Voice of Asia News

ناریل کا پانی دوران خون کو بہتر بناتاہے

لاہور(وائس آف ایشیا کی خصوصی رپورٹ)سبزرنگ کا کچا ناریل جسے’’ڈاب‘‘ بھی کہتے ہیں کہ پانی سے بھرا ہوتا ہے اس میں گودا گری بالائی کی طرح جمی ہوتی ہے اس ڈاب کا پانی بے شمار طبی خواص کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ بعض ماہرین اسے عام طور پر دستیاب دودھ غذائیت بخش قراردیتے ہیں کیونکہ اس میں دودھ کے برعکس کوئی کولیسٹرول نہیں ہوتااور چکنائی بھی بہت کمہوتی ہے۔ کچے ناریل کی بے شمار خوبیوں میں سے چند حسب ذیل ہیں۔ناریل کا پانی دوران خون کو بہتر بناتاہے اور اس کے ذریعہ غذا ہضم کرنے والی نالی کی صفائی بہتر طور پر ہوجاتی ہے۔
یہ قدرتی پانی ہمارے جسم کی بیماری کے خلاف لڑنے والی نظام کو زیادہ طاقتور بناتاہے جس کے نتیجے میں جسم مختلف اقسام کے وائر کا مقابلہ کے مقابل ہوجاتا ہے۔جن لوگوں کے گردے میں پتھری ہے انہیں اپنی غذا ناریل کا پانی شامل کرنا چاہیے اگر باقاعدگی سے ناریل کا پانی پیا جائے تو پتھریاں ٹوٹ کر خارج ہو سکتی ہیں۔اگر پیشاب میں جلن محسوس ہوتی ہے یا پیشاب کی میں کائی انفکیشن ہے ناریل کے ایک گلاب پانی سے فوری افاقہ ہوسکتا ہے۔ ناریل کے پانی میں دیگر چیزوں کے علاوہ الیکٹرولائٹس میں پوٹا شیم کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ پوٹا شیم بلڈپریشر کو معمول کے مطابق رکھنے میں مددگار ہوتا ہے اور اس سے دل کی کار کردگی بہتر ہوتی ہے۔ناریل کا پانی تازہ سنگترے کے جوس سے بھی بہتر سمجھا جاتا ہے کیوں کہ اس میں حرارے کم ہوتے ہیں۔بچوں کیلئے ڈبے میں محفوظ دودھ سے اسے بہترین سمجھا جاتا ہے کہ ناریل کے پانی میں Lauric Acidبھی ہوتا ہے جو ماں کے دودھ میں پایا جاتا ہے۔ناریل کا پانی قدرتی طور پرصاف و شفاف ہوتا ہے یہ پانی ناریل کے ریشوں اور چھلکوں سے چھن کر اندرونی خول میں جمع ہوتاہے۔ ناریل کے پانی کو Isotnicمشروب قرار دیا جاتاہے یعنی اس میں نمک کی مقادر انتی خفیف ہوتی ہے کہ اس خون کے سرخ کو کوئی نقصان نہیں ہوتا اس کی اسی خوبی کی بناء پر اسے’’یونیورسل ڈونر‘‘ بھی کہا جاتاہے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران بحر الکلام کے علاقے میں اتحادی اور جاپانی افواج کے جن زخمیوں کو پلازمہ(حون میں شامل ایک بے رنگ مادہ)کی ضرورت ہوتی تھی ان کی رگوں کے راستے ناریل کا پانی براہ راست جسم میں داخل کیا جاتا تھا جس سے ان کی جان بچ جاتی تھی۔
۱۰۰ ملی لیٹر ناریل کے پانی میں پوٹا شیم کی مقدار تقریباً ۲۹۴ ملی گرام ہوتی ہے جو بہت اسے اسپورٹس اور انرجی ڈرنکس کے مقابلے میں زیادہ ہے جن میں اس منزل کی مقدار تقریباً ۱۱۷ ملی گرام ہوتی ہے۔ ہوٹا شیم بلڈ پریشر بلڈ شوگر لیول اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کے علاوہ پٹھے دماغ اور گردے کی کار کردگی کو بہتر بناتاہے۔ اس قدرتی پانی میں سوڈیم کی مقدار۲۵ ملی گرام کم ہوتی ہے جبکہ اسپورٹس ڈرنکس میں یہ ۴۱ ملی گرام ہوتی ہے۔ سوڈیم جس میں پانی کی مقدار کو حسب ضرورت رکھتا ہے جس سے دماغ اور پٹھے معمول کے مطابق کام کرتے ہیں۔ ۱۰۰ ملی لیٹر ناریل کے پانی میں قدرتی مٹھاس پانچ ملی گرام ہوتی جبکہ اسپورٹس اور انرجی ڈرنکس میں تبدیلی شدہ شکر کی مقدار دس سے ۲۵ ملی گرام تک ہوسکتی ہے۔
کوکونٹ واٹر میں کلورائیڈ۱۱۸ ملی گرام تک ہوتا ہے جبکہ اسپورٹس ڈرنکس میںاس کی مقدار ۳۹ ملی گرام ہوتی ہے۔ کل رائیڈ کی کمی پٹھوں کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت گھٹ جاتی ہے جس سے سانس لینے اور نکلنے میںدشواری پیش آتی ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے