Voice of Asia News

کورونا وائرس کو شکست دینے کیلئے متحد ہو جائے:تحریر: پرویز اختر وٹو

کورونا وائرس نے دُنیا کے 180 سے زایدممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اس مہلک وائرس سے چین‘ اٹلی اور ایران سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جبکہ فرانس‘ برطانیہ‘ سپین اور امریکہ میں اس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے ،دُنیا بھر میں ہر وہ تقریب منسوخ کر دی گئی ہے جس میں لوگ بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں،شاپنگ مالز،شادی ہال ،ریسٹورنٹس، سینما ہالز،جم،پارک،کلب اور سماجی تقریبات پر بندش عاید ہو چکی ہے ۔کورونا وائرس نے پوری دُنیا کی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔کورونا وائرس کی وبا ہمارے دیرینہ دوست اور ہمسایہ ملک چین کے صوبے ووہان میں پھوٹی۔ حکومت نے ایک سخت فیصلہ کیا اور وہاں موجود پاکستانی طلبا اور تاجروں کو ملک واپس لانے سے انکار کر دیا۔ اس انکار کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ چین ان پاکستانیوں کی نگہداشت پر رضا مند تھا۔دوسری طرف ایران میں زیارات کیلئے گئے ہزاروں پاکستانیوں کا معاملہ ہے۔ ایران میں کورونا وائرس شدت پکڑ چکا ہے۔ بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے ایران اس قابل نہیں کہ ہزاروں غیر ملکی زائرین کو زیادہ عرصہ اپنے ہاں ٹھہرا سکے۔ ایران کی اس مجبوری کے باعث پاکستانی حکومت کو زائرین کی واپسی کی اجازت دینا پڑی۔ ابتدا ء میں سرحدوں،ایئر پورٹوں اور ریلوے سٹیشنوں پر سکریننگ کر کے متاثرہ افراد کا پتہ لگایا گیا تاہم بعدازاں بہت سے زائرین بغیر ضروری معائنہ اپنے گھروں کو لوٹ گئے جس کی وجہ سے کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھنے لگی۔ پورے خطے میں کورونا کی وبا کو دیکھیں تو پاکستان میں اس کے اثرات اب بھی بہت کم ہیں۔پاکستان میں تمام صوبائی حکومتوں نے اپنے ناکافی وسائل کے باوجود بھر پور صلاحیت سے کام کیا۔بلوچستان نے تفتان میں زائرین کو رکھنے کا انتظام کیا۔ سندھ میں کرونا کے متاثرہ افراد سب سے زیادہ ہیں لیکن وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے ایکسپو سنٹر میں دس ہزار افراد کیلئے قرنطینہ مرکز بنانے‘ لاکھوں افراد کے ٹیسٹ اور راشن کا انتظام کر کے شاباش پائی ہے۔ پنجاب میں کورونا کی وبا شدید نہیں اس کے باوجود صوبائی حکومت نے لاہور، ملتان،راولپنڈی اور فیصل آباد سمیت اہم شہروں میں ضروری سہولیات کا انتظام کر دیا ہے۔ کے پی کے حکومت نے بھی مرکز کی ہدایات کے مطابق کورونا انسداد کی حکمت عملی پر عملدرآمد شروع کر دیا ہے۔ آزاد کشمیر حکومت اور گلگت بلتستان نے حتی المقدور حفاظتی اقدامات کئے ہیں۔ اس وقت راشن اور روز مرہ اشیا کی فراہمی کے حوالے سے حکومت لائحہ عمل تیار کر رہی ہے۔ یہ سب حکومتی اور انتظامی امور ہیں جن کے پہلو بہ پہلو سیاسی‘ مسلکی اور طبقاتی گروہ بندیوں کی شکار قوم کو متحد کرنے کی ضرورت ہے۔
ماضی گواہ ہے کہ پاکستانی قوم اور اس کے رہنماؤں نے جب کبھی اتحاد کا مظاہرہ کیا درپیش بحران حل ہوگیا۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کیلئے صورت حال مشکل ہو گئی تھی۔افغانستان میں ایسی حکومت قائم ہوئی جو عالمی سطح پر بھارت کی اتحادی تھی۔ امریکہ جیسا دیرینہ اتحادی اجنبی بن گیا۔ دہشت گردوں نے پاکستان کے سکیورٹی اداروں‘ شہریوں اور معصوم طلبا کو قتل کرنا شروع کر دیا۔16دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پشاور پر دہشت گردانہ حملہ فیصلہ کن موڑ تھا۔ اس المناک واقعہ کے بعد تحریک انصاف نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے 126دن سے جاری اپنا دھرنا ختم کر کے نواز شریف حکومت کا دہشت گردی کے خلاف ساتھ دینے کا اعلان کیا۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں اور عسکری قیادت نے ایک اجلاس میں اکٹھے ہو کر فیصلہ کیا کہ ملک کی بقا کا سوال اآپڑا ہے اس لئے سب مل کر دہشت گردی کا انسداد کریں گے۔ اسی اجلاس کے دوران نیشنل ایکشن پلان ترتیب دینے کا فیصلہ ہوا۔ آج پاکستان میں دہشت گردی دم توڑ چکی ہے۔ دہشت گردی کے مقدمات فوجی عدالتوں میں چلانے کے معاملے پر بھی قومی قیادت متفق ہے۔
کورونا وائرس کے حوالے سے بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز اور دیگر رہنماؤں کے بیانات خوش آئند ہیں‘ یقینا ان کی جماعتوں کو حکومت کی بعض پالیسیوں پر اعتراض ہو سکتا ہے لیکن درپیش بحران حکومت کا پیدا کردہ ہے نہ حکومت تنہا اس سے نمٹ سکتی ہے۔ تمام سیاسی و سماجی رہنماؤں کو آگے بڑھ کر قومی یکجہتی کا ثبوت دینے کی ضرورت ہے۔
pervaizakhtarwattoo@gmail.com

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے