ہیں وہ ان حالات کو سمجھیں اور مسئلہ کشمیر کی اصل اور تاریخی حقیقت سے واقف ہو جائیں تاکہ ان کو حکومتی سطح پر اور بھارتی میڈیا کے بعض حصے کی جانب سے کشمیر اور کشمیری عوام سے متعلق جو غلط تاثر دیا جارہا ہے اور مسئلہ کشمیر کی اصل حقیقت سے بے خبر رکھا جارہا ہے وہ اس سے باخبر ہوکر دوسروں کو بھی یہاں کے اصل زمینی حقائق سے آگاہ کریں۔
 




بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی مزید دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کردیا

سری نگر(وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر کے ضلع اسلام آباد میں پیر کے روزبھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی کے دوران مزید دو نوجوانوں کو شہید کردیا۔قابض فوج نے ان نوجوانوں کو ضلع کے بدورا، اکنگام گاؤں کے اچھہ بل علاقے میں میں محاصرے اور تلاشی کی پر تشدد کارروائی کے دوران شہید کیا۔ قابض حکام نے ضلع میں موبائل اور انٹر نیٹ سروس معطل کردی ہے۔اس سے پہلے بھارتی فوج نے اسلام آباد، کلگام، شوپیاں اور بانڈی پور کے اضلاع میں بڑے پیمانے پر محاصرے اور تلاشی کی کارروائیاں کیں۔ بھارتی ٹی وی کے مطابق علاقے میں ہونے والی جھڑپ میں بھارتی فوج کے میجر راہل ورما ک سمیت تین بھارتی فوجی زخمی ہو گئے ہیں ۔جنوبی کشمیر کے اننت ناگ ضلع میں سوموار کو جنگجوؤں اور فورسز اہلکاروں کے مابین معرکہ آرائی کے دوران ایک آفیسر سمیت تین فوجی اہلکار زخمی ہوگئے ہیں۔ فورسز نے علاقے کا محاصرہ مزید سخت کردیا ہے اور آپریشن جاری ہے۔جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں 12 جون کو کھنہ بل پہلگام روڑ پر ہونے والے حملے میں زخمی پولیس افسر دم توڑ گیا ہے ۔ ایس ایچ او اسلام آباد ارشد خان کو نئی دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز منتقل گیا گیا تھا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ بیٹھے۔
 




مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری،حریت ترجمان گرفتار

سرینگر( وائس آف ایشیا )مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم جاری،حریت ترجمان گرفتار،کنٹرول لائن سے گرفتار چاروں نوجوان رہا،وادی میں نوجوانوں کی ہلاکت کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ،دکانیں اور بازار بند انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل،ڈوڈہ کا نوجوان دریائے نیرو میں ڈوب کر لاپتہ ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز نے حریت (گ) کے ترجمان اعلی غلام احمد گلزار کو پولیس کی طرف سے گرفتار کرنے کی کارروائی کی چیئرمین سید علی گیلانی نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ حریت بیان کے مطابق علی الصبح پولیس کی ایک ٹیم نے ترجمان کے گھر پر چھاپہ ڈال کر اس کو گرفتار کرکے شیر گڑھی تھانے میں بند کردیا ہے۔ گیلانی نے پولیس کارروائی کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریاست میں سیاسی قائدین اور کارکنوں کو سیاسی طور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور یہاں جان بوجھ کر سیاسی بے یقینی کا ماحول پیدا کرکے یہاں کے عوام کو پشت بہ دیوار کردیا جارہا ہے۔ دریں اثناء بھارتی فوج اور فورسز کے ہاتھوں شمالی کشمیر کے اوڑی علاقے میں کنٹرول لائن کے قریب سے گرفتار4 نوجوانوں کو کئی روز تک پوچھ تاچھ اور مکمل تحقیقات کے بعد پولیس نے والدین کی سپرد کیا ہے ۔ اس دوران ذرائع نے والدین کے سپرد گی کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا چاروں کو کونسلنگ کے بعد رہا کر کے والدین کے حوالے کیا ہے تاکہ مذکورہ لوگ قومی دائرے میں رہ کر عزت کی زندگی گزار سکیں گے ۔ خیال رہے اس قبل گزشتہ دنوں فوج نے چارنوجوانوں جن میں عادل احمد ڈار ساکن یاری پورہ کولگام ،طاہر شمیم لون ساکن کپرن شوپیان ،سمیر بٹ ساکن سیرسوپور اورنوید پرا ساکن پٹن بارہمولہ کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اسلحہ کی تربیت حاصل کرنے کیلئے جانے کے دوران فوج نے انکی گرفتاری کا دعوی کیا تھا ۔ ادھرڈوڈہ میں ایک طالب علم نہانے کے دوران پانی کی تیز لہروں گم ہوا۔ اس دوران طالب علم کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کی گی ہے تاہم آخری اطلاعات ملنے تک طالب علم کی لاش برآمد نہیں ہوئی۔ خطہ چناب کے نئی داں گری علاقے میں بہنے والے دریا نیروں میں بارہویں جماعت کا طالب علم 17سالہ شعیب ملک ولدفاروق احمد ملک ساکن ہانچ گھاٹ سخت گرمی کے دوران نہانے کے دوران لاپتہ ہوا ، تاہم ان کے ساتھ مزید طالب علموں کو کچھ لوگوں نے وہاں سے بچا لیا ۔مقامی ذرائع نے بتایا شعیب احمد اپنے کچھ ساتھیوں کے ساتھ دریائے نیرو میں نہارہا تھا جس کے دوران وہ پانی کی تیز دھار کی زدمیں آکربہہ گیا۔اس دوران وہاں موجود دوطلبا کو بچا لیا گیا تاہم تیسرے طالب علم کا تاحال کوئی پتہ نہیں چلا ہے ۔پولیس نے جائے واردات پر پہنچتے ہی بچاؤ کارروائی ہاتھ میں لی۔ آخری اطلاعات ملنے تک شعیب کے بارے میں کوئی اتہ پتہ نہیں ملا تھا۔ پولیس نے اس سلسلے میں ایک کیس درج کر کے تحقیقات شروع کی ہے ۔ وادی میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں نوجوانوں کی شہادت کیخلاف احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔اس دوران مختلف علاقوں میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے اور ریلیاں نکالیں تاہم کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔وادی کے بیشتر علاقوں میں تعزیتی ہڑتال کے باعث کاروباری مراکز اور تجارتی ادارے بند،انٹر نیٹ اور موبائل سروس معطل رہی ۔




مسئلہ کشمیر تقسیم ہند کا ایک نامکمل ایجنڈا ہے ، سید علی گیلانی

 
سرینگر(وائس آف ایشیا) کل جماعتی حریت کانفرنس ’’گ‘‘ گروپ کے چیئرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ صرف مسئلہ کشمیر ہند کا ا یک نامکمل ایجنڈا ہے۔ اس مسئلے کے تینوں فریق بھارت ، پاکستان اور کشمیری اس کو نظر نہیں کر سکتے ۔ حریت کانفرنس کی مجلس شوریٰ کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت چیئرمین حریت سید علی گیلانی حیدر پورہ سرینگر میں منعقد ہوا جس میں ممبر اکائیوں کے سربراہان یا ان کے نمائندوں نے شرکت کی ۔ اجلاس میں رواں حق خودارادیت کی تحریک کے ساتھ جڑے اہم معاملات کا گہرائی اور گیرائی کے ساتھ تجزیہ کیا گیا ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے مسئلہ کشمیر کو تقسیم ہند کا ایک نامکمل ایجنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کے تینوں فریق بھارت ، پاکستان اور کشمیری عوام کسی بھی صورت میں اس کو صرف نظر کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہو سکتے ۔مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ریاست کی موجودہ بدترین سیاسی صورت حال کے حالے سے بھارت کی سخت گیر کشمیر پالیسی کو شتر مرغ جیسیچال قرار دیتے ہوئے انہوں نے اپنی غیور قوم سے تاریخ کے اس نازک ترین دوراہے پر انتہائی فہم و فراست ، نظم و ضبط اور صبرو استقلال کا دامن تھامنے کی دردمندانہ اپیل کی ہے ۔ حریت راہنما نے بھارت کے فاشسٹ نظریہ رکھنے والے ارباب اقتدار کی طرف سے جموں و کشمیر جیسی چھوٹی ریاست کے نہتے لوگوں کو اپنے بے پناہ فوجی طاقت سے مرعوب کرائے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے حریت پسند عوام نے پچھلے 71 برسوں سے چھ لاکھ سے زائد انسانی جانوں کی شہادتیں پیش کرنے کے علاوہ عزت و ناموس اور کھربوں روپے مالیت کی جائیدادوں کی قربانیاں اپنی مقدس تحریک حق خودارادیت کے لئے دی ہیں جس کی مثال تاریخ انسانی میں ملنی محال ہے ۔ حریت راہنما نے اس عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ حریت پسند قیادت اور عوام بھارت کے استعماریاور استبدادی حربوں سے کسی بھی صورت میں فوجی دباؤ کو قبول نہیں کرے گی اور نہ ہی ان ہتھکنڈوں سے مرعوب ہو کر اپنی لہورنگ تحریک سے دستبردار ہونے کی روادار ہو سکتی ہے ۔ حریت راہنما نے قرآن اور سنت کی روشنی میں اپنے کردار کو استوار کرنے اور اپنی پوری زندگی کو نور اسلام سے منور کئیجانے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان کسی بھی حال میں ظالم اور دہشت گرد نہیں ہوسکتا ۔ حریت راہنما نے خاص کر مسلم نوجوان نسل کو اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ جدید ترین سائنسی علوم حاصل کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عالمی سطح پر دین اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کے زہریلے اثرات کا توڑ کرنے اور مقامی سطح پر غلامانہ زندگی کے تاریک ترین پہلوؤں کے حوالے سے بیداری کی مہم اجاگر کرنی چاہئے تاکہ لوگ اپنے جملہ حقوق انسانی کا مطالبہ کرنے میں پس و پیش یا دھونس دباؤ کو قبول کرنے سے اجتناب کر سکیں ۔




عوامی مسائل کے حل کے حوالے سے حکومت کی غفلت شعاری انتہائی افسوسناک ہے ، میرواعظ

سرینگر(وائس آف ایشیا)حریت کانفرنس’’ع‘‘ گروپ کے چیئرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی عمر فاروق نے جموں و کشمیر کے عوام کے روزمرہ مسائل کے حل کے حوالے سے ریاستی انتظامیہ اور حکمرانوں کی غفلت شعاری کو حددرجہ افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ دنوں صرف دو دن کی بارش نے پورے کشمیر میں ہنگامی صورت حال کو جنم دیا اور 2014ء کے خوفناک سیلاب کے مناظر آنکھوں کے سامنے آ گئے ۔ جامع مسجد سرینگر میں ایک بھاری اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حریت چیئرمین نے کہا کہ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ یہاں جو بھی حکومت آئی یا جتنے بھی ایڈمنسٹریشن وجود میں آئے انکے نام تو بڑے تھے لیکن جب کام پر نظر ڈالتے ہیں تووہ نہ ہونے کے برابر ہے ۔ آج سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے لیکن کشمیر میں سیلاب کے خطرات سے نمٹنے کے لئے ریاستی ایڈمنسٹریشن کے پاس نہ کوئی حکمت عملی ہے اور نہ کوئی کاغذی منصوبہ ہے انہوں نے کہا کہ دریائے جہلم کی فلڈ چینل کی اگر بات کریں تیو ماہرین کہتے ہیں کہ اس فلڈ چینل میں بیک وقت 40000 کیوسک پانی سما جانے کی گنجائش تھی جو اب سکڑ کر صرف 4000 کیوسک کی رہ گئی ہے ایسا صرف اس لئے ہوا ہے کہ نہ یہاں اس چنل کی ڈریجنگ کے منصوبے کو آگے بڑھایا گیا اور نہ فلڈ چینلوں کی تعمیر مناسب طریقے سے انجام دی گئی ۔ اگر ایسا ہوتا تو بارش ہونے کی صورت میں ہزاروں کیوسک پانی ان فلڈ چینلوں میں سما سکتا تھا انہوں نے کہا کہ حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہی ہے دریائے جہلم ، یہاں کی فلڈ چینلیں ، واٹر باڈیز ، نہریں دن بہ دن سکڑتی جارہی ہے اور حد یہ ہے کہ ایک فلڈ چینل پرا یک بڑے ہوٹل کی تعمیرکی گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سراسرحکومت کی ناکامی ہے کہ اس بے ہنگم اور ناجائز تعمیر کی اجازت صرف حکومتی اداروں سے ہی لوگوں کو ملتی ہے اگر ہم ان قدرتی سروں کی بات کریں چاہیں وہ گل سر ہو ، خوشحال سر ، ‘آنچارسریا براری نمبل کی بات کریں ہر جگہ ناجائز تعمیرات کے نتیجے میں یہ روایتی پانی کے سرختم ہوتے جارہے ہیں انہوں نے کہا کہ جہاں ہم حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کی غیر ذمہ دارانہ رویوں کی بات کریں وہاں ہمیں اپنے آپ کا بھی محاسبہ کرنا چاہئے ۔




بھارتی فوج نے مئی 2019 میں34 کشمیر یوں کو شہید کر دیا 60 کشمیری زخمی

سری نگر(وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے مئی 2019 میں34 کشمیر یوں کو شہید کر دیا ان میں سے 3 کو دوران حراست شہید کیا گیا۔کے پی آئی کے مطابق بھارتی فوج کی اس کارروائی سے 4 خواتین بیوہ اور 10 بچے یتیم ہو گئے ۔اس دوران مختلف علاقوں میں پر امن مظاہرین پر طاقت کے وحشیانہ استعمال سے 60 کشمیری زخمی ہوئے۔جبکہ اس عرصے کے دوران ایک خاتون سمیت 156 شہریوں کو گرفتار کیاگیا ۔فوجیوں نے رواں ماہ 39رہائشی مکانات تباہ کر دیے۔
وائس آف ایشیا 01جون2019 خبر نمبر18




دو سال میں،925 10فوجی زخمی ،مقبوضہ کشمیر میں مظاہرین کے خلاف روبوٹ بھی استعمال

 
نئی دہلی ، سری نگر( وائس آف ایشیا) بھارتی فوج مقبوضہ کشمیر میں عسکریت پسندوں اور احتجاجی مظاہرین سے نمٹنے کیلئے ریاست جموں و کشمیر میں اب روبوٹ بھی استعمال کرے گی ۔ بھارتی وزارت دفاع کے مطابق چاربرسوں کے دوران وادی کشمیر میں احتجاجی مظاہر وں کے دوران پتھراو کے دوران 12130فورسز اہلکار زخمی ہو ئے ، بھارتی اخبار کے مطابق اس صورت حال کے پیش نظر وزارت دفاع نے فورسز کی جانب سے روبوٹ استعمال کرنے کا منصوبہ منظور کر لیا ہے ۔ 5سو کے قریب روبوٹ وادی پہنچا ئے جارہے ہیں ۔ ریاست جموں کشمیر میں پچھلی تین دہائیوں سے پولیس وفورسز اہلکاروں کی ہلاکتوں میں ہرسال اضافہ ہونے کے باعث جہاں ریاست خاص کروادی کشمیر میں تعینات فوج اور نیم فوجی دستوں کے جوان مسلسل ڈیوٹی پرتعینات رہنے کے باعث نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہورہے ہیں وہی سنگبازی نے پولیس و فورسز کے جوانوں کو ایک نئی پریشانی میں مبتلاکردیا روبوٹ سنگبازی کے دوران اشک آور گیس پیپرگیس ساونڈ شل اور آ ہنی گولیاں بھی چلائیں گئے اور ان کانشانہ صحیح ہوگا۔کے پی آئی کے مطابق وادی کشمیر میں عسکریت اور سنگبازی سے نمٹنے کیلئے روبوٹ استعمال کرنے کے فیصلے کو وزارت داخلہ نے بھی منظوری دی ہے۔وزارت داخلہ و دفاع کے مطابق 2016میں سنگبازی کے دوران 9235 ، 2017میں 1690اور2018میں 759اور2019کے چار ماہ کے دوران 446فورسز اہلکار سنگبازی کے دوران زخمی ہوئے۔




بھارتی فوج نے جنوبی ضلع پلوامہ میں دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا

 
 
سری نگر( وائس آف ایشیا)بھارتی فوج نے جنوبی ضلع پلوامہ میں دو کشمیری نوجوانوں کو شہید کر دیا ہے ۔ فوج نے جمعہ کو پلوامہ کے کئی علاقوں کو محاصرے میں لے کر تلاشی مہم شروع کی تھی ۔ اونتی پورہ کے براؤ بنڈنہ گاؤں میں فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی اہلکاروں نے دوران محاصرہ دو نو جوانوں کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ اس واقعے کے بعد بڑے پیمانے پر احتجاجی مطاہرے شروع ہو گئے ہیں ۔ ۔ وائس آف ایشیا کے مطابق ادھر ترال میں بھی محاصرہ کرکے تلاشی مہم شروع کر دی گئی ہے اس علاقے سے دو گریجویٹ طالب علم شولت احمد لون اور ندیم احمد وگے کو گرفتار کر لیا گیا ہے ۔ جنوبی ضلع پلوامہ اور شوپیاں اضلاع میں موبائل فون اور انٹرنٹ سروس معطل کر دی گئی ہے ۔ ادھر بھدرواہ ٹاون سے ایک خاتون کی لاش برامد ہوئی ہے ۔




جموں35اے ا اوردفعہ 370کو بھارتی آ ئین سے حذف کرنے کیلئے کوئی جلدی نہیں

 
جموں( وائس آف ایشیا) بھارتی حکمران جماعت بی جے پی کے رہنمااور بھارتی پارلیمنٹ کے ممبر شمشیرسنگھ منہاس نے کہا ہے کہ آرٹیکل 35Aکو منسوخ کرنے اوردفعہ 370کو بھارتی آ ئین سے حذف کرنے کیلئے بھارتیہ جنتا پارٹی کوکوئی جلدی نہیں ہے۔ پارلیمنٹ کے موجودہ اجلاس کے دوران ان حساس معاملات کو نہیں اٹھایاجائیگا ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اقوام متحدہ میں کشمیرکے مسئلے کولے کر جوغلطی کی ہے اس سے کشمیر ایک بین الاقوامی معاملہ بن گیاہے تاہم اگر حریت پسند اور مزاحمتی قیادت قانون کے دائرے میں رہ کر بات چیت کی خوا ش رکھتے ہیں بھارتی حکومت کو اس پرکوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔کانگریس کے دوراقتدار میں مذاکرات کاروں کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات اوراین ڈی اے کی جانب سے مقرر کئے گئے مذاکرات کار کی کارکردگی کے بارے میں سوال کے جواب میں شمشیر سنگھ منہاس نے کہا کہ 1947سے لیکر 2014تک کانگریس نے ریاست جموں کشمیرکے حوالے سے کئی کمیشن کمیٹیاں قائم لیکن اور ان کمیٹیوں کمشنوں کی جانب سے جوسفارشات پیش کی گئی ہے کانگریس نے ان پرکبھی بھی سنجیدگی کامظاہرہ نہیں کیاہے