Voice of Asia News

بیشتر افراد کو آنکھ پھڑکنے کی شکایت کرتے ہوئے دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں

لاہور(خصوصی رپورٹ وائس آف ایشیا )ہم اکثر اوقات بیشتر افراد کو آنکھ پھڑکنے کی شکایت کرتے ہوئے دیکھتے اور سنتے رہتے ہیں۔آنکھ کے پھڑکنے سے متعلق اگرچہ مختلف لوگوں کی رائے مختلف ہوتی ہے۔تاہم ماہرین صحت کے مطابق آنکھ پھڑکنا کوئی خطرے والی بات نہیں ہے۔بران یونیورسٹی کے الپرٹ میڈیکل اسکول میں شعبہ عینیات کے اسسٹنٹ پروفیسر فلپ ریزوٹو ایم ڈی کا کہنا ہے کہ جب آنکھ پھڑکتی ہے تو عام طور پرکسی قسم کی درد یا شدیدتکلیف کا سبب نہیں بنتی،تاہم خصوصا کام کے وقت پریشانی کا باعث بنتی ہے۔انکا کہنا ہے کہ آنکھ کے پھڑکنے سے آنکھ کو کسی قسم کے نقصان کا کوئی ڈر نہیں ہوتا۔پروفیسر فلپ کا مزید کہنا ہے کہ آنکھ عام طور پر کشیدگی،تھکاوٹ ،پپوٹے یا کارنیا کی جلن ،کیفین اور شراب کی ذیادہ مقدار استعما ل کرنے کی وجہ سے پھڑکتی ہے۔انکا یہ بھی کہنا ہے کی آنکھ پھڑکنے کا عمل تقریبا ایک ہفتے تک جاری رہنے کے بعد خود بخود ٹھیک ہو جا تا ہے۔ڈاکٹر ریزوٹو کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مریض ضرورت سے ذیادہ پریشانی میں مبتلا ہو تو وہ اس کی آنکھ کا معائنہ کرنے کے ساتھ آنکھ کی صفائی کرتے ہیں اور کبھی کبھار آنکھ میں ڈالنے کے لئے قطرے وغیرہ بھی دے دیتے ہیں۔علاوہ ازیں انھیں چائے ،کافی اور شراب کم مقدار میں استعمال کرنے اور ذیادہ سونے کا مشورہ دیتے ہیں۔تاہم اگر کبھی مریض کی دونوں آنکھیں غیر معمولی طور ایک ساتھ پھڑکنے لگیں اور شدت کے باعث بند ہوجائیں تو فورا ماہر امراض چشم سے رابطہ قائم کریں۔ماہرین امراض چشم کا کہنا ہے کہ عام طور پر ایسی صورتحال سے ۴۰سے۶۰کی عمر کے افراد دوچار ہوتے ہیں ،تاہم یہ عام بیماری نہیں ہے۔انکا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر سال تقریبا۲۰۰۰ افراد اس مرض میں مبتلا ہوتے لیکن ابھی تک اس کا کوئی علاج دریافت نہیںکیا جاسکا۔تاہم بوٹوکس انجیکشنز کے استعمال سے آنکھ کی پھڑپھڑاہٹ کو ختم کیا جا سکتا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے