ضمیر آفاقی
عوام کی اواز
پاکستان ایک بار پھر اسی موڑ پر کھڑا ہے جہاں سوال صرف سیکیورٹی کا نہیں بلکہ ریاستی وقار، قومی بیانیے اور فکری سمت کا بھی ہے۔ فوجی اور پولیس چوکیوں پر حملے، قافلوں کو نشانہ بنایا جانا، مساجد اور امام بارگاہوں میں دھماکے—یہ سب واقعات محض خبریں نہیں بلکہ ایک قومی المیے کی کڑیاں ہیں۔ ایک لاکھ سے زائد پاکستانی شہری اور سیکیورٹی اہلکار دہشت گردی کی نذر ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار نہیں، ہر عدد کے پیچھے ایک گھر کا چراغ بجھا ہے۔
اس،طرح کی باتیں ائی ایس پی آر لاہور برگیڈیر اصف کی جانب سے دئے گئے افطار ڈنر میں ہمارے اخبار کے ایڈیٹر نجم ولی خان،مجیب الرحمن شامی،نوید چوہدری، میاں سیف الرحمن،اشرف سہیل،عثمان احمد،شیر علی خالطی،ہمایوں سلیم، مجید ساجد سمیت دیگر سئنیر صحافیوں شرکاء کے درمیان زیر گفتگو تھیں۔اور یہ سب احباب قومی بیانئے کی اہمیت پر زور سے رہے تھے جس میں صرف اور صرف سب سے پہلے پاکستان کی سالمیت اور استحکام مقدم ہو۔
اب جبکہ یہ امر کھل کر سامنے آ چکا ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان یعنی تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور حافظ گل بہادر گروپ جیسے عناصر کو افغانستان کی سرزمین پر پناہ میسر ہے، اور یہ کہ افغان طالبان کی حکومت ان کے خلاف موثر کارروائی کرنے میں ناکام یا غیر سنجیدہ نظر آتی ہے، تو سوال یہ ہے کہ پاکستان کیا کرے؟ کیا صرف نصاب کی تبدیلی انتہاپسند سوچ کا علاج ہے؟ یا اس کے لیے ایک ہمہ جہت حکمت عملی درکار ہے؟
دہشت گردی کی وجوہات: داخلی کمزوریاں اور خارجی محرکات
دہشت گردی خلا میں جنم نہیں لیتی۔ اس کے پس منظر میں کئی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ پہلی وجہ فکری انتہاپسندی ہے، جسے بعض حلقوں نے مذہب کے لبادے میں پروان چڑھایا۔ دوسری وجہ ریاستی کمزوریاں، ناقص گورننس، اور وہ خلا ہیں جہاں قانون کی گرفت کمزور پڑتی ہے۔ تیسری وجہ بیرونی سرپرستی اور سرحد پار محفوظ ٹھکانے ہیں۔
جب افغانستان میں طالبان کو دہائیوں کی جنگ کے بعد اقتدار ملا تو توقع تھی کہ وہ اپنے ملک کی تعمیر و ترقی، جنگ زدہ عوام کی بحالی، اور خطے کے ساتھ پرامن تعلقات کو ترجیح دیں گے۔ مگر عملی طور پر دنیا نے دیکھا کہ خواتین کے حقوق محدود کیے گئے، عالمی برادری سے تعلقات کشیدہ رہے، اور سرحد پار سرگرم گروہوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام نہ ہو سکا۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف افغانستان بلکہ پورے خطے کے لیے عدم استحکام کا سبب بن رہا ہے۔
یہ درست ہے کہ نصاب تعلیم میں اصلاح ناگزیر ہے۔ ایسا نصاب جو تنقیدی سوچ، برداشت، تحمل اور آئینی شعور کو فروغ دے، وہ انتہاپسند بیانیے کے خلاف مضبوط دیوار بن سکتا ہے۔ مگر ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نصاب اکیلا معجزہ نہیں دکھا سکتا۔
انتہاپسندی صرف کتاب کے ایک باب سے نہیں جنم لیتی، یہ معاشرتی رویوں، خطابات، سوشل میڈیا بیانیوں اور بعض اوقات سیاسی مفادات سے بھی تقویت پاتی ہے۔ لہٰذا نصاب کے ساتھ ساتھ:
مدرسہ اصلاحات اور رجسٹریشن کا موثر نظام
نفرت انگیز تقاریر اور مواد کے خلاف زیرو ٹالرنس
سوشل میڈیا پر شدت پسند پروپیگنڈے کی نگرانی
نوجوانوں کے لیے روزگار اور مثبت سرگرمیوں کے مواقع
یہ سب اقدامات ناگزیر ہیں۔
پاکستان نے چالیس لاکھ سے زائد افغان باشندوں کو پناہ دی۔ یہ ہماری روایت، ہماری ثقافت اور ہمارے مذہبی و اخلاقی اقدار کا حصہ تھا۔ مگر اگر انہی مہاجرین میں سے کچھ عناصر دہشت گردی، منشیات، اسلحہ اسمگلنگ یا دیگر جرائم میں ملوث پائے جائیں تو ریاست کا فرض ہے کہ وہ قانون کے مطابق کارروائی کرے۔
غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی مرحلہ وار، منظم اور باوقار واپسی ایک ریاستی حق ہے۔ مگر اس عمل کو جذباتی نعروں کے بجائے قانونی اور سفارتی حکمت عملی کے تحت انجام دینا ہوگا۔ اجتماعی سزا کا تصور نہ آئینی ہے نہ اخلاقی۔ ہاں، جو لوگ دہشت گردوں کے سہولت کار ہیں، جو ریاست کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں، ان کے خلاف بلا امتیاز کارروائی ہونی چاہیے—چاہے ان کی شہریت کچھ بھی ہو۔
بعض حلقے ہر تنقید کو “برادر اسلامی ملک” کے نام پر رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کے نام پر خودکش حملے جائز ہو جاتے ہیں؟ کیا عبادت گاہوں میں نمازیوں کو شہید کرنا اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہے؟ کیا بازاروں میں معصوم بچوں کو نشانہ بنانا کسی بھی مذہب میں درست قرار دیا جا سکتا ہے؟
ریاست پاکستان جب دہشت گردوں کو “خوارج” کہتی ہے تو وہ محض لفظی جنگ نہیں لڑ رہی بلکہ ایک فکری لکیر کھینچ رہی ہے کہ جو گروہ ریاست اور عوام کے خلاف ہتھیار اٹھائے، وہ کسی مقدس عنوان کا مستحق نہیں۔
پاکستان نے متعدد بار کابل حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ اگر ان مطالبات کے باوجود حملے جاری رہیں تو ریاست کے پاس اپنے دفاع کا حق محفوظ ہے۔ سرحد پار محدود اور ہدفی کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے تحت “حقِ دفاع” کے زمرے میں آ سکتی ہیں، ان کا دائرہ کار واضح اور مقصد دہشت گرد ڈھانچوں کو نشانہ بنانا ہو،۔
مگر عسکری اقدام ہمیشہ آخری حل ہونا چاہیے۔ اس کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط سفارتی مہم، علاقائی تعاون، اور عالمی برادری کو اعتماد میں لینا بھی ضروری ہے۔ چین، ایران، وسطی ایشیائی ریاستیں—سب اس عدم استحکام سے متاثر ہو سکتے ہیں۔ مشترکہ خطرے کے خلاف مشترکہ حکمت عملی وقت کی ضرورت ہے۔
ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ دہشت گردی صرف سرحد پار مسئلہ نہیں۔ ہمارے اندر بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو دانستہ یا نادانستہ شدت پسند بیانیے کو فروغ دیتے ہیں۔ کچھ لوگ سوشل میڈیا پر دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، کچھ “سیاسی جہاد” کے نام پر ریاستی اداروں کو کمزور کرتے ہیں۔
ریاست کو آزادی اظہار اور قومی سلامتی کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔ تنقید جمہوریت کا حسن ہے، مگر دہشت گردی کی وکالت جرم ہے۔ اس فرق کو واضح اور نافذ کرنا ہوگا۔
آگے کا راستہ: ایک جامع قومی حکمت عملی
قومی ایکشن پلان پر حقیقی عملدرآمد
سرحدی نگرانی اور باڑ کی تکمیل
انٹیلی جنس اداروں کے درمیان بہتر رابطہ
عدالتی نظام میں اصلاحات تاکہ دہشت گردوں کو بروقت سزا ملے،نوجوانوں کے لیے تعلیم، ہنر اور روزگار کے مواقع ،مذہبی و سماجی قائدین کو شدت پسندی کے خلاف متحرک کرنا
نتیجہ: جنگ صرف بندوق کی نہیں، بیانیے کی بھی ہے
پاکستان کو سخت جواب دینے کا حق ہے، منظم، قانونی اور مؤثر حکمت عملی ضروری ہے۔ ہمیں یاد رکھنا ہوگا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف سرحدوں پر نہیں لڑی جاتی، یہ کلاس روم، مدرسے، میڈیا اسکرین اور سوشل میڈیا ٹائم لائن پر بھی لڑی جاتی ہے۔
اگر ہم نے اس چیلنج کو سنجیدگی، حکمت اور اتحاد کے ساتھ قبول کیا تو نہ صرف دہشت گردی کا قلع قمع ممکن ہے بلکہ ہم ایک ایسا پاکستان تشکیل دے سکتے ہیں جہاں نہ کسی نمازی کو خوف ہو، نہ کسی سپاہی کی ماں کو اپنے بیٹے کی شہادت کا ڈر۔
ریاست جب اپنی سلامتی کے لیے کھڑی ہوتی ہے تو اسے جذبات سے نہیں، بصیرت سے فیصلے کرنے ہوتے ہیں۔ اور آج ضرورت اسی بصیرت کی ہے۔ اس موضوع پر مزید اظہار انہی صفحات پر اپ کو پڑھنے ک ملے گا۔