مزدوروں کی کٹھن راتیں.
نواز دانش جنرل رپورٹر وائس آف ایشیا نیوز لاہور
مزدوروں کی کٹھن راتیں.
دوسرے شہروں سے آ کر لاہور میں کام کرنے والے لوگ دیکھا گیا ہے کہ فٹ پاتھ یا بس سٹاپوں کے شیڈز کے نیچے یا پھر کسی بند دکان کے سامنے رات کو نیند پوری کرتے ہیں یہ بڑے ہی افسوس کی بات ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے. کیا ویلفیئر سوسائٹیاں اور ان کے متعلقہ محکمے یا ادارے اپنی ڈیوٹی سر انجام نہیں دے رہے. ان لوگوں سے استفسار کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ دن کے وقت محنت مزدوری کرتے ہیں. کام نہ ملنے یا مزدوری کم ملنے کی وجہ سے یہ لوگ بتائی ہوئی جگہوں کو ہی اپنا بستر اور خواب گاہ بنا لیتے ہیں اور ایک کٹھن رات گزارتے ہیں. ان میں یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ اکثر لوگ زیادہ عمر کے ہوتے ہیں اور کچھ لوگ تو اپاہج بھی ہوتے ہیں.
خیر یہ بات تو ایک طرف مگر محکمے یا ادارے کہاں ہیں اور بہت ساری فلاحی تنظیمیں ویلفیئر سوسائٹیاں جو یہ دعوی کرتی ہیں. کہ ہم ویلفیئر کے بہت کام کرتے ہیں وہ کہاں ہیں. اور وہ لوگ بھی ذرا بتا دیں جو کہتے ہیں کہ ہم اولڈ ہاؤسز بنا کے بیٹھے ہوئے ہیں. لوگوں کی خدمت کر رہے ہیں. اور ہم ہیومن ویلفیئر کا بہت کام کرتے ہیں اوپر دی گئی تصویروں سے صاف اور واضح نظر آتا ہے کہ یہ تمام محکمے اور ہیومن ویلفیئر سوسائٹیز جو اتنا زیادہ چندہ بھی وصول کرتی ہیں. وہ خواب غفلت میں مصروف عمل ہیں. ان کو ان لوگوں کی کوئی پرواہ نہیں. اور ان لوگوں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں.
کیا یہ پاکستانی نہیں. کیا یہ شہری نہیں کیا ان کا حق نہیں. کیا یہ انسان نہیں. میں اس نیوز پلیٹ فارم کی وساطت ان تمام ویلفیئر سوسائٹی سے سے استفسار کرتا ہوں کہ ان تمام تنظیموں کے اتنے زیادہ ڈونیشنز کہاں خرچ ہوتے ہیں. ذرا بتائیں تو صحیح.
دوسری طرف محکموں سے درخواست ہے ان تمام ہیومن رائٹس اینڈ ویلفیئرز تنظیموں کا اڈٹ کیا جائے ان کے کیش ان کیش اؤٹ کی تفصیلات طلب کی جائیں تاکہ پتہ چل چل سکے کہ یہ تنظیمیں ویلفیئر کا کام کر رہی ہیں یا اپنا ہی کام کر رہی ہیں.
براہ کرم محکمے توجہ فرمائیں یہ جو مزدور دوسرے شہروں سے ا کر بس سٹاپ کے شیڈز کے نیچے اورنج ٹرین کے اسٹیشنوں کے نیچے فٹ پاتھوں پر اور بند دکانوں کے سامنے رات گزارتے ہیں یہ بات درست نہیں ہے میرے خیال سے ان تمام مزدوروں کی ہر روز چیکنگ کی جائے ان کے شناختی کارڈز چیک کیے جائیں اور ان کے کام اور کام کرنے کی جگہ کی تصدیق کی جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ دہشت گرد چور ڈکیٹ لوگ ان لوگوں میں گھس کر اپنی کاروائیاں کرتے رہیں.




تبصرہ کریں