Voice of Asia News

مشرف کی جگہ ضیاء الدین بٹ :سیف اعوان

وزیر اعظم نوازشریف کا دبئی کا دورہ آدھا کامیاب رہا ،حکومت دبئی کے پاکستانی بینکوں میں ساڈھے چار سو ملین ڈالرز پڑے تھے حکومت پاکستان چاہتی تھی کہ دبئی یہ رقم فوری نہ نکالے۔وزیراعظم نے یہی درخواست شیخ زید بن النیہان سے بھی کی جس کو شیخ زید بن النیہان نے تسلیم کرلیا۔جبکہ دوسری بات طالبان سے بات چیت کرنے کی یو اے ای نے کوئی خاص حامی نہ بھری۔اب سورج طلوع ہوا 12اکتوبر 1999کا،وزیراعظم نوازشریف جنرل پرویز مشرف کو عہدے سے ہٹانے کے بعد کی جانی والی تقریر کافی حد تک تیار کرواچکے تھے اب وزیراعظم شجاع آباد جارہے تھے کیونکہ وزیراعظم نے وہاں کسانوں سے خطاب اور کپاس پر سبسڈی دینے کا اعلان کرنا تھا۔اعلانات کرنا ایک معمولی بات ہے لیکن اس جلسے میں ایک خاص بات تھی جو کسی جلسے میں نہیں ہوتی۔یہ بات اتنی اہم تھی کہ وزیراعظم نے اسٹیج پر ہی اپنی پاس ہی ایک خاص ٹیلی فون سیٹ لگایا کیونکہ وزیراعظم کو ایک فون کال کا انتظار تھاپھر فون کی گھنٹی بجی ،وزیراعظم نے فون پر ڈیرھ منٹ بات کی اور پھر جو بھی کام کیا عجلت میں ہی کیا ۔وزیراعظم کی تقریر میں تاخیر تھی لیکن وزیراعظم نے اسٹیج پر پیغام بھجوایا ان کو فورا تقریر کے لیے بلوایا جائے ۔وزیراعظم کی تقریر میں بھی طاقت کے ایوانوں میں جاری رسہ کشی کی تلخی نمایاں تھی۔وزیراعظم نے کہا کچھ لوگوں مخصوص ایجنڈے کے تحت حکومت گرانا چاہتے ہیں لیکن حکومت دھمکیوں سے نہیں گھبرائے گی۔
پھر وزیر اعظم جلدی سے سٹیج سے اترے اور ملتان ایئر پورٹ کی جانب روانہ ہوئے۔وزیراعظم کو ایئر پورٹ پہنچنے سے پہلے ایئر پورٹ پر ایک شخص چاہیے تھا اور یہ شخص تھا ان کا سیکرٹری دفاع جنرل افتخار علی خان ،افتخار علی خان ایئر پورٹ پر پہنچے ۔وزیر اعظم نے کہا آپ کو چھوٹا سا کام کرنا ہے کہ ایک نوٹیفکیشن تیار کرنا ہے کہ جنرل مشرف کو عہدے سے ہٹادیا گیا ہے اور جنرل ضیاء الدین بٹ کو نیا آرمی چیف تعینات کردیا گیا ہے۔سیکرٹری دفاع یہ بات سن کے شہبازشریف کی طرح دنگ رہ گئے۔سیکرٹری دفاع نے کہا سر یہ بہت بڑا فیصلہ ہے کیا آپ نے اس معاملے پر کابینہ سے مشاورت کرلی ہے۔وزیراعظم نے کہا کابینہ کا اس سے کوئی تعلق نہیں انہیں بتادیا جائے گا۔سیکرٹری دفاع نے پھر اسرار کیا سر یہ اہم مسئلہ ہے اس کیلئے آپ اپنے قریبی لوگوں شہبازشریف اور چوہدری نثار علی خان سے تو مشورہ کرلیں۔وزیراعظم نے کہا جنرل صاحب مشورے کا وقت گزر چکا ہے۔جنرل افتخار نے پھر کہا سر آپ ان کو ہٹانا کیوں چاہتے ہیں وزیراعظم نے کہا وہ میرے خلاف باتیں کرتے پھر رہے ہیں۔جنرل افتخار سمجھ گئے کہ وزیراعظم چینی سفارتخانے میں ہونے والی میٹنگ پر بات کررہے ہیں جس میٹنگ میں آرمی چیف جنرل مشرف نے ملک کی معاشی اور سیکیورٹی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔جنرل افتخار نے پھر کہا سر اسی میٹنگ میں آرمی چیف نے یہ بھی کہا تھا کہ حکومت صورتحال سے نمٹنے کی بھرپور کوشش کررہی ہے۔لیکن وزیراعظم اپنا اٹل فیصلہ لے چکے تھے اب وہ چاہتے تھے کے جتنی جلدی ہو سکے جنرل مشرف کی ریٹائرمنٹ کے آڈر جاری کردیے جائیں۔آخر کار جنرل افتخار نے ہتھیار ڈال دیے اور کہا سر میں آپ کی تحریری درخواست کے بغیر آڈر کیسے جاری کرسکتا ہوں۔نوازشریف نے کہا کیا آپ جنرل مشرف سے ڈرتے ہیں یا آپ ان کے ساتھ ہیں؟جنرل افتخار خاموش رہے۔
اب وزیراعظم مسلسل اپنے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی سے رابطہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔پندرہ منٹ بعدنوازشریف اعظم ہاوس میں پہنچ گئے اور وہاں پہنتے ہی وزیراعظم نے سعید مہدی سے کہا ابھی میرے احکامات پر عملدرآمد کیوں نہیں ہوا؟وزیراعظم نے سعید مہدی کو حکم دے کہ فورا کارگل پر انکوائری کا حکم دیا جائے۔پھر وزیراعظم ،سیکرٹری دفاع جنرل افتخار علی خان،پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی اور چیف آف سیکیورٹی سٹاف پی ایم ہاوس پرویز راٹھور کو لے کر وزیراعظم کے کمرے میں موجود چھوٹے کمرے میں آگئے اور دروازہ بند کردیا پھر وزیراعظم نے کمرے میں موجود سب افراد سے کہا آپ کو قرآن پر ہاتھ رکھ کے حلف دینا ہو گا کہ جب تک ٹی وی پراعلان نہ ہو جائے کسی کو اس بارے میں علم نہیں ہونا چاہیے یہاں تک کہ آپ سب لوگ اپنی بیویوں سے بھی بات نہیں کرو گے۔وزیراعظم نے جنرل افتخار علی خان جو چوہدری نثارعلی خان کے بھائی تھے ان کو اس دوران اپنے بھائی سے بھی ملاقات کرنے اور بات کرنے سے سختی سے منع کردیا۔اس کمرے میں موجود صرف سعید مہدی ہی تھے جن کو ابھی صورتحال کے متعلق پتہ نہیں تھا ان کو وزیراعظم نے بتایا کہ میں نے مشرف کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ کرلیا ہے ،سعید مہدی نے کہا کب؟وزیراعظم نے کہا آج اور اسی وقت۔جس وقت یہ بات ہو رہی تھی شہبازشریف اور چوہدری نثار علی خان وزیراعظم ہاوس میں موجود تھے ۔پھر وزیراعظم نے آڈر ٹائپ کروایا اور منظوری کیلئے خود صدر پاکستان رفیق تارڑ کے پاس چلے گئے ۔صدر رفیق تارڑ نے seenلکھا اور دستخط کردیے۔اب جنرل مشرف کو عہدے سے ہٹانے کا آڈر نوازشریف کے ہاتھ میں اور جو تقریر وزیراعظم نے آڈر پڑھنے کے بعد کرنی تھی وہ چیئر مین پی ٹی وی پرویز رشید کے ہاتھ میں تھی۔جبکہ شہبازشریف اور چوہدری نثار شیشے کی دیوارکے اس پار کھڑے حسین نواز،نذیر ناجی اور پرویز رشید کو حیرت سے دیکھ رہے تھے کہ یہ تینوں افراد ایک کاغذ کے ٹکرے کو اتنا غور سے کیوں دیکھ رہے ہیں۔شہبازشریف اور چوہدری نثار نے وزیراعظم کو پیغام بھجوایا کہ ہم آپ سے ملنا چاہتے ہیں لیکن وزیراعظم نے کہا میں ابھی کسی سے نہیں ملنا چاہتا کچھ دیر اور انتظار کریں۔
وزیراعظم نے سیکرٹری دفاع کو بلایا اور کہا کہ ابھی ایک نوٹیفکیشن جاری کریں کہ وزیراعظم نے آرمی چیف کو عہدے سے ہٹادیا اور کارگل آپریشن کی انکوائری کرانے اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل ضیاء الدین بٹ کو نیا آرمی چیف بنانے کا حکم جاری کردیا ہے۔اب باری تھی جنرل ضیا ء الدین بٹ کو وزیراعظم ہاوس بلانے اور نیا آرمی چیف بنانے کی۔ملٹری سیکرٹری برگیڈیئر جاوید اقبال نے جنرل ضیاء الدین بٹ کو فون کیا اور کہا کہ وزیراعظم آپ کو یاد کررہے ہیں جلدی سے وزیراعظم ہاوس پہنچیں۔اس سے چند دن قبل پنجاب میں تین دہشتگردی کے واقعات ہوئے تھے وہ اسی سلسلے میں شہبازشریف سے ملاقات کیلئے وزیراعظم ہاوس پہنچنے کی تیار کررہے تھے جنرل ضیاء الدین بٹ نے وزیراعظم کا پیغام ملنے کے بعد مزید جلدی سے تیار ہوئے اور وزیراعظم ہاوس پہنچ گئے۔جنرل ضیاء الدین بٹ جب وزیر اعظم ہاوس پہنچے یہ بھی ایک عجیب منظر تھا ان کے ساتھ ایس ایس جی کے 80کمانڈوز تھے جن کے ہاتھوں میں اوزی مشین گنز تھیں۔وزیراعظم ہاوس پہنچتے ہیں ان کو نئے آرمی چیف بننے کی مبارکبادیں ملنے لگی وزیراعظم نے ملٹری سیکرٹری سے ان کو نئے آرمی چیف کے بیجز لگانے کا کہا مختصر سے تقریب مکمل ہو گئی اور پاک فوج کی اعلیٰ کمان قانونی اور آئینی طور پر تبدیل ہو گئی۔
اب وہ جنرل جو ایک ہفتہ قبل ریٹائرمنٹ مانگ رہے تھے وہ چیف آف آرمی سٹاف بن چکے تھے۔ویسے یہ تبدیلی ایک سادہ اور عام سے بات تھی لیکن جنرل مشرف اور ان کے ساتھی اس متوقع صورتحال سے نمٹنے کی پوری تیار کرچکے تھے۔یہ تقریب اس لیے بھی سادہ نہیں تھی کہ نوازشریف کے دوسرے دور حکومت کے دوران صدر پاکستان فاروق لغاری،چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ،آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت کو عہدے سے ہٹادیا گیا تھا اور بحریہ کے دو چیف ایڈمرل فصیح بخاری اور ایڈمرل منصورالحق نوازشریف سے اختلافات کی وجہ سے مستعفی ہو چکے تھے۔پانچ اعلیٰ عہدیدار ہٹائے جا چکے تھے اور چھٹے بڑے عہدیدار جنرل مشرف کو نوازشریف ایسے وقت ہٹا رہے تھے جب پوری اپوزیشن حکومت کیخلاف سڑکوں پر تھی اور ’’گونواز گو‘‘ کے نعرے لگارہی تھی۔اب نئے آرمی چیف جنرل ضیاء الدین بٹ کی کمان تبدیلی کی ایک باقاعدہ تقریب جی ایچ کیو میں بھی ہونا تھا انہوں نے فورا فون اٹھایا اور جی ایچ کیو کے ملٹری سیکرٹری جنرل مسعود کو فون کیا اور اپنی تعیناتی کے متعلق بتایا اور فورا دو ٹرانسفر آڈر کا کہا پہلا آڈر ٹریپل ون برگیڈ ٹین کورکے کمانڈرمحمود خان کو تبدیل کرنے کا تھا اوران کی جگہ جنرل لیفٹینٹ جنرل سلیم کو تعینات کرنے کا کہااور دوسرا آڈر کارگل آپریشن کے اہم کردار جنرل عزیز کی جگہ جنرل اکرم کو جوائنٹ چیف آف سٹاف تعینات کرنے کا کہا گیا اب جنرل ضیاء الدین بٹ نے جنرل عزیز اور جنرل مسعود کو بھی فون ملائے لیکن بات نہ ہو سکی۔
وزیراعظم نے نئے آرمی چیف کو ہدایات کی جب جنرل مشرف سری لنکا سے واپس آئیں تو ان کو پورے پروٹوکول کے ساتھ کراچی کے ہی آرمی ہاوس میں ٹھہرایا جائے۔جنرل مشرف کی فلائٹ کراچی میں ہی اترنا تھی اب فون کراچی کے کور کمانڈر جنرل مظفر عثمانی کو فون ملایا گیا جنرل ضیاء الدین بٹ نے جنرل عثمانی کو بتایا کہ ان کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی اور اب وہ نئے آرمی چیف آف سٹاف بھی بن گئے ہیں ۔آپ ایئر پورٹ پر جائیں اور جنرل مشرف کو پورے پروٹوکول کے ساتھ لے کر آئین اور ان کو کراچی کے آرمی ہاوس میں لے کر آئیں۔اس وقت پی ٹی وی ایم ڈی یوسف بیگ مرزا جو اس وقت ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے مالک اور وزیراعظم کے مشیر بھی ہیں ۔چیئر مین پی ٹی وی نے ایم ڈی یوسف بیگ مرزا کو ایک چٹ پر لکھی خبر بھجوائی جس پر لکھا تھا کہ جنرل مشرف کو ریٹائر کردیا گیا اور جنرل ضیاء الدین بٹ کو نیا آرمی چیف تعینات کردیا گیا ہے ۔یوسف بیگ مرزا نے یہ خبر آن ایئر کرنا تھی۔اس وقت پی ٹی وی پر کشمیری خبر نامہ چل رہا تھا جس کو روک کر یہ خبر بریکنگ نیوز چلادی گئی۔یہ خبر پورے ملک نے سنی لیکن ان تین افراد نے نہ سنی جن کو جنرل مشرف نے کہا تھا کہ ایسی خبر پر نظر رکھنا ان تین جنرلز کو جنرل مشرف نے حکم دیا تھا کہ اگر حکومت ایسا کوئی اقدام کرے تو وہ میری غیر موجودگی میں حکومت کا تختہ الٹا دیں یہ تین جنرلز تھے جنرل شاہد،جنرل عزیز اور جنرل مسعود ۔
اسی دوران جنرل شاہد عزیز جو ڈی جی ایم او تھے ان کو ان کے دفتر سے فون آیا کہ سر آپ نے ٹی وی دیکھا ہے ؟جنرل مشرف کو ہٹادیا گیا اور جنرل ضیاء بٹ کو نیا آرمی چیف بنادیا ہے۔جنرل شاہد عزیز نے فون سننے کے بعد جو پہلا کام کیا وہ یہ تھا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو کہا کہ ان کا لیپ ٹاپ ان کے بھائی کے گھر بھجوادیا جائے کیونکہ اس لیپ ٹاپ میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹانے کی ساری پلائننگ موجود تھی۔اب دوسرے دونوں جنرل کہاں تھے؟جنرل عزیز اور جنرل مسعود راولپنڈی میں گولف کھیل رہے تھے ۔وہی ان کو کسی نے اطلاع کی دی کہ کمان تبدیل ہو گئی ہے پھر دونوں جنرلز حرکت میں آگئے اور طے شدہ پلائننگ پر عملدرآمدشروع کردیا۔انہوں نے پہلا فون جنرل مظفر عثمانی کو کیا جو جنرل مشرف کو کراچی ایئر پورٹ لینے جارہے تھے ۔پی ٹی وی کے ایم ڈی یوسف بیگ مرزا جو ایک بار مشرف کو ہٹانے کی خبر نشرکر چکے تھے اور اب وہ دوسری بار نشر کرنے کی تیار ی کررہی تھے ابھی وہ اسی تیاری میں تھے کہ ایک میجر اور درجن بھر فوجی اہلکار پی ٹی وی کے دفتر میں پہنچ گئے۔جو جنرلز وزیراعظم کو فتح کشمیر کے پیشگی لقب دے رہے تھے وہی وزیراعظم ہاوس ان کو گرفتار کرنے پہنچ گئے ۔۔۔جاری
saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے