Voice of Asia News

فضائی آلودگی کا کرہ ارض میں موسمیاتی تبدیلیوں پر گہرا اثر پڑتا ہے

لاہور(وائس آف ایشیا)چین  میں آلودگی اکثر خطرناک حد تک پہنچ جاتی ہے امریکہ میں کی گئی ایک تازہ تحقیق کے مطابق چین اور دیگر ایشیائی ممالک میں فضائی آلودگی کا شمالی نصف کرہ ارض میں موسمیاتی تبدیلیوں پر گہرا اثر پڑتا ہے۔تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ فضائی آلودگی بحرالکاہل میں طوفانوں کی تندی کو تقویت دیتی ہے جس سے دنیا کے دیگر حصوں میں موسمیاتی نظام متاثر ہوتا ہے اور یہ اثرات موسمِ سرما زیادہ نمایاں ہوتے ہیں۔یہ تحقیق پروسیڈنگز آف دی نیشنل ایکیڈمی آف سائنسز نامی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے اس تحقیق کے سربراہ یوان وانگ نے کہا کہ ’اس کے اثرات ڈرامائی ہیں۔ فضائی آلودگی سے بادل مزید گہرے اور اونچے ہو جاتے ہیں جو زیادہ بارشیں برساتے ہیں۔‘ایشیا کے بعض حصوں میں خطرناک حد تک کی آلودگی پائی جاتی ہے۔چین کے دارالحکومت بیجنگ میں آلودگی اکثر خطرناک حد تک پہنچ جاتی ہے، جبکہ بھارتی دارالحکومت دہلی میں بھی آلودگی اکثر عالمی ادارہ صحت کی طرف سے تجویز کردہ حد سے تجاویز کر جاتی ہے۔چونکہ بحرالکاہل کا موسمی نظام عالمی موسم کا اہم جزو ہے، اس لیے سردیوں میں ایشیائی آلودگی سے دنیا کے دوسرے حصے خاص طور پر شمالی امریکہ متاثر ہوتے ہیں۔یہ آلودگی نہ صرف ان علاقوں میں رہنے والوں کے لیے مضرِ صحت ہے بلکہ اس بات کے بھی شواہد سامنے آئے ہیں کہ اس کے دیگر اثرات بھی ہیں۔امریکہ اور چین سے تعلق رکھنے والے سائنس دانوں نے ایشیا میں پائی جانے والی آلودگی کے موسمیاتی نظام پر اثرات جانچنے کے لیے کمپیوٹر ماڈل استعمال کیے۔محققین کا کہنا ہے کہ آلودگی کے چھوٹے ذرات ہوا کے دوش پر بحرالکاہل کی طرف چلے گئے جہاں ان ذرات کا پانی کے قطروں کے ساتھ تعامل ہوا جس کی وجہ سے بادل مزید گھنے ہوگئے جو طوفانوں میں تیزی کا باعث بنے۔ڈاکٹر یوان وانگ کا کہنا تھا کہ ’چونکہ بحرالکاہل کا موسمی نظام عالمی موسم کا اہم جزو ہے، اس لیے سردیوں میں ایشیائی آلودگی سے دنیا کے دوسرے حصے خاص طور پر شمالی امریکہ متاثر ہوتے ہیں۔‘اس تحقیق پر تبصرہ کرتے ہوئے ریڈنگ یونیورسٹی میں موسمیاتی طبیعات کے پروفیسر ایلی ہائی ووڈ نے کہا کہ ’ہمیں تیزی سے اس بات کا اندازہ ہو رہا ہے کہ فضائی آلودگی کا مقامی خطوں اور دنیا کے دیگر حصوں پر اثر پڑتا ہے اور یہ تحقیق اس کی بہترین مثال ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے