Voice of Asia News

ریلیف پیکج کے نام پر دھوکہ :راجہ حسن اختر

 
تقریبا ہر حکومت عوام کو ریلیف پیکج دیتی آئی ہیں-عوامی خدمت کے دعوے کو سچ ثابت کرنے کے لیے ہر حکومت مختلف اشیاء پر ریلیف پیکج کا اعلان کرتی ہے – یہ ریلیف کبھی بجلی کے بلوں پر ہوتا ہے تو کبھی یہ ریلیف پیکج اشیاء خوردونوش پر ہوتا ہے – کبھی کبھی کسانوں کو کھادوں اور بیج پر بھی ریلیف دیا جاتا ہے – اسی طرح گھریلو صارفین کے لیے حکومتیں نت نئے پیکج کا اعلان کرتی رہتی ہیں اور پھر ان ریلیف پیکج کا احسان جتلانے کے لیے میڈیا پر خوب اشتہاری مہم چلائی جاتی ہے اور کئی مرتبہ تو اشتہاری مہم پر اٹھنے والے اخراجات ریلیف پیکج سے زیادہ ہونے کا تاثر ابھرتا ہے – ہر حکومت ، ہر سیاسی جماعت اپنے ووٹرز ، سپورٹرز اور عوام کو بس دھوکہ دے رہی ہوتی ہیں- آئیے ہم موجودہ حکومت کے یوٹیلٹی سٹور پر دئیے جانے والے ریلیف پیکج کا جائزہ لیتے ہیں – یوٹیلٹی سٹورز کاپروریشن جس کا ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں ہے اس کے تقریبا 5 ہزار 9 سو 39 آؤٹ لٹس ہیں- پاکستان کو 9 زون سے 63 ریجن میں تقسیم کیاگیا ایک نیٹ ورک ہے ، اس سارے نیٹ ورک میں بے شمار یوٹیلٹی سٹورز بند پڑے ہیں اور بے شمار ایسے یوٹیلٹی سٹورز ایسے ہیں جو خالی پڑے ہیں- ان سٹورز پر غیر معیاری اشیاء کی بھرمار ہوتی ہے جن اشیاء پر ریلیف دیا جاتا ہے ان اشیاء کی قیمتیں پہلے بڑھائی جاتی ہیں اور پھر قیمت بڑھانے کے بعد اس میں کچھ کمی کردی جاتی ہے ، عوام بے چارے سمجھتے ہیں کہ ریلیف دیا جارہا ہے بلکہ ہوتا یہ ہے کہ غیر معیاری اور آؤٹ ڈیٹڈ مال مہنگے داموں غریب عوام کو بیچ دیا جاتا ہے اور عوام پھر اس کا احسان بھی جتلایا جاتا ہے – پچھلے دنوں موجودہ حکومت نے سات بلین سے زیادہ کا ریلیف پیکج کا اعلان کیا اس میں آٹا گھی اور چینی کی قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی مگر دیگر اشیاء اسی طرح مہنگے داموں فروخت ہوتی نظر آتی ہیں ، لوگوں کو ریلیف پیکج کے اعلان سے خوشی کا احساس ہوتا ہے مگر جب وہ یوٹیلٹی سٹورز پر نئی قیمتیں دیکھتے ہیں تو ان کی امیدوں پر اوس پڑ جاتی ہے – یوٹیلٹی سٹورز کاپوریشن وفاقی حکومت کے تحت کام کررہا ہوتا ہے اور یہ ادارہ ہمیہش غیر معیاری اشیاء پر بوسیدہ ریلیف دینے میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا-میں یہ سمجھتا ہوں کہ وفاقی کابینہ کے اجلاسوں میں عوام کی عزت نفس کے ساتھ کھیلا جاتاہے اتنے بڑے فورم پر غربت کی بات اور پھر ریلیف کا چرچا ہوتا ہے مگر جب آپ حقیقت میں خریداری کے لیے آپ کسی سٹور پر جاتے ہیں تو مایوسی ہوتی ہے -اربوں روپے کے ریلیف پیکج دینے کے باجود عوام کے معیاری زندگی پر کوئی فرق نہیں پڑتا اور نہ ہی حقیقت میں ایسے پیکج کوئی ریلیف دے رہے ہوتے ہیں یہ صرف الفاظ کا گورکھ دھندہ اور اعداد کی کرشمہ سازی ہوتی ہے – عام شہری، غریب طبقہ اور نتخواہ دار طبقہ یہی سمجھتا ہے حکومت ریلیف دے رہی ہے مگر الٹا عوام کو لینے کے دینے پڑ رہے ہوتے ہیں- ہوتا یہ ہے کہ اشیاء خوردونوش پر ریلیف دے کر پیٹرول کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں اور اگر پیٹرول پر ریلیف دیا تو بجلی کے بل بڑھا کر خسار پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے – حقیقت میں رگڑا عوام کو ہی لگ رہا ہوتا ہے – ہماری لیڈر شپ تو مزے کی زندگی گذار رہی ہوتی ہے کئی لیڈروں کا پینے کا پانی بھی یورپ سے آتا ہے ، اور اگر وہ بیمار پڑ جائے تو علاج کے لیے پھر امریکہ یا لندن چلے جاتے ہیں- پرفیوم یہ فرانس کا استعمال کرتے ہیں اور کپڑے اپنے امریکہ سے درآمد کرتے ہیں مگر ریلیف عوام کو دیتے ہیں ایک جیب کو ریلیف دے کر دوسری جیب سے سارا مال نکال دیتے ہیں یہ ہے وہ لیڈر شپ جو عوام کے دکھ اور درد کا زم بھرتی رہتی ہے اور عوام کی خدمت کا جذبہ لے کر پروٹوکول کا مزہ لیتے ہیں-کوئی بھی حکومت ہو جیسی بھی حکومت ہو لوٹتے عوام کو ہیں خود عیش و عشرتکی زندگی گذارتے ہیں 22 کرور عوام کے لیے 7 ارب کا ریلیف پیکج اس حساب سے اگر اس 7 ارب کو 22 پر تقسیم کیا جائے تو یہ دس روپے بھی نہیں بنتے اب آپ خود اندازہ کریں مہنگائی کا طوفان کس تیزی کے ساتھ آتا ہے اور کتنی شدت کے ساتھ آتا ہے اور اس کے مقابلے کے لیے حکومت کا ریلیف پیکج کیا حیثیت رکھتا ہے – یہ ریلیف پیکج، یہ سستی روٹی، اور یہ لنگر خانے یا رکھیں عوام کو کبھی ریلیف نہیں دیں گے بلکہ یہ تمام ریلیف پیکج اس قوم کو بھکاری بنا دیں گے – ہمارے حکمرانوں نے ہمیں بھکاری پن سکھایا ہے ، خود بھی مانگتے ہیں اور اس مانگے ہوئے پیسوں کو تھوڑا سا عوام کو بھی دے دیتے ہیں یا د رکھیں ریلیف لینے والی قومیں کبھی اپنے پاؤں پر کھڑی نہیں ہوسکتی ، وہ بھکاری تو بن سکتی ہیں وہ اپنے پاؤں پر کھڑا نہیں ہوسکیں گی –
rajahassanakhtar@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے