پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ محض ایک معاشی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسا طوفان ہے جو پورے سماج کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو اس کا اثر صرف گاڑی چلانے والوں تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش، بجلی، صنعت اور روزمرہ کی ہر ضرورت پر پڑتا ہے یوں مہنگائی کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوتا ہے جس کا بوجھ سب سے زیادہ غریب آدمی کے کندھوں پر آ گرتا ہے ہمارے ملک میں پہلے ہی غربت ایک سنگین مسئلہ ہے کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ایسے میں جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے تو سبزی، آٹا، دالیں، دودھ حتیٰ کہ روٹی بھی مہنگی ہو جاتی ہے ایک مزدور جو دن بھر محنت کے بعد اپنے بچوں کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرتا تھا اب اس کے لیے ایک وقت کا کھانا بھی مشکل ہو جائے گا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس صورتحال میں غربت ختم ہوگی یا غریب؟حقیقت یہ ہے کہ جب مہنگائی حد سے بڑھتی ہے تو غریب کا جینا دوبھر ہو جاتا ہے وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے قرض لیتا ہے یا پھر اپنی عزت نفس کو داؤ پر لگا دیتا ہے ایسے حالات میں معاشرے میں جرائم، چوری، ڈکیتی اور کرپشن کا بڑھنا ایک فطری عمل بن جاتا ہے کیونکہ جب ریاست اپنے شہریوں کو بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہو جائے تو لوگ خود راستے تلاش کرنے لگتے ہیں چاہے وہ راستے درست ہوں یا غلط پیٹرول کی بڑھتی قیمتیں ایک اور خطرناک رجحان کو بھی جنم دیتی ہیں اور وہ ہے کرپشن کا فروغ جب ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے تو سرکاری اداروں میں بیٹھے افراد بھی اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے ناجائز ذرائع اختیار کرنے لگتے ہیں رشوت، کمیشن اور بدعنوانی عام ہو جاتی ہے یوں ایک ایسا شیطانی چکر شروع ہو جاتا ہے جہاں مہنگائی کرپشن کو بڑھاتی ہے اور کرپشن مزید مہنگائی کو جنم دیتی ہے اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ متاثر متوسط طبقہ ہوتا ہے جو نہ تو غریبوں کی طرح امداد کا مستحق سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی امیروں کی طرح وسائل رکھتا ہے اس طبقے کے لیے زندگی ایک مسلسل جدوجہد بن جاتی ہے جہاں ہر دن ایک نئی آزمائش لے کر آتا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت صرف وقتی اقدامات کے بجائے پائیدار پالیسیاں تشکیل دے پیٹرول کی قیمتوں میں استحکام، متبادل توانائی کے ذرائع کی تلاش اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر حکمت عملی ناگزیر ہے بصورت دیگر وہ دن دور نہیں جب ہم یہ سوال کرنے پر مجبور ہوں گے کہ آیا ہم نے غربت کا خاتمہ کیا  یاغریبوں کا؟ مہنگائی کا یہ طوفان اگر نہ روکا گیا تو یہ صرف معیشت کو ہی نہیں بلکہ معاشرتی اقدار کو بھی تباہ کر دے گا اب فیصلہ ہمیں کرنا ہے کہ ہم اس طوفان کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں یا اس کے آگے بے بس ہو کر سب کچھ بہنے دینا چاہتے ہیں اور ویسے بھی ہمارے ٹرانسپورٹر بھائی لوٹ مار کی اس بہتی گنگا میں نہ صرف ہاتھ دھوتے ہیں بلکہ اپنا منہ بھی رنگ لیتے ہیں ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے سے جہاں ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے وہی پہ ایک عام شہری کو  روزمرہ زندگی گزارنے کے لیئے بہت سی مشکلات کا سامنا کر نا پڑ تا ہیں غریب طبقہ ہی سب سے زیادہ ان مشکلوں اور مہنگائی کا سامنا کرتا ہیں جیسے یہ مشکلیں بنائی ہی گئی غریب کیے لیے ہوں یا پیدا ہی غریب کیے لیے کی گئی ہوں ایک طرف آمدنی محدود ہے دوسری طرف اخراجات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں وہی نوجوان طبقہ وہ نوجوان جنہوں نی آگے چل کر ایک معا شرہ ملک نظام چلانا ہے وہی ما یوسی کی انتہا پر کھڑے نظر آرہے ہیں یہ پاکستان کی عوام کے لیے ایسا المیہ ہے جو عام لوگوں کو آگے نہیں بڑھنے دے رہا پٹرول صرف ایک ایندھن نہیں بلکہ یہ ملک کی معیشت کی بنیاد ہے پٹرول مہنگا ہونا ملکی معیشت کے لیے ایک زہر ہے تنخواہ دار طبقہ کم تنخواہ پر پتہ نہیں کیسے گزارہ کررہا ہے ایسے مشکل دور میں پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ سے پورا خاندان متاثر ہوجاتا ہے مہنگائی پر قابوپانے کی لیے فوری اقدامات ہونے بہت ضروری ہیں رہی بات کرپشن کی اس میں ہمارے اداروں میں بیٹھے ہوئے افراد ویسے بھی بڑے ماہر ہیں اس وقت کوئی ادارہ ایسا ہوگا جو اس لعنت سے محروم ہو بلکہ ایسے ایسے طریقوں سے کرپشن ہو رہی ہے کہ محسوس تو ہورہی ہے لیکن نظر نہیں آرہی یا ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے ہوئے ہیں عوام کا سب سے زیادہ کام پولیس سے پڑتا ہے خواہ عام پولیس ہو یا جیل پولیس مزے کی بات یہ ہے کہ اوپر والے سبھی کرپشن کی کہانیوں پر مزے لے رہے ہیں جیل کا ذکر آیا ہے تو کیمپ جیل لاہور کے دل میں واقع ہے جسکی دیواریں وزیر جیل خانہ جات،آئی جی جیل خانہ جات اور ڈی آئی جی جیل خانہ جات کے دفتر کے ساتھ سانجھی ہیں وہاں پر کرپشن،چور بازاری اور لوٹ مار کی ناقابل یقین داستانیں ہیں جن پر پورا کالم لکھا جاسکتا ہے کرپشن کے اسی معیار کو دیکھتے ہوئے مجھے اپنا ایک مرحوم دوست نواب ڈاکٹر امبر شہزادہ یاد آگیا جو ہر الیکشن میں متبادل وزیر اعظم کے طور پر الیکشن لڑتا رہا جنکا ایک جملہ آج بھی گونجتا ہے کہ“نیم کرپٹ آئے گا تو ملک ترقی کرے گا”یہ جملہ بظاہر ایک طنز تھا مگر اس کے پیچھے ایک گہری حقیقت چھپی ہوئی تھی نواب صاحب دراصل اس تلخ سچ کی نشاندہی کر رہے تھے کہ ہمارے نظام میں مکمل دیانتدار قیادت کا آنا مشکل بنا دیا گیا ہے اس لیے اگر کوئی“نیم کرپٹ”بھی ہو مگر کام کرنے والا ہو تو وہ کم از کم نظام کو آگے تو بڑھا سکتا ہے مگر بدقسمتی یہ رہی کہ“نیم”کی امید بھی پوری نہ ہو سکی اور حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ“میم والے”آگئے یعنی وہ عناصرجن پرنہ صرف کرپشن کے درجنوں مقدمات تھے  بلکہ جیلوں میں بھی ایک لمبا عرصہ گذار چکے تھے یہی وہ المیہ ہے جس نے ملک کو مسائل کے گرداب میں دھکیل دیا ہے مہنگائی، بے روزگاری، اداروں کی کمزوری اور عوامی بدحالی یہ سب اسی سوچ کا نتیجہ ہیں جہاں اقتدار خدمت کے بجائے ذاتی مفادات کا ذریعہ بن جائے۔نواب ڈاکٹر عنبر شہزادہ دراصل ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ سوچ کے حامل رہنما تھے وہ جانتے تھے کہ اگر نظام کو مکمل طور پر بدلنا ممکن نہ ہو تو کم از کم ایسے لوگ آگے آئیں جو کچھ نہ کچھ بہتری لا سکیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اس جملے کو محض طنز یا مزاح کے طور پر نہ لیں بلکہ اس کے پیچھے چھپے پیغام کو سمجھیں اگر ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں تو ہمیں ایسے افراد کو آگے لانا ہوگا جو کم از کم ایمانداری، قابلیت اور عوامی خدمت کا شعور رکھتے ہوں ورنہ“نیم”سے“میم”تک کا یہ سفر ہمیں مزید اندھیروں میں لے جائے گا اور پھر شکوہ کرنے کے لیے بھی کچھ باقی نہیں رہے گاکیونکہ بعض اوقات تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری نہ نیت درست، نہ ترجیحات عوامی اور نہ ہی کوئی واضح سمت شائد اسی لیے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم غربت ختم کرتے کرتے  کہیں غریب کو ہی نہ ختم کردیں؟۔(تحریر۔روہیل اکبر00923004821200)