Voice of Asia News

سات مقدمے چھ سکینڈلز:سیف اعوان

 
قیام پاکستان سے لے کر آج تک ملک میں ایسے ایسے عجیب و غریب واقعات رونما ہوئے ہیں جن کے متعلق نئی نسل کم ہی آشنا ہے۔یہ واقعات ایسے حیران کن ہیں کہ جن کو سن کر کوئی بھی باشعور انسان حیرت میں مبتلا ہو جاتا ہے یا کسی گہری سوچ میں گم ہو جاتا ہے۔میں یہاں آپ کی توجہ ایسے کچھ پاکستانی تاریخ واقعات کی طرف دلانا چاہتا ہوں جن کو پاکستان کے سیاست اور قوم پر بہت گہرا اثر ات مرتب ہوئے ۔ان مقدمات اور سکینڈلز کے لوگ بیشتر مرتبہ حوالے بھی دیتے ہیں ۔
ان مقدمات میں سب سے پہلا مقدمہ بھینس چوری کا مقدمہ کا ہے۔پولیس ریکارڈ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے والد چوہدری ظہور الہیٰ کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں بھینس چوری کا مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کیا گیا۔ یہ مقدمہ بعد ازاں ختم کر دیا گیا۔لیکن ایک لحاظ سے یہ مقدمہ ختم نہیں ہوا۔ نہ صرف یہ نامعلوم بلکہ گمنام بھینس پاکستان کی تاریخ کی سب سے مشہور بھینس بن گئی بلکہ اس کی مبینہ چوری کا مقدمہ بھی سیاسی گرفتاریوں کی علامت بن گیا اور آج بھی اگر کسی رہنما کو کسی مشکوک مقدمے میں گرفتار کیا جاتا ہے تو اس بھینس کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے۔کلاشنکوف لہرانے کا مقدمہ،90 کی دہائی میں پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں وفاقی وزیر شیخ رشید احمد کے خلاف کلاشنکوف لہرانے پرمقدمہ درج ہوا تھا۔ شیخ رشید کئی ٹی وی انٹرویوز میں کہہ چکے ہیں کہ وہ کھلونا کلاشنکوف تھی لیکن 10 فروری 1995کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کلاشنکوف برآمد ہونے پر شیخ رشید احمد کو سات سال قید اور دو لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ پانی چوری کا مقدمہ،سیاسی مخالفت کی بنیاد پر مختلف ادوار میں سابق گورنر پنجاب غلام مصطفیٰ کھر اور سابق صدر فاروق لغاری کے بیٹے اویس لغاری پر پانی چوری کے مقدمات بنائے گئے اور انہیں گرفتار بھی کیا گیا۔یہ مقدمے بعد میں ثابت نہ ہوئے اور عدالتوں نے انہیں بے گناہ قرار دیا۔مصطفیٰ کھر کے خلاف جنرل ضیا الحق کے دور میں 1985میں مظفر گڑھ میں جبکہ اویس لغاری کے خلاف پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 2009میں ڈیرہ غازی خان میں مقدمہ درج کیا گیا، لیکن عدالت نے جرم ثابت نہ ہونے پر دونوں مقدمات خارج کر دیے۔ دو شناختی کارڈ رکھنے کا مقدمہ،غلام مصطفی کھر کا نام ایک اور انوکھے کیس میں بھی آتا ہے اور ہوا یوں کہ 2016 میں ان کی اہلیہ نیلوفر کھر کو اس الزام میں گرفتار کر لیا گیا کہ ان کے پاس دو شناختی کارڈ کیوں ہیں۔
طیارہ ہائی جیکنگ کیس،سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے 1999میں مارشل لا لگایا اور اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو حراست میں لے لیا گیا۔ بعد میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف پر طیارہ ہائی جیکنگ کا ایک مقدمہ بنایا تھا، جس کے بعد انہیں خاندان سمیت ملک بدر کر دیا گیا۔شریف خاندان کے سعودی عرب چلے جانے پر مقدمہ داخل دفتر کر دیا گیا۔ اس مقدمے کو یوں انوکھا قرار دیا جا سکتا ہے کہ زمین پر موجود شخص پر ہوا میں محو پرواز طیارے کو ہائی جیک کرنے کا الزام لگا۔
ٹریکٹر کیس،جب ذوالفقار علی بھٹو نے ایوب خان سے راہیں الگ کیں تو 1968 میں ذوالفقار علی بھٹو پر ایک کیس بنایا گیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ انہوں نے سرکاری ٹریکٹر اپنی ذاتی زمینوں پر استعمال کر کے قومی خزانے کو دو لاکھ 13 ہزار روپے کا نقصان پہنچایا۔ یہ مقدمہ ’ٹریکٹر کیس‘ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس مقدمے پر خودجنرل ایوب خان کے لاء سیکریٹری نے کہا تھا عدالت میں یہ جرم ثابت کرنا بہت مشکل ہو گا، چنانچہ یہی ہوا اور ایک دو سماعتوں کے بعد مقدمہ خارج ہو گیا۔کرایہ نامہ جمع نہ کرانے پر مقدمہ۔سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے مشیر اور نامور کالم نگارسینئر صحافی عرفان صدیقی کو اپنے بیٹے کے مکان کا کرایہ نامہ تھانے میں جمع نہ کرانے پر کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر گرفتار کر لیا گیا، تاہم اگلے ہی دن عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دے دیا۔
پاکستان کی تاریخ کے 6بڑے سکینڈلز
1راولپنڈی سازش کیس
راولپنڈی سازش کیس جو پاکستان کی تاریخ میں پہلی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش تھی جو 1951میں کی گئی۔سازش میں جنرل اکبر خان سمیت 11فوجی اور چار سو یلین شامل تھے۔مبینہ طور پر سازش یہ تھی کہ لیاقت علی خان کی حکومت کاتختہ الٹاکر ملک میں کمیونسٹ نظام رائج کیا جائے۔اس مقصد کیلئے روس اور چین کے سفارتی عملے سے رابطے کیے گئے ۔لیکن چین اور روس نے اس سازش میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ابھی سازش کے تانے بانے ہی بن رہے تھے کہ اس سازشی گروہ میں سے ایک ساتھی نے سازش کا راز فاش کردیا۔راز فاش ہونے کے بعد جنرل اکبر خان ساتھیوں سمیت گرفتار ہو گئے ۔ان گرفتار ہونے والے افراد میں نامور شاعر فیض احمد فیض بھی شامل تھے۔’’یاد رہے آج پاکستان بھر میں فیض احمد فیض کو جمہوریت پسند شاعر ہونے کے ناطے بڑی بڑی شخصیات اپنا پسندیدہ شاعر بھی قراردیتی ہے اور اپنی تقریروں میں فیض احمد فیض کے شعر بھی پڑھتی ہیں‘‘۔کیس چلنے کے بعد زیادہ لوگ وعدہ معاف گواہ بن گئے ۔جس میں ملزموں کو قید کی سزائیں سنائی گئی۔یہ سازش راولپنڈی میں تیار ہوئی تھی اس لیے اس کیس کو راولپنڈی سازش کیس کے نام سے یاد کیا جا تا ہے۔
2اگرتلہ سازش کیس
پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا اور اہم ترین کیس اگرتلہ سازش کیس ہے۔1968میں عوامی لیگ کے سربراہ شیخ مجیب الرحمن کے نمائندوں کی ملاقات بھارتی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں سے بھارتی علاقے اگرتلہ میں ہوئی۔اس ملاقات میں شیخ مجیب الرحمن نے پاکستان سے علیحدگی کیلئے بھارت سے مدد مانگی تھی۔’’مشرقی پاکستان میں آئی ایس آئی کے سربراہ شمس العالم نے اس سازش کو بے نقاب کردیا‘‘۔سازش بے نقاب ہونے کے بعد شیخ مجیب الرحمن اور ان کے 34ساتھیوں کو گرفتار کرلیا گیا لیکن صرف ایک سال بعد سیاسی دباؤ زیادہ بڑھنے کی وجہ سے شیخ مجیب الرحمن کو رہا کردیا گیا۔
3آپریشن مڈ نائٹ جیکال
1989میں آئی ایس آئی کے کچھ حاضر ڈیوٹی افسروں نے پیپلزپارٹی کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی ۔آئی بی نے برگیڈیئر امتیاز کی کچھ فون کالز ٹیپ کی جن میں اس سازش کا راز فاش ہوا۔’’بعد میں آئی ایس آئی کے ہی ایک سٹنگ آپریشن نے یہ سازش ناکام کردی‘‘۔لیکن کچھ عرصے بعد برگیڈ یئر امتیار علی کا ایک بیان سامنے آیا کہ اس سازش کے اصل ذمہ دار اس وقت کے صدر اسحاق خان ،جنرل اسلم بیگ اور جنرل حمید گل تھے۔
4مہران گیٹ سکینڈل
1990کے الیکشن میں پیپلزپارٹی کواقتدار سے دور رکھنے کیلئے کچھ سیاستدانوں کو رشوتیں دی گئی۔جنرل اسلم بیگ کی ایماء پر جنرل اسد درانی اور جاوید ناصر نے مہران بینک کے مالک یونس حبیب کے ذریعے مختلف سیاسی شخصیات میں رقوم تقسیم کی تاکہ آئی جے آئی کو اقتدار میں لایا جا سکے۔اصغر خان کیس کے مطابق اسلم بیگ،نوازشریف،شہبازشریف،الطاف حسین،جاوید ہاشمی اور اعجاز الحق نے یہ رقم وصول کی۔اصغر خان کیس کے تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی فوج کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔
5میمو گیٹ سکینڈل
امریکہ میں پاکستان کے سفیر حسین حقانی نے امریکی جنرل مائیک مولن کو ایک خط لکھا کہ ایبٹ آباد آپریشن کے بعد فوج جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے جارہی ہے۔امریکہ اس میں مداخلت کرکے فوج کو روکے۔حسین حقانی نے پاکستانی نژاد امریکی بزنس مین منصور اعجاز کے ذریعے یہ خط بھیجا تھا ۔منصور اعجاز نے امریکی اخبار فنانشل ٹائم میں آرٹیکل لکھ کر یہ راز فاش کردیا جس پر پاکستان میں سیاسی بھونچال برپا ہو گیا ۔نتیجے میں حسین حقانی کو سفارتی عہدے سے ہٹادیا گیا اور ان پر مقدمہ چلا۔لیکن حسین حقانی ملک چھوڑ کر امریکہ چلے گئے ۔حسین حقانی آج تک امریکہ میں موجود ہیں۔سول ملٹری تعلقات کے حوالے سے یہ پاکستان کا بہت بڑا سکینڈل تھا۔
6پاناما سکینڈل
صحافیوں کی عالمی تنظیم آئی سی آئی جے کی جانب سے 2016میں پاناما پیپر ز شائع ہوئے ۔ان پیپرز نے پاکستان سمیت پوری دنیا میں طوفان برپا کردیا۔میں یہاں پوری دنیا کی تفصیل نہیں بتانا چاہتا لیکن پاکستان میں پاناما پیپرز میں شریف فیملی کے ساتھ ساتھ چار سو لوگوں کے نام شامل تھے۔ان پیپرز میں ملک کے نامور لوگوں کی آف شورز کمپنیوں کا ذکر تھا۔ان پیپرز میں چار سولوگوں کے نام تھے جن میں بڑے بڑے بزنس مین،سیاستدان اور دیگر شعبے کے لوگ شامل تھے۔لیکن ان پاناما پیپرز سکینڈل سے سب سے زیادہ متاثر حکمران خاندان مطلب شریف خاندان ہی متاثر ہوا۔پاناما پیپرز پر عمران خان نے پہلے سڑکوں پر تحریک چلائی 126دن کادھرنہ دیااور پھر عدالتوں میں چلے گئے۔اعلی عدلیہ نے ایک جے آئی ٹی بنائی جس کے سربراہ واجد ضیاء تھے۔’’وہی واجد ضیاء جو آج کل فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے)کے سربراہ ہیں‘‘۔جے آئی ٹی رپورٹ میں نوازشریف کے ایک اقامے کابھی ذکر نکل آیا۔اقامے پر 28جولائی 2017کو عدالت نے منتخب وزیر اعظم کو نااہل قراردے دیا اور اسی کیس میں وزیراعظم نوازشریف کی بیٹی مریم نواز جو پہلے کبھی کسی سیاسی عہدے پرنہیں رہی تھی ان کو بھی نا اہل قراردے دیا۔ ان کے ساتھ نوازشریف کے داما اور مریم نواز کے شوہر کیپٹن صفدر کو بھی جیل کی سزا سنائی گئی۔تاہم پاناما پیپرز میں دیگر جن لوگوں کے نام شامل تھے عدالت نے ان میں زیادہ دلچسپی نہ دیکھائی۔

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے