Voice of Asia News

ڈینئیل پرل اور پیر مبارک علی گیلانی:سیف اعوان

نائن الیون کے واقعے کے صرف دو ماہ بعد ایک امریکی فلائٹ پیرس سے امریکہ کے شہر میامی جارہی تھی۔جہاز میں ٹوٹل 197افراد سوار تھے جہاز کی خاتون ایئر ہوسٹس کو کچھ مسافروں نے بتایا کہ جہاز سے کچھ جلنے کی بو آرہی ہے۔وہ خاتون جہاز میں چیکنگ کرتے ہوئے آگے گزررہی تھی کہ ایک پیچھلی سیٹ پر لمبے قد والا برطانیوی نوجوان اپنی گود میں کچھ چھپارہا تھا۔اس کے ہاتھ میں ایک جلی ہوئی ماچس کی تیلی بھی تھی۔خاتون پریشان ہوئی کہ جہاز میں ایک ماچس یاآگ کیا کام ہوسکتا ہے۔خاتون فورا دوڑتی ہوئی کاپٹ میں گئی اور مدد طلب کی۔اسی دوران مسافر سمجھ چکے تھے کہ یہ لمبا چوڑا نوجوان ہم سب کیلئے خطرہ بن چکا ہے۔کچھ مسافروں نے حوصلہ کرتے ہوئے اس طویل قد والے نوجوان کو قابو کرلیا۔نوجوان اپنی گود میں بھاری جوتے چھپانے کی کوشش کررہا ہے تھا ان جوتوں میں جدید قسم کا ایک بم نصب تھا جو آج سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔نوجوان یہی بم چلانے کی کوشش کررہا تھا لیکن کسی ٹیکنیکل ایشو کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو پا رہا تھا ۔لیکن اب وہ نوجوان پکڑا جا چکا تھا اس نوجوان کے پکڑے جانے کی بعد پوری دنیا کے ایئر پورٹس میں ہل چل مچ چکی تھی ۔دنیا کے مصروف ترین پیرس ایئر پورٹ سے اس برطانیوی نوجوان کا سوار سوار ہونا بھی ایئرپورٹ کی سیکیورٹی پر سوالیہ نشان تھا۔جس نوجوان نے جہاز کو دھماکے سے اڑانے کی کوشش کی اس کا نام رچرڈ ریڈ تھا۔اس دہشتگرد کو عدالت میں پیش کیا گیا جس کے بعد عدالت نے اس دہشتگرد کو ایک سودس سال کی سزا سنادی۔کیس کے انجام کے پہنچنے تک اس سارے واقعے کا پاکستان سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوا تھا لیکن اس واقعے کی تحقیقات ایک امریکی صحافی کو پاکستان لے آئیں۔یہ صحافی خود ایک خبر اور کہانی بن گیا ۔امریکی صحافی ڈینیئل پرل جو وال سٹریٹ جنرل میں بطور تحقیقاتی رپورٹر کام کرتے تھے ان کو ایک لیڈ ملی کہ رجرڈ ریڈ پاکستانی شہری شیخ مبارک سے بہت متاثر تھا ۔شیخ مبارک سے ملاقات کرنے کیلئے ڈینیل پرل پاکستان آن پہنچے اور انہوں نے شیخ مبارک سے ملاقات کرنے کی کوششیں شروع کردیں۔اسی دوران وہ کشمیر اور افغانستان میں سر گرم جہادی گروپس کے بارے میں معلومات اکٹھی کرتے رہے۔حالات معمول کے مطابق چل رہے تھے لیکن سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کے مطابق ڈینئیل پرل کی پاکستان میں موجودگی کی اطلاع القائد کے ایک گروپ کو بھی ہو گئی تھی۔اس گروپ میں شامل ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری ہاشم نے عمر سعید شیخ کو بتایا کہ ایک امریکی صحافی پیر شیخ مبارک علی شاہ گیلانی کا انٹرویو کرنا چاہتا ہے۔پھر ڈینیئل پرل سے رابطہ کیا گیا اور اس کی ملاقات عمر سعید شیخ سے کرائی گئی۔اس ملاقات میں عمر سعید شیخ نے پرل کو اپنا ایک فرضی نام بتایا اور کہا وہ پیرمبارک علی گیلانی کے معتقد ہیں۔پرل کے کہنے پر عمر سعید شیخ نے اس کی پیر مبارک گیلانی سے ملاقات کرانے کا وعدہ بھی کرلیا۔سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف اپنی کتاب ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ میں لکھتے ہیں عمر سعید شیخ نے اپنی عادت کے مطابق اسی ملاقات میں ہی پرل کو اغواء کرنے کا منصوبہ بنالیا تھاتاکہ امریکہ پر دباؤ ڈال کرالقائد کے کچھ رہنما جو گونتاموبے جیل میں قید ہیں ان کو رہا کرایا جائے۔عمر سعید شیخ نے پرل سے ملاقات کے بعد پیر مبارک علی گیلانی سے رابطہ کرنے کی بجائے اپنے دوست امجد فاروقی سے رابطہ کیا۔امجد فاروقی سے رابطہ کرنے کا مقصد پرل کو اغواء کرنا تھا امجد فاروقی وہی تھے جو جنرل مشرف پر حملے میں ملوث تھے۔امجد فاروقی نے عمر سعید کو مشورہ دیا کہ پرل کو اسلام آباد نہیں کراچی بھیج دیا جائے۔کیونکہ اسلام آبادمیں پرل کو اغواء کے بعد چھپانا مشکل ہوگا ۔عمر سعید شیخ نے امجد فاروقی کے مشورے کے مطابق پرل کو بتایا کہ پیر مبارک علی گیلانی ان کو کراچی میں ملیں گے۔23جنوری 2002ڈینیئل پرل کراچی کے میٹر وپولیٹن ہوٹل میں پیرمبارک علی گیلانی سے ملنے پہنچے۔یہی وہ جگہ تھی جہاں سے پرل کو اغواء کرنے کی پلائننگ تھی یہاں سے پوری گیم عمر سعید شیخ کے ہاتھ سے نکل کر ایک دوسرے گروپ کے پاس جارہی تھی۔جس پر عمر سعید شیخ کا کوئی کنٹرول نہیں تھا۔یہاں جوچار لوگ پرل کی پیر مبارک سے ملاقات کرانے کیلئے آئے تھے وہ اصل میں اغواکار تھے۔اغواء کاروں نے پرل کو اغواء کیا اور کراچی میں گڈاب کے قریب ایک نامعلوم مقام پر لے گئے۔اسی دن ہی اغواء کاروں نے اپنی ای میل دنیا بھر کے ذرائع ابلاگ اور کونصلیٹ کو بھیجی ۔جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ امریکہ میں قید پاکستانیوں کو رہا کیا جائے۔امریکہ فوری افغانستان سے نکل جائے ، امریکہ پاکستان کے روکے ایف سولہ تیار فوری پاکستان کو دے اور افغان سفیر مولہ عبدالسلام ضعیف کو رہا کیا جائے۔اس ای میل نے دنیا بھر میں طوفان بھرپاکردیا کہ ایک امریکی صحافی پاکستان میں اغواء ہو گیا ہے۔اس اغواء کا الزام پاکستان کی خفیہ ایجنسیوں پر لگایا جانے لگا لیکن امریکہ وزیر خارجہ کولن پاؤل نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے ان تمام سازشی عناصر کے عزائم خاک میں ملاتے ہوئے کہا کہ اس اغواء میں کسی پاکستانی خفیہ ایجنسی اور حکومت پاکستان کا ہاتھ نہیں ہے۔امریکہ وزیرخارجہ کولن پاؤل پاکستان کے خفیہ اداروں کا دفاع کررہے تھے لیکن بعد کے واقعات نے بھی ثابت کردیا کہ سچائی بھی یہی تھی۔31جنوری کو کولن پاؤل نے میڈیا سے گفتگوکے دوران کہا کہ اغواء کاروں نے جو مطالبات کیے ہیں وہ ایسے نہیں جن کو ہم پورا کرسکیں یا ان کے ساتھ مذاکرات کرسکیں۔پرل کے اغواء کے بارہ دن بعد ڈیڈ لائن مکمل ہونے کے بعد اغواکاروں نے ڈینیئل پرل کا بہمانہ طریقے سے قتل کردیا۔عمر سعید شیخ کو بھی اس قتل کواعلم ہو گیا لیکن بعد میں روزنامہ جنگ میں عمر سعید شیخ کا ایک بیان شائع ہوا جس میں عمر سعید شیخ نے کہا پرل کے قتل کے متعلق میرے علم میں کچھ نہیں ہے جبکہ ساتھیوں نے ڈینیئل کو رہا کرنے کی ہدایت پر عمل نہیں کیا۔میں نے اغواکاروں کو منع کیا تھا کہ ڈینیل کو قتل نہ کریں لیکن انہوں نے بات نہیں مانی۔بعد میں عمر سعید شیخ نے خود ہی گرفتاری دے دی ۔سیکیورٹی ایجنسیوں کو کچھ ایسی ای میلز ملی تھی جن سے عمر سعید شیخ کا اغوا کاروں سے تعلق ثابت ہورہا تھا۔یہاں تک کہ پولیس نے عمر سعید شیخ کے اٹھارہ ماہ کے بیٹے کو بھی گرفتار کرلیا۔پرل کے قتل کے بعد پوری دنیا میں ہنگامہ شروع ہوگیا جس کی عمر سعید شیخ کوہرگز توقع نہیں تھی۔جس کے بعد عمر سعید شیخ نے موجودہ وزیر داخلہ برگیڈیئر اعجاز شاہ کے سامنے سرینڈر کردیا۔پرل قتل کے دس دن بعد القائد کی جانب سے پرل کے قتل کے ویڈیو بھی جاری کردی گئی۔جس میں ایک شخص ڈینیئل پرل کو قتل کررہا ہے ۔یہ ویڈیو پوری دنیا میں ایڈیڈ کرکے چلائی گئی۔ویڈیو میں قاتل کا چہرہ نظر نہیں آرہا تھا ویڈیو میں صرف اس کا ہاتھ نظر آرہا تھا بعد میں فرائنزک ٹیسٹ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ہاتھ عمر سعید شیخ کا نہیں تھا۔(جاری)

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے