Voice of Asia News

بھارتی ظلم کا شکار مقبوضہ جموں وکشمیر:اسرار احمد چغتائی

کشمیر محض ایک زمین کا ٹکڑا ہی نہیں ہے بلکہ اس دنیا میں جنت نظیر خطہ ہے جو اپنے خوبصورت دریاؤں، شفاف اور جگمگاتی جھیلوں اور آبشاروں سے ستاروں کی مانند برستے جھرنوں، گل رنگ و گل رخ کشمیریوں اور وہاں کی پاک حسین تہذیب و معاشرت کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہے۔ لیکن 72سال سے زاید یہی جنت نظیرخطہ انگریزوں اور ہندو بننے کی ساز باز اور 90 فیصد سے زائد مسلم آبادی پر مسلط ہند مہاراجے کے غلط اور غیر منصفانہ فیصلے کے نتیجے میں جہنم بن چکاہے ۔مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ آج بھی آزادی کی صبح کے متلاشی ہیں۔ جہاں پھولوں کی خوشبوں کی بجائے بارود کی ہمک غالب ہے، جہاں کی سرزمین پھولوں کی رنگینی کی بجائے کشمیریوں کے خون سے رنگیں ہو چکی ہے۔ بھارتی حکومت نے کشمیریوں کا عرصہ حیات تنگ کرنے کیلئے جموں کے انتہا پسندوہندوؤں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے، انہوں نے ایک طویل عرصہ کشمیریوں کی اقتصادی ناکہ بندی کر رکھی ہے جس کی وجہ سے کشمیریوں کے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہو چکے ہیں اور اب جبکہ کشمیری ہندوؤں کے ظلم وستم کے خلاف سراپا احتجاج ہزاروں کشمیریوں کوبھارتی فوج نے بیلٹ گن سے فائرنگ کر کے آنکھوں سے محروم کیاہے مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 72برسوں میں ہزاروں کشمیری اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر چکے ہیں لیکن ان قربانیوں سے ہمیشہ کشمیر کازکوتقویت ہی حاصل ہوئی ہے۔ کشمیریوں کے خون کی آبیاری سے کشمیر کی جدوجہد آزادی کا پودا اب تک تناور درخت بن چکا ہے۔قیام پاکستان کے وقت تو انتہا پسند ہندوؤں کے ساتھ برطانوی سامراج کی قوت بھی تھی لیکن کرشمہ وقوع پذیر ہو کر رہا کہ دنیا کے نقشے پر ایک نظریے کی بنیاد پر نئی مملکت نمودار ہو گئی۔ پاکستان بننے کے بعد کشمیریوں کیلئے آزادی کی منزل کا حصول زیادہ آسان تھا مگر کچھ اپنوں کی کمزوری اور کچھ غیروں کی سازشوں نے اسے 72 برس گزرنے کے بعد اوربھی زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔
امریکا اور اسرائیل کی سرپرستی اور پشت پناہی کی بدولت بھارتی حکومت نے گزشتہ سال پانچ اگست کو مقبوضہ جموں وکشمیر کی تحریکِ آزادی کو سبوتاژ کرکے مقبوضہ جموں وکشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ بنالیاہے۔ نریندرمودی نے اپنے انتخابی منشور کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 اے کو ختم کردیا ہے۔خصوصی آرٹیکل ختم کرنے کے بعد مقبوضہ کشمیر اب ریاست نہیں بلکہ وفاقی اکائی کہلائے گا، جس کی قانون ساز اسمبلی ہوگی۔ اس سے قبل اِس آرٹیکل کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائداد نہیں خرید سکتا تھا۔ اس کے ساتھ سرکاری نوکریوں اور ریاستی اسمبلی کیلئے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق بھی صرف کشمیری باشندوں کو حاصل تھا۔لیکن اب آئین کی شق 370 اور 35 اے کو منسوخی کرکے مقبوضہ جموں و کشمیر کو آبادی، جغرافیہ اور مذہبی لحاظ سے تبدیل کرنے کے منصوبے پر عمل درآمد شروع ہوچکا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت ختم ہوجائے گی، اور اب وہاں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بسانے کا عمل تیز ہوجائے گا۔ اِس وقت مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی انتظامیہ نے پانچ اگست سے وسیع پیمانے پر کرفیو نافذ کرکے لوگوں کی نقل و حرکت اور عوامی جلسوں اور جلوسوں کے انعقاد پر مکمل طور پر پابندی عائد کردی ہے۔ تمام تعلیمی اداروں کو بند ہیں جبکہ پورے جموں وکشمیرمیں انٹرنیٹ سروس بھی معطل ہے۔کشمیر میں کرفیو نافذ ہوئے 225سے زاید دن گز چکے ہیں۔کشمیریوں پر بھارتی ریاستی دہشت گردی اور ظلم کی ہر حد کو پار کیا جارہا ہے اور کشمیریوں کی نشل کشی کرنے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔نریندرمودی نے مقبوضہ کشمیر میں مسلسل کرفیو لگایا ہی اس لئے ہے اور وہاں پر آر ایس ایس کے غنڈے اور بھارتی فوجی اسی لئے بدترین مظالم کررہے ہیں کہ دنیا کی توجہ اصل مسئلے سقوط کشمیر سے ہٹائی جاسکے ۔پاکستان کو چاہیے کہ دنیا کو بتائے بھارت کو مقبوضہ وادی میں 9 لاکھ فوج اس لئے رکھنے کی ضرورت پڑ رہی ہے کہ کشمیری بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ اس حریت پسندی کو کچلنے کیلئے بھارت نے وہاں پر بہیمانہ تشدد کا بازار گرم کردیا ہے۔ بھارت مقبوضہ جموں و کشمیر میں گزشتہ 72 سال سے بے رحمی اور ڈھٹائی کے ساتھ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیریوں کا بے دریغ خون بہا رہا ہے ۔کشمیریوں کے اس قتل عام پر اقوام متحدہ اور عالمی طاقتیں بھارت کے ساتھ کھڑی ہیں جبکہ اوآئی سی ایک مردہ ادارے کی صورت میں سامنے موجود ہے۔
ستم ظریفی یہ ہے کہ دنیا بھر میں کیڑے مکوڑوں کی طرح پھیلی ہوئی انسانی حقوق کے تحفظ کی تنظمیں اگر کسی ملک میں کسی ایک شخص پر ہی جائزو ناجائز علم کی اطلاع پاتی ہیں تو چیخنا چلانا شروع کر دیتی ہے لیکن بھارت کے زیر تسلط وادی کشمیریوں میں بے گناہ کشمیریوں پر توڑے جانے والے ظلم و ستم کا سلسلہ 72 سال سے دراز ہے لیکن انسانی حقوق کی تحفظ کی تنظیمیں اور دنیا بھر کے ملک خاموشی کے ساتھ یہ تماشا دیکھ رہے ہیں اور عالمی میڈیا کو بھی بھارتی سکیورٹی فورسز کا ظلم و تشدد نظر نہیں آتا۔
مسئلہ کشمیر کو اکتوبر 1947 میں بھارت کے شاطر وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہروخود اقوام متحدہ میں لے کر گئے تھے۔اور انہوں نے اقوام متحدہ میں کہا تھا کہ کشمیر میں رائے شماری کرائی جائے ۔اس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کشمیر میں جنگ بندی کرادی تھی اور اقوام متحدہ نے قرار داد منظور کی تھی کہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دیاجائے۔بھارتی حکومت نے جنگ بندی پر عملدرآمد کے آغاز پر ہی اپنی فوج بھارتی فضائیہ کے طیاروں کے ذریعے کشمیر میں پہنچانا شروع کر دی تھی ۔اور جب بھارت نے اپنی فوجی پوزیشن مضبوط کر لی تو بھارت کے شاطر وزیراعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے ریاست میں رائے شماری کا اپنا وعدہ نت نئی تاویلات میں الجھا کر رکھ دیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ نا صرف اقوام عالم کے سامنے عالمی ادارے کے رو برو کیا گیا وعدہ فراموش کردیا بلکہ جموں وکشمیر کو اپنا جز ولاینفک قرار دینے کی رٹ لگانا شروع کر دی۔اقوام متحدہ کشمیریوں کو حق خودارادیت دلوانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔اس کے برعکس انڈونیشیا کے جزیرے تمور کی عیسائی اکثریت نے آزادی کا مطالبہ کیا تو اقوام متحدہ نے 6ماہ کے اندر اندر رائے شماری کرا کے جزیرہ عیسائیوں کے حوالے کر دیاتھا۔ ان واقعات سے صاف ظاہر ہے کہ اقوام متحدہ بڑی عالمی طاقتیں اور عالمی میڈیا اور تمام نام نہاد حقوق انسانی کی تنظیمیں جانبدار ہیں۔بھارت خود کو سیکولو یالا مذہب ریاست کہتا ہے حالانکہ بھارت میں انتہا درجہ کا مذہبی تعصب پایا جاتا ہے اور یہاں مسلمان، عیسائی، سکھ سمیت تمام اقلیتی مذاہب کے لوگ ہندوؤں کے تعصب کا شکار رہتے ہیں اس وقت بھارت میں تقریباً 67 آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔آزادی ہر انسان کا حق ہے اور اگر کشمیری اپنے وطن کی آزادی کی جدوجہد کر رہے ہیں تو ساری دنیا کو ان کا ساتھ دینا چاہیے۔
مسلم ممالک کے حکمران اگر اسلامی غیرت کا مظاہرہ کریں توبھارت گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجائے گا۔ لیکن اپنے مفادات کے سامنے کشمیریوں کے خون کی کوئی حقیقت نہیں۔ بھارت کو بھی مسلم ممالک کی بے غیرتی کا خوب اندازہ ہے۔ اگر 72برس سے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ کہا جا رہا تھا تو آج اسے دشمن کے مکمل قبضے میں دیکھ کر اطمینان کیوں ہے۔ اسے چھڑانے کیلئے بے چین کیوں نہیں ہیں۔ احتجاج، مطالبے اور مظاہرے کرنا حکمرانوں کا کام نہیں ہوتا ہے۔ ہمت ہے تو اقدام کریں ورنہ استعفیٰ دے کر گھر جائیں پاکستان کو مجاہد قیادت کی ضرورت ہے۔ کیونکہ کشمیر مذاکرات اور بیانات سے آزاد نہیں ہو گا بلکہ کشمیر کی آزادی کا راز صرف اور صرف جہاد میں ہی مضمر ہے۔
asrarchughtai007@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے