Voice of Asia News

مقبوضہ جموں و کشمیر: سابق وزرا اعلی کی مراعات ختم

سرینگر ( وائس آف ایشیا)مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزرا اعلی کو خصوصی مراعات حاصل ہونے والے قانون کو مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر تنظیم نو قانون 2019 کے تحت اختیارات کے ذریعے منسوخ کر دیا ہے۔ مرکزی حکومت نے سٹیٹ لیجسلیٹر ممبرز پنشن ایکٹ 1984 کے سیکشن 3 کو منسوخ کر دیا ہے جس سے اب سابق وزرا اعلی کو ملنے والی مراعات حاصل نہیں ہوں گی۔اس سیکشن کے تحت سابق وزرا اعلی کو بغیر کرایہ سرکاری رہائش گاہ، مفت ٹیلیفون سروس، مفت بجلی، گاڑی، پٹرول اور طبی سہولیات ملتی تھیں۔ اس کے علاوہ ان کو سرکاری ڈرائیور اور دیگر چار ملازمین بھی دستیاب تھے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق وزرا اعلی بشمول محبوبہ مفتی، غلام نبی آزاد، عمر عبداﷲ اور فاروق عبداﷲ کو یہ مراعات حاصل تھیں۔ان وزرا اعلی کی رہائش گاہیں سرینگر کے پاش علاقہ گپکار میں واقع ہے۔ اگرچہ عمر عبداﷲ اور ان کے والد فاروق عبداﷲ گپکار میں اپنی رہائش گاہوں میں رہتے ہیں تاہم انکو یہ سرکاری مراعات دی جا رہی تھی۔ محبوبہ مفتی اور غلام نبی آزاد سرکاری رہائش گاہوں میں قیام پزیر ہیں۔ اس قانون کی منسوخی کے بعد ان دو سابق وزرا اعلی کو یہ رہائش گاہیں خالی کرناہوں گی۔
وائس آف ایشیا،01 اپریل2020خبر نمبر 64

image_pdfimage_print

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے