امریکہ کے ساتھ معاہدے پر پہنچنا زیادہ دور نہیں، ایرانی صدر
تہران (وائس آ ایشیا) ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ معاہدے تک پہنچنا زیادہ دور نہیں، ایران دیرپا امن اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ کے ساتھ منصفانہ اور متوازن معاہدے کے لیے تیار ہے۔ عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے اتوار کے روز اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹن کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کے بارے میں انہیں آگاہ کیا، دونوں صدور نے مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین پیشرفت پر تبادلہ خیال کیا، صدر پزشکیان نے اپنے روسی ہم منصب کو بتایا کہ ایران امریکہ کے ساتھ ایک متوازن اور منصفانہ معاہدے کے لیے تیار ہے جو مستحکم امن اور سلامتی کی ضمانت ہو۔اس حوالے سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی صدر نے پوٹن کے ساتھ گفتگو میں 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات کا جائزہ لیا اور بین الاقوامی پلیٹ فارمز سمیت روس کے اصولی مؤقف کے لیے شکریہ ادا کیا، جس کا مقصد کشیدہ صورتحال کو کم کرنا ہے، پزشکیان نے روس کی طرف سے فراہم کی جانے والی انسانی امداد کے لیے بھی روسی صدر کا شکریہ ادا کیا۔
معلوم ہوا ہے کہ فون کال میں دو طرفہ تعاون پر بات چیت بھی شامل تھی، جس کے دوران دونوں فریقوں نے تعلقات کو مضبوط بنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا، روسی صدر نے اپنی طرف سے سفارتی تصفیے کی تلاش میں سہولت کاری جاری رکھنے اور مشرق وسطیٰ میں منصفانہ اور پائیدار امن کے قیام کے مفادات میں ثالثی کرنے کے لیے اپنی پیشکش پر زور دیا، اس مقصد کے لیے روس خطے میں تمام شراکت داروں کے ساتھ فعال رابطے جاری رکھے گا۔
یاد رہے کہ یہ فون کال اس وقت سامنے آئی ہے جب ہفتے کے روز اسلام آباد میں ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان اعلیٰ سطح پر ہونے والے مذاکرات کوئی معاہدہ کرنے میں ناکام رہے، یہ مذاکرات ایران پر امریکی اسرائیلی حملے کو ختم کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ تھے جس میں 28 فروری سے اب تک 3 ہزار 300 سے زیادہ افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جنگ میں اس ہفتے کے شروع میں دو ہفتوں کی نازک جنگ بندی کی گئی تھی، جارحیت کے آغاز کے بعد سے ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو بھی محدود کر دیا ہے، جو تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے ایک اہم ٹرانزٹ ہے۔



تبصرہ کریں