:تحریر: میجر وسیم محمود بٹ (ریٹائرڈ)

سیاست سے ماورا ایک پکار: عالمی قیادت کے ضمیر کے نام

(دفاعی تجزیہ کار و کالم نگار)
یہ اب محض جغرافیائی سیاست کا معاملہ نہیں رہا۔
یہ حکمتِ عملی، اتحادوں اور طاقت کے توازن سے آگے نکل چکا ہے۔
یہ انسانیت کی بات ہے—
ایسی انسانیت جو لہولہان ہے، ملبے تلے دبی ہے اور مسلسل نظرانداز کی جا رہی ہے۔
غزہ سے لے کر لبنان، سوڈان سے ایران تک—
یہ مناظر اب اعداد و شمار نہیں رہے بلکہ ایک ایسے عالمی ضمیر کی گواہی ہیں جس نے انصاف پر خاموشی کو ترجیح دے دی ہے۔ شہر مٹی کے ڈھیر بن چکے ہیں، بچے ملبے سے لاشوں کی صورت نکالے جا رہے ہیں، ہسپتال نشانے بن رہے ہیں اور لاکھوں انسان دربدر ہیں۔ یہ جنگ نہیں—یہ ایک نسل کی امیدوں کا قتل ہے۔
اور دنیا… خاموش تماشائی ہے۔
یہ بات پوری وضاحت سے کہنی ہوگی:
طاقت اگر اخلاق سے خالی ہو تو وہ قیادت نہیں،
مہذب چہرے میں چھپی درندگی ہوتی ہے۔
دنیا کے طاقتور ایوانوں میں بیٹھے فیصلے کرنے والوں کے نام—
یہ وقت تاریخ کا ایک عام لمحہ نہیں، بلکہ آپ کے ضمیر کا امتحان ہے۔ اور تاریخ ان لوگوں کو کبھی معاف نہیں کرتی جو ایسے امتحان میں ناکام ہوتے ہیں۔
آخر کون سی دلیل باقی رہ جاتی ہے جب:
بچوں کو “ضمنی نقصان” کہا جائے؟
ہسپتالوں کو “فوجی ہدف” بنایا جائے؟
پوری آبادی کو سزا دی جائے؟
کوئی نظریہ، کوئی بیانیہ، کوئی جواز معصوم خون کے داغ کو نہیں دھو سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ جاری ظلم—خصوصاً اسرائیلی اقدامات—نے پورے خطے کو ایک انسانی المیے کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ یہ اب محض جنگ نہیں رہی،
یہ تباہی کو معمول بنانے کا عمل ہے۔
اور خاموشی—چاہے وہ مصلحت ہو یا حکمت—
درحقیقت شراکتِ جرم ہے۔
اہلِ اقتدار کے نام پیغام
آپ امن کی بات کرتے ہیں،
استحکام کی بات کرتے ہیں،
نظام کی بات کرتے ہیں۔
مگر بتائیے—
وہ کون سا استحکام ہے جو بچوں کی قبروں پر کھڑا ہو؟
وہ کون سا نظام ہے جس میں انصاف یکساں نہ ہو؟
وہ کون سی سلامتی ہے جس میں ظلم پالیسی بن جائے؟
حقیقت تلخ ہے مگر ناقابلِ تردید:
آپ دنیا کا کنٹرول نہیں کھو رہے—
آپ اس کا اخلاقی مرکز کھو رہے ہیں۔
فوری اقدامات کی ضرورت
دنیا کو بیانات نہیں، فیصلے درکار ہیں:
فوری جنگ بندی
بلا رکاوٹ انسانی امداد
بین الاقوامی قانون کے تحت جوابدہی
طاقت کے بجائے مکالمے کی واپسی
اس کے سوا ہر چیز سفارت کاری نہیں—
محض تاخیر ہے، اور وہ بھی انسانی جانوں کی قیمت پر۔
آخری بات
تاریخ طاقتوروں کو نہیں، انصاف کرنے والوں کو یاد رکھتی ہے۔
ایک وقت آتا ہے جب غیر جانبداری جرم بن جاتی ہے
اور خاموشی غداری۔
وہ وقت آ چکا ہے۔
اگر اقتدار کے ایوانوں میں ابھی بھی کوئی ضمیر زندہ ہے
تو اسے جاگنا ہوگا—
اس سے پہلے کہ مزید شہر اجڑ جائیں،
مزید مائیں اپنے بچوں کو دفن کریں،
اور انسانیت خود ایک لاش بن جائے۔
کیونکہ آخر میں—
جنگیں صرف ملکوں کو تباہ نہیں کرتیں،
وہ دنیا کی روح کو بھی زخمی کر دیتی ہیں۔