Voice of Asia News

بیماریوں سے بچاؤ کیلئے متوازن غذا ضروری ہے

  لاہور (وائس آف ایشیا)انسان کا جسم ایک جیتی جاگتی مشین ہے۔ اسے دنیا کے سب سے بڑے کاریگر نے بنایا ہے، اس مشین کی ساخت اس طریقے کی ہے کہ اس کے زیادہ ترکام خود ہی ہوتے رہتے ہیں۔ انسان کی قدرتی حالت یہی ہے کہ اس کا جسم مضبوط اور طاقت ور ہو اور وہ اپنے فرائض بہ حسن و خوبی انجام ادا کرتا رہے۔ ہمارے اس جسم کی ترقی و صحت بہت حد تک متوازن غذا پر انحصار رکھتی ہے، یہ زندگی کا ایک بڑا اصول ہے، متوازن غذا سے مراد یہ ہے کہ ہم قدرت کی پیدا کردہ تمام نعمتیں کھائیں تو ضرور لیکن اعتدال کے ساتھ، لیکن متوازن غذا کسے کہا جاتا ہے، یہ فیصلہ کرنے سے پہلے ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ زندگی کے اصولوں کی طرح غذا کے بھی خاص خاص اصول ہیں۔ ان اصولوں کے تحت ہی غذا ہمارے بدن کا جز بنتی ہے اور ہماری زندگی کے قیام کا باعث بھی۔
چکنائی:
چکنائی ہمارے جسم کو حرارت مہیا کرتی ہے۔ چکنائی کا کام گرمی اور طاقت پیدا کرنا ہے۔ چکنائی چار قسم کی ہوتی ہے۔ گھی، مکھن، تیل اور چربی۔ مکھن کو بہترین قسم کی چکنائی کہا گیا ہے۔ جسمانی گرمی سے چربی پگھلتی نہیں ہے، اس لیے اسے ہضم کرنا ہماری جسمانی صحت کے لیے مشکل ہو جاتا ہے، اس کی زیادتی ہمارے جسم کو نقصان پہنچا سکتی ہے اس لیے چکنائی کی مقدار اپنی غذا میں اتنی رکھنی چاہیے جتنی ہمارے جسم کو ضرورت ہو۔
متوازن غذا:
نشاستہ اور شکر کو ہم نے اکٹھا کر دیا ہے کیونکہ ان کا کام ایک ہی ہے۔ عام حالات میں ہمارے جسم کو گُڑ یا شکر وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوا کرتی کیونکہ گیہوں، چاول، اناجوں وغیرہ میں جو نشاستہ ہوتا ہے وہ ہمارے پیٹ میں جا کرایک قسم کی شکر میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ چکنائی کی طرح شکر کا کام بھی طاقت اور گرمی پیدا کرنا ہے۔ گیہوں، چاول، فاسفورس موجود ہوتے ہیں یہ زیادہ تر سبزیوں میں پائے جاتے ہیں اس کے علاوہ پنیر، دہی اور انڈے میں بھی خاصے ہوتے ہیں، جبکہ گوشت، اناج اورخشک میوے میں بھی تھوڑی مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ سبزیوں کا بڑا حصہ ہماری غذا میں معدنیات بہم پہنچاتا ہے۔ ہمارے جسم کو نمک کیلثیم(Calcium) ،(چونا) سوڈیم (Sodium)، فاسفورس (Phosphorous)، گندم (Wheat)، آیوڈین(Iodinm)، پوٹاشیم (Potassium)، اور فولاد (Iron)کی تھوڑی تھوڑی مقدار میں ضرورت ہوتی ہے۔ دل کی طاقت اور دل کی دھڑکن کی باقاعدگی میں معدنیات کا اہم کردار ہے، ہڈیوں اور دانتوں کی بناوٹ کے لیے خاص طور پر کیلثیم کی ضرورت ہوتی ہے۔
پروٹین:
پروٹین کی کئی اقسام ہوتی ہیں، کسی خوراک میں پروٹین کی ایک قسم زیادہ ہوتی ہے، کسی میں دوسری، مختلف قسم کی خوراکوں میں یہ جز کم و بیش ہوتے ہیں۔ اناجوں اور دالوں میں یہ پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ کم چکنائی اور پروٹین والی غذائیں اگر ہم نہ کھائیں تو ہمارے جسم کا بڑھنا رک جائے گا۔ اور وزن کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ اس لیے صحیح خوراک کو تجویز کرتے وقت ہمیں پروٹین کاجز رکھنے والی غذاؤں پر خاص توجہ دینی چاہیے، ہماری غذا پروٹین، نشاستہ، چکنائی، معدنیات، نمک اور پانی کا مجموعہ ہے۔
وٹامن:
وٹامن زیادہ تر اناجوں کی تہہ پر، دالوں کے چھلکوں کے اندر تازہ سبزیوں کے پتوں میں، انڈے کی زردی، ہرے چنے، مٹر، ٹماٹر، سنگترہ، لیموں، میوہ جات، پھل، پھول وغیرہ میں زیادہ تر پائے جاتے ہیں۔ وٹامن اے، بی، سی ، ڈی، ای، جی، (Vitamin A,B,C,D,E,G) چھ قسم کے ہوتے ہیں۔ ان تمام پروٹین اور وٹامن کی انسانی جسم کو روزانہ تھوڑی تھوڑی مقدار میں ضرورت ہوتی ہے، انسانی جسم کیلئے ایک ایسی متوزان غذا ضروری ہے جس میں چھ اجزا لازمی ہونے چاہئیں۔
-1 پروٹین(Protein)
-2 نشاستہ(Carbohy drates)
-3 چکنائی(Fats)
-4 نمکیات(Iodine)
-5 حیاتین(Vitamin)
-6 پانی(Water)
پانی جتنا زیادہ پیا جائے صحت کے لیے اچھا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ نہار منہ موسم کے تازہ پھولوں کا جوس استعمال کیا جائے۔ مائع اشیاء یعنی مشروبات وغیرہ جس قدر زیادہ مقدار میں لیے جائیں، جسمانی نظام کو وہ اسی قدر بہتر بنانے میں کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔ پانی اور مشروبات متوازن غذا جتنے ہی اہم ہیں۔
rafiqdr891@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے