آئیے جائزہ لیں کہ ہمیں پھل کیوں کھانے چاہئیں۔
تمام پھلوں میں کچھ ایسے کیمیاوی مادے موجود ہوتے ہیں، جو جسم میں پیدا ہونے والے زہریلے فاسد مادوں اور صحت کے لئے مضر اور غیر ضروری اجزاء کو خارج کرتے ہیں۔پھلوں میں موجود قدرتی تیزاب، ہضم کے عمل کو بڑھاتے ہیں اور ہضم کے بعد معدے میں موجود تیزاب کے مضرت اثرات دُور کرتے ہیں۔

بیماری کی حالت کمزوری یا جب جسم میں زہریلے مادے موجود ہوں، پھلوں کا استعمال خصوصیت کے ساتھ کرنا چاہیے۔جو لوگ بکثرت پھل استعمال کرتے ہیں، ان کے جسم میں جراثیم مشکل ہی سے پرورش پا سکتے ہیں۔تجربے نے ثابت کیا ہے کہ ٹائی فائیڈ و ہیضے کے جراثیم لیموں، موسمی، انناس، سیب اور گریپ فروٹ کے رس میں زندہ نہیں رہ سکتے۔پھل، معدے و آنتوں پر جراثیم کش اثرات مرتب کرتے ہیں۔پھلوں میں پائے جانے والے سائٹرک ایسڈ، ٹارٹرک ایسڈ، تیز جراثیم کش اثرات رکھتے ہیں۔

پھلوں کے استعمال سے قبض نہیں ہوتا اور خون پتلا رہتا ہے۔پھل استعمال کرنے والوں کی جلد صحت مند، مضبوط اور صاف رہتی ہے اور ان کے بال آخر تک گھنے رہتے ہیں۔
پھل ہمیشہ بغیر پکائے ہوئے اور تازہ استعمال کیے جائیں۔آگ پر پکانے یا ڈبوں میں محفوظ کر کے رکھنے سے ان کی غذائیت میں کمی آ جاتی ہے۔پھلوں میں یا ان کے رس میں شکر ملانا مناسب نہیں، البتہ شہد ملایا جا سکتا ہے۔پھلوں کا استعمال ہر عمر اور ہر علاقے کے لوگوں کے لئے یکساں طور پر مفید ثابت ہوتا ہے۔جس موسم میں جسم کو جس طرح کے غذائی اجزاء کی ضرورت ہوتی ہے، قدرت انھیں پھلوں کی شکل میں ہمارے لئے پیدا کر دیتی ہے۔