Voice of Asia News

مارچ2020 میں بھارتی فورسز بربریت کی مثال 12 کشمیریوں کو شہیدکیا

سرینگر( وائس آف ایشیا )مقبوضہ جموں وکشمیر میں مارچ 2020میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں12کشمیریوں کو شہید کردیا گیا۔ مارچ 2020میں پلوامہ، شوپیاں اور اننت ناگ میں مختلف آپریشنز میں8نوجوانوں کو شہید کیا گیا۔ جبکہ مختلف واقعات میں 4شہری بھی شہید ہوئے۔شہید ہونے والے افراد میں لشکر طیبہ کے ایک ضلعی کمانڈر مظفر احمد بٹ بھی شامل ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق اسی مدت کے دوران بھارتی فورسز نے مبینہ طور پر مختلف13واقعات میں کم از کم30افراد کو گرفتارکیا جن میں زیادہ ترنوجوان شامل ہیں۔ یہ گرفتاریاں مختلف علاقوں میں جاری کم و بیش270سرچ آپریشنز کے دوران کی گئیں۔ان میں آپریشنز میں این آئی کی طرف سے کئے گئے آپریشنز بھی شامل ہیں۔قومی تفتیشی ایجنسی نے 3 مارچ کو پلوامہ حملے میں پیر طارق احمد شاہ اور ان کی بیٹی انشا جان کو گرفتار کیا تھا۔ مارچ میں مقبوضہ کشمیر کے اضلاع سرینگر، کپواڑہ ، بارہمولہ، بانڈی پورہ ، بڈگام ، گاندربل ، پلوامہ، اننت ناگ، کولگام شوپِیاں،راجوری،پونچھ کٹھوعہ، رام بن، کِشتواڑ، ڈوڈہ میں سرچ آپریشنز کئے گئے۔ان آپریشنزمیں 2رہائشی مکانوں کو بھی تباہ کردیا گیا۔بھارتی فوج ، پیراملٹری فورسز اور پولیس اہلکاروں کی طرف سے آپریشنز میں فائرنگ سے 7افراد زخمی ہوئے۔جبکہ ایک سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 5زخمی ہوئے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی پولیس نے کورونا وائرس کے پھیلا وسے بچنے کے لئے لگائی گئی پابندیوں کی خلاف ورزی پر مارچ 2020میں 627افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ 337افراد کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ سرکاری احکامات کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں 118دکانوں اور 490 گاڑیوں کو سیل کر دیا گیا ہے ۔ مارچ2020 میں انتظامیہ نے پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار متعدد سیاسی رہنماوں سمیت تقریبا50افراد کو رہا کیا جن میں سابق وزرائے اعلی ڈاکٹر فاروق عبدا ﷲ، عمر عبدا ﷲ، شامل ہیں۔واضح رہے کہ شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، مسرت عالم بٹ، آسیہ اندرابی،میاں عبدالقیوم، محمد یاسین خان،نعیم احمد خان، محمد الطاف شاہ اورایازمحمد اکبر سمیت بڑی تعداد میں حریت رہنمااور کارکن جموں وکشمیر اوربھارت کی مختلف جیلوں میں نظربندہیں۔اسکے علاوہ سابق وزیر اعلیI اور پی ڈی پی کی سربراہ محبوبہ مفتی ، سابق آئی اے ایس افسر اور جموں وکشمیر پیپلز موومنٹ کے سربراہ ڈاکٹر فیصل اور سیاست دان بھی مسلسل زیر حراست ہیں۔سیاسی ماہرین نے سینکڑوں کشمیری نظربندوں کی موجودگی میں کورونا وائر س کی مہلک وبا کے پیش نظر صرف کشمیر نظربندوں کی رہائی کو عالمی برادری کو گمراہ کرنے کی ایک کوشش قراردیا ہے ۔ مقبوضہ جموں وکشمیر میں رواں سال 2020میں23واقعات میں46افراد کو شہید کر دیا گیا۔جن میں جنوری میں 22،فروری میں 12اور مارچ میں 12افراد شہید ہوئے۔جبکہ 6سیکورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔پولیس کے مطابق رواں سال اسلحہ برآمدگی کے 34واقعات ریکارڈ کئے گئے۔اس سال دھماکوں کے 9واقعات میں12شہریوں اموات ہوئیں جبکہ 5سیکورٹی اہلکارزخمی ہوئے۔سال 2020میں 38مختلف واقعات میں 78افراد کو گرفتار کیا گیا۔
وائس آف ایشیا،01 اپریل2020خبر نمبر 58

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے