Voice of Asia News

فالج کے علاج میں معاون ایک نئی انقلابی ٹیکنالوجی تیار، ماہرین

واشنگٹن(وائس آف ایشیا)امریکی ماہرین صحت نے کہا ہے کہ امیجنگ سسٹم کے تحت بہت درستگی کے ساتھ فالج کے مقام کا پتا لگایا جاسکتا ہے۔اسٹینفرڈ یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے فالج کی درست نشاندہی اور علاج میں مددگار ایک ٹیکنالوجی تیار کی ہے جس سے فالج کے شکار لاکھوں مریض استفادہ کرسکیں گے۔ماہرین کے مطابق اگر کوئی مریض سوتے میں فالج کا شکار ہوجائے یا پھر فالج کے بعد طبی مدد میں دیر ہوجائے تو بہت دیر ہوجاتی ہے کیونکہ فالج پڑنے کے بعد ابتدائی چھ گھنٹے بہت اہم ہوتے ہیں۔یونیورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر گریگری ایلبرز کہتے ہیں کہ ان کی ٹیم کی تیارکردہ نئی ٹیکنالوجی چھ گھنٹے کے اندر اندر علاج کی اس ضرورت کے باوجود فالج کے مزید خطرات دور کرسکتی ہے۔ انہوں نے کمپیوٹر ٹوموگرافی (سی ٹی) امیجنگ سسٹم کی بنیاد پر دماغی تصویرنگاری کی ایک ٹیکنالوجی تیار کی ہے جسے ’’ریپڈ‘‘ کا نام دیا گیا ہے اور دکھائی دینے پر ڈاکٹر دماغ میں تار ڈال کر وہاں موجود خون کے لوتھڑے کو نکال باہر کرسکتے ہیں۔3ڈاکٹر ایلبرز کے بقول اس عمل کو کئی مریضوں پر کامیابی سے آزمایا گیا اور اس میں سے نصف مریضوں کے دماغ میں خون کے لوتھڑے ختم کردیئے گئے ۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے