Voice of Asia News

برتن ہماری صحت کے لئے کتنے صحیح ہیں یا غلط

لاہور(وائس آف ایشیا کی خصوصی رپورٹ)گھروں میں کھانا بنانے کے لئے جن برتنوں کا ہم استعمال کرتے ہیں ان کو استعمال میں لانے سے پہلے کبھی ہماری دھیان اس بات پر جاتاہے کہ یہ برتن ہماری صحت کے لئے کتنے صحیح ہیں یا غلط۔ کھانے کی غذائیت میں یہ بات بھی اہمیت رکھتی ہے کہ آخر انہیں کس برتن میں بنایا جا رہا ہے۔ دراصل کھانا پکانے کے دوران برتن کے کچھ جز بھی کھانے میں مل جاتے ہیں۔ انہی برتنوں کے جز ہمارے جسم میں پہنچ کر نقصان بھی پہنچاتے ہیں۔ اس لئے برتنوں کے انتخاب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہو جاتا ہے کہ کون سا برتن ہماری صحت کے لئے ٹھیک ہے۔ آج کل مارکیٹ میں اسٹین لیس اسٹیل، المونیم اور نان اسٹک برتن ہی رائج ہیں۔ دیکھنے اور اٹھانے میں بھاری، مہنگے اور آسانی سے نہ گھسنے والے کاسٹ لوہے کے برتن کھانے پکانے کے لیے سب سے اچھے مانے جاتے ہیں۔ لوہے کے برتن میں کھانا بنانے سے کھانے میں آئرن کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ جو صحت کے لئے ضروری ہے۔ المونیم کے برتن ہلکے، مضبوط اور گڈ کنڈکٹر ہوتے ہیں۔ المونیم بہت ملائم اور ری ایکٹیوہوتا ہے۔ اس لئے نمک اور تیزابیت والی چیزوں کے رابطے میں آتے ہی اس میں گھلنے لگتا ہے۔ خاص کر ٹماٹر ابالنے، املی، سرکہ یا کسی دیگر تیزابیت چالی چیز کے بنانے کے معاملے میں یہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس سے کھانے کا ذائقہ متاثر ہوتا ہے۔ کھانے میں المونیم ہونا تشویش کی بات ہے۔ یہ کھانے میں آئرن اور کیلشیم کو جذب لیتا ہے یعنی یہ پیٹ میں پہنچ کر جسم سے آئرن اور کیلشیم کو سوکھنا شروع کر دیتا ہے۔ نتیجہ میں ہڈیاں کمزور ہو سکتی ہے۔ جسم میں المونیم کی مقدار زیادہ ہو جائے تو اس کا اثر گردے پر بھی پڑتا ہے۔ المونیم کے برتن میں چائے، ٹماٹر پیوری ، سانبھر اور چٹنی وغیرہ بنانے سے بچنا چاہئے۔ کاپر اور پیتل کے برتن ہیٹ کنڈکٹر ہوتے ہیں۔ ان کا استعمال پہلے زیادہ ہوتا تھا۔ یہ ایسڈ اور سالٹ کے ساتھ ری ایکشن کرتے ہیں۔ کھانے میں موجود آرگینک ایسڈ برتنوں کے ساتھ ری ایکشن کرکے زیادہ کاپر پیدا کرتا ہے جو جسم کے لئے نقصان دہ ہے۔ اس سے فوڈ پوائزنگ بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے ان کی ٹن میں کوٹنگ ضروری ہے۔ اسٹین لیس اسٹیل کے برتن اچھے محفوظ اور سستے ہوتے ہیں۔ انہیں صاف کرنا بھی بہت آسان ہوتا ہے۔ اسٹین لیس اسٹیل دراصل اچھے لوہے میں کاربن، کرومیم اور نکیل کے ملانے سے بنتا ہے۔ اس میں نہ تو لوہے کی طرح جنگ لگتا ہے اور نہ ہی پیتل کی طرح یہ تیزاب سے ری ایکشن کرتا ہے۔ اس کی صرف ایک کمی یہ ہے کہ اس سے بنے برتن جلد گرم ہو جاتے ہیں۔ اس لئے انہیں خریدتے وقت ایسے برتن لیں جن کے نیچے کاپر کی لیئر لگی ہو۔ لیکن ایسے برتنوں کی صفائی ستھرائی میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے