Voice of Asia News

جنرل باجوہ اور امریکہ طالبان امن معاہدہ: سیف اعوان

امریکہ کا 7اکتوبر 2001کو افغانستان فتح کرنے کا مشن 29فروری 2020کو 19سال بعد ختم ہو گیا۔ہم افغانستان کو پتھر کے زمانے میں دھکیل دیں گے۔ہم پندرہ دن میں پورے افغانستان کو تباہ کردیں گے ۔یہ تھے امریکی صدر جارج بش اور ڈونلڈٹرمپ کے افغانستان کے متعلق بیانات۔لیکن 19سال بعد امریکہ خود افغانستان سے فرار ہوگیا۔سابق امریکی صدر جارج بش نے افغانستان میں داخل ہونے کی جو تاریخی غلطی کی موجودہ امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے بلآخر اس غلطی کو سدھارا دیا۔امریکہ گزشتہ 19سالوں سے افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوششوں میں لگاتھا لیکن یہ امریکہ کی بدقسمتی سمجھیں یا بیوقوفی سمجھیں۔جیسے امریکہ افغانستان جیسے پتھروں والے ملک میں کوئی خزانہ تلاش کرنے آیا تھا ۔یاد رہے اسی خزانے کی تلاش میں روس نے بھی افغانستان کا روخ کیا تھا لیکن روس کو افغانستان داخل ہونابہت مہنگا پڑا ۔روس کا انجام امریکہ سمیت پوری دنیا کے سامنے ہے۔امریکہ کیلئے اچھی بات یہ ہے کہ افغانستان سے نکلتے ہوئے اس کا انجام روس جیسا نہیں ہوا لیکن امریکہ کا افغان جنگ میں جو نقصان ہوا وہ روس سے کم بھی نہیں ہے۔
میں ابھی تک یہی سوچ رہا ہوں جب دوحہ میں طالبا ن نے امریکہ کے ساتھ معاہد ہونے کے بعد’’ اﷲ ہو اکبر اﷲ ہو اکبر‘‘ کے نعرے لگائے ہونگے اس وقت امریکہ سمیت ہال میں موجود 50ممالک کے نمائندوں پر کیا وجد طاری ہو گا ۔ایک بات تو طے ہے کہ امریکہ و طالبان کے درمیان امن معاہدے میں ہماری آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا رول نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔جنرل باجوہ نے پوری دنیا کو پیغام دے دیا ہے کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے اور پاکستان افغانستان میں امن چاہتا ہے۔جنرل باجوہ سچ میں اس وقت عالمی دنیا میں ایک پر امن اور طاقتور ہیرو کا درجہ اختیار کرچکے ہیں۔امریکہ کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اگر پاکستان طالبا ن اور امریکہ کے درمیان معاہدے میں تعاون نہ کرتا تو یہ آج یہ امن معاہدہ کسی صورت طے نہ پاتا۔امریکہ کے نمائندے خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد اور امریکہ کی جنوبی اور وسط ایشیائی امور کی نائب سیکرٹری ایلس ویلز نے گزشتہ ایک سال کے دوران جتنے پاکستان کے چکر کاٹے شاید ہی ان دو شخصیات نے دنیا کے کسی اور ملک کے چکر کاٹے ہونگے۔اسی دوران ایلس ویلز نے سی پیک کے خلاف ایک متنازعہ بیان بھی دیا جس کا چین کی جانب سے شدید ردعمل بھی دیا گیا ۔ایلس ویلز نے 22نومبر 2019کو واشنگٹن ڈی سی میں تھینک ٹیک ولس سینٹر میں ایک تقریر کے دوران نے کہا تھا کہ چین اس وقت دنیا میں قرضے دینے والا سب سے بڑا ملک ہے تاہم یہ قرضے دینے کی اپنی شرائط کو شائع نہیں کرتا جس کی وجہ سے پاکستانیوں کو سی پیک کے حوالے سے چینی سرمایہ کاری پر سوالات اٹھانے چاہیں۔ سی پیک کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو اس وقت نقصان پہنچے گا جب چار سے چھ سال بعد پاکستان کو قرضوں کی مد میں ادائیگیاں کرنا پڑیں گی۔ اگر یہ ادائیگیاں موخر بھی کر دی گئیں تب بھی یہ پاکستان کی معاشی ترقی پر منڈلاتی رہیں گی۔اس کے جواب میں پاکستان میں چینی سفیر یاؤ جِنگ نے ایک تقریب میں خطاب کے دوران کہا ہے کہ سی پیک پاکستان اور چین دونوں کے مفاد میں ہے اور دونوں ممالک میں میڈیا کو سی پیک کے حوالے سے منفی پروپیگنڈے کا مقابلہ کرنا چاہیے۔چین نے سیاسی مقاصد یا مخصوص حکومتوں سے بالاتر ہو کر ہمیشہ پاکستان کی مدد کی ہے اور کبھی بھی ایسے وقت پر پاکستان سے ادائیگی کا تقاضا نہیں کریں گے جب ایسا کرنا پاکستان کے لیے مشکل ہو۔ دوسری جانب یہ آئی ایم ایف ہے جس کی قرضوں کی ادائیگی کا سخت نظام ہوتا ہے۔چینی سفیر نے سوال اٹھایا کہ ’جب 2013 میں پاکستان میں تونائی کا شدید بحران تھا اور چین پاکستان میں پاور پلانٹس لگا رہا تھا تو اس وقت امریکہ کہاں تھا۔ امریکی کمپنیوں نے اس وقت وہاں پر پاور پلانٹ کیوں نہیں لگائے؟‘ امریکہ نے پاکستان کو امداد اپنی سیاسی ترجیحات کی بنیاد پر معطل کیوں کی ہے؟۔
امریکہ کی ان سب باتوں کے باوجود پاکستان نے فراخ دلی کا مظاہرہ کیا اور افغانستان میں قیام امن کیلئے تمام وہ کوششیں کی جو دنیا کا کوئی اور ملک نہ کرسکا۔پاکستان نے ایک ایسے وقت میں لیڈنگ رول ادا کیا ہے جب بھارت پوری دنیا میں پاکستان کی غلط تصویر پیش کرنے میں مصروف عمل تھا لیکن پاکستان کی بہتر حکمت عملی کی بدولت بھارت کو ذلت اور رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوا۔پاکستان نے امریکہ اور طالبان کے درمیان امن معاہدے میں ایک حقیقی سہولت کار کا کردار ادا کیا ہے ۔امریکہ سمیت دنیا کے تمام بڑے اور طاقتور ممالک کو پاکستان کی اہمیت اور طاقت کا اندازہ باخوبی ہو چکا ہے۔پاکستان سے بڑا دل کسی اور ملک کا کیا ہو سکتا ہے جو گزشتہ کئی دہائیوں سے چالیس لاکھ افغان مہاجرین کو پناہ دیے ہوئے ہیں ۔ان افغان مہاجرین سے بیس لاکھ لوگ تو واپس افغانستان چلے گئے ہیں لیکن بیس لاکھ افغان مہاجرین ابھی بھی پاکستان میں موجود ہیں۔پاکستان کی فراخ دلی کا اعتراف اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نے اپنے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران بھی کیا۔قوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی عالمی کانفرنس میں شرکت پاکستان کی جانب سے افغان مہاجرین کی چاردہائیوں سے جاری مثالی مہمان نوازی اور کشادہ دلی سے کی گئی میزبانی اور افغانستان میں امن واستحکام کے قیام کے لئے ہماری کوششوں کے عزم کا اعتراف ہے۔پاکستان اقوام متحدہ کا بھرپور حامی رہا ہے اورپاکستان نے ہمیشہ اقوام متحدہ کے عالمی امن وسلامتی، دنیا میں پائیدار ترقی کے حصول کے اہداف کے لئے مثالی کردار ادا کیا ہے۔
یہاں میں کچھ امریکہ اور افغان جنگ کے دوران امریکہ کا جو 19سال میں نقصان ہوا وہ لازمی بیان کرنا چاہوگا۔نقصانات کا تخمینہ امریکہ کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق ہے جس کی دوہزار صفحات پر مشتمل ایک خفیہ دستاویز پر مبنی رپورٹ تیار کی گئی اور یہ رپورٹ امریکہ کے مشہور اخبار واشنگٹن پوست کے ہاتھ لگ گئی ۔بعدازراں یہ رپورٹ میرے ایک قریبی دوست انٹر نیشنل امور کے ماہر و صحافی اسامہ طیب کے پاس بھی آئی گئی جن کی بدولت اس رپورٹ کے کچھ اہم اور چیدہ چیدہ نکات مجھ تک بھی پہنچ گئے ۔رپورٹ کے مطابق امریکہ کو معلوم تھا کہ افغان جنگ جیتی نہیں جا سکتی لیکن امریکی حکومتوں نے امریکی عوام کے ساتھ مسلسل جھوٹ بولا،امریکی حکومتوں نے پھر بھی واضح اور ناقابل تردید ثبوت چھپائے۔اس رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکہ کیسے افغان جنگ کی دلدل میں گھسا اور تین صدور جارج بش،اوباما اور ٹرمپ اور ان کے ملٹری کمانڈوز اپنے عزائم اور وعدوں کی تکمیل میں کیسے ناکام ہوئے۔کابل میں امریکی فوجی ہیڈکوارٹر اور وائٹ ہاؤس میں اتفاق تھا کہ اعدادوشمار اور حقائق کو اس طرح توڑ مروڑ کے پیش کیا جائے گا جس سے ظاہر ہو کہ امریکہ جنگ جیت رہا ہے۔امریکہ نے افغانستان کو ایک جدید قوم بنانے ،تعمیر و ترقی اور استحکام کیلئے اور افغان فوج اور پولیس کو جدید بنانے کیلئے انتہائی خطیر رقم خرچ کی لیکن اس رقم کا حساب نہیں مانگا گیا۔افغان جنگ میں امریکہ اب تک 978ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے اس میں سی آئی اے کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔ایک ٹریلین ڈالر خرچ کرکے ہم نے کیا حاصل کیا؟ اسامہ بن لادن سمندر میں اپنی قبر میں ہم پر ہنستا ہوگا کہ ہم نے افغانستان پر اربوں ڈالر خرچ کردیے۔جارج بش اور اوباما دور کے امریکی نمائندے خصوصی جیمز ایلز کے مطابق ہم انتہا پسند ملکوں پر حملہ کرتے ہیں تاکہ ہم انہیں پر امن ملک بناسکیں لیکن ہم واضح طور پر افغانستان میں ناکام ہو چکے ہیں۔امریکی حکام میں چند ان باتوں پر اختلاف تھا کہ کچھ افغانستان میں جمہوریت بحال کرنا چاہتے تھے کچھ افغان ثقافت کو تبدیل اور کچھ خواتین کو حقوق دینا چاہتے تھے بعض چاہتے تھے کہ پاکستان ،بھارت ،ایران اور روس کے درمیان طاقت کے توازن کو تبدیل کیا جائے۔امریکی جنرلز امریکی عوام سے مسلسل جھوٹ بولتے رہے ہیں افغان آرمی اور پولیس مسلسل بہتر ہو رہی ہے لیکن حقائق اس کے برعکس تھے۔افغانستان میں انسداد منشیات کیلئے امریکہ نے 9ارب ڈالر خرچ کردیے لیکن بدترین ناکامی ہوئی افغان کسان پہلے سے زیادہ افیون کاشت کررہے ہیں ۔جنرل مائیکل کہنے پر مجبور ہو گئے کہ فوجی اور سول حکمت عملی خامیوں سے بھرپور رہی اور ہم سوچنے پر مجبور ہو جاتے تھے کہ اگر سب ٹھیک ہے تو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم افغان جنگ ہار رہے ہیں۔

saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے