کالمسٹ ڈاکٹر ماریہ یوسف

خواتین کو با اختیار بنانا کسی بھی ملک کی ترقی کے لئیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اور یہ پاکستان پیپلز پارٹی PPP کی اولین
ترجیح بھی ہے ۔ کیونکہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید پاکستان کی ایک دلیر، بہادر سیاسی رہنما ہی نہیں تھیں بلکہ بحیثیت عورت , بیٹی اور ماں کے روپ میں وہ ایک حساس خاتون بھی تھیں جو یہ چاہتی تھیں کہ پاکستان کی ہر ماں، بہن اور بیٹی خود مختار ہو، انھیں تعلیم ، صحت اور روز گار کے برابر کے مواقع حاصل ہوں اور وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحتیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دورِحکومت میں خواتین کے لئے ہر شعبے میں نوکریوں کے مواقع فراہم کئے پاکستان کے پہلے ویمن بینک. کی بنیاد رکھی ، اور پاکستان آرمی، بحری اور بری فورسس میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا۔ محترمہ کی شہادت کے بعد, صدرِ پاکستان آصف علی زرداری, PPP چیرمین بلاول بھٹو زردای اور آصفہ بھٹو زرداری صاحبہ نے اُن کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا. جسکے ذر یعے بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کی ماہانہ مالی معاونت کی جاتی ہے اُنکو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ، جبکہ معذور افراد کی بھی مالی معاونت کی جاتی ہے. حال ہی میں ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کے لئیے پنک بس سروس کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ وہ عزت اور اعتماد کے ساتھ اپنے تعلیم اور روزگار کے مواقع تک پہنچ سکیں ، اسکے ساتھ ہی دو Phases میں تقریباً 400 Pink Scootes ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کو فراہم کی جا چکی ہیں. اور پاکستان. کی پہلی EV بس سروس بھی اسی سلسلے کی ایک کامیاب کاوش ہے ۔ یہی نہیں بلکہ سندھ حکومت کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ سیلاب متاثرین میں گھروں کےمالکانہ حقوق خواتین کے حوالے کر کے محترمہ کے مشن کو جاری رکھا ۔ حال ہی میں بینظر و یمن agriculture workers کارڈ کا بھی آغاز کیا گیا ہے. جس میں خواتین کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لیے 50 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کئے گئے مزید یہ کہ خواتین کو مساوی حقوق دینے انکی سماجی، سیاسی اوراقتصادی ترقی کے لیے پیپلز پارٹی ہر دم کوشاں ہے. کیونکہ پیپلز پارٹی ایک نظریاتی فلسفہ ہے جومحترمہ بینظیر بھٹو شہید کے ویژن کے مطابق خواتین کی خود مختاری کے لیے ہمیشہ پر عزم ہے

خواتین کو با اختیار بنانا کسی بھی ملک کی ترقی کے لئیے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے، اور یہ پاکستان پیپلز پارٹی PPP کی اولین
ترجیح بھی ہے ۔ کیونکہ محترمہ بینظیر بھٹو شہید پاکستان کی ایک دلیر، بہادر سیاسی رہنما ہی نہیں تھیں بلکہ بحیثیت عورت , بیٹی اور ماں کے روپ میں وہ ایک حساس خاتون بھی تھیں جو یہ چاہتی تھیں کہ پاکستان کی ہر ماں، بہن اور بیٹی خود مختار ہو، انھیں تعلیم ، صحت اور روز گار کے برابر مواقع حاصل ہوں اور وہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنی صلاحتیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ محترمہ بینظیر بھٹو نے اپنے دورِحکومت میں خواتین کے لئے ہر شعبے میں نوکریوں کے مواقع فراہم کئے پاکستان کے پہلے ویمن بینک. کی بنیاد رکھی ، اور پاکستان آرمی، بحری اور فضائیہ فورسس میں خواتین کی شمولیت کو یقینی بنایا۔ محترمہ کی شہادت کے بعد, صدرِ پاکستان آصف علی زرداری, PPP چیرمین بلاول بھٹو زردای اور آصفہ بھٹو زرداری صاحبہ نے اُن کے مشن کو جاری رکھتے ہوئے، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کا آغاز کیا. جسکے ذر یعے بیوہ خواتین اور یتیم بچوں کی ماہانہ مالی معاونت کی جاتی ہے اُنکو تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں ، جبکہ معذور افراد کی بھی مالی معاونت کی جاتی ہے. حال ہی میں ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کے لئیے پنک بس سروس کا آغاز کیا گیا ہے تاکہ وہ عزت اور اعتماد کے ساتھ اپنے تعلیم اور روزگار کے مواقع تک پہنچ سکیں ، اسکے ساتھ ہی دو Phases میں تقریباً 400 Pink Scootes ملازمت پیشہ خواتین اور طالبات کو فراہم کی جا چکی ہیں. اور پاکستان. کی پہلی EV بس سروس بھی اسی سلسلے کی ایک کامیاب کاوش ہے ۔ یہی نہیں بلکہ سندھ حکومت کی طرف سے بلاول بھٹو زرداری نے حالیہ سیلاب متاثرین میں گھروں کےمالکانہ حقوق خواتین کے حوالے کر کے محترمہ کے مشن کو جاری رکھا ۔حال ہی میں بینظر ویمن agriculture workers کارڈ کا بھی آغاز کیا گیا ہے. جس میں خواتین کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لیے 50 کروڑ روپے کے فنڈز مختص کئے گئے مزید یہ کہ خواتین کو مساوی حقوق دینے انکی سماجی، سیاسی اوراقتصادی ترقی کے لیے پیپلز پارٹی ہر دم کوشاں ہے. کیونکہ پیپلز پارٹی ایک نظریاتی فلسفہ ہے جومحترمہ بینظیر بھٹو شہید کے ویژن کے مطابق خواتین کی خود مختاری کے لیے ہمیشہ پر عزم ہے