اسلام آباد (وائس آف ایشیا) امریکہ اور ایران کے اسلام آباد مذاکرات میں حتمی معاہدے میں ناکامی کی وجہ بننے والے 5 بڑے اختلافات کی نشاندہی ہوگئی۔ بی بی سی کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سب سے بڑا اور سب سے پرانا اختلاف ایران کے جوہری پروگرام کا ہے، ایران کا مؤقف ہے کہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے دستخط کنندہ ہونے کے باعث اسے شہری مقاصد کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا حق حاصل ہے، ایران کی 10 نکاتی تجویز جسے ٹرمپ نے مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد قرار دیا، اس میں اس کے افزودگی کے حق کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم کرنے کا مطالبہ شامل ہے جب کہ ٹرمپ کے اپنے 15 نکاتی منصوبے میں یہ مطالبہ شامل ہے کہ ایران اپنی سرزمین پر ہر قسم کی یورینیم کی افزودگی ختم کرے گا۔بتایا گیا ہے کہ دوسرا اختلاف لبنان پر ہے، ایران کے لبنانی اتحادی مسلح گروہ حزب اللہ کے خلاف جاری اسرائیلی کارروائیاں مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی انہیں متاثر کرنے کا سبب بن رہی تھیں، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ’اگر یہ کارروائیاں جاری رہیں تو مذاکرات بے معنی ہو جائیں گے‘، اگرچہ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے اعلان میں پاکستان نے کہا کہ لبنان بھی شامل تھا، تاہم اسرائیل نے بعد میں کہا تھا کہ وہ لبنان میں کارروائیاں جاری رکھے گا اور اسلآم آباد سے امریکی نائب صدر کی رونگی کے چند ہی لمحوں بعد اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان میں حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔

معلوم ہوا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایک اور بڑا مسئلہ تیل بردار جہازوں کی گزرگاہ آبنائے ہرمز بھی ہے، صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا الزام ہے کہ ’ایران آبنائے ہرمز سے جہازوں کو گزرنے کے لیے راستہ دینے کے معاملے میں ایران کا فیصلہ صحیح نہیں ہے، ہمارے درمیان یہ معاہدہ نہیں ہوا تھا‘، جب کہ اس وقت بھی سینکڑوں بحری جہاز اور اندازاً 20 ہزار ملاح خلیج کے اندر پھنسے ہوئے ہیں اور بہت کم جہازوں کو وہاں سے گزرنے کی اجازت دی جا رہی ہے، اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے بعد ایران اب اسے باضابطہ شکل دینے کے لیے پُرعزم دکھائی دیتا ہے، ایران اسے خودمختار ایرانی پانی قرار دے رہا ہے اور ایسے نئے قواعد کی بات کر رہا ہے جو یہ طے کریں گے کہ یہاں سے کون گزر سکتا ہے اور کسے اجازت نہیں ہو گی۔

رپورٹ سے پتا چلا ہے کہ چوتھا اختلاف ایران کے علاقائی اتحادی ہیں، ایران کے خطے میں موجود اتحادیوں اور پراکسی گروہوں نے تہران کو خطے میں خاص اثر و رسوخ دیا ہے، ان میں لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی، غزہ میں حماس اور عراق میں مختلف ملیشیاؤں کے گروہ شامل ہیں، ان کے ذریعے ایران اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ اپنے طویل تنازعات میں وہ حکمتِ عملی اختیار کرتا ہے جسے اکثر فاروَرڈ ڈیفنس کہا جاتا ہے، اکتوبر 2023 میں غزہ جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران کے مزاحمت کا محور کہلائے جانے والے اس نیٹ ورک کو مسلسل حملوں کا سامنا ہے، اس کا ایک حصہ سابق شامی صدر بشارالاسد کی حکومت تھی تاہم اس حکومت کا وجود اب ختم ہو چکا، جب کہ اسرائیل اس پورے ڈھانچے کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اس کا مکمل طور پر خاتمہ چاہتا ہے۔

بتایا جارہا ہے کہ پابندیوں میں نرمی بھی مذاکرات میں ایک اختلاف رہا، ایران کئی دہائیوں سے سخت بین الاقوامی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، کسی بھی ممکنہ معاہدے کے حصے کے طور پر وہ امریکہ اور عالمی برادری کی جانب سے عائد تمام پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ’مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ایران کے تقریباً 120 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے بحال کیے جانے چاہییں، یہ دو پہلے سے طے شدہ اقدامات میں سے ایک ہے جن میں دوسرا لبنان میں جنگ بندی سے متعلق ہے‘، تاہم 7 اپریل کو پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف کی جانب سے دو ہفتے کی جنگ بندی کے اعلان میں منجمد اثاثوں کی بحالی کا کوئی ذکر نہیں تھا۔