بھارتی دہشتگردی کا نیا ڈرامہ بے نقاب ہوگیا۔ وزیردفاع نے وارننگ دی ہے کہ کولکتہ تک جا کر پھینٹی لگائیں گے۔
بھارت جعلی قسم کا فالس فلیگ کرنے کے موڈ میں ہے، بھارت اپنے بندوں یا جو پاکستانی بھارت کی قید میں ہیں ان کی لاشیں پھینک کر دہشت گردی کا ڈرامہ رچانا چاہ رہا ہے، خواجہ آصف کی میڈیا سے گفتگو
سیالکوٹ (وائس آف ایشیا ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھارت کی دہشت گردی کا نیا ڈرامہ بے نقاب کرتے ہوئے وارننگ دی ہے کہ بھارت نے ایسی کوئی حرکت کی تو کولکتہ تک جا کر پھینٹی لگائیں گے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بھارت جعلی قسم کا فالس فلیگ کرنے کے موڈ میں ہے، بھارت اپنے بندوں یا جو پاکستانی بھارت کی قید میں ہیں ان کی لاشیں پھینک کر دہشت گردی کا ڈرامہ رچانا چاہ رہا ہے، ایک سال قبل بھارت نے جس قسم کی ذلت اٹھائی ہے ساری دنیا اور ان کی عوام ان کو جوتے مار رہی ہے، بھارت پانچ گنا بڑا ملک ہے، بھارت معیشت اور فوج کے لحاظ بھی بڑا ملک ہے لیکن پاکستان سے جو حال اس کا ہوا تاریخ دان تاریخ لکھے گا، ہماری فضائیہ نے بھارت کے اندر گھس کر اسے کٹ چڑھائی ہے، اگر اس دفعہ بھارت نے کوئی حرکت کی تو کولکتہ تک جاکر پھینٹی لگائیں گے۔
خواجہ آصف کہتے ہیں کہ امریکہ ایران جنگ پر مذاکرات کا عمل جاری ہے اس عمل پر کمنٹ کرنا مناسب نہیں، پاکستان اس پراسس میں اہم کردار ادا کررہا ہے، دعا کریں اللہ مذاکرات کے اس پراسس میں ہمیں کامیابی دے، دعا ہے ہمارے خطے میں امن قائم ہو، تمام اختلافات ختم ہوں، ہم ایک نبی ﷺ کے امتی ہیں، تفرقوں سے اللہ ہمیں نجات دے، پاکستان صلح صفائی کے کیلئے جو کوششیں کر رہا ہے اللہ ہمیں کامیاب کرے۔
دوسری طرف امریکہ اور ایران کی جنگ کے خاتمے کیلئے ثالثی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر سرگرم خبروں کی ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کی جانب سے تردید کردی گئی، اس حوالے سے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مختلف ذرائع خصوصاً سوشل میڈیا پر ایسی رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں پاکستان کی جانب سے امن اور مذاکرات کے فروغ کیلئے مبینہ اقدامات کو سرکاری ذرائع سے منسوب کیا گیا ہے تاہم یہ دعوے حقیقت پر مبنی نہیں، سرکاری ذرائع سے منسوب تمام ایسے بیانات غلط ہیں اور وزارت خارجہ کی جانب سے اس نوعیت کی کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
انہوں نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ جمعہ کو وزارت خارجہ میں ہونے والی بریفنگ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا جس میں ایسے معاملات کو شامل کیا گیا جن پر نہ بات ہوئی اور نہ ہی کوئی اشارہ دیا گیا، خطے میں بڑھتی ہوئی حساس صورتحال کے پیش نظر ذمہ دارانہ صحافت اور محتاط سفارتکاری کی اشد ضرورت ہے، میڈیا پلیٹ فارمز قیاس آرائیوں سے گریز کریں اور درست و مستند معلومات کیلئے صرف سرکاری بیانات اور میڈیا ریڈ آؤٹس پر انحصار کریں، موجودہ حالات میں غیر مصدقہ خبروں کا پھیلاؤ صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، اس لیے ذمہ داری کا مظاہرہ ناگزیر ہے۔



تبصرہ کریں