Breaking News
i1035 FW1.21 424460 00
Voice of Asia News

پاکستان ایشیائی خطے میں صحت کے حوالے سے بہت پیچھے ہے، عالمی ادارہ صحت

اسلام آباد( وائس آف ایشیا ) اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان جنوبی ایشیائی خطے میں صحت کے شعبے میں بہت پیچھے ہے۔ عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں صحت کے شعبے میں گزشتہ 18 سال کے دوران بہتری آئی ہے تاہم اسے اس خطے میں ابھی مزید کام کرنا ہے۔نیشنل ہیلتھ سروس کے اشتراک سے مستحکم ترقیاتی اہداف برائے پاکستان کے نام سے جاری ہونے والی رپورٹ میں ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ 2000 میں زچگی کے دوران شرح اموات پاکستان میں 0.29 فیصد تھی جو اب کم ہوکر 0.16 ہوگئی ہے۔تاہم ایس جی ڈی کا کہنا ہے کہ 2030 تک یہ شرح 0.075 تک پہنچ جائے جس کو ہدف مقرر کیا گیا ہے۔امراضِ قلب، کینسر، ذیابیطس، دائمی سانس کی بیماری سے ہلاکتوں کی شرح 2000 میں 27.8 فیصد تھی جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور وہ اب 24.7 فیصد پر ہے تاہم اسے 2030 تک 17 فیصد تک ہونا ہے۔این ایچ ایس کی پارلیمانی سیکریٹری ڈاکٹر نوشین حامد کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ملینیم ڈیولپمنٹ گولز (ایم ڈی جیز) کی جانب پشرفت شروع کردی ہے تاہم اب ایس ڈی جیز کی باری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ این ایچ ایس کی وزارت ایس ڈی جیز کو پاکستان کے قومی اہداف میں شمار کرتی ہے اور اب پاکستان قومی اور صوبائی سطح پر نئے منصوبوں کے ساتھ ایس ڈی جی-3 کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے پر عزم ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں ایس ڈی جی-3 کے اہداف کو حاصل کرنے کے لیے زمینی حقائق سے ہم آہنگ ہونے کی ضرورت ہے۔این ایچ ایس کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر اسد حفیظ کا کہنا ہے کہ ایس ڈی جی ایجنڈا 2030 کے ساتھ شامل ہونے کا مقصد ملک میں صحت کے شعبے میں کام کرنے والے 17 سیکٹرز میں تبدیلی لانا ہے جس کے ذریعے پاکستان کے شہریوں کی زندگیوں بہتر بنایا جاسکے انسانیت کی خدمت میں اپنا حصہ ڈال سکیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایس ڈی جی-3 کا مقصد شہریوں کی صحت مند زندگی کو یقین بنانا اور اور ان کے معیارِ زندگی کو بہتر کرنا ہے۔

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •