Voice of Asia News

قوموں کی ترقی میں اُستادکاکردار:اسرار احمد چغتائی

 

قوموں کی ترقی وعروج کے حوالے سے علم بنیادی حیثیت رکھتا ہے ،علم سے ہی آگاہی میسر آتی ہے اور آگہی انسان کی تہذیب وترقی کا زینہ بن کر اس کو عظمتوں ورفعتوں سے ہم کنار کرتی ہے خالق کائنات کا انتہائی کرم ہے کہ اس ذات پاک نے انسان کو صاحب علم بنایاجو اس کی بلند ترین صفت ہے اور یہی نہیں بلکہ اس کو قلم کے ذریعے لکھنے کا فن بھی سکھایا ۔جو بڑے پیمانے پر علم کی ترویج و ترقی ،اشاعت اور نسل در نسل اس کی بقا وتحفظ کا ضامن بنا۔علم کو دل کی پاگیزگی ،لطافت اور آنکھوں کے نور کا درجہ حاصل ہے ۔انسان کی سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ وہ صاحب علم ہے ،اﷲ تعالی نے اس پر مہربانی یہ فرمائی کہ اسے قلم کے استعمال کا طریقہ سکھایا۔اگر اﷲ انسان کو علم کے فن کا طریقہ الہام نہ کرتا تو انسان کی علمی قابلیت سمٹ کر انتہائی محدود رہ جاتی ۔اہل ایمان پر خالق کائنات کا انتہائی فضل وکرم ہے کہ پہلا درس حیات معلم کائنات رسول ؐ نے دیا ۔حضور ؐ نے پڑھایا بھی ،سکھایا بھی اور سمجھایا بھی۔یعنی آپؐ نے دلوں کو علم و معرفت اعر حکمت و دانائی کے نور سے ایسا منور کیا کہ پھر درس وتدریس اور تعلیم و تعلم کا مبارک سلسلہ شروع ہو گیا جو تا قیا مت جاری رہے گا ۔بلا شبہ علم ،حصول علم اور معلم کی مسلمہ اہمیت سے انکار کسی طور ممکن نہیں ہے ،دین اسلام میں تو علم ،طالب علم اور معلم خصوصی اہمیت سے سرفراز کرتے ہوئے انہیں انبیائے کرام کا وارث قرار دیا گیا ہے۔
اُستاد کی عظمت اور فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ خود سب سے پہلے اور بڑے معلم ہیں۔ ارشادِ ربانی ہے (پڑھ تیرا رب بہت بزرگی والا ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا)حضرت محمدؐ جو سردار الانبیاء، سرتاج الانبیاء، نبی آخر الزماں، رحمت اللعالمین، محبوب پروردگار اور سرکارِ دو عالم ہیں۔ رازقِ جن و بشر اور خالق شمس و قمر آپ ؐ کو قرآن مجید فرقان حمید میں داعی الی اﷲ، شاہد، یٰس، طٰہ، مبشر، نذیر اور سراج منیر جیسے اسماء الحسنیٰ سے مخاطب کرتا رہا۔اﷲ تعالیٰ اسی کتاب مقدسہ میں آپؐ کی زلف مشک بار، رخ انور، سینہ اطہر، زمانہ منوراور مکہ شہر کہ ’’جس کی سرزمین آپؐ کے قدم ہائے معطر کے نعلین کے بوسے لیتی رہی‘‘کی قسمیں اٹھاتا رہا۔ ان تمام عزتوں اور عظمتوں کے باوجود آپؐ نے اپنے معلم ہونے پر فخر فرمایا۔ آپؐ کی زبانِ معجز بیان و خوش الحان پروار ہونے والے معتبر الفاظ آج بھی کتب احادیث کے حافظے میں موجود ہیں۔حضرت محمدؐ پوری انسانیت کے لیے عظیم اور مثالی معلم بن کر تشریف لائے۔ ایسے معلم جن کی صرف 23 سال کی تدریسی کاوشوں نے جزیرہ عرب کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ آپؐ کی تعلیمات نے وحشی صحرا نشین شتر بانوں کو مہذب شہری بنا دیا۔ آپؐ کو معلم کا یہ عظیم منصب اﷲ رب العزت کی طرف سے عطا ہوا تھا۔
قرآن حکیم میں متعدد مرتبہ آپؐ کے معلم ہونے کا ذکر آیا ہے۔ مختلف آیات کا ترجمہ ہے۔
’’اے ہمارے پروردگار اُن لوگوں میں خود انہیں کے اندر سے ایک رسول مبعوث فرما جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے انہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دے اور انہیں پاک کرے۔‘‘
’’جس طرح ہم نے تمہارے اندر خود تم ہی میں سے ایک رسول بھیجا جو تم کو ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہارا تزکیہ کرتا ہے اور تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہیں جانتے تھے۔‘‘
اُستاد قوم کا محسن ہے۔ اُستاد قوم کا خیر خواہ ہے۔ اُستاد قوم کا مستقبل سنوارنے کا فریضہ سر انجام دیتا ہے۔ اُستاد قوم کی تنظیم و تشکیل کا ذمہ دار ہے۔ اُستاد قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرتاہے۔ اُستاد قوم کی اصلاح کرتا ہے۔ اُستاد قوم کو کامیابی اور کامرانی کے گرُ سکھاتا ہے۔ اُستاد قوم کی بقاء کا ضامن ہے، اُستاد قوم کا طبیب ہے، اُستاد قوم کا مسیحا ہے، اُستاد قو م کا باپ ہے، اُستاد فکر بشر کو انسانیت کا درس دیتا ہے۔ اُستاد محبت،اخوت،رواداری،ہمدردی،ایثار،قربانی،اتفاق،اتحاد، شرافت، امانت، دیانت، صداقت اور عدالت کا سبق دے کر افراد کو اقوام کی امامت سکھاتا اور قوم کا معمار ہے۔اساتذہ کی عظمت کے بارے میں دنیا بھر کی زبانوں میں بے شمار اقوال موجود ہیں اور مہذب معاشروں میں انہیں قدر و منزلت کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔ ترقی کی منزلیں تعلیم سے جڑی ہیں اورکون ہے جو تعلیم میں اساتذہ کے کردار سے انکار کرے۔
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اقوام کے زوال و انحطاط کااصل سبب احترام اساتذہ میں کمی ہے۔ جو اقوام احترام اساتذہ سے روگردانی کے جرم عظیم کا ارتکاب کرتی ہیں، گردش دوراں کی آتشِ غضب برق بن کر اُن کی حیات کو خاکستر کر دیتی ہے۔ اُن کی داستان رہتی دُنیا تک مخلوقاتِ ارضی کیلئے درسِ عبرت بن جاتی ہے۔ جبکہ احترام اساتذہ بجا لانے والی اقوام جہانِ رنگ ویو کے افق پر آفتاب جہاں تاب اور مہتاب شب تاب بن کر چمکتی دمکتی رہتی ہیں۔ تاریخ کی پیشانی پر اُن اقوام کے نام کا جھومر تابندہ و پابندہ نظر آتا ہے جو اپنے اساتذہ کی قدر جانتی اور منزلت پہنچانتی ہیں۔
یونیسکو بنکاک اور کورین ایجوکیشن ڈویلپمنٹ انسٹیٹیوشن (KEDI) نے 2015 میں ایشیا پیسفک کیلئے ایک سیمینار منعقد کیا تھا جس میں اساتذہ کو تحفظ دینے اور اس پیشے کو باوقار بنانے کیلئے پانچ نکاتی سفارشات پیش کی گئی تھیں (1)اساتذہ کو تحفظ دینے اور ان کی کارکردگی کو موثر بنانے کیلئے پالیسی بنائی جائے اور انہیں ایک قانونی ڈھانچہ فراہم کیا جائے(2) اس پیشے میں ایسے لوگوں کو ملازمتیں دی جائیں جو تربیت یافتہ ہوں جن میں تدریس کا شوق ہو ان کیلئے سکولوں میں خوشگوار ماحول فراہم کیا جائے جہاں تعلیمی سازو سامان مہیا ہو(3) جو لوگ یہ پیشہ اختیار کرنا چاہیں انہیں درس و تدریس شروع کرنے سے پہلے اس کی تربیت دی جائے جو دوران ملازمت بھی جاری رہے، اساتذہ کی ترقی کیلئے باضابطہ پروگرام تیار کیا جائے(4) اساتذہ کو ان علاقوں میں بھیجا جائے جہاں ان کی شدید ضرورت ہے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے اساتذہ کو ترغیبات فراہم کی جائیں انہیں سفری الاؤنس دیا جائے، صحت کی سہولتیں حاصل ہوں اور مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد پنشن اور دیگر مراعات دی جائیں(5) ملازمت کے دوران انہیں ہر طرح سے سپورٹ کیا جائے ان کے ساتھ تعاون کیا جائے ان کی رہنمائی کی جائے ان کے حالات کار اطمینان بخش ہوں اچھی کارکردگی کو سراہا جائے اور ان کے معیار کو جانچنے کا طریقہ کار صاف و شفاف ہو انہیں با اختیار بنایا جائے۔
یونیسکو اور عالمی ادارہ محنت نے سفارش کی تھی کہ اساتذہ کی تنخواہیں ان کی تعلیمی قابلیت کے لحاظ سے دی جائیں۔ انہیں اتنے وسائل فراہم کئے جائیں کہ وہ اپنے خاندان کی کفالت کر سکیں اور مالی لحاظ سے اتنے مضبوط ہوں کہ مزید تعلیم کے ذریعے اپنی قابلیت میں اضافہ کر سکیں۔ وطن عزیز میں ابتدائی لازمی تعلیم کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے۔ دنیا میں امن قائم کرنے، غربت اور افلاس کا خاتمہ کرنے، مسلسل ترقی اور قوموں اور نسلوں کے درمیان مفاہمت پیدا کرنے میں تعلیم کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔اُستاد ایک اچھے تعلیمی نظام کا بنیادی عنصر، اس کی روح ہے اور جب تک اساتذہ کو معاشرے میں عزت نفس نہیں ملتی وہ مقام نہیں ملتا جس کے وہ مستحق ہیں وہ اپنے فرائض کو بخوبی انجام نہیں دے سکتے۔ پاکستان میں تعلیم کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اساتذہ نظام تعلیم میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں جب تک ان کے حالات کار بہتر نہیں ہوں گے ان سے اچھی کارکردگی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ ایک خوشحال استاد ہی صحت مند تعلیمی ماحول کی ضمانت دے سکتا ہے۔
ہمارے معاشرے نے اُستاد سے اُس کا اصل مقام چھین لیا ہے۔ اُستاد کی قدر و منزلت اور عزت وہ نہیں رہی جو قدیم زمانے میں تھی۔ آج ہمارے معاشرے کے تباہی کے دہانے پر پہنچ جانے کی اصل وجہ اُستاد کی ناقدری ہے۔ آج کے اُستاد کو اُس کے اصل مقام سے ہٹا دینے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ آج کا اُستاد قدیم دور کے اساتذہ جیسے خواص کا حامل نہیں ہے۔ لیکن آج بھی ذہین و فطین، قابل اور صاحب کردار اساتذہ کی کمی نہیں ہے۔ آج بھی اخلاق عالیہ کے اعلیٰ و ارفع مقام پر فا ئز معلمین بکثرت پائے جاتے ہیں۔ ایسے اساتذہ کی زندگی ہمارے لیے نمونہ عمل قرار پاتی ہے اُن کے نقش قدم پہ چل کر ہم دین و دنیا کی بھلائی حاصل کر سکتے ہیں۔ حقیقی والدین کی طرح اساتذہ بھی عزت، احترام اور تکریم کا استحقاق رکھتے ہیں۔کیونکہ اُستاد کی حیثیت روحانی باپ کی ہے ۔اس کا حق اپنے شاگردوں پر اتنا ہی ہے جتنا باپ کا اپنی اُولاد پر ۔ ہر عظیم انسان کے دل میں اپنے اساتذہ کے احترام کے بے پایاں جذبات ہوتے ہیں یہی اس کی عظمت کی دلیل ہے ۔ماں پاب ہیں دُنیا میں لاتے ہیں جبکہ اُستاد ہمیں اچھی زندگی اور جینے کا ڈھنگ سکھاتے ہیں ،اُستاد کی توجہ اور تربیت کے بغیر کوئی بھی شخص کامیابی کے سفر پر گامزن نہیں ہو سکتا۔اسی لیے اُستاد کے ساتھ ہمیشہ ادب ،عاجزی وانکساری سے گفتگو کرنی چاہیے۔اُستاد اس ہستی کا نام ہے جو اپنے شاگردوں کو علم کے زیور سے آراستہ کرتے ہیں اور ان کی اخلاقی تر بیت کرکے معاشرے میں اعلی مقام تک پہنچاتے ہے۔جس طرح والدین کے احسانات کا بد ل ادا نہیں کیا جا سکتااور جس طرح والدین کے حقوق ہیں اسی طرح روحانی والدین اُستاد کے بھی حقوق ہم پر لاگو ہوتے ہیں ،اُستاد کے حقوق میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ ان کا ادب کیا جائے ،ان کا حکم مانا جائے اور احترام کے ساتھ اس کی تعمیل کی جائے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے اُستاد کے حقوق پہچان کر ان کا احترام کریں ،اُستاد کی عزت کرے والی قومیں ہی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہوتی ہیں لہذااﷲ تعالیٰ ہم سب کو اُستاد کا احترام بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔(آمین)
asrarchughtai007@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے