Breaking News
Voice of Asia News

ایک شخص کی غذا کی نالی میں 1 سال سے موجود 8 انچ کے دھاتی چمچ کو نکال دیا گیا

لاہور (وائس آف ایشیا خصوصی رپورٹ )ایک چینی شخص نے ایک سال پہلے بے وقوفانہ کرتب دکھاتے ہوئے 8 انچ کے دھاتی چمچ کو نگل لیا۔ یہ چمچ اس شخص کی غذا کی نالی میں پھنس گیا لیکن اس کے باوجود یہ شخص عام افراد کی طرح کھاتا اور پیتا رہا۔ چمچ نکلوانے کے لیے اسے کسی طبی امداد کی ضرورت بھی نہیں پڑی۔ اس شخص کا کہنا ہے کہ چند دن پہلے سینے پر مکا لگنے کے بعد اسے سینے کے درد کی شکایت ہوئی۔اس شخص، جس کا نام نہیں بتایا گیا، کا تعلق چین کے خودمختار علاقے سنکیانگ سے ہے۔اس شخص نے ڈاکٹروں کو بتایا کہ نشے میں شرط لگاکر اس نے ایک سٹین لیس سٹیل کا چمچ نگل لیا تھا۔ اس نے اپنے دوست سے شرط لگائی تھی کہ وہ دھاگہ بندھے چمچ کو نگل کر دھاگے سے واپس باہر کھینچ سکتا ہے۔ اس شخص کے خیال میں دھاگے سے چمچ واپس کھینچ لینا اچھا آئیڈیا تھا لیکن سب کچھ مرضی کے مطابق نہیں ہوا اور چمچ غذا کی نالی میں پھنس گیا۔اس کے بعد فوراً ہی ہسپتال جانے کے کی بجائے وہ شخص انتظار کرتا رہا ہے کہ چمچ اس کے کھانے اور پینے میں رکاؤٹ ڈالتا ہے یا نہیں۔چمچ نے اس کے کھانے پینے میں رکاؤٹ نہیں ڈالی تو اس شخص نے بھی پرواہ نہیں کی اور یہ پچھلے ایک سال سے غذا کی نالی موجود رہا۔ یہ چمچ اگلے کئی سالوں تک ہی ایسے ہی موجود رہتا ہے لیکن کچھ دن پہلے کسی نے اس کے سینے میں مکا مار دیا، جس سے اس کے سینے میں شدید تکلیف ہوئی اور سانس لینے میں بھی مشکل پیش آئی۔ وہ ہسپتال گیا اور ڈاکٹروں کو عام سے انداز میں بتایا کہ اس کی غذا کی نالی میں ایک سال سے چمچ بھی پھنسا ہوا ہے۔
ہسپتال کی طرف سے جاری کیے ہوئے بیان کے مطابق ڈاکٹر اس کی بات سن کر حیران رہ گئے۔ جب اسے داخل کیا گیا تو اس کے حلق سے معدے تک کی نالی میں انفیکشن پھیل چکی تھی۔ کافی سوچ بچار کے بعد سنکیانگ میکوانگ جنرل ہاسپیٹل کے ڈاکٹروں نے انڈو سکوپی سے منہ کے ذریعے ہی چمچ نکالنے کا فیصلہ کیا۔
ہسپتال نے میڈیا کو بتایا کہ اس شخص کی صحت بہتر ہو رہی ہے، اسے جلد ہی ڈسچارج کر دیا جائے گا۔
میل آن لائن کی رپورٹ کے مطابق چمچ نگلنے کا یہ کیس نایاب ضرور ہے لیکن منفرد نہیں۔ 2015 میں ڈاکٹروں نے ایک عورت کا 6 انچ کا نگلا ہوا چمچ نکالا تھا۔ اس عورت نے اس چمچ کو تیزی سے نوڈلز کھاتے ہوئے نگل لیا تھا۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •