وقار مصطفیٰ

ساتویں صدی عیسوی میں منظم طبّی نظام ابھی کہاں تھا۔

ایسے میں کچی اینٹ کی دیواروں اور کھجور کے تنوں اور پتوں کی چھت کی حامل مسجدِ نبوی کے صحن میں لگے ایک سادہ سے خیمے میں ایک خاتون مریضوں کا علاج کرتیں، زخمیوں کے زخم دھوتیں، ان کی مرہم پٹی کرتیں۔ وہ مریضوں سے ایسی شفقت سے پیش آتیں کہ ان کی خدمت صرف علاج تک محدود نہ رہتی بلکہ وہ حوصلہ اور امید بھی بانٹتیں۔

اسلامی روایت میں نرسنگ کی اولین معمار یہ خاتون تھیں، اسلام قبول کرنے والی اولین خواتین میں سے ایک: رُفیدہ الاَسلمیہ۔

مصطفیٰ ایم بودرک، مطلق بی المطیری، فاطمہ ایس السولامی اور ہشام ایم الفیاض کی تحقیق ہے کہ قبیلہ خزرج کی شاخ بنی اسلم سے تعلق رکھنے والی رُفیدہ کی پیدائش تقریباً 597 عیسوی میں یثِرب کے شہر میں ہوئی۔ بعد میں یثِرب ہی مدینۃ النبی یا مدینہ کے نام سے معروف ہوا جب پیغمبراسلام نے وہاں مکہ سے ہجرت کی۔

’ایپریزنگ رُفیدہ الاَسلمیہ، فرسٹ مسلم نرس اینڈ پائنیرآف اسلامک لرننگ‘ کے عنوان تلے کی گئی اس تحقیق سے پتا چلتا ہے کہ ایک طبیب اور جراح سعد الاسلمی کی بیٹی رُفیدہ نے اپنے والد کی معاون کے طور پر طِب یعنی میڈیسن اور جراحی یعنی سرجری میں عملی مہارتیں حاصل کی تھیں۔

’ان کی نرسنگ کی خدمات کا آغاز عہدِ نبوی میں تقریباً 620 عیسوی میں اس وقت ہوا جب ان کی عمر تقریباً 23 سے 25 سال کے درمیان تھی۔‘

ہمدرد نرس، مؤثر منتظم

رُفیدہ نے مدینہ میں مسجدِ نبوی کے مقام پر ایک خیمہ ہسپتال قائم کیا تھا جہاں بیماروں کا علاج کیا جاتا تھا۔ بعد میں انھوں نے میدانِ جنگ میں زخمی سپاہیوں کے علاج کے لیے ایک خیمہ نما فیلڈ ہسپتال قائم کیا جسے ’خیمۂ رفیدہ‘ کہا جاتا تھا۔ یہ ہسپتال مدینہ میں اس مقام کے قریب قائم کیا گیا تھا جہاں آج صحابی سلمان فارسی کے نام سے منسوب مسجد واقع ہے۔

رُفیدہ الاسلمیہ کے اس خیمے کا ذکر ابن عبدالبر نے ’الاستیعاب‘ میں، ابن الاثیر نے ’اسد الغابہ‘ میں اور ابنِ حجر نے ’الاصابہ‘ میں کیا ہے۔ ابن ِسعد نے ’الطبقات‘ میں خیمے کا تذکرہ تو کیا ہے البتہ اس کا نام رُفیدہ کی بجائے کعبہ بنت سعد الاسلمیہ لکھا ہے۔