اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دینے کی متفرق درخواست دائر کردی گئی

اسلام آباد (وائس آف ایشیا) سابق وزیراعظم عمران خان کی القادر ٹرسٹ کیس میں سزا معطلی میں نئی رکاوٹ پیدا کرتے ہوئے نیب نے اعتراضات دائر کردیئے۔ تفصیلات کے مطابق 190 ملین پاؤنڈ کیس یعنی القادر ٹرسٹ کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر سماعت سے قبل اہم پیش رفت ہوئی ہے اور اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دینے کی متفرق درخواست دائر کردی گئی۔

بتایا گیا ہے کہ نیب نے سابق وزیراعظم اور ان کی اہلیہ کی سزا معطلی سے متعلق درخواستیں ناقابلِ سماعت قرار دینے کی متفرق درخواست دائر کی ہے، نیب کی جانب سے درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ کیس میں سزا کے خلاف مرکزی اپیل سماعت کے لیے منظور ہی نہیں ہوئی، سزا کے خلاف اپیل پر باضابطہ نوٹس ہی جاری نہیں ہوا، اس لیے سزا معطلی کی درخواستیں ناقابل سماعت ہیں۔

ادھر سپریم کورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کردی گئیں، جسٹس عائشہ ملک کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 12 مارچ کو سماعت کرے گا، وزیراعظم شہباز شریف نے ہتک عزت کا کیس عمران خان کے خلاف فائل کیا تھا، ٹرائل کورٹ نے ہتک عزت کیس میں بانی چیئرمین پی ٹی آئی کا حق دفاع ختم کردیا تھا، حق دفاع ختم کرنے کیے جانے کے خلاف عمران خان نے سپریم کورٹ میں اپیلیں دائر کر رکھیں ہیں۔

دوسری طرف پاکستان تحریک انصاف کے بانی چیئرمین عمران خان کی ہسپتال منتقلی کی درخواست کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت سے اہم ترین سوالات پوچھ لیے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس جسٹس ارباب طاہر اور جسٹس خادم سومرو پر مشتمل پینچ یہ کیس سن رہا ہے، ابتدائی سماعت کے دوران عدالت نے اہم ترین سوالات پوچھتے ہوئے استفسار کیا کہ ’اگر کسی قیدی کو علاج کی اشد ضرورت ہو تو کیا کرنا چاہیے؟ کیا ہم صرف ہسپتال کی پریس ریلیز پر انحصار کر سکتے ہیں؟‘، اس حوالے سے ججز نے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو ہدایت کی کہ ’12 مارچ تک ان دونوں سوالات کا جواب دیں‘۔