تحریر: محمد قیصر چوہان
گوہر نایاب۔۔۔مدثر اقبال بٹ
بے حسی اورنفسا نفسی کے اس دور میں بھی انسانیت کی فلاح وبہبود ، مخلوق خدا سے محبت اور انسان دوستی کیلئے بے لوث خدمات سرانجام دینے والے افراد قلیل تعداد میں ہی سہی، مگر موجود ہیں اور درحقیقت معاشرہ ان ہی نیک سیرت اور مخلص لوگوں کی وجہ سے ہی قائم و دائم ہے۔ایسے ہی افراد میں ایک نام کھاریاں سے تعلق رکھنے والے مدثر اقبال بٹ کا بھی ہے جو پاکستان کے معاشرے میں امن، انصاف،اخوت، رواداری، اعتدال پسندی ،بردباری جیسی اعلیٰ انسانی اقدار کو فروغ دینے کے مشن پر گامزن ہیں۔ 1989 میں گورنمنٹ ہائی سکول کھاریاں سے میٹرک پاس کرنے کے بعد مدثر اقبال بٹ نے 1990 میں کھاریاں مین بازار میں الماس میوزک اینڈ مووی میکنگ پوائنٹ کے نام سے دکان کھول کر اپنے کیریئر کا آغاز کیا ۔جہاںپی سی او ، فیکس مشین جیسی سہولت بھی موجود تھی جو صحافی برادری سے تعلقات کا ذریعہ بنی اور یوں 1993 سے 1998 تک وہ صحافت کے شعبے سے وابستہ رہے جہاں انہوں نے قلم کی طاقت سے کھاریاں کے مسائل کو اُجاگر کیا۔پھر1999 میں وزٹ ویزے پرناروے چلے گئے کچھ عرصہ وہاں رہنے کے بعد جرمنی شفٹ ہو گئے ایک سال کے بعد اسپین جا کر آباد ہو گئے۔ جہاں انہوں نے 16 سال مختلف شعبوں میں محنت مزدوری کی پھر وہ گوروں کے دیس انگلینڈ منتقل ہوگئے اور بلیک برن مانچسٹر میں پرندوں کی خرید و فروخت کا کاروبار شروع کیا جو آج بھی کامیابی سے جاری ہے۔گزشتہ 27 سالوں سے یورپ میں کاروبار کرنے کے باوجود وہ ہر سال اپنے وطن آ کر اپنے رشتہ داروں اوردوست احباب کے ساتھ وقت ضرور گزارتے ہیں۔ گزشتہ سال ایک صحافتی تنظیم کے سرپرست اعلیٰ کی حیثیت سے انہوں نے پورا سال پریس کلب کی مالی و دیگر ضروریات کا بھرپور خیال رکھا۔
انسانیت کے بلند ترین اوصاف میں حسن اخلاق، سچائی، عدل و انصاف، ہمدردی، محبت،اخوت ، رحمدلی ،شرم و حیا، ایثاراور باہمی احترام بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ اوصاف انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیتے ہیں، جس میں دوسروں کی مدد، برداشت، امانت داری، اور عاجزی شامل ہیں، جو ایک پرامن معاشرے کی بنیاد ہیں۔ علم اور عمل کا نچوڑ اور انسانیت کا سب سے بڑا وصف بہترین اخلاق ہے۔شرم و حیا ،اعلیٰ اخلاقیات کا اہم ترین جزو جو انسانیت کو پاکیزگی فراہم کرتا ہے۔سماجی شعور آرگنائزیشن انٹر نیشنل کے چیئرمین مدثر اقبال بٹ میں یہ تمام تر خوبیاں موجود ہیں۔ مدثر اقبال بٹ کی شخصیت میںجذبہ حب الوطنی واضح طور پر چھلکتا ہے جوشروع دن سے ہی وقت خوب سے خوب تر کی تلاش میں رواں دواں رہے، خوش اخلاقی ، پروفیشنل ازم، اچھی ، مثبت سوچ اور احساس ذمہ داری کے اصولوں کی پٹری پر چلتے ہوئے وہ اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ صوبہ پنجاب کے ضلع گجرات کی تحصیل کھاریاں میں پیدا ہونے والے مدثر اقبال بٹ حیران کن قائدانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں،وہ اپنے مضبوط حوصلوں،بے مثال کردار کے ذریعے حالات کے دھاروں کا رخ موڑ دیتے ہیں۔گوروں کے دیس برطانیہ میں رہائش پذیر ہونے کے باوجودپاکستان سے ان کی بے پناہ محبت ہر مصلحت سے بالاتر نظر آتی ہے ، دانشمند،زیرک، ذہین اور اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک مدثر اقبال بٹ کی متاثر کن اور سحر انگیز شخصیت کے کئی رنگ، کئی جہتیں، کئی زاویے اور کئی رخ ہیں جبکہ ان کی ذات کا ہر رخ، ہر زاویہ، ہر جہت اور ہر رنگ دل لبھانے والا ہے۔ بلاشبہ مدثر اقبال بٹ کا شماران گوہر نایاب شخصیات میں ہوتا ہے جو برطانیہ جیسے ترقی یافتہ ملک میں مقیم ہیں لیکن ان کا دل پاکستان کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کیلئے دھڑکتا ہے ۔ مدثر اقبال بٹ مثبت سوچ کے مالک ایک محب وطن اوورسیز پاکستانی ہیںخدمت خلق اورپاکستانی معاشرے کو سماجی برائیوں سے پاک کرنے کے مشن پر گامزن مدثر اقبال بٹ ایک ہمدرد، مخلص، دوست نواز، ملنسار، خوش اخلاق،ذہین، محنتی،بے غرض، دور اندیش ،با عمل، خوش مزاج، مستقل جدو جہد کرنے والے، ہشاش بشاش، امن پسند، خوب سے خوب تر کر کے متلاشی، دلکش شخصیت کے مالک،ذہین، اچھے منصو بہ ساز، گہرا مشاہدہ کرنے والے، اچھے منتظم، نفاست پسند، خوش لباس ، وعدے کے پابند، حساس، با اعتماد، اصول پسند، قول کے پکے، ذمہ دار، مدد گار، قوت برداشت کے مالک، مستقل مزاج، دوستوں کیلئے قربانیاں دینے والے، با ہمت، صابر و شاکر، مہذب، تعمیری ذہن کے مالک،پر عزم، باو قار، وفادار، صاف گو، رحم دل، جدت پسند، بے باک، نڈر، ہر طرح کے حالات میں ڈٹ جانے والے، اپنی اور دوسروں کی زندگی میں استحکام کے خواہش مند،ثا بت قدم، مظبوط قوت ارادی اورمقناطیسی شخصیت کے مالک انسان ہیں۔
سخی، غنی، مسیحا، انسان دوست ، انسان نواز، خادم انسانیت، یہ تمام القاب ہراُس فرد کی شناخت بن جاتے ہیں۔ جس نے اپنی جان و مال کو اللہ کی مخلوق کی خدمت کیلئے وقف کیا۔ ماضی بعید، ماضی قریب اور حال میں بہت سی ایسی شخصیات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی بلاتفریق خدمت کیلئے چنا۔خدمت خلق میں صرف مالی امدادواعانت ہی شامل نہیں بلکہ کسی کی رہنمائی کرنا،کسی کی کفالت کرنا، کسی کو تعلیم دینا، کوئی ہنر سکھانا، اچھا اور مفید مشورہ دینا،کسی کی علمی سرپرستی کرنا،مسجد اور مدرسہ قائم کرنا،نیکیوں کا حکم دینا اور برائیوں سے روکنا ، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا وغیرہ یہ تمام امور خدمت خلق میں آتے ہیں۔خدمت خلق وقت کی ضرورت بھی ہے اور بہت بڑی عبادت بھی ہے، کسی انسان کے دکھ درد کو بانٹنا حصولِ جنت کا ذریعہ ہے ،کسی زخمی دل پر محبت و شفقت کا مرہم رکھنا اللہ کی خوشنودی کا ذریعہ ہے،کسی مقروض کے ساتھ تعاون کرنا اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کو حاصل کرنے کا ایک بڑا سبب ہے، کسی بیمار کی عیادت کرنا مسلمان کا حق بھی ہے اور سنت رسول بھی ہے،کسی بھوکے کو کھانا کھلانا عظیم نیکی اور ایمان کی علامت ہے،دوسروں کے کام آنا ہی اصل زندگی ہے، اپنے لئے تو سب جیتے ہیں، کامل انسان تو وہ ہے ،جو اللہ کے بندوں اور اپنے بھائیوں کےلئے جیتا ہو۔ دوسروں کو نفع پہنچانا اسلام کی روح اور ایمان کا تقاضا ہے۔ ایک اچھے مسلمان کی یہ خوبی ہے کہ وہ ایسے کام کرتا ہے جو دوسرے انسانوں کےلئے فائدہ مند ہوں۔ اس نیکی کے ذریعے صرف لوگوں میں عزت واحترام ہی نہیں پاتا بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بھی درجات حاصل کرلیتا ہے۔ پس شفقت و محبت، رحم و کرم، خوش اخلاقی، غم خواری و غم گساری ،خیرو بھلائی، ہمدردی، عفو و درگزر، حسن سلوک، امداد و اعانت اور خدمت خلق،ایک بہترین انسان کی وہ عظیم صفات ہیں کہ جن کی بد ولت وہ دین و دنیا اور آخرت میں کامیاب اور سرخرو ہو سکتا ہے۔انسان کی سب سے بڑی کمائی سکون قلب ہے۔ جب آپ معاشرے میں آسانیاں بانٹتے ہیں اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی بے لوث خدمت کرتے ہیں تو سکون قلب کی دولت نصیب ہوتی ہے ۔سماجی شعور آرگنائزیشن انٹر نیشنل کے چیئرمین مدثر اقبال بٹ سکون قلب کی دولت سے مالا مال ہیں۔