یہ جنگ صیہونی حکومت اور امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی، خطے میں امن کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ اس تنازعہ کے بنیادی اسباب کو تسلیم کیا جائے اور انصاف پر مبنی حل تلاش کیا جائے؛ ایرانی صدر کا بیان

تہران (وائس آف ایشیا) ایران نے جنگ ختم کرنے کے لیے 3 شرائط رکھ دی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ تیرہویں دن میں داخل ہونے والی جنگ ​​کے خاتمے کے لیے جمعرات کو تین شرائط پیش کی ہیں، اس حوالے سے ایران کے صدر مسعود پیزشکیان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ انہوں نے روس اور پاکستان سے بات کرکے امن کے لیے اپنے ملک کے عزم کا اعادہ کیا۔

ان کا کہنا ہے کہ صیہونی حکومت اور امریکہ کی طرف سے بھڑکائی گئی جنگ کو ختم کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ ایران کے جائز حقوق کو تسلیم کیا جائے، معاوضے کی ادائیگی اور مستقبل کی جارحیت کے خلاف ایک مضبوط بین الاقوامی ضمانت یقینی بنائی جائے۔ مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ یہ جنگ صیہونی حکومت اور امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی، خطے میں امن کے قیام کیلئے ضروری ہے کہ اس تنازعہ کے بنیادی اسباب کو تسلیم کیا جائے اور انصاف پر مبنی حل تلاش کیا جائے۔

دوسری طرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جیت چکے ہیں لیکن جلد نکلنا نہیں چاہتے بلکہ ایران میں امریکہ اپنی کارروائیاں اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک تمام اہداف مکمل نہیں ہو جاتے، امریکہ نے ایران کے خلاف جنگ میں فیصلہ کن برتری حاصل کرلی ہے، امریکی فوج کے ایران پر شدید حملے جاری ہیں اور آپریشن ایپک فیوری کے آغاز کے پہلے ہی گھنٹے میں جنگ کا رخ تبدیل ہو گیا تھا، امریکی کارروائیوں میں ایران کے 58 جہاز تباہ کیے گئے، بارودی سرنگیں بچھانے والی 31 کشتیوں کو بھی تباہ کر دیا گیا، امریکی افواج نے ایک ہی رات میں آبنائے ہرمز میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں کو صاف کر دیا اور ایرانی بحریہ کو سمندر میں مؤثر انداز میں ناکارہ بنا دیا۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی ایئر فورس مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور اس کے ریڈار سسٹمز بھی تباہ کر دیئے گئے ہیں، امریکی کارروائیوں کے بعد ایران کی جانب سے ہونے والے ڈرون حملوں میں 98 فیصد کمی آ گئی ہے، ایران کی جوہری صلاحیت کو بھی صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا ہے، امریکہ اس جنگ میں کامیابی حاصل کر چکا ہے مگر فوری طور پر ایران سے نکلنے کا ارادہ نہیں کیونکہ واشنگٹن نہیں چاہتا کہ ہر چند سال بعد دوبارہ وہاں مداخلت کرنی پڑے۔