Voice of Asia News

آئین وقانون کی حکمرانی کی جانب پہلا قدم : محمد قیصر چوہان

 
اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے سابق آمر جنرل پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا حکم سنا کر پاکستان میں آئین وقانون کی حکمرانی کی جانب پہلا قدم اُٹھا دیا ہے۔اب باری ہے سپریم کورٹ کی ،وکلاء کی ،سول سوسائٹی کی اور پوری قوم کی کہ سب مل کر اس فیصلے پر پہرہ دیں۔اور ایک آئین شکن پرویز مشرف کو انجام تک پہنچاکر یہ واضح کر دیں کہ دس بیس لاکھ لوگوں کی خاطر بائیس کروڑ انسانوں کے جذبات سے کھیلا نہیں جا سکتا۔ نہ ہی ان کے حقوق پر ڈاکا مارنے والے کو محض اس لیے چھوڑا جا سکتا ہے کہ وہ فلاں فلاں ادارے کا سربراہ رہ چکا ہے۔اور نہ آئین کو معطل کرنے ،عدلیہ کو پابند سلاسل کرنے اور بارہ مئی جیسے واقعات کا حکم دینے والے شخص کو رعایت مل سکتی ہے۔ایک آئین شکن اور غدار کو عدالت کی طرف سے سزائے موت سنانے پرکھلبلی مچ گئی ہے۔ فوجی ترجمان کے مطابق فوج میں غم و غصہ ہے۔ یہ بات سمجھی جا سکتی ہے کہ پولیس ہو وکلاء ہوں یا فوج ہر ادارہ اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن فوج سے زیادہ عمران خان کی حکومت کا رد عمل حیرت انگیز ہے۔ پوری حکومت ایک غدار کو سزا سے بچانے کیلئے صف آرا ہو گئی ہے اور یہ غیر متوقع بھی نہیں کہ عمران خان کی کابینہ کے آدھے وزراء تو جنرل پرویز کی باقیات میں سے ہیں خواہ وہ شیخ رشید ہوں یا فوادچودھری۔ خود عمران خان بھی جنرل پرویز کے منظور نظر تھے اورریفرنڈم میں ان کو اپنا ووٹ دیا تھا۔ پنجاب میں حکومت میں شامل (ق )لیگ کے رہنما اور اسپیکر صوبائی اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے فرمایا تھا کہ ہم پرویز مشرف کو10بار وردی میں صدر منتخب کرائیں گے۔ حکومت کی نمائندگی کرنے والے اٹارنی جنرل انور منصور بغیر بلائے رضا کارانہ طور پر خصوصی عدالت میں پہنچ گئے اور فرمایا کہ فیصلہ متعصبانہ ہے ، فوج کو ہدف بنایا گیا ، فیصلہ عجلت میں سنایا گیا۔ عجیب بات ہے کہ فوج جب چاہے ملک اور عوام کو ہدف بنا لے اور اس پر کوئی عدالتی فیصلہ آئے تو اس پر برہمی۔ کئی برس سے چلنے والے مقدمے کو عجلت قرار دیا گیا۔ کیا12,10 برس اور انتظار کرنا چاہیے تھا ؟ یہ بات تو طے ہے کہ عدالت کے فیصلے پر عمل نہیں ہونے دیا جائے گا کیونکہ ایک غدار کی حمایت میں فوج اور سول حکومت ایک پیج پر ہیں۔ جو غیر ضروری رد عمل سامنے آرہا ہے اس سے واضح ہے کہ آئندہ کوئی بھی طالع آزما آئین کی پامالی پر آمادہ ہو جائے گا کہ اس کی سزا تو ملنے والی نہیں۔ ملک کیلئے جنگیں لڑنے والا غدارنہیں ہوگا لیکن کیا آئین توڑنے اور اپنے ہی ملک سے جنگ کرنے والا غدار نہیں ٹھیرے گا؟پرویز مشرف کی40 سالہ خدمات میں کراچی میں قتل عام اور ایم کیو ایم کی دہشت گردی کو حیات نو دینا بھی شامل ہے اسی لیے ایم کیو ایم بھی غدار کی محبت میں سر شار ہے۔ کراچی میں قتل عام کو انہوں نے عوام کی طاقت قرار دیا تھا۔ ان کے کار ناموں میں اکبر بگٹی کا قتل ، مسجد حفصہ میں لڑکیوں پر حملہ ،لال مسجد میں تباہی پھیلانا اور ایک عالم دین کی شہادت بھی شامل ہے۔ کارگل پر احمقانہ کارروائی کر کے متعدد فوجیوں کو مروا دیا اور نواز شریف کو امریکا جا کر معافی مانگنی پڑی۔ ڈاکٹر عافیہ سمیت پاکستانیوں کو پکڑپکڑ کر امریکا کے حوالے کرنے اور ڈالر وصول کرنے کا کارنامہ الگ ہے، تاہم حکومتی رویے سے تو لگتا ہے کہ یہ غدار سزا سے بچ نکلے گا۔
اسلام آباد کی خصوصی عدالت کے مختصر فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پرویز مشرف نے 3 نومبر 2007 کو آئین پامال کیا اور ان پر آئین کے آرٹیکل 6 کو توڑنے کا جرم ثابت ہوا ہے۔ فیصلے کے مطابق پرویز مشرف پر آئین توڑنے، ججوں کو نظر بند کرنے، آئین میں غیر قانونی ترامیم، بطور آرمی چیف آئین معطل کرنے اور غیر آئینی پی سی او جاری کرنے کے جرائم ثابت ہوئے۔ خصوصی عدالت کی جانب سے کیا جانے والا فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ اس سے قبل جب خصوصی عدالت نے فیصلے کا اعلان کرنے کیلئے 27 نومبر کی تاریخ مقرر کی تھی تو اسی وقت قرائن سے اندازہ ہوگیا تھا کہ ممکنہ فیصلہ کیا ہوسکتا ہے۔ فیصلے کو رکوانے کیلئے وفاقی وزارت داخلہ نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس نے زبانی فیصلے میں خصوصی عدالت کو فیصلہ نہ سنانے کا حکم دیا تھا تاہم خصوصی عدالت کے سربراہ جو خود بھی پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ہیں، نے اس حکم کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ خصوصی عدالت کا قیام سپریم کورٹ کے حکم پر عمل میں آیا تھا اور سپریم کورٹ ہی انہیں اس بارے میں کوئی حکم دے سکتی ہے۔ تاہم خصوصی عدالت نے جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو عدالت میں پیش ہو کر صفائی کا ایک اور موقع دیتے ہوئے فیصلے کا اعلان ملتوی کردیا تھا جسے 17 دسمبرکو سنایا گیا۔ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف خصوصی عدالت میں پہلی مرتبہ پیش ہوئے اور کہا کہ ان کا ٹرائل سول عدالت میں نہیں ہوسکتا بلکہ اس کیس کی سماعت فوجی عدالت میں ہونی چاہیے۔ خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کی اس دلیل کو مسترد کرتے ہوئے ان پر 30 مارچ 2014 کو بغاوت کی فرد جرم عاید کردی۔ پرویزمشرف بغاوت کیس کی ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ پرویز مشرف نے ایف آئی اے کو دیے گئے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ اس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور دیگر رہنماؤں کی مشاورت سے کیا تھا۔ اگر جنرل پرویز مشرف پر بغاوت کا جرم ثابت ہوجاتا ہے تو اس میں ان کے شریک ملزمان کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے جن کے نام جنرل پرویز مشرف لے چکے ہیں۔ پرویز مشرف کو پہلے دن سے اس کا اندازہ تھا کہ وہ مذکورہ کیس کا کامیاب دفاع نہیں کرسکیں گے، اس لیے انہوں نے پاکستان سے باہر جانے میں زیادہ دلچسپی لی۔ انہوں نے 14 مارچ 2016 کو سپریم کورٹ سے علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت طلب کی۔ 16 جون کو سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کا حکم جاری کیا جس کے بعد 18 جون 2016 کو پرویز مشرف علاج کیلئے ملک سے باہر تھے۔ خصوصی عدالت کی جانب سے بار بار کی طلبی کے باوجود پرویز مشرف ایک مرتبہ بھی عدالت میں اپنے دفاع کیلئے حاضر نہیں ہوئے اور عدالت نے انہیں مفرور قرار دے دیا۔ اس عرصے کے دوران وہ پوری دنیا میں گھومتے رہے اور ان کی مختلف مواقع پر ڈانس کرنے کے وڈیو کلپ بھی وائرل ہوتی رہی۔ مارچ 2018 میں خصوصی عدالت کے سربراہ یحییٰ آفریدی نے مشرف بغاوت کیس سے اپنے آپ کو علٰیحدہ کرلیا اور خصوصی بنچ ٹوٹ گیا۔ اپریل میں جسٹس ثاقب نثار نے خصوصی عدالت کی تشکیل نو کی اور گزشتہ برس اگست میں دوبارہ سے مشرف بغاوت کیس کی سماعت شروع ہوئی۔ بار بار طلبی کے باوجود نہ تو مشرف جسمانی طور پر عدالت میں حاضر ہوئے اور نہ ہی وڈیو لنک کے ذریعے انہوں نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔ اس پورے پس منظر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پرویز مشرف کو آئین توڑنے اور ججوں کو حراست میں رکھنے کے الزام کے دفاع کیلئے مسلسل مواقع دیے گئے مگر انہوں نے اس کا جواب دینے کے بجائے فرار کا راستہ اختیار کیا۔ ایسے وقت میں جب وہ مختلف ممالک کے دورے کررہے تھے، میڈیا کو انٹرویو دے رہے تھے اور پارٹیوں میں ڈانس کررہے تھے، عدالت میں نہ آنے کا ان کے پاس یہی عذر تھا کہ وہ شدید بیمار ہیں۔ خصوصی عدالت کے فیصلے پر ملک میں ہر سطح پر ہی ردعمل سامنے آیا ہے۔ سیاستدانوں نے خصوصی عدالت کے فیصلے کا خیر مقدم کیاہے تو فوجی ترجمان نے کہا ہے کہ اس ضمن میں جی ایچ کیو میں ہنگامی اجلاس ہوا ہے اور اس فیصلے پر فوج میں شدید غم و غصہ اور اضطراب پایا جاتا ہے۔ فوج کے ترجمان کا بیان سامنے آنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام اور فوج ایک صفحے پر ہونے کے بجائے دو مخالف کناروں پر کھڑے ہیں جو انتہائی خوفناک ہے۔ اگر عدالت میں غلط الزام عاید کیا گیا تھا تو اصولی طور پر پرویز مشرف کو عدالت میں پیش ہوکر دفاع کرنا چاہیے تھا۔ پرویز مشرف نہ صرف عدالت میں حاضر نہیں ہوئے بلکہ اب عدالت کو دباؤسمیں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پرویز مشرف غداری کیس کا فیصلہ انتہائی اہم ہے اور اس کے ملک پر دور رس اثرات رونما ہوں گے۔ آئندہ ملک میں جمہوریت پر کوئی شب خون نہیں مار سکے گا۔
qaiserchohan81@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے