پٹرول کی قیمت میں 55 روپے اضافہ کرنے سے پہلے ہم سے مشاورت نہیں کی گئی، ہم حکومت کے اس فیصلے کی حمایت نہیں کرتے، رہنما پیپلز پارٹی شرمیلا فاروقی

کراچی (وائس آف ایشیا) رہنما پیپلز پارٹی شرمیلا فاروقی نے خبردار کیا ہے کہ اگر دوبارہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائی گئیں تو عوام سڑکوں پر نکل آئے گی ، ہم حکومت کے پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے فیصلے کی حمایت نہیں کرتے۔ انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم حکومت کے اس فیصلے کی حمایت نہیں کرتے۔

پٹرول کی قیمت میں ایک ساتھ 55 روپے اضافہ کرنے سے پہلے ہم سے مشاورت نہیں کی گئی۔ اگر حکومت ہم سے رجوع کرتی تو ہم اسے عوام دشمن فیصلہ کرنے سے روکتے۔ اگر دوبارہ پٹرول مہنگا کیا گیا تو عوام سڑکوں پر نکل آئے گی۔ رہنما پیپلز پارٹی شرمیلا فاروقی نے کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری سے حکومت کو کوئی خاطر خواہ فائدہ نہیں ہوا۔

ایک طرف عوام کو کفایت شعاری اور قربانی کا درس دیا جا رہا ہے، جبکہ بیوروکریٹس کی محض دو دن کی تنخواہ کاٹی گئی۔

حکومت کو سرکاری بیرونی دوروں پر پابندی پہلے ہی لگا دینی چاہیے تھی، کفایت شعاری مہم کے لیے جنگ کا انتظار کیوں کیا گیا؟ دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پٹرول کی قیمت میں 95 روپے اور ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان قومی مفادات کے تحفظ،عوام کو عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں قیامت خیز اضافے سے بچانے اور سفارتی محاذ پر امن کے قیام کے لیے دن رات متحرک ہے اور جنگ کو رکوانے کے لیے ثالثی کی بھرپور اور پرخلوص کوششیں کر رہا ہے، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کر کے اس ہفتے مزید 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ وفاقی حکومت خود برداشت کرے گی،کفایت شعاری اب اختیاری نہیں بلکہ ہماری مشترکہ ذمہ داری بن گئی ہے،حکومت نے انتہائی محدود وسائل کے باوجود بروقت اور موثر اقدامات سے مہنگائی کے طوفان کو عوام تک پہنچنے سے روک رکھا ہے،مشکل وقت کا مقابلہ کرنے کے لیے جامع منصوبہ بنا رہے ہیں جس کا اعلان چند دنوں میں کر دیا جائے گا،قوم کے باہمی اتحاد اور تعاون سے مشکل حالات سے سرخرو ہو کر نکلیں گے۔

مزید برآں مشیر وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کا 24 دن کا اسٹاک تھا، جو اب 4ہفتوں کا ہو گیا ہے، مارچ اور اپریل کے لیے تیل کا ذخیرہ کافی ہے۔ایک انٹرویومیں انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے ہمارے تیل کے جہاز گزر رہے ہیں، ایران نے ہمارے جہاز ترجیحی بنیاد پر چھوڑنا شروع کر دیے ہیں۔مشیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر وافر مقدار میں ہیں اور ان میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ غیر ضروری اخراجات کم کر کے سوا ارب روپے کی سپورٹ دی گئی ہے، کفایت شعاری کی مثال حکومت بھی قائم کر رہی ہے، عوام بھی ساتھ دیں۔