Breaking News
Voice of Asia News

اُترپردیش میں خواتین کی حفاظت کے لیے سیل فون میں خصوصی بٹن متعارف کرانے کا منصوبہ

یو پی (وائس آف ایشیا )ہندوستان میں خواتین کی عصمت دری کے واقعات معمول بن چکے ہیں۔ تمام تر حکومتی کوششوں اور اس سلسلے میں چلائی جانے والی آگاہی مہمات کے باوجود جنسی زیادتی کے واقعات کی شرح بڑھتی چلی جارہی ہے۔بھارت کے نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے مطابق 2015ء میں 34651 خواتین جنسی درندوں کی ہوس کا نشانہ بنیں۔ 2016ء میں یہ تعداد بڑھ کر 38947 ہوگئی۔ یعنی یومیہ 106 عورتوں کو عصمت سے محروم کیا گیا۔ یہ وہ واقعات ہیں جن کی اطلاع تھانوں میں پہنچی اور مقدمات کا اندراج ہوا۔ یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے کیوں کہ بدنامی کے خوف سے ایسے بہت سے واقعات دبا لیے جاتے ہیں۔ہندوستان کا دارالحکومت عالمی ذرائع ابلاغ میں’ ریپ کیپیٹل آف دی ورلڈ‘ یعنی خواتین کی آبروریزی کا عالمی دارالحکومت کہلانے لگا ہے۔ پچھلے پانچ سال کے دوران دہلی میں خواتین کی عصمت دری کے واقعات 277 فی صد بڑھ گئے ہیں۔ 2011ء میں دہلی میں جنسی زیادتی کے 511 واقعات رپورٹ ہوئے تھے۔ 2016ء میں یہ تعداد 2155 تک پہنچ چکی تھی۔ بھارتی روزنامے میں شایع شدہ رپورٹ کے مطابق گذشتہ برس دہلی میں یومیہ پانچ خواتین کو جنسی ہوس کا نشانہ بنایا گیا۔ یوں ہندوستان اور خاص طور سے دہلی میں عورتیں خوف کی فضا میں جینے پر مجبور ہیں۔خواتین کی حفاظت کے لیے اترپردیش کی حکومت چند روز کے بعد ایک منصوبہ شروع کررہی ہے۔اس منصوبے کے تحت موبائل فون پر ایک بٹن ہوگا۔ خواتین خطرہ محسوس کرتے ہی جب یہ بٹن دبائیں گی تو لمحوں میں اطلاع ہنگامی مدد کے لیے مخصوص نمبر 112 پر چلی جائے گی۔ اسی کے ساتھ اس علاقے کی پولیس کو بھی اطلاع ہوجائے گی۔ علاوہ ازیں موبائل فون کی صارف کے اہل خانہ کے زیراستعمال نمبروں اور اس علاقے کے پچیس رضاکاروں کے نمبر پر بھی ایس ایم ایس چلا جائے گا۔ یوں اس عورت کی مدد کے لیے فوری طور پر کوئی نہ کوئی پہنچ جائے گا۔

اس منصوبے کی تجویز 2016ء میں سامنے آئی تھی جب محکمہ مواصلات نے حکم جاری کیا تھا کہ آئندہ برس ملک میں فروخت ہونے والے تمام موبائل فون سیٹ میں    ہونا چاہیے اور 2018ء تک تمام سیل فون سیٹ جی پی ایس ٹیکنالوجی کے حامل ہونے چاہییں۔ روایتی سیل فون کے علاوہ اسمارٹ فون کی اسکرین پر بھی یہ بٹن فراہم کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے جسے چُھوتے ہی کسی مشکل صورت حال سے دوچار عورت کو ہنگامی امداد کے عملے، پولیس، اہل خانہ یا اہل علاقہ میں سے کسی کے پہنچنے کی امید پیدا ہوجاتی۔یو پی کی حکومت کے اس منصوبے کو جہاں سراہا جارہا ہے وہیں اس کی افادیت پر سوال بھی اٹھائے جارہے ہیں۔ ماضی میں ٹیکنالوجی کی مدد سے خواتین کی حفاظت بہتر بنانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے تھے جو ناکامی سے دوچار ہوئے۔ مثال کے طور پر گذشتہ برس دہلی میں یہی منصوبہ شروع کیا گیا تھا مگر لوگوں نے اسے مذاق بنادیا تھا۔ انھوں نے پولیس کو تنگ کرنے کی خاطر بے سبب ہنگامی مدد کے حصول کے لیے مخصوص بٹن دبانا شروع کردیا تھا۔

اسی طرح 2016ء میں انڈین ریلوے نے خواتین کے لیے مخصوص کمپارٹمنٹس میں اسی مقصد سے بٹن نصب کیے تھے، جنھیں دباتے ہی اس علاقے کے تھانے میں الارم بجنے لگتا۔ مگر ایک ماہ کے دوران ایک ہزار بار ان بٹنوں کا غلط استعمال کیا گیا جس کے بعد ریلوے نے یہ سہولت ختم کردی۔ دہلی میں ہنگامی مدد کے لیے مفت ایس ایم ایس سروس شروع کی گئی تھی۔ اس کا بھی یہی حشر ہوا۔

ماہرین کہتے ہیں یوپی کی حکومت کے اس اقدام کے مفید ہونے میں کوئی شبہ نہیں مگر اسے عملی طور پر کارآمد بنانے کے لیے اسے کئی کام کرنے ہوں گے۔ پہلی بات یہ کہ اس سروس کے غلط استعمال پر جرمانے کی سزا مقرر کی جائے۔ دوسرا اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ عصمت دری کے بیشتر واقعات گائوں دیہات میں پیش آتے ہیں جہاں خواتین اور لڑکیوں کے پاس موبائل فون نہیں اور وہ اس کے استعمال سے بھی ناواقف ہیں۔ انھیں موبائل فون فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اس کے استعمال کی تربیت بھی دی جائے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ جنسی زیادتی کے واقعات کی روک تھام کے لیے قانونی نظام میں موجود سقم دور کیے جائیں جن کی وجہ سے مجرموں کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ ہندوستان میں جنسی زیادتی کے مقدمات میں ملوث ملزمان کو سزا ملنے کا تناسب ایک چوتھائی ہے، یعنی محض 25 فی صد ملزمان کو سزا مل پاتی ہے

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •