Voice of Asia News

کیلشیم کی گولیوں کا استعمال ہڈیوں کی بوسیدگی کا علاج نہیں ہے

لاہور(وائس آف ایشیا)اس زعم میںنہ رہئے کہ آپ جوان ہیں ہڈیوں کی کمزوری سے بھلا کیوں ڈریں ؟نہیں ان کے سلسلے میں چوکنا رہنے میں ہی خیر ہے ۔ یہ درست ہے کہ عمر میں اضافے کے ساتھ ہڈیاں بودی یا کمزور ہوجاتی ہیں ۔ لیکن یہ خیال ضرور رکھئے کہ ان کی ساخت یا بناوٹ میں کمزوری کا سلسلہ ڈھلاؤ کی عمر سے بہت پہلے شروع ہوجاتا ہے اور پھر ان کی نظر بھی نہیں آتی ۔ پچاس سال سے زیادہ عمر کی دوڑ میں سے ایک خاتون کی ہڈی اس میں ہونے والی بوسیدگی عظم (اوستیو پر وسیس ) کی وجہ سے ٹوٹتی ہے لیکن بعض خواتین کی ۲۰اور ۳۰سال کی عمر میں آپ کی ہڈیاں خوب بنتی اور مضبوط ہوتی ہیں۔ لیکن اسی عرصے میں وہ تیزی سے کم زور بھی ہوسکتی ہیں ۔ ۳۵سال کی عمر کے بعدخواتین کی ہڈیوں میں گھلاؤ یا بوسیدگی کے عمل کے آغاز سے ہڈیوں کی تعمیر کی رفتار زیادہ سست ہوجاتی ہے یعنی ان کی ہڈیوں کا ڈھانچہ یا اس کی ساخت دھیرے دھیرے کمزور ہونے لگتی ہے ۔ ۵۰سال سے زیادہ عمر کی خواتین میں ریڑھ کی ہڈی کے ٹوٹنے کی تمام تر وجہ بوسیدگی عظم ہوتا ہے۔ یہ عمل عام طور پر بوڑھی اور کمزور خواتین میں زیادہ ہوتا ہے ۔ کسی مرض یا معذوری کی وجہ سے زیادہ عرصے تک بستر پر لیٹے رہنے کی وجہ سے بھی ہڈیوں میں بوسیدگی ہوسکتی ہے کیوں کہ نقل وحرکت کی کمی ہڈیوں کی بوسیدگی کی رفتار بڑھا دیتی ہے۔ایسی خواتین یہ بات ذہن نشین کرلیں کہ اگر ان کے معالج نے ان میں ہڈیوں کی بوسیدگی کی بات نہیں کی تو وہ بے فکر نہ ہوں بلکہ اس طرف سے ہوشیار رہیں۔ اس سلسلے میں ان کی لاعلمی اور بے پروائی ان کیلئے یقینی طور پر ایک اہم خطرہ ثابت ہوسکتی ہے ۔ ہڈیوں کی کمزوری اور بوسیدگی کی بات ہورہی ہے تو اس سلسلے میں آپ کے ڈھانچے کولاحق خطرات سے آپ کو آگاہ کرنا یقیناً بہت مفید ہوگا۔کیلشیم کی گولیوں کا استعمال ہڈیوں کی بوسیدگی کا علاج نہیں ہے۔ بے شک ہڈیوں کیلئے کیلشیم کا استعمال بہت اہم اور ضروری ہے لیکن صرف کیلشیم ہی ان کی ضرورت نہیں ہے۔ بعض ایسی غذائیں بھی ہیں جن سے ہڈیوں کو کیلشیم سے زیادہ بہتر تحفظ حاصل ہوتا ہے۔ آپ ایسی غذائیں جن میں حیاتین (وٹامن ڈی) زیادہ ہو، کھاکر ہڈیاں مضبوط رکھ سکتی ہیں۔ اس حیاتین کی وجہ سے کیلشیم ہڈیوں میں زیادہ مقدار میں بہتر طور پر جذب ہوتا ہے ۔ بیرونی ملکوں میں دودھ اور دلیے وغیرہ مہنگے داموں میں مل رہے ہیں۔ اسی طرح انڈوں کی زردی میں بھی یہ حیاتین خوب ہوتا ہے ۔ دودھ میں حیاتین ک (وٹامن کے)کی اضافی مقدار بھی شامل کی جاتی ہے ، کیوں کہ یہ حیاتین بھی ہڈیوں میں کیلشیم کے جذب ہونے کا عمل بڑھا دیتا ہے ۔ ویسے سبز رنگ کے تمام ساگ مثلاً پالک، میتھی، سرسوں وغیرہ کے پتوں میں حیاتین ک کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ ان ملکوں میں حیاتین کے کے علاوہ دیگر اہم غذائی اجزاء بھی موجود ہوتے ہیں ، گویا انہیں کھا کر جسم کی دوسری اہم غذائی ضرورتیں بھی پوری کی جاسکتی ہیں۔
خواتین یہ یاد رکھیں کہ ضروری نہین کہ ان کا معالج ان میں ہڈیوں کی بوسیدگی پر نظر رکھے بلکہ خود انہیں ان کی فکر کرنی چاہئے ۔ انہیں خود اپنی ہڈیوں کے حجم اور سائز میں کمی پر غور کرناچاہئے ۔ جب بھی ہڈیوں کی کمزوری کا امکان نظر آئے فوری طور پر معالج سے مشورہ کرلینا چاہئے تاکہ وہ اس کمزوری کے سلسلے میں انہیں درست غذا اورمناسب ورزش کا مشورہ دے۔ ضروری ہے کہ معالج کے اس سلسلے میں سرگرمی نہ دکھانے کی صورت میں خواتین دوسرے معالج سے رجوع کریں ، کیوں کہ بوسید گی کا یہ عمل آگے چل کر سنگین خطرات کا سبب بن سکتا ہے۔حالیہ تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ جن مرد خواتین کے پاؤں ،انگلیوں اور دیگر ہڈیوں میں فریکچر ہوجاتا ہے ان کی ہڈیوں کی دبازت کم ہوتی ہے۔ یا رہے کہ خاص طور پر خواتین میں ہڈیوں کی شکستگی یا ٹوٹنے کا عمل ان کی صحت کے لئے خطرے کی علامت ہوتا ہے ۔ یہ عمل جسم میں کسی اور جگہ کی ہڈی ٹوٹنے کے سلسلے کے آغاز کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ بھی یا د رہے کہ ہڈی کی موٹائی کے ٹیسٹ سے آپ کو لاحق خطرات کا کھوج نہیں لگایا جاسکتا ۔ اس سلسلے میں محٖض الٹراساؤنڈ کی ٹیسٹ رپورٹیں بالکل درست ثابت نہیں ہوسکتیں ۔ کسی انگلی وغیرہ کا ایسا ٹیسٹ تو مددگار ثابت ہوسکتا ہے لیکن تمام ہڈیوں کی صحت اور توانائی کا کھوج لگانا ضروری ہوتا ہے ،کیوں کہ جسم کی کوئی بھی ہڈی بوسیدگی کا شکار ہوسکتی ہے جن میں سب سے اہم کولہے کی ہڈی ہوتی ہے جو اکثر ٹوٹتی ہے۔اس سلسلے میں مناسب ٹیسٹ خصوصی ایکسرے ہے جو ڈیگزا(DEXa) کہلاتا ہے ۔ اس کے ذریعے سے کولہے اور پیش بازو (FOREARM) کی ہڈی کی موٹائی اور اس کے گھیر یا محیط کی ٹھیک پیمائش ہوسکتی ہے۔ہڈیوں کی کمزوری یا بوسیدگی کے سلسلے میں والدین کھڑے رہنے اور چلنے پھرنے کے انداز میں نقص بھی ہوسکتا ہے ۔ ہڈیوں کا گھلاؤ ایک خاندانی شکایت بھی ہوسکتا ہے گویا ایک موروثی شکایت کی حیثیت سے یہ کہ اس مرض کا ایک اہم سبب ہوسکتا ہے ۔ اندازہ یہ ہے کہ ماں باپ دونوں کی طرف سے بچوں میں یہ مرض منتقل ہوتا ہے۔ امریکہ کے نیشنل اوستو پروسیس فاؤنڈیشن کے کلینکل ڈائریکٹر ڈاکٹر فیلشیا کوسمین کے مطابق حالیہ تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسم کے بعض خاص حصوں مٖثلاً کولہے ،ریڑھ کے منکوں اور کلائی کی ہڈیوں کے گھلاؤ یا ان کے سائز میں کمی کا موروثی اثرات سے گہرا تعلق ہوتا ہے۔
ڈائرکٹر کوسمین کے مطابق ہڈیوں کے گھلاؤ کے مرض کی کوئی گولی نہیںہے۔ اس سلسلے میں بسفوسوفونٹس نامی دواؤں کے استعمال سے گھلنے والی ہڈی کے گھلاؤ میں کچھ بہتری پیدا ہو ا اور گھلنے کے عمل میں ٹھراؤ پیدا ہوسکتا ہے ،لیکن وہ پوری طرح بحال نہیں ہوسکتی ۔ متبادل ہارمونی علاج ہے ہڈیوں میں کیلشیم کے جذب ہونے کا عمل بڑھ سکتا ہے ۔ کیلشیم میں کمی رک سکتی ہے اور ہڈیوں کے نقصان کا عمل رک سکتا ہے ،لیکن جوں ہی علاج روک دیا جاتا ہے ہڈیوں کا گھلاؤ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے