Voice of Asia News

ایک گرم چائے کی پیالی دوسروں کو کس طرح اپنا ہم خیال بناتی ہے

لاہور(وائس آف ایشیا)مطالعاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہے کہ دماغ کا حصہ (انسولرکورٹیکس)جو جسمانی حدت محسوس کرتا ہے وہی حصہ کسی شخص کے لیے متاثر کن جذبات پیدا ہونیکی صورت میں بھی متحرک ہوتا ہے لوگوں سے راہ و رسم بڑھانے کے لیے چائے کی پیش کش کرنا ایک ایسی روایت ہے جو برسوں سے یونہی چلی آرہی ہے۔لیکن، ایک گرم چائے کی پیالی دوسروں کو کس طرح اپنا ہم خیال بناتی ہے، اس کے متعلق سائنسی توجیہ سامنے آئی ہے۔ماہرین کہتے ہیں کہ آپ کا کسی شخص کے ہاتھ میں گرم مشروب تھمانا، انھیں آپ کیساتھ تعاون کرنیکی طرف مائل کر سکتا ہے۔ماہرین نفسیات کہتے ہیں کہ اگر کسی سے دوستی بڑھانا چاہتے ہیں تو اس کی ابتدا ٹھنڈے مشروب سے نہیں، بلکہ گرم چائے کی پیالی کے ساتھ کیجئے۔ کیونکہ، چائے کی پیالی کی یہ گرماہٹ ہاتھ سینکل کر سیدھا دل کو گرما سکتی ہے۔ماہرین نفسیات نے سرد ہتھیلی کے پیچھے چھپے نرم دل (کولڈ ہینڈ وارم ہارٹ ) کی کہاوت سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ سچائی اس کے برعکس ہے، کیونکہ ,ہتھیلیوں میں حدت محسوس کرنے سے دراصل آپ کا دل دوسروں کے لیے نرم پڑتا ہے۔ایک تجربے کے دوران معلوم ہوا کہ دوسروں کے ساتھ تعاون کی سطح میں اس وقت ڈرامائی تبدیلی واقع ہوئی جب ایک سادہ سے عمل کے دوران لوگوں کے ہاتھ میں گرم چیزتھمائی گئی۔ گرم چیز تھامنے والوں میں دوسرے لوگوں سے تعاون کرنے کیامکانات زیادہ نمایاں تھے، ان لوگوں کی نسبت جنھوں نے ہاتھ میں ٹھنڈی چیز تھام رکھی تھی۔ایم آرآئی اسکین کے نتیجے سے انکشاف ہوا کہ دماغ کا حصہ (انسولرکورٹیکس)جو جسمانی حدت محسوس کرتا ہے وہی حصہ کسی شخص کے لییمتاثر کن جذبات پیدا ہونیکی صورت میں بھی متحرک ہوتا ہے۔محقیقین نے مطالعہ میں شامل 30 رضاکار جوڑوں سے ایک کھیل کھیلنے کے لیے کہا جس میں شرکاء کی ایک دوسرے سیتعاون کرنے کی خواہش کی پیمائش کی گئی۔اس کھیل میں کارکردگی دکھانے سے قبل 15جوڑوں کو ہاتھ میں ہاٹ جیل gel ہینڈ وارمر کا پیکٹ تھامنے کیلیے کہا گیا جس سیان کی ہتھلیوں میں اچھی گرماہٹ پیدا ہوئی، بقیہ جوڑوں سے اسی جیل ہینڈ وارمر کو نسبتاً ٹھنڈے درجہ حرارت کے ساتھ ہاتھ میں تھمانے کے لییکہا گیا۔ کھیل کیآغازمیں شرکاء جوڑوں سے کارڈ دکھانے کے لیے کہا گیا جس کے لیے وہ ایک دوسرے سے تعاون بھی کرسکتے تھییا پھر اپنی مرضی کے مطابق کھیل سکتے تھے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے