ضمیر آفاقی
عوام کی آواز
پہچان کی پہچان ماں بچہ اور اس کی صحت

ہمارے معاشرے میں فلاحی کاموں کی روایت نئی نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہر دور میں چند ہی ادارے ایسے ہوتے ہیں جو خاموشی سے معاشرے کی بنیادی ضرورتوں کو سمجھتے ہوئے مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرتے رہتے ہیں۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں صحت، تعلیم اور بنیادی سہولتوں کی کمی ایک بڑا چیلنج ہے، وہاں ایسی تنظیمیں امید کی کرن بن کر ابھرتی ہیں۔ انہی اداروں میں ایک نام پہچان کا بھی ہے جو گزشتہ بیس برسوں سے پاکستان میں خصوصاً ماؤں اور بچوں کی صحت و بہبود کے لیے مسلسل کام کر رہا ہے۔
پچھلے دو دہائیوں کے دوران پہچان نے جو خدمات انجام دی ہیں وہ محض چند منصوبوں یا سرگرمیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی وژن کا حصہ ہیں۔ پاکستان میں خاص طور پر پسماندہ علاقوں میں ماؤں اور بچوں کی صحت ہمیشہ ایک سنگین مسئلہ رہی ہے۔ غذائی کمی، بنیادی طبی سہولتوں کا فقدان اور صحت سے متعلق آگاہی کی کمی نے کئی خاندانوں کو مشکلات میں مبتلا رکھا ہے۔ ایسے ماحول میں پہچان نے نہ صرف مسئلے کی نشاندہی کی بلکہ اس کے عملی حل کے لیے میدان میں اتر کر ایسے اقدامات کیے جن کے مثبت اثرات ہزاروں خاندانوں تک پہنچے۔
پہچان نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں متعدد چائلڈ پروٹیکشن یونٹس قائم کیے ہیں، جن کا مقصد بچوں کو ایک محفوظ اور صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔ بچوں کی صحت اور حفاظت دراصل کسی بھی معاشرے کے مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے۔ جب بچے جسمانی اور ذہنی طور پر محفوظ ہوں گے تو وہی آگے چل کر معاشرے کے مفید شہری بنیں گے۔ اسی سوچ کے تحت پہچان نے ان یونٹس کے ذریعے نہ صرف بچوں کو تحفظ فراہم کیا بلکہ والدین میں بھی شعور بیدار کرنے کی کوشش کی کہ بچے کی بہتر پرورش کس طرح کی جا سکتی ہے۔
اسی طرح پسماندہ کمیونٹیز میں پہلی مرتبہ ماں اور بچے کے لیے صحت فروغ مراکز کا قیام ایک ایسا قدم ہے جس نے ان علاقوں کے لوگوں کو بنیادی طبی سہولتوں سے روشناس کرایا۔ ہمارے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں اکثر خواتین کو دورانِ حمل اور بچے کی پیدائش کے بعد مناسب طبی سہولتیں میسر نہیں ہوتیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف ماؤں بلکہ نومولود بچوں کی صحت بھی خطرات سے دوچار ہو جاتی ہے۔ پہچان کے قائم کردہ مراکز نے اس خلا کو پُر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان مراکز کے ذریعے ہزاروں خواتین کو بروقت طبی مشورہ، علاج اور ضروری سہولتیں فراہم کی گئیں، جس کے باعث ماؤں اور بچوں کی شرحِ اموات اور بیماریوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
فلاحی کاموں کی اصل پہچان یہی ہوتی ہے کہ وہ معاشرے کے ان طبقات تک پہنچیں جو عموماً ترقی کے عمل سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ پہچان کی سرگرمیوں کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس نے صرف علاج معالجے تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ صحت کے بنیادی اصولوں کو عام کرنے کے لیے آگاہی مہمات بھی چلائیں۔ جب کسی کمیونٹی کو یہ شعور ملتا ہے کہ صحت مند زندگی کے لیے کن احتیاطی تدابیر کی ضرورت ہے تو وہ خود بھی اپنے مسائل کے حل میں فعال کردار ادا کرنے لگتی ہے۔
پہچان کا ایک اور اہم کارنامہ پاکستان میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ “ایک ہزار دن” کے تصور کو متعارف کرانا ہے۔ دنیا بھر میں طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ بچے کی زندگی کے ابتدائی ایک ہزار دن، یعنی حمل کے آغاز سے لے کر بچے کی عمر کے دوسرے سال تک کا عرصہ، انسانی صحت اور نشوونما کے لیے نہایت اہم ہوتا ہے۔ یہی وہ دور ہوتا ہے جب بچے کے جسم اور دماغ کی بنیاد مضبوط ہوتی ہے۔ اگر اس عرصے میں مناسب غذائیت، دیکھ بھال اور طبی توجہ فراہم کی جائے تو ایک صحت مند اور مضبوط نسل کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ پہچان نے اس تصور کو پاکستان میں متعارف کرا کر نہ صرف طبی حلقوں بلکہ عام لوگوں میں بھی اس اہم مسئلے کے بارے میں شعور اجاگر کیا ہے۔
اس وقت پہچان کے خوشحال خاندان پروگرام کے تحت سات مختلف مقامات پر صحت کے مراکز فعال ہیں جبکہ مزید چار مراکز زیر تعمیر ہیں۔ یہ مراکز پسماندہ کمیونٹیز کے لیے امید کی علامت بن چکے ہیں۔ یہاں نہ صرف مفت علاج اور ادویات فراہم کی جاتی ہیں بلکہ صاف پانی اور صحت سے متعلق مشاورت بھی دی جاتی ہے۔ پاکستان میں صاف پانی کی فراہمی خود ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ آلودہ پانی متعدد بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔ جب کسی کمیونٹی کو صاف پانی اور بنیادی طبی سہولتیں ایک ہی جگہ میسر آ جائیں تو اس کے مثبت اثرات پوری آبادی پر مرتب ہوتے ہیں۔
پہچان کی سرگرمیاں صرف صحت تک محدود نہیں بلکہ تعلیم کے میدان میں بھی اس کا کردار قابلِ ذکر ہے۔ علم پاور لرننگ اسکول کے ذریعے یہ ادارہ نئی نسل کو تعلیم اور ہنر کے مواقع فراہم کر رہا ہے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ تعلیم ہی وہ راستہ ہے جو غربت اور محرومی کے دائرے کو توڑ سکتا ہے۔ جب کسی بچے کو معیاری تعلیم کے ساتھ ہنر سیکھنے کا موقع ملتا ہے تو وہ نہ صرف اپنا مستقبل بہتر بنا سکتا ہے بلکہ اپنے خاندان اور معاشرے کی ترقی میں بھی حصہ ڈال سکتا ہے۔
علم پاور لرننگ اسکول میں بچوں کو مفت تعلیم فراہم کی جاتی ہے اور ساتھ ہی انہیں مختلف عملی ہنر بھی سکھائے جاتے ہیں۔ اس طرح یہ ادارہ صرف نصابی تعلیم تک محدود نہیں بلکہ بچوں کو زندگی کے عملی تقاضوں کے لیے بھی تیار کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے ایک باشعور، خود اعتماد اور باصلاحیت نسل کی تیاری ممکن ہو سکتی ہے۔
اگر مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پہچان کے تمام منصوبوں کا بنیادی مقصد معاشرے میں دیرپا مثبت تبدیلی پیدا کرنا ہے۔ صحت، تعلیم اور سماجی سہولتوں کو ایک ساتھ فراہم کرنا دراصل ایک جامع حکمت عملی ہے۔ جب کسی کمیونٹی کو یہ تینوں بنیادی ستون میسر آ جائیں تو وہ آہستہ آہستہ خود کفیل اور مضبوط بننے لگتی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے ایک صحت مند اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں ریاستی وسائل اکثر محدود ہوتے ہیں، وہاں فلاحی اداروں کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے۔ تاہم اس حقیقت کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ کسی بھی فلاحی منصوبے کی کامیابی صرف ایک ادارے کی کوششوں سے ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے لیے معاشرے کے تمام طبقات، مخیر حضرات، سرکاری اداروں اور عام شہریوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا پڑتا ہے۔ جب اجتماعی طور پر کوشش کی جائے تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی حل کیا جا سکتا ہے۔
پہچان کی دو دہائیوں پر مشتمل جدوجہد اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور مقصد انسانیت کی خدمت ہو تو محدود وسائل کے باوجود بھی بڑے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ ہزاروں خاندانوں تک صحت اور امید کی روشنی پہنچانا یقیناً ایک بڑی کامیابی ہے۔ ایسے ادارے نہ صرف معاشرے کی خدمت کرتے ہیں بلکہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتے ہیں کہ حقیقی ترقی صرف عمارتیں بنانے سے نہیں بلکہ انسانوں کی زندگی بہتر بنانے سے حاصل ہوتی ہے۔
آج جب ہم پاکستان کے سماجی اور معاشی مسائل پر غور کرتے ہیں تو یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اگر صحت مند مائیں اور محفوظ بچے ہوں گے تو ہی ایک مضبوط قوم کی تشکیل ممکن ہے۔ پہچان جیسے ادارے اسی مقصد کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں۔ یہ صرف زندگیاں بچانے کا کام نہیں کر رہے بلکہ امید، وقار اور بہتر مستقبل کی بنیاد بھی رکھ رہے ہیں۔ یہی وہ کوششیں ہیں جو آنے والے برسوں میں ایک صحت مند اور بااختیار معاشرے کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔