کشمیری عوام کو مسلح جھڑپوں کی آڑ میں انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کیا جارہا ہے. حریت رہنما

سری نگر(وائس آف ایشیا) نیشنل فرنٹ، پیپلز پولیٹیکل فرنٹ،اتحاد المسلمین ،تحریک مزاحمت ،مسلم لیگ،مسلم ڈیموکریٹک لیگ، مسلم کانفرنس ، محاذ آزادی ، انٹرنیشنل فورم فار جسٹس ، تحریک استقامت ، تحریک استقلال ، مسلم خواتین مرکز،ینگ مینز لیگ،سالویشن مومنٹ، ڈیموکریٹک پولیٹکل مومنٹ اوراسلامی تنظیم آزادی نے سانحہ گاؤکدل کو تاریخ کا ایک سیاہ باب قرار دیتے ہوئے اس سانحہ میں جاں بحق ہوئے افراد کو خراج عقیدت ادا کیا ہے۔ نیشنل فرنٹ نے سانحہ گاؤ کدل میں جاں بحق ہوئے افراد کو برسی پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔فرنٹ ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ پوری قوم ان کی مرہون منت ہے اور ہر ایک پر یہ فرض عاید ہوتا ہے کہ وہ ان کے مشن کو منطقی انجام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کرے۔ترجمان کے مطابق آج بھی کشمیری عوام کو مسلح جھڑپوں کی آڑ میں انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کیا جارہا ہے۔گاؤ کدل سانحہ کو جلیانوالہ قتل عام سے زیادہ ظالمانہ قرار دیتے ہوئے ترجمان نے کہاکہ جس طرح جلیانوالہ باغ قتل عام کے ماسٹر مائنڈس کو برصغیر چھوڑ کر بھاگنا پڑا، ٹھیک اسی طرح گاؤ کدل سانحہ کی سازش رچنے والے عناصر کو بھی کشمیر چھوڑ کر جانا پڑے گا۔ پیپلز پولیٹیکل فرنٹ سرپرست فضل الحق قریشی اورچیئرمین محمدمصدق عادل نے سانحہ گاوکدل میں جاں بحق ہوئے افراد کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ سانحہ گاؤکدل تاریخ کشمیر کاایک سیاہ باب ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج 29 برس گزرنے کے بعد بھی جب ہم اس دل آویز گھڑی کو یاد کرتے ہیں جب ایک منصوبہ بند سازش کے تحت اس وقت کے گورنر جگموہن کے ہاتھوں گاؤ کدل میں پر امن احتجاجی مظاہرین پرگولیاں برسا کر52 شہریوں کوجاں بحق کیا۔ اتحاد المسلمین کے صدر مولانا مسرور عباس انصاری نے سانحہ گاوکدل کی برسی کے سلسلے میں شہدا کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ گاوکدل جیسے سانحات جمہوریت پر بدنما داغ ہیں اور اس طرح کے سانحات سے جمہوریت اور انسانیت شرمسار ہے۔تحریک مزاحمت کے محبوس چیئرمین بلال احمد صدیقی نے سرینگر سنٹرل جیل سے ایک بیان میں گاوکدل قتل عام میں جاں بحق ہوئے افراد کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان دردناک سانحات کو زندہ رکھنا اور آیندہ نسلوں کی خاطر ان کو محفوظ کرنا مزاحمتی تحریک کا ایک اہم اور لازمی حصہ قرار پاتا ہے۔مسلم لیگ نے گاوکدل، ہندوارہ اور کپواڑہ کے خونین سانحات میں جاں بحق ہوئے افراد کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔لیگ ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ سانحات انسانی تاریخ میں مظلومیت کی عکاسی اور ظلم و جبر کا جیتا جاگتا ثبوت ہے جب نہتے کشمیریوں کے لہو سے زمین کو لالہ زار کیا گیااور ایک ایسی مثال قائم کی جو ہمیشہ بھارت کی جمہوریت پر سوالیہ نشان بن کر رہ گیا کیونکہ آج سے تین دہائی پہلے محض اپنے جمہوری حق کی پاداش اور بازیابی کی خاطر اپنی آوازوں کو بلند کرنے والوں کو جس طرح بے دردی کے عالم میں منصبہ شہادت پر پہنچایا گیا اس کی مثال آج کے جمہوری اور جدید دور میں ملنا محال ہے ۔مسلم ڈیموکریٹک لیگ نے گاؤ کدل ، کپواڑہ اور ہندوارہ سانحات کو یاد کرتے ہوئے جاں بحق ہوئے افراد کوخراج عقیدت پیش کیا ۔ مسلم کانفرنس کے چیئرمین شبیر احمد ڈار، محاز آزادی کے صدر محمد اقبال میر، انٹرنیشنل فورم فار جسٹس محمد احسن اونتو، ینگ مینز لیگ کے چیئرمین امتیاز احمد ریشی ،تحریک استقامت کے چیئرمین غلام نبی وار، تحریک استقلال کے چیئرمین غلام نبی وسیم اور مسلم خواتین مرکز کی چیرپرسن یاسمین راجہ نے مشترکہ بیان میں گاؤکدل، ہندوارہ اورکپوارہ سانحات میں جاں بحق ہوئے افراد کو خراج عقیدت پیش کیا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے خاموشی اختیار کرنے کی مذمت کی ہے۔ سالویشن مومنٹ چیئرمین ظفر اکبر بٹ نے کہا ہے کہ ریاست کی تاریخ میںیہ اس قسم کا پہلا سنگین اور دلدوز واقعہ ہے ،جس میں فورسز نے بربریت کے سارے ریکارڈ توڑ کر 52معصوم لوگوں کی جانیں لیں۔انہوں نے گاؤ کدل سانحہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ28سال کا عرصہ گزرنے کے باوجو بھی قاتلوں کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی انہیں اس بات کے لئے جوابدہ بنایا گیا کہ انہوں نے انسانی جانوں کو کس بنا پر گولیوں سے بھون ڈالا۔ ڈیموکریٹک پولیٹکل مومنٹ کے چیئرمین فردوس احمد شاہ اوراسلامی تنظیم آزاری کے چیئرمین عبدالصمد انقلابی نے سانحہ گاؤکدل میں جاں بحق ہوئے افراد کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا کہ زندہ قومیں ان سرفروشوں کو کسی بھی صورت میں فراموش نہیں کرتی۔




بھارت نواز جماعتوں نے کشمیریوں کے جذبات و احساسات اور قربانیوں کا استحصال کیا انجینئر رشید

سری نگر(وائس آف ایشیا) عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے کہا ہے کہ جموں وکشمیر کی بھارت نواز جماعتوں نے نئی دہلی کا ایجنٹ بن کر جموں کشمیر کے لوگوں کے جذبات و احساسات اور قربانیوں کا استحصال کیا ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ بات حیران کن ہے کہ وہ لوگ ،جو کنبہ پروری،رشوت ستانی،مسئلہ کشمیر کی حیثیت کو کمزور کرنے کی کوششوں اور دیگر جرائم میں ایک دوسرے کے شریک رہے ہیں،اپنے آپ کو معصوم اور ایک دوسرے کو گناہ گار ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔انہوں نے کہاریاست کی سبھی مین اسٹریم پارٹیوں (بھارت نواز)کے کھاتے میں اسکے سوا کچھ بھی نہیں ہے کہ انہوں نے کشمیر کے حوالے سے نئی دہلی کے موقف کومضبوط کرنا چاہا۔انہوں نے مزید کہا کہ 1996سے لیکر ابھی تک جس کسی نے بھی یہاں حکومت کی اس نے نئی دہلی کا ایجنٹ بن کر جموں کشمیر کے لوگوں کے جذبات و احساسات اور قربانیوں کا استحصال کیا ہے اور غلط امیدیں دلا کر لوگوں کو پشت بہ دیوار کیا ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ اپنا محاسبہ کرنے اور خود کو عوامی جذبات کے قریب کرنے کی بجائے مین اسٹریم سیاسی لیڈروں کا بڑا طبقہ شرمناک انداز میں ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرکے خود کو نئی دہلی کا سب سے زیادہ وفادار ثابت کرنے میں لگا ہوا ہے۔دریں اثنا انجینئر رشید نے محبوبہ مفتی کی طرف سے جموں خطہ میں مسلمانوں خاص طور سے گوجروں اور بکروالوں کے خلاف منافرت پھیلانے اور ان کی جائیدادیں مسمار کرنے کے متعلق بیان کو صحیح قرار دیتے ہوئے انہیں یاد دلایا ہے کہ جموں خطہ کے مسلمانوں کی کسمپرسی اور بے بسی میں خود محبوبہ مفتی کا بڑا ہاتھ ہے کیونکہ انہوں نے بی جے پی کے ساتھ اپنے پارٹی کے رشتہ کو بر قرار رکھنے کیلئے فرقہ پرستوں کو کھلی لگام دے دی اور آج سی لئے ان کے چیخنے چلانے کا کوئی خریدار نہیں ۔




کشمیری قوم ظلم وستم کی چکی میں کئی دہائیوں سے پسی جارہی ہے۔ ہمارا انگ انگ اپنے اندر مظلومیت کی داستانیں ہیں

سری نگر(وائس آف ایشیا) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے سماج کی بے حسی، انسانیت سوز ذہنیت اور تعلیم یافتہ افراد کے تعصب پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئے روز سماجی برائیوں اور اخلاقی بے راہ رویوں کے واقعات ہر باشعور انسان کے لیے روح فرسا ہیں۔ ہم لوگ مسلمان تو دور کی بات ہے انسان کہلانے کا حق بھی کھو رہے ہیں۔ لل دید اسپتال میں پیش آئے واقعے کو ایک شرمناک اور گھناؤنہ فعل قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمہ صحت سے وابسطہ افراد اور خاص ڈاکٹر حضرات انسانی سماج کا وہ حصہ ہے جو مریض اور اس کے لواحقین کے لیے امید اور حوصلہ مندی کا ایک ظاہری سہارا ہوتا ہے۔ اس پیشہ کو سماج کا ہر طبقہ عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور نامساعد حالات، گھریلو مشکلات اور ذاتی مجبوریوں کے باوجود یہ عملہ عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہوکر یہاں کے خون آشام حالات میں بھی بڑی حوصلہ مندی اور جانفشانی سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ جہاں اس جذبہ کی قدر کی جانی چاہیے، وہیں لل دید اسپتال جیسے واقعے میں ملوث افراد کی نشاندہی کرکے اس انسانیت سوز حرکت کے لیے قصورواروں کو قرار واقعی سزا دی جانی چاہیے، تاکہ ایک تو اس مقدس پیشہ کو ایسی غلیظ ذہنیت کے افراد سے پاک کیا جاسکے اور دوم ایک مفلس، غریب اور لاچار خاتون کی فریاد کی دادرسی بھی ہوسکے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ ہماری قوم ظلم وستم کی چکی میں کئی دہائیوں سے پسی جارہی ہے۔ ہمارا انگ انگ اپنے اندر مظلومیت کی داستانیں سموئے ہوئے ہیں۔ روزوشب کی انتھک اور لگاتار مصروفیت سے بشریت کے تقاضوں کے عین مطابق ڈاکٹر حضرات کا غم وغصہ کا اظہار ایک فطری ردعمل ہوسکتا ہے، لیکن دردِ زاہ میں مبتلا کسی خاتون کو اسپتال سے باہر ٹھٹھرتی سردی کے حوالے کرنے کا عمل کم سے کم کسی انسان کا نہیں ہوسکتا۔ اس کو کسی بھی زاوئیے سے قابل معافی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایسے افرود ڈاکٹروں کے مقدس پیشے پر ایک بدنما داغ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ حریت چیرمین نے ایسی کئی خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے معاشرے میں انسانیت، آپسی بھائی چارہ، اخوت، ہمدردی اور اعتماد کے سنہرے جذبات دن بدن مفقود ہوتے جارہے ہیں۔ ہم ظاہری ترقی، بڑی بڑی گاڑیوں، اونچے اونچے عالیشان تعمیرات، کھلی اور کشادہ سڑکوں سے اپنی خوشحالی کا معیار طے کرتے ہیں، لیکن جو معاشرہ انسانیت کے جذبے سے ہی عاری ہو، وہاں ظاہری اور عارضی تعمیروترقی کی خوش فہمی ایسے بوسیدہ سماج کو زیادہ دیر زمین کے سینے پر برداشت نہیں کرسکتا اور ایسے معاشرے کو اخلاقی بے راہ روی، خود غرضی، حرص ولالچ اور خودنمائی کا دھیمک اندر ہی اندر سے کھوکھلا کرکے بہت ہی قلیل وقت میں زمین بوس کردیتا ہے۔آزادی پسند راہنما نے عوام سے بالعموم اور جوانانِ ملّت سے بالخصوص دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قرآن وسنت سے راہنمائی حاصل کرکے انسابنیت کے اعلیٰ اور ارفع اصولوں کی آبیاری کرتے ہوئے اپنے گھر اور معاشرے کو انسان دوست بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔، تاکہ ہمارا سماج ان سنہری اصولوں کی بدولت پھلے پھولے اور اپنے رہنے والوں کو بھی امن وسکون عطا کرسکے۔




جنوری کی تقریبات نزدیک آنے کے ساتھ ہی شہر سرینگر سمیت وادی میں ہائی الرٹ

سری نگر(وائس آف ایشیا)26جنوری کو بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ کے سلسلے میں پولیس وفورسز کو متحرک کیا گیا ہے ، گاڑیوں ، راہگیروں کی باریک بینی سے تلاشی لی جار ہی ہے ۔ شہر سرینگر کے ٹورسٹ سینٹر میں ڑونٹھ کول پر واقع پل پر خار دار تاریں نصب کی گئیں جبکہ رام منشی باغ تھانے کے آگے بھی خار دار تاروں سے سڑک کو ٹریفک کی نقل و حرکت کے علاوہ راہگیروں کیلئے بھی بند کیا گیا ہے۔ برن ہال اسکول کے متصل ایک درجن نئے عارضی بنکروں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے ۔معلوم ہوا ہے کہ جموں سرینگر شاہراہ پر پانپور ، کدلہ بل ، بجبہاڑہ میں چیکنگ پوائنٹ قائم کئے گئے ہیں جہاں پر ہر آنے جانے والے کی باریک بینی سے تلاشی لی جار ہی ہے۔ 26جنوری کی تقریبات نزدیک آنے کے ساتھ ہی شہر سرینگر سمیت وادی کے تمام اضلاع میں پولیس وفورسز کو متحرک کیا گیا ۔ عسکریت پسندوں کے امکانی حملوں کو ٹالنے کیلئے شہر سرینگر کے سیول لائنز علاقوں کی اہم شاہراؤں پر پولیس وفورسز کے دستوں کو تعینات کیا گیا ہے جہاں پر مسافروں اور راہگیروں کی باریک بینی سے تلاشی لی جار ہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈلگیٹ ، سونہ وار ، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ ، لالچوک ، ریگل چوک، سیول سیکریٹر یٹ کے دفاتر کے اردگرد بھی پولیس وفورسز کے اضافی اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ سی سی ٹی کیمروں کے ذریعے لوگوں کی حرکات و سکنات پر خصوصی نظر گزر رکھی جار ہی ہے اور اس سلسلے میں سائبیر سیل کو بھی متحرک کیا گیا ہے۔ یوم جمہوریہ کے پیش نظر سونہ وار کرکٹ اسٹیڈیم کا راستہ گاڑیوں کی نقل و حمل کیلئے بند کردیاگیا ہے۔ وادی میں26جنوری کی سب سے بڑی تقریب کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار میں منعقد ہو رہی ہے۔ ٹورسٹ سینٹر میں ڑونٹھ کول پر واقع پل پر خار دار تاریں نصب کی گئیں جبکہ رام منشی باغ تھانے کے آگے بھی خار دار تاروں سے سڑک کو ٹریفک کی نقل و حرکت کے علاوہ راہگیروں کیلئے بھی بند کیا گیا ہے۔ برن ہال اسکول کے متصل ایک درجن نئے عارضی بنکروں کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے،جبکہ چھوٹی بکتر بند گاڑیوں کو اس سڑک پر گشت کرتے ہوئے دیکھا گیا۔




وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں بھارتی فوج نے دو کشمیری نوجوانون کو شہید کر دیا

سری نگر(وائس آف ایشیا)وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع میں بھارتی فوج نے ریاستی دہشت گردی کی تازہ کارروائی میں دو کشمیری نوجوانون کو شہید کر دیا ہے ۔ بھارتی فوج نے پیر کی صبح چرار شریف میں واقع ہاپت نالہ نامی علاقے کا محاصرہ کر لیا اور تلاشی آپریشن شروع کیا۔ اس دوران فوج نے دو نوجوانوں کو گولی مار کر شہید کر دیا۔ نوجوانوں کی شہادت کی اطلاع پر شہریوں نے گھروں سے باہر نکل کر زبردست احتجاجی مظاہرے کیے بھارتی فورسز نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا ۔ حکام نے بڈگام میں موبائل اور انٹرنٹ سروس معطل کر دی ہے دریں اثنامقبوضہ کشمیرمیں سانحہ گاؤکدل کے شہدا کی 29 ویں برسی پر پیر کو مکمل ہڑتال سے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا۔سرینگر کے گاؤ کدل علاقے میں 1990میں بھارتی فوج نے شہریوں پر فائر کھول دیا تھا جس کے نتیجے میں50شہری شہید ہو گئے تھے ۔ ہڑتال کے موقع پر مقبوضہ کشمیر کے کئی علاقوں میں جلسے جلوس اور مظاہرے ہوئے۔سانحہ گاؤکدل کے سلسلے میں پروگرام میں شرکت سے قبل پولیس نے سوموار کو لبریشن فرنٹ چیئر مین محمد یاسین ملک کو ان کی رہائش گاہ واقع مائسمہ سے گرفتار کرلیا۔ مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند قیادت سید علی گیلانی، میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک نے سانحہ کے گاؤ کدل کے خلاف سری نگر اور اس کے آس پاس علاقے میں مکمل ہڑتال کی اپیل کی تھی ۔اکیس جنوری انیس سونوے میں بھارتی فوج نے سرینگرکے علاقے گاؤکدل میں پرامن مظاہرے پربلااشتعال فائرنگ کرکے پچاس سے زائدبے گناہ لوگوں کو شہید کردیاتھا جوفوجیوں کے ہاتھوں متعددخواتین کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔سرکردہ حریت کاکن غازی جاوید بابا کے اہل خانہ کے مطابق پولیس غازی جاوید بابا کو اپنے گھر سے گرفتار کر لیا گیا ہے انہیں پولیس چوکی اردو بازار فتح کدل میں رکھا گیا۔ پیپلز پولیٹیکل پارٹی کے چیئرمین انجینئر ہلال احمد وار کو پولیس نے انکے گھر پر چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا ۔ انہیں گرفتار ی کے بعد مائسمہ تھانے میں رکھا گیا ہے۔ادھر 26 جنوری کو بھارت کے نام نہاد یوم جمہوریہ پر بھارتی حکام نے سری نگر اور دوسرے علاقوں میں نام نہاد سکیورٹی انتظامات سخت کردئیے ہیں جن سے عوام کو شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ سری نگر میں26 جنوری کی بڑی تقریب کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار میں ہوگی۔ تقریب سے تقریبا ایک ہفتہ قبل بھارتی پولیس نے تقریب کے مقام کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو عام ٹریفک کیلئے بند کردیا ہے۔شمالی کشمیر میں قصبہ پٹن کے ہانجی ویرہ علاقے میں سوموار کوایک فوجی گاڑی پلٹنے سے دو اہلکار زخمی ہوگئے۔




کشمیریوں کے قتل کے حوالے سے بھارتی فوج کا بیان قابل افسوس ہے

سرینگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر میں حریت فورم کے چیئرمین میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی فوج کے اس بیان کو کہ 2018اسکے لیے کشمیر میں ایک قابل ذکر سال رہا ، انتہائی افسوس ناک اور غیر انسانی قرار دیا۔ انہوںنے کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ ایک انتہائی تربیت یافتہ اور جدید جنگی ساز و سامان سے لیس فوج جسکا کام اپنے برابر کی سطح کی فوج سے لڑنا ہے، بے گناہ کشمیریوں کے قتل کی خوشی منارہی ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق میر واعظ نے سرینگر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج نے جن کشمیری نوجوانوںکو شہید کیا وہ کوئی تربیت یافتہ گوریلے یاعسکریت پسند نہیں تھے بلکہ یہ بھارتی ظلم و جبر کے ستائے نوجوان تھے جن میں چودہ برس کے کم عمر لڑکوں کے علاوہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی شامل تھے۔میر واعظ نے کہا کہ بھارتی ظلم و ستم کے باعث کو کشمیری نوجوان عسکریت کی طرف مائل ہو رہے ہیں اور وہ بے سرو سامانی کی حالت میں اپنی قیمتی جانیں لٹا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ عالمی برادری بھی اس بات کا اعتراف کر رہی ہے کہ مسئلہ کشمیر کو فوجی بنیادوں پر حل نہیں کیا جاسکتا لہذابھارت کو جو اس مسئلے کو فوجی قوت کے بل پر طول دے رہا ہے ، یہ بات سمجھ لینی چایئے کہ اسکے اس عمل سے پیچیدگیاں بڑھ رہی ہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کی وجہ سے جنوبی ایشیا کا امن اور استحکام گزشتہ ۱۷ برس سے یرغمال بنا ہوا ہے اور اس غیر یقینی صورتحال کے خاتمے کیلئے ضروری ہے کہ اس مسئلے کے سیاسی طریقے سے حل کرنے کی راہیں تلاش کی جائیں۔میرواعظ نے کہا کہ مقبوضہ علاقے کے گورنر نے حال ہی میں کہا ہے کہ حکومت عسکریت پسندوں کا نہیں بلکہ عسکریت کا خاتمہ چاہتی ہے لہذا گورنر کو چاہیے کہ وہ مخلصانہ طور پر وہ وجوہات جاننے کو کوشش کریںکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان عسکریت کی طرف کیوں مائل ہورہے ہیں۔ میر واعظ نے کہا کہ کشمیری مزاحمتی قیادت کا گورنر کو مشورہ ہے کہ وہ بھارتی حکومت کو بتا دیں کہ تنازعہ کشمیر کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ اس مسئلے کو تمام فریق مل بیٹھ کر ہی حل کرسکتے ہیں۔




مسئلہ کشمیر کے تمام فریقین کے درمیان ایک ایساسیاسی عمل شروع کرنا ہوگا میرواعظ

سری نگر(وائس آف ایشیا) کل جماعتی حریت کانفرنس ع کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق نے بھارتی فوج کے اس بیان جس میں انہوں نے سال 2018 کو ان کیلئے کامیاب سال قرار دیا تھا، کوافسوسناک ، انسانیت سوز اور بدقسمتی سے تعبیر کیا۔میرواعظ نے کہا کہ یہ حیران کن امر ہے کہ ایک تربیت یافتہ اورجنگی ساز وسامان سے لیس فوج جس کا مقصد اپنی برابری کے مقابل فوج سے لڑنا ہے ،کشمیری نوجوان کے مارے جانے پر جشن مناتی ہے۔مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ فوج کی جانب سے جاں بحق کئے گئے نوجوان کوئی تربیت یافتہ گوریلا نہیں تھے یا دہشت پھیلانے والے نہیں تھے بلکہ یہ وہ نوجوان ہیں جو ظلم و ستم اور جبری قبضہ سے تنگ آکر اور سیاسی سطح پر ان کے تمام راستے مسدود کئے جانے اور مبنی بر حق ، حق خودارادیت کی آوازدبائے جانے کی وجہ سے ہتھیار اٹھانے پر مجبور کئے گئے ہیں۔ میرواعظ نے کہا کہ یہ نوجوانوں کا جذبہ ہے کہ ٹریننگ اور تربیت کی عدم دستیابی کے باوجود وہ اپنی قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہوئے ایک ملک کی فوج کے ساتھ مدمقابل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان نوجوانوں کی قربانیاں کشمیریوں کو تحریک کے تئیں جذبات کو مزید مستحکم کرتی ہے اوربھارت کا یہی ظلم و جبر یہاں کے نوجوانوں کو عسکریت سے جوڑتا ہے۔میرواعظ نے کہابھارت کی فوج جہاں اپنے ملک کی تحریک آزادی کے دوران سبھاش چندر بوس کو برطانوی سامراج کیخلاف لڑنے کیلئے فوج کے قیام کے عمل کو خراج پیش کرتی ہے وہیں دوسری جانب کشمیر میں نہتے نوجوانوں کی ہلاکت کو ہندوستانی عوام کے سامنے ایک بڑی کامیابی کے بطور پیش کرنا حقایق کی پردہ پوشی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی فوج کے متعدد افسران نے کئی دفعہ اپنے مضامین اور لکچروں میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ کشمیر ایک سیاسی مسئلہ ہے جس کا حل سیاسی بنیادوں پر ناگزیر ہے ۔میرواعظ نے کہا کہ موجودہ گورنر نے حال ہی میں کہا ہے کہ حکومت عسکریت پسندوں کا نہیں بلکہ عسکریت کا خاتمہ چاہتی ہے، اگر یہ بات ہے تو انہیں مخلصانہ طور یہ وجوہات جاننے ہونگے کہ اعلی تعلیم یافتہ نوجوان عسکریت کی طرف کیوں مائل ہونے پر مجبور ہورہے ہیں؟ اور حکومت ہند کو صحیح مشورہ دینا ہوگا کہ وہ کشمیر کے متنازع مسئلہ کو Military mightکے ذریعے حل کرنے کے بجائے مسئلہ کشمیر کے تمام فریقین کے درمیان ایک ایساسیاسی عمل شروع کرنا ہوگا جس سے اس مسئلہ کا حق خودارادیت کی بنیادوں پر حل تلاش کیا جاسکے تاکہ کشمیری نوجوانوں کے ساتھ ساتھ بھارتی فوجیوں کے جانوں کے مزید زیاں سے بھی بچا جا سکے اور یہی یہاں کی سیاسی مزاحمتی قیادت کا ان کو پرخلوص مشورہ ہے۔




مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند قیادت نے نیا احتجاجی کلینڈر جاری کر دیا

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند قیادت نے نیا احتجاجی کلینڈر جاری کر دیا ہے۔احتجاجی کلینڈر کے تحت 21،25 اور27 جنوری کو ہڑتال کی جائے گی شہدا کیلئے اجتماعی دعائیہ مجالس کا اہتمام کیا جائے گا۔ پروگرام کے مطابق 21جنوری کوگاؤکدل، بڈشاہ چوک، مائسمہ،بسنت باغ،بربرشاہ،ریڈ کراس روڑ کوکر بازار، چوٹہ بازار، کنہ کدل اور ملحقہ علاقہ جات جبکہ 25جنوری بروز جمعہ کو ہندوارہ قصبہ اور 27 جنوری اتوار کپوارہ قصبہ میں مکمل ہڑتال کی جائیگی۔اس کے علاوہ شہدا کیلئے اجتماعی دعائیہ مجالس کے سلسلے میں بھی گاؤ کدل، ہندوراہ اور کپوارہ میں مقامی سطح پر مجالس منعقد کی جائیں گی۔مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند قیادت سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ گاؤ کدل ،ہندوارہ اور کپوارہ قتل عام بھارتی تسلط اور ظلم کے آئینہ دار ہیں۔ فوجی تسلط کو دوام بخشنے کیلئے رچے گئے یہ قتل عام جمہوریت کی آڑ میں سفاکیت کا واضح پتہ دیتے ہیں۔ کشمیری قوم و ملت اپنے شہدا کہ جنہوں نے آزادی کیلئے اپنی جانیں نچھاور کیں کی قربانیوں کیلئے ان کی مقروض ہے اور مزاحمتی قیادت اپنے اس عہد کا اعادہ کرتی ہے کہ مقدس مشن کی تکمیل تک جدوجہد کو جاری رکھا جائے گا۔ بھارت نے 21 جنوری 1990کو ہی کشمیریوں کا بے دریغ قتل عام شروع کیا تھا اور اسی روز چوٹہ بازار اور ملحقہ علاقہ جات میں فوجی کریک ڈاؤن کا آغاز کرتے ہوئے نہ گاؤکدل کے مقام پر گولیوں کی بوچھاڑ کرکے 50سے زائد انسانوں کو پلک جھپکتے میں تہہ تیغ کیا گیا ۔قتل عام کے اس سلسلے کو 25 اور 27جنوری کے روزہندوارہ اور کپوارہ میں بھی جاری رکھا گیا جہاں سفاک طریقے پر سینکڑوں افراد کوگولیوں سے بھون ڈالا گیا۔قائدین نے کہا کہ 21جنوری 1990 کا دن جموں کشمیر کی ہزار سالہ تاریخ کا وہ اہم ترین دن ہے جس دن کشمیریوں نے اپنی آزادی کیلئے ایک عظیم عوامی انقلاب کی شروعات کی اور اسی سلسلے کو ہندوارہ اور کپوارہ کے لوگوں نے بھی جاری رکھا اور یہی تحریک آج تک شدومد کے ساتھ جاری ہے۔21جنوری کوگاؤکدل، بڈشاہ چوک، مائسمہ،بسنت باغ،بربرشاہ،ریڈ کراس روڑ کوکر بازار، چوٹہ بازار، کنہ کدل اور ملحقہ علاقہ جات جبکہ 25جنوری بروز جمعہ کو ہندوارہ قصبہ اور 27 جنوری اتوار کپوارہ قصبہ میں مکمل ہڑتال کی جائیگی۔اس کے علاوہ شہدا کیلئے اجتماعی دعائیہ مجالس کے سلسلے میں بھی گاؤ کدل، ہندوراہ اور کپوارہ میں مقامی سطح پر مجالس منعقد کی جائیں گی۔




نئی دہلی کے تہاڑ جیل میں کشمیری قیدیوں سے ناروا سلوک کے خلاف مظاہرہ

سری نگر(وائس آف ایشیا) نئی دہلی کے تہاڑ جیل میں قید حریت قائدین بالخصوص پیر سیف اللہ کی بگڑتی صحت اور ان کی غیری قانونی قید کو طویل دینے کی کارروائیوں کے خلاف سری نگر میں حریت کانفرنس نے پُرامن احتجاج کیا گیا۔ انہوں نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ ریاست اور بیرون ریاست خاص کر تہاڑ جیل میں بند جموں کشمیر کے مظلوم قیدیوں کی حالتِ زار کا نوٹس لے کر ان کی غیر قانونی، غیر اخلاقی اور غیر انسانی قید کو ختم کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین اور کارکنان جن میں عبدالاحد پرہ، بلال صدیقی، مولوی بشیر عرفانی، سید امتیاز حیدر، محمد یٰسین عطائی، سید محمد شفیع، خواجہ فردوس وانی، محمد مقبول ماگامی، رمیز راجہ، ارشد عزیز، مبشر اقبال، شوکت احمد خان، امتیاز احمد شاہ، عبدالحمید اِلٰہی اور عبدالرشید لون سمیت درجنوں کارکنون نے حیدرپورہ میں ریاست اور ریاست کی باہری جیلوں بالخصوص تہاڑ جیل میں قیدیوں کے تئیں روا رکھے جارہے غیر انسانی سلوک کے خلاف احتجاجی جلوس نکالا۔ اس موقع پر قائدین نے خطاب کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ان قیدیوں کی زندگی کو کوئی گزند پہنچی تو اس کے خلاف شدید ردّعمل سامنے آجائے گا جس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکمرانوں اور یہاں کی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ انہوں ریاست اور ریاست سے باہر کی جیلوں خاص کر تہاڑ جیل میں بند قائدین کی مسلسل نظربندی کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوریت اور خیالات کی آزادانہ ترویج سے متعلق بھارت کے دعاوی نہ صرف ڈھونگ ثابت ہورہے ہیں بلکہ حق و انصاف پر مبنی ہر آواز کو دبانے کے لئے ہزاروں افراد کو بنا مقدمہ چلائے قید خانوں میں پابند سلاسل کرکے یہاں سیاسی غیریقینیت اور عدمِ استحکام کے ماحول کو قائم کیا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت یہاں کی سیاسی قیادت کا سیاسی سطح پر ہی مقابلہ کرتی، مگر افسوس بھارتی حکمرانوں کی ضد اور اکڑ نے انہیں اس قدر بے حس کردیا ہے کہ یہ تمام اخلاقی اور انسانی اقدار کو پامال کرتے ہوئے یہاں کے مظلوم عوام کے خلاف اپنی اندھی طاقت کا استعمال کرتا آیا ہے۔ حریت قائدین نے تہاڑ جیل میں نظربند قائدین جن میں شبیر احمد شاہ، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، شاہد الاسلام، فاروق احمد ڈار، ظہور احمد وٹالی، سید شکیل احمد، سید شاہد یوسف، آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، ناہیدہ نسرین سمیت تمام سیاسی نظربندوں کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مہذب سماج میں قیدیوں کے تئیں انتقام گیرانہ رویہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے، یہ لوگ بھی انسان ہیں اور ان کو بھی آزادی کے ساتھ اپنے خیالات کا اظہار کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔a




نوجوانوں کی گرفتاری کیخلاف سری نگر میں خواتین کا احتجاج

سری نگر(وائس آف ایشیا)راجوری کدل میں خواتین کی ایک بڑی تعداد نے نوجوانوں کی گرفتاری کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔سرینگرکے مختلف علاقوں سے گرفتار 9 نوجوانوں کو گزشتہ سال کے آخری ایام میں گرفتار کیا گیا سبھی نوجوانوں کو ریاستی پولیس نے بھارتی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے) کے حوالے کر دیا ہے جس کے نتیجے میں گرفتارشدہ نوجوانوں کے افراد خانہ پریشانیوں میں مبتلا ہوگئے ۔ اس دوران گرفتار نوجوانوں کے افراد خانہ ،جن میں خاص کر خواتین شامل تھیں، نے راجوری کدل میں گرفتار نوجوانوں کی رہائی کیلئے احتجاج کیا۔ احتجاجی خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے گرفتار بچوں کو این اے آئی کے حوالے کیا جارہا ہے۔ احتجاج کے دوران خواتین راجوری کدل چوک میں جمع ہوئیں اور سڑک پر دھرنا دیا۔انہوں نے گرفتار شدگان کی رہائی کے حق میں نعرے بلند کئے۔پولیس نے بتایاکہ مذکورہ گرفتار شدگان کیخلاف پولیس سٹیشن کوٹھی باغ میں کیس درج ہے جس کی تحقیقات این اے آئی کر رہی ہے۔یا درہے مذکورہ نوجوان فی الوقت جوڈیشل حراست میں ہیں۔




مسرت عالم بٹ کو سری نگر کی عدالت میں پیشی کے بعد دوبارہ رٹ بلوال جیل منتقل کر دیا گیا

سری نگر(وائس آف ایشیا)مسلم لیگ جموں وکشمیرکے محبوس سربراہ مسرت عالم بٹ کو سری نگر کی عدالت میں پیشی کے بعد دوبارہ رٹ بلوال جیل منتقل کر دیا گیا ۔ ت عالم بٹ کو کو کورٹ بلوال جیل جموں سے سرینگر لایا گیا جہاں انھیں کوٹھی باغ پولیس اسٹیشن کی طرف سے عائد کئے گئے ایف آئی آرنمبر50/2010 کے سلسلے میں سی جے ایمسرینگر کی عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔دلائل سننے کے بعد جج موصوف نے اس کیس کی اگلی سماعت 30-01-19کومقرر کی جس کے ساتھ ہی مسرت عالم بٹ کو بھاری پولیس جمیعت کے حصار میں واپس کورٹ بلوال جیل منتقل کیا گیا۔لیگ ترجمان نے کہا کہ ایک منصوبہ بند سازش کے تحت مسرت عالم بٹ کی سیاسی زمین تنگ کی جارہی ہے اور انھیں سیاسی صفحے سے ہٹانے کے لئے دلی سے لے کر سرینگر تک کے تمام کل پرزے استعمال کئے جاتے ہیں اور راتوں رات مسرت عالم بٹ کے متعلق ایسے بے بنیاد اور جھوٹ پر مبنی کیس تیار کئے جاتے ہیں جن کا حقیقت سے دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا ہے بلکہ بدترین سیاسی عداوت کی راہ پر چلتے ہوئے اور قانون و آئین کو پس پشت ڈال کر پولیس و انتظامیہ ان کے خلاف ایسے کیس معرض وجود میں لاتی ہے جو صر ف اور صرف جھوٹ کا پلندہ اور حقیقت و سچائی کو توڑ مروڑ کرخیالی و فرضی کھچڑی ہوتی ہے




نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ 26جنوری سے 8دن پہلے سری نگر میں بم حملہ

سری نگر(وائس آف ایشیا) نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ 26جنوری سے 8دن پہلے سری نگر میں دستی بم حملے میں افسر سمیت3 بھارتی فورسز اہلکاروں کے زخمی ہونے کے بعد وادی شمال و جنوب میں حساس علاقوں میں فورسز کو الرٹ کر دیا گیا ہے گزشتہ روز سرینگر کے راجباغ علاقے میں پولیس پارٹی پر ایک دستی بم داغا گیا جو زور دار دھماکے کے سات پھٹ گیا جس کے نتیجے میں اسسٹنٹ سب انسپکٹر سمیت ٹریفک پولیس کے 3پولیس اہلکار شدید زخمی ہوگئے ۔ حملے کے فورا بعد راجباغ، زیروبرج، ٹی آر سی اور ڈلگیٹ کے کئی علاقوں کا سخت محاصرہ کر لیا گیا۔نام نہاد بھارتی یوم جمہوریہ 26جنوری کی مقبوضہ کشمیر میں تقریبات کی کامیابی کے لیے 8دن پہلے ہی بھارتی فورسز ایجنسیوں کو محترک کردیا گیا ہے جبکہ وادی شمال و جنوب میں حساس علاقوں میں فورسز کے ناکے لگا دیے ہیں جبکہ سرینگر اور ضلع ہیڈ کوارٹروں کی طرف جانے والے داخلے راستوں پر پولیس و فورسز کی اضافی نفری کو تعینات کیا گیا ہے ۔ بھارت کی یوم جمہوریہ 26جنوری کے حوالے سے ریاست جموں وکشمیر میں سخت حفاظتی انتظامات کئے جارہے ہیں جبکہ وادی کے ساتھ ساتھ جموں میں بھی فورسز کی بھاری نفری کو تعینات کیا گیا ہے ۔ وادی کے دور دراز علاقوں کے جنگلات میں بھی فوج کے گشت بڑھائے گئے ہیں ضلع کپوارہ کے اکثر جنگلات جن میں لولاب کے جنگلات قابل ذکر ہیں میں فوج نے آپریشن شروع کردیا ہے اور فوج جنگلات کا چپہ چپہ چھان مار رہی ہے تاہم ابھی تک فوج کو کسی بھی جگہ کسی طرح کی مشکوک شے یا مشکوک نقل و حرکت نظر نہیں آئی ہے ۔26جنوری سے قبل راجباغ علاقے میں گرنیڈ حملے کے بعد شہر سرینگر میں حفاظت کے انتظامات کو مزید سخت کیا جارہا ہے اور تمام حساس علاقوں میں شبانہ ناکے بڑھاے گئے ہیں۔




وادی سے باہر جیلوں میں بند تمام کشمیریوں کو غیر مشروط طور پر وادی کے جیلوں میں منتقل کیا جائے

سری نگر(وائس آف ایشیا)جماعت اسلامی مقبوضہ جموں وکشمیر نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کی غیر جمہوری، غیر اخلاقی اور غیر انسانی کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وادی سے باہر جیلوں میں بند تمام کشمیری سیاسی قیدیوں کو غیر مشروط طور پر وادی کے جیلوں میں منتقل کیا جائے اور اُن کے خلاف دائر تمام مقدمات کو بھی مقامی عدالتوں کے سپرد کیا جائے۔ افضل گورو کی برسی پر جے این یو میں حصہ لینے والے کشمیری و غیر کشمیری طلبا کے خلاف دہلی کی عدالت میں دائر مقدمہ کو فوری طور پر واپس لے کر جمہوری اقدار کی لاج رکھی جائے۔ جماعت کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ دختران ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی، اُن کے دو ساتھوں ناہیدہ نصرین اور فہمیدہ صوفی سمیت تمام اُن تمام محبوسین کو سرینگر کی جیلوں میں منتقل کیا جائے جو فی الوقت انتہائی کسمپرسی کی حالت میں دہلی کی بدنام زمانہ تہار جیل میں قید ہیں۔ ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق ان دنوں وادی ایک فوجی چھاونی کا منظر پیش کرتی ہے جس میں بسنے والے لوگ ہتھیار بند فوجی اور نیم فوجی اہلکاروں کے محاصرے میں ہیں اور یہاں چند کالے قوانین کی آڑ میں تمام مہذب انسانی قوانین اور ضوابط کی کھلے عام خلاف ورزی ہورہی ہے۔ ان کالے قوانین نے عوام کے تمام حقوق بشمول بنیادی حقوق سلب کرکے رکھے ہیں۔ بھارتی پالیسی ساز اداروں نے یہاں کے نہتے عوام کو ہراساں و خوفزدہ کرنے اور اُن کو دباکر رکھنے کی خاطر ایک باضابطہ منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت لوگ باعزت زندگی گزارنے کے حق سے محروم ہوئے ہیں اور اُن کو اپنی اُمنگوں اور خواہشات کے کھلے اظہار کی بھی کوئی آزادی حاصل نہیں ہے۔ وادی سے باہر کی مہذب دنیا میں عوام کے بنیادی حقوق کو تحفظ دینے کی خاطر ہی قانونی نظام مرتب کیا گیا ہے جن کو ناقابل تنسیخ اور ناقابل ترمیم فطری حقوق تصور و تسلیم کیا جاتا ہے لیکن وادی کے لوگوں کو اُسی حد تک ان حقوق کے استعمال کا حق حاصل ہے جس حد تک یہاں تعینات حکومتی ایجنسیاں اجازت دیں۔ یہاں لاگو سیاہ قوانین میں ایسی غیر انسانی پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن کے ہوتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کا وجود ہی عبث لگتا ہے۔ ان سیاہ قوانین میں پبلک سیفتی ایکٹ، افسپا، قانون برائے انسداد غیر قانونی کارروائیاں وغیرہ اس طرح بنائے گئے ہیں کہ یہاں کے رہنے والے باشندوں کی کسی بھی کارروائی کو اُن کے تحت ’’غیر قانونی‘‘ قرار دے کر بند کیا جاسکتا ہے۔ اب بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے اپنے زہریلے پر دیہاں بھی پھیلائے ہیں اور مقامی پولیس حکام کی مدد سے وہ کسی بھی کشمیری کو گرفتار کرکے وادی سے باہر کسی بھی جیل میں منتقل کرکے اُس کے خلاف غیر مقامی عدالت میں مقدمہ چلاسکتے ہیں۔ اس ایجنسی نے ایسی عدالتیں قائم کی ہیں جہاں انصاف ملنے کی توقع کرنا ہی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ ان عدالتوں میں ایجنسی کی ہدایات پر ہی زیادہ عمل کیا جاتا ہے جن سے انصاف کے تقاضے ہی پامال ہوتے ہیں۔اسی اثناء میں ۲۰۱۶ء میں افضل گورو کو پھانسی کے واقعے کی برسی منانے کی تقریب میں پرامن طور شامل ہونے والے سات کشمیری طلبا جو اس وقت دہلی کی مختلف یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم تھے، کے ساتھ ساتھ جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے تین طلبا لیڈروں کے خلاف دہلی کی ایک عدالت میں مقدمہ دائر کیا گیا جو کہ آزادی اظہار رائے کے بنیادی حق کو پامال کرنے کے برابر ہے۔ افضل گورو کو پھاسی کی سزا دینے کے عدالتی فیصلے پرمقامی و بیرونی قانونی ماہرین نے اپنی تنقیدی رائے کا اظہار کیا ہے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے لیکن دہلی میں بی جے پی کی حکومت نے جے این یو میں اس پر اظہار تنقید کرنے والوں کو ہی نشانہ بنایا جب کہ بھارتی آئین میں ہر کسی کو کسی حکومتی یا عدالتی فیصلے پر اپنی رائے کے اظہار کی مکمل آزادی کی ضمانت ہے۔ مقدمہ دائر کرنے کی یہ کارروائی آمرانہ ہونے کے علاوہ سیاسی مخالفین سے انتقام لینے کے مترادف ہے۔




حکومت ہندوستان کشمیر مسئلہ کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرے

سری نگر(وائس آف ایشیا) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے حریت راہنما پیر سیف اللہ کی تہاڑ جیل میں بگڑتی صحت پر اپنی گہری تشویش اور فکرمندی کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر موصوف کو کوئی گزند پہنچی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے جس کی تمام تر ذمہ داری بھارتی حکومت اور جیل انتظامیہ پر عائد ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حریت لیڈر کی کئی دن سے طبیعت ناساز ہوگئی ہے، البتہ جیل انتظامیہ جان بوجھ کر اس کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کرکے ان کا کوئی معقول علاج ومعالجہ نہیں کررہی ہے، جس وجہ سے اس کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ اخبارات کے لیے جاری بیان کے مطابق پیر سیف اللہ Brain Tumorکے مریض ہیں، ان کو اگرچہ اس کا آپریشن پہلے ہی کیا جاچُکا تھا، مگر آپریشن کے باوجود اُن کے سر میں شدید دردرہتا ہے اور پوری طرح سے اُن کا آپریشن کامیاب نہیں ہوا ہے۔تہاڑ جیل میں موصوف کئی دن سے شدید تکلیف کی شکایت کررہے ہیں، البتہ جیل حکام نے اس کو سنجیدگی کے ساتھ نہیں لیا، نتیجے کے طور پر بدھ کی صبح وہ باتھ روم میں بے ہوش ہوکر گر پڑے، جس کے بعد انہیں اسٹریچر پر اٹھاکر ڈسپنسری میں رکھا گیا ہے۔ جیل انتظامیہ کی غیر سنجیدگی کا اس سے بڑا اور کیا مظاہرہ ہوسکتا ہے کہ پیر سیف اللہ کو کسی اسپتال میں داخل کراکے کسی ماہر ڈاکٹر سے ان کا طبی معاینہ کروایا جاتا، مگر جیل انتظامیہ کے کشمیری قیدیوں کے تئیں نفرت اور تعصب کی وجہ سے موصوف کی زندگی کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ حریت چیرمین نے مزید کہا کہ جن آزادی پسند راہنما ؤں کو بھارتی کی تحقیقاتی ایجنسی(NIA)نے فرضی اور بے بنیاد الزامات عائد کرکے کشمیر سے اغوا کرکے تہاڑ جیل میں مقید رکھا ہے ان کے ساتھ بھی جانوروں سے بھی بدتر سلوک روا رکھا جارہا ہے، نہ ان کی سلامتی کی طرف کوئی توجہ دی جاتی ہے اور ناہی انہیں ضمانت فراہم کی جاتی ہے، بلکہ انہیں حبس بے جا میں رکھ کر ان کی غیرقانونی نظربندی کو طول دیا جارہا ہے۔ حریت چیرمین نے شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، شاہد الاسلام، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، سید شاہد یوف، سید شکیل احمد، ظہور احمد وٹالی، آسیہ اندرابی، ناہیدہ نسرین اور فہمیدہ صوفی کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے حوالے سے جارحانہ اور سخت پالیسی سے ماضی میں کچھ حاصل کیا جاسکا ہے اور نہ مستقبل میں اس طریقۂ کار کا کوئی مثبت نتیجہ برآمد ہونے والا ہے۔ حریت چیرمین نے انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں خاص کر ایمنسٹی انٹرنیشنل، ایشیا واچ اور عالمی ریڈکراس سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کے مظلوم قیدیوں کے تئیں روا رکھے گئے غیر اخلاقی، غیر انسانی اور غیر قانونی طرز عمل کا سنجیدہ نوٹس لے کر ان کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں، تاکہ ان قیدیوں کی زندگیوں کو بھارتی نفرت اور تعصب کی بھینٹ جڑھنے سے بچایا جاسکے۔ حکومت ہندوستان کو کشمیر مسئلہ کے حوالے سے حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کشمیری راہنما نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حوالے سے نہ صرف کشمیری عوام مشکلات سے دوچار ہیں، بلکہ یہ بھارت اور پاکستان کی کروڑوں عوام کے لیے بھی ایک بڑا درد سر بنا ہوا ہے۔ جب تک اس مسئلہ کا مستقل اور پائیدار حل نہیں نکالا جاتا جنوب ایشیاء میں پائیدار امن، ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا ہے۔




بھارت فوج آپریشن آل اؤٹ کے تحت کشمیریوں کو قتل کررہی ہے ۔ آزادی پسند قیادت

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ بھارت فوج آپریشن آل اؤٹ کے تحت کشمیریوں کو قتل کررہی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر کو ایک پولیس سٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور طاقت کے بل پر عوام کے جملہ حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور اس ریاست کے حوالے سے فیصلے بھارت کی سیاسی قیادت کے بجائے فوج اپنے طور پر لیتی ہے ۔مشترکہ آزادی پسند قیادت نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے اس بیان پر کہ جموں وکشمیر میں آل اؤٹ نام کا کوئی آپریشن نہیں چل رہا ہے ،کو زمینی حقائق سے بعید اورگمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کی طرف سے یہ بیانات دیئے جاتے رہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں آپریشن آل اؤٹ کے تحت کارروائیاں جاری ہیں ۔ کشمیر کے طول و عرض خاص طور پر جنوبی کشمیر میں آئے روز کی ہلاکتوں ، مار دھاڑ، خانہ تلاشیوں،خواتین کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات ، ہراسانیوں اورمزاحمتی قیادت کی پر امن سرگرمیوں پر قدغنیں اور پابندیاں برابر اور تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور یہ سب کچھ آپریشن آل اؤٹ نہیں ہے تو کیا ہے ؟۔یہاں تک کہ ہمیں شہیدوں کی نماز جنازہ میں شرکت اور لواحقین کے ساتھ تعزیت کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج کوافسپا اور کالے قوانین کے بل پر جو بے پناہ اختیارات تفویض کئے گئے ہیں ان کا بے دردی سے استعمال کرکے نہتے عوام کو پر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر کو ایک پولیس سٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور طاقت کے بل پر عوام کے جملہ حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور اس ریاست کے حوالے سے فیصلے بھارت کی سیاسی قیادت کے بجائے فوج اپنے طور پر لیتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ میں 35Aکے حوالے سے دائر پٹیشن کے ضمن میں 19 جنوری کو شنوائی کی تاریخ طے تھی لیکن کورٹ کے روسٹر میں مذکورہ تاریخ میں اس پٹیشن کی شنوائی موجود نہیں ہے ۔تاہم مزاحمتی قیادت کی جموں وکشمیر میں تمام سیاسی، تجارتی ، مذہبی اور سماجی انجمنوں، سول سوسائٹی کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور قیادت پورے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس ضمن میں اگلے پروگرام سے عوام کو آگاہ کیا جائیگا۔




بھارت نواز سیاسی پارٹیاں چاہے کوئی بھی مکھوٹا پہن کر آئیں عوام ان سے دور رہیں علی گیلانی

سری نگر(وائس آف ایشیا) کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے کہا ہے کہ بھارت نواز سیاسی پارٹیاں چاہے کوئی بھی مکھوٹا پہن کر آئیں کشمیری عوام ان سے دور رہیں یہ سب کے سب بھارت کے جبری فوجی قبضہ کے مقامی چہرے ہیں جو کشمیر پر بھارتی قبضے کو دوام بخشنے کے لیے بھارت کے مددگاروں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ لوگ عوام کے سامنے بجلی، پانی اور سڑک کے نام پر آتے ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھارت کے ظلم کا جواز فراہم کرکے اپنے ہی لوگوں کا خون بہانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ سید علی گیلانی نے عسکری کمانڈر شہید زینت الاسلام کی یاد میں بلائی گئی تعزیتی مجلس سے ٹیلیفونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ غاصب اور قابض طاقتیں ہمیشہ کسی ملک کو تادیر اپنا غلام نہیں رکھ سکتی، آخر کار ان کو عوامی جذبات اور احساسات کے سامنے پسپا ہونا ہی پڑتا ہے۔ بھارتی مظالم کی داستان اس قدر بھیانک اور رونگھٹے کھڑی کردینے والی ہے، شاید ہی اس کی مثال دنیا میں اور کہیں دیکھی جاسکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ضرور بھارت کی جبری اور ظاملانہ غلامی سے آزادی نصیب فرمائے گا، مگر شرط یہ ہے کہ ہم اپنے اندر اسلامی کردار پیدا کرکے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی مدد کے مستحق بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار سید علی گیلانی نے عسکری کمانڈر شہید زینت الاسلام کی یاد میں بلائی گئی تعزیتی مجلس سے ٹیلیفونک خطاب کے دوران کیا۔ شہداء کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے حریت راہنما نے بھارت کے جبری قبضے سے آزادی حاصل کئے جانے کے عہد کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کے مقدس لہو کو کسی بھی صورت میں رائیگان ہونے نہیں دیا جائے گا اور نا ہی ان عظیم قربانیوں کے ساتھ کسی کو غداری کرنے کی اجازت دی جاسکتی ہے۔ انہوں نے مجوزہ پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل دہرتے ہوئے کہا کہ ہندنواز سیاسی پارٹیاں چاہے کوئی بھی مکھوٹا پہن کر آئیں سب کے سب بھارت کے جبری فوجی قبضہ کے مقامی چہرے ہیں جو یہاں اس قبضے کو دوام بخشنے کے لیے ان کے مددگاروں کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ لوگ عوام کے سامنے بجلی، پانی اور سڑک کے نام پر آتے ہیں اور اقتدار حاصل کرنے کے بعد بھارت کے ظلم کا جواز فراہم کرکے اپنے ہی لوگوں کا خون بہانے میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ حریت راہنما نے اپنی مظلوم قوم سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے لخت ہائے جگر کے مقدس لہو کی تحریم وتکریم کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے اس تحریک کو ذاتی مراعات اور مفادات کے عوض بیچ کھانے کی ناپاک کوششوں یہ اجتناب کریں۔ حریت راہنما نے اپنی قوم کو قرآنی ہدایات سے روشناس کراتے ہوئے کہا کہ دشمنوں کی ہلاکت خیز کارروائیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے اور اپنے موقف پر ثابت قدم رہنے کے لیے کثرت سے ذکر اِلٰہی میں منہمک رہ کر، آپسی اختلافات کو یکسر ختم کرنے، اللہ اور رسولﷺ کی اطاعت کرنے اور ظالموں کا رنگ ڈھنگ اختیار نہ کرنے کی تاکید کی۔ حریت راہنما نے آپسی اتحاد واتفاق کو قائم ودائم رکھنے اور مسلکی منافرت کے ناسور سے خبردار رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے جبری قبضے کے خلاف اجتماعی صف بندی کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ مذہبی ہم آہنگی اور آسی بھائی چارہ کو ہر وقت برقرار رکھنے کی مخلصانہ کوشش کریں۔ حریت چیرمین نے سماجی برائیوں کا قلع قمع کرنے کے لیے قوم سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ اپنے گھروں کے اندر اسلامی مزاج کو پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں۔ اپنی نئی نسل کو بے راہ روی، بے حیائی، شراب اور دیگر منشیات جیسے غیر اخلاقی اور غیر اسلامی حرکات سے پرہیز کریں۔




قیدکشمیری صحافی آصف سلطان کی فوری رہائی عمل میں لائی جائے ۔سی پی جے

سری نگر(وائس آف ایشیا)امریکہ میں قائم صحافیوں کے حقوق اور صحافتی آزادی کے حوالے سے بین الاقوامی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس نے مقبوضہ کشمیر میں غیر قانونی طور پر قید کشمیری صحافی آصف سلطان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی پولیس نی سرینگر سے شائع ہونے والے اخبار کشمیر نریٹر کے ساتھ منسلک آصف سلطان کو ممتاز نوجوان رہنما شہید برہان مظفر وانی کے حوالے سے ایک مضمون لکھنے کی پاداش میں گزشتہ برس 27اگست کو گرفتار کیا تھا۔ کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹسنے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسے گوکہ اس بات کا بخوبی ادارک ہے کہ کشمیرکو ایک مشکل صورتحال کا سامنا ہے لیکن کسی کے حوالے سے کوئی تحریر رقم کرنا یا کسی سے انٹرویو لینا ایک صحافی کے دائرے کار میں آتا ہے اور یہ کوئی جرم نہیں ہے ۔بیا ن میں کہا گیا کہ کسی ضروری معاملے کے حوالے سے رپوٹنگ کرناکوئی جرم نہیں بلکہ ایک عوامی خدمت ہے۔انہوں نے کہا کہ ذرائع ابلاغ سے وابستہ افراد کشمیر میں ایک خطرناک ماحول میں اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور تنظیم کو علاقے میں پریس کی آزادی کے حوالے سے شدید تحفظات ہیں۔ تنظیم نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اس نے گزشتہ برس بھی اپنی ایک رپورٹ میں کشمیری صحافی شجاعت بخاری کے قتل اور کئی رپورٹروں کی گرفتاری اور ان سے پوچھ گچھ کا ذکر کیا تھا۔ بیان میں مقبوضہ کشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک پر زور دیا گیا وہ کہ آصف سلطان کی فوری رہائی اور ان پر لگائے گئے الزامات ختم کرانے کیلئے کردار ادا کریں۔




مودی نے سرینگر کے عوامی جلسے میں مرحوم مفتی سعیدکی بے عزتی کی تھی عمر عبداللہ

سری نگر(وائس آف ایشیا)مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ دہلی والوں نے ہمیشہ جموں وکشمیر کی آواز کو بے وزن کرنے کیلئے ہمیں تقسیم کیا۔بیروہ میں پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عمر نے کہا کہ جموں وکشمیر کو اب یک جماعتی حکومت کی ضرورت ہے، ہماری ریاست نے مخلوط حکومتوں سے کافی نقصان اٹھایا ہے۔انہوں نے کہا کہ 28تیس والی حکومت میں نے 6 سال تک کی ہے، مجھے بہت اچھا تجربہ ہے، ہم اپنا فیصلہ کرتے ہیں لیکن جوہمارے ساتھ ہوتے ہیں وہ فیصلہ نہیں کر پاتے، ان کو معمولی سی معمولی چیز کیلئے بھی دلی جاکر اجازت طلب کرنی پڑتی ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر مرحوم مفتی صاحب کے پاس حکومت بنانے کیلئے برابر سیٹیں ہوتیں تو نریندر مودی سرینگر کے عوامی جلسے میں ان کی بے عزتی نہیں کرتے۔ مودی نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ مفتی صاحب کے پاس صرف28سیٹیں ہیں اور وہ مجبور ہیں، مودی اڑیسہ یا کسی اور ریاست میں جاکر وہاں کے وزیر اعلی کی بے عزیتی نہیں کرسکتے کیونکہ وہاں ایک ہی جماعت کی حکومت ہوتی ہے۔ نائب صدر نے کہا کہ ہمارے دفعہ370اور دفعہ35اے کو بھی اسی لئے نقصان پہنچا، کیونکہ ہماری آواز بکھر گئی ہے۔ ہمارے ووٹ مختلف پارٹیوں میں بانٹے گئے اور ایک سازش کے تحت کشمیر کی آواز بے وزن کی گئی۔شیخ محمد عبداللہ نے پہلے کہا تھا کہ نئی دلی کی ہمیشہ یہ کوشش ہمیشہ رہی ہے کہ یہاں گلی گلی میں لیڈر بنائے جائے، تاکہ جموں وکشمیر کے لوگ ایک آواز میں بات نہ کرسکیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس صحیح سوچ رکھنے والوں کا پارٹی میں خیر مقدم کرتی رہے گی، ایسے لوگ جن کا ٹریک ریکارڈ صحیح اور جو ریاست کے مفادات کے تئیں فکر مند ہوں۔




بھارت فوج آپریشن آل اؤٹ کے تحت کشمیریوں کو قتل کررہی ہے ۔ آزادی پسند قیادت

سری نگر(وائس آف ایشیا) مقبوضہ کشمیر کی مشترکہ آزادی پسند قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے کہا ہے کہ بھارت فوج آپریشن آل اؤٹ کے تحت کشمیریوں کو قتل کررہی ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر کو ایک پولیس سٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور طاقت کے بل پر عوام کے جملہ حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور اس ریاست کے حوالے سے فیصلے بھارت کی سیاسی قیادت کے بجائے فوج اپنے طور پر لیتی ہے ۔مشترکہ آزادی پسند قیادت نے ریاستی گورنر ستیہ پال ملک کے اس بیان پر کہ جموں وکشمیر میں آل اؤٹ نام کا کوئی آپریشن نہیں چل رہا ہے ،کو زمینی حقائق سے بعید اورگمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت کی طرف سے یہ بیانات دیئے جاتے رہے ہیں کہ جموں وکشمیر میں آپریشن آل اؤٹ کے تحت کارروائیاں جاری ہیں ۔ کشمیر کے طول و عرض خاص طور پر جنوبی کشمیر میں آئے روز کی ہلاکتوں ، مار دھاڑ، خانہ تلاشیوں،خواتین کے ساتھ بدتمیزی کے واقعات ، ہراسانیوں اورمزاحمتی قیادت کی پر امن سرگرمیوں پر قدغنیں اور پابندیاں برابر اور تسلسل کے ساتھ جاری ہیں اور یہ سب کچھ آپریشن آل اؤٹ نہیں ہے تو کیا ہے ؟۔یہاں تک کہ ہمیں شہیدوں کی نماز جنازہ میں شرکت اور لواحقین کے ساتھ تعزیت کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔انہوں نے کہا کہ فوج کوافسپا اور کالے قوانین کے بل پر جو بے پناہ اختیارات تفویض کئے گئے ہیں ان کا بے دردی سے استعمال کرکے نہتے عوام کو پر تشدد کارروائیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے ۔حقیقت یہ ہے کہ جموں وکشمیر کو ایک پولیس سٹیٹ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور طاقت کے بل پر عوام کے جملہ حقوق سلب کر لئے گئے ہیں اور اس ریاست کے حوالے سے فیصلے بھارت کی سیاسی قیادت کے بجائے فوج اپنے طور پر لیتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ میں 35Aکے حوالے سے دائر پٹیشن کے ضمن میں 19 جنوری کو شنوائی کی تاریخ طے تھی لیکن کورٹ کے روسٹر میں مذکورہ تاریخ میں اس پٹیشن کی شنوائی موجود نہیں ہے ۔تاہم مزاحمتی قیادت کی جموں وکشمیر میں تمام سیاسی، تجارتی ، مذہبی اور سماجی انجمنوں، سول سوسائٹی کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور قیادت پورے معاملات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس ضمن میں اگلے پروگرام سے عوام کو آگاہ کیا جائیگا۔




کشمیری نوجوانوں پر غداری کا مقدمہ سوچا سمجھا منصوبہ ہے، حریت قائدین

سرینگر (وائس آف ایشیا)حریت قائدین سید علی شاہ گیلانی، میرواعظ عمر فاروق احمد محمد یاسین ملک نے 7کشمیری نوجوانوں پر غداری کا مقدمہ درج کرنے اور عدالت میں چارج شیٹ دائر کرنے ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے، اپنے مشترکہ بیان میں انہوں نے اس اقدام کو آمرانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی کشمیری طلبا کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کر رہی ہے، قائدین نے کہا کہ سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان طلباء کے تعلیمی کیریئر کو مخدوش بنایا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ طلبا کا قصور صرف اتنا ہے کہ انہوں نے کشمیری عوام کے خلاف بھارتی حکومت کی جانب سے روا رکھے جارہے مظالم اور انسانی کی ابتر پائمالیوں کے خلاف آواز بلند کی تھی اور2016ء میں شہید محمد افضل گورو کی برسی کے موقع پر مذکورہ یونیورسٹی کی طلباء یونین کی جانب سے منعقدہ مظاہرے میں شرکت کرکے بھارت کے اس غیر جمہوری اور غیر انسنای طرز عمل کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا تھا جسکے تحت رات کے اندھیرے میں کشمیر کے اس عظیم سپوت کو تختہ دار لٹکا کر پوری کشمیری قوم کو شدید اذیت سے دوچار کیا گیا تھا، انہوں نے کشمیری طلبا کے خلاف اس طرح کے ہتھکنڈوں کے استعمال کا مقصد اسکے سوا کچھ نہیں کہ حکومت بھارت میں2019ء میں ہونے جارہے انتخابات کیلئے اپنے ووٹ بنک کو محفوظ رکھنے کیلئے اسطرح کے کارڈ کھیل رہی ہے