Voice of Asia News

ڈینئیل پرل کا قاتل کے ایس ایم:سیف اعوان

ڈینئیل پرل کا قتل ایک بند گلی میں چلاگیا ہوسکتا تھا یہ راز ہی رہتا لیکن پھر ایک بڑی گرفتاری ہوئی۔سابق آرمی چیف جنرل پرویز مشرف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ مئی 2002میں خفیہ ایجنسیوں نے کالعدم تنظیم لشکرجھنگوی کے ایک کارکن فضل کریم کو گرفتار کرلیا۔فضل کریم کو کسی اور کیس میں گرفتار کیا گیا لیکن دوران تفتیش فضل کریم نے ایک اور بڑا انکشاف کردیا۔فضل کریم نے بتایا جبکہ امریکی صحافی ڈینئیل پرل کو قتل کیا جارہا تھا تو اس وقت میں نے ان کی ایک ٹانگ پکڑی ہوئی تھی۔فضل کریم سے جب پوچھا گیا کہ قتل کرنے والا کون تھا تو فضل کریم نے کہا میں اس سے لاعلم ہوں لیکن قاتل کوئی عرب شخص تھا۔یہ عرب شخص (کے ایس ایم) خالد شیخ محمد تھا۔جس کی امریکہ کواسامہ بن لادن اور ایمن الزاہری کے بعد سب سے زیادہ تلاش تھی۔کیونکہ کے ایس ایم کا دنیا بدل دینے والے واقعے ورلڈ ٹریڈ سینٹر دھماکوں میں بھی ہاتھ تھا۔اس ایک شخص کی گرفتاری پرل کیس سے کہی بڑے واقعے کی طرف لے جانے لگی تھی۔کے ایس ایم پاکستان یا افغانستان میں کہی روپوش تھے ۔وہ کوئی الیکٹرنکس ڈیوائس اور موبائل استعمال نہیں کرتے تھے جس کی بنیاد پر ان کو ٹریس کیا جاسکے۔کے ایس ایم کے سر کی قیمت پچیس ملین ڈالر تھی آج کے مطابق کے ایس ایم کی گرفتاری کا سراغ دینے والے کو تقریبا تین ارب چوراسی کروڑ روپے ملنے تھے۔ایک سال کے دوران خالد شیخ محمد کا کوئی سراغ نہ ملاسکا۔پھر اچانک سے ایک ایرانی نوجوان آیا جس نے دعوی کیا کہ وہ کے ایس ایم کو جانتا ہے اوروہ اس کادوست ہے۔یہ نوجوان اب سی آئی اے اور آئی ایس آئی کیلئے کام کرنے لگا۔اس نوجوان کو ’’بلوچی‘‘ کے کوڈ سے پکارہ جاتا تھا ۔ایجنسیاں اس نوجوان کو ڈبل گیم نہ کرنے کے ہزاروں ڈالر دے رہی تھیں۔بلوچی نے فروی 2003کے آخر میں اپنے ہینڈلر سے رابطہ کیا اور بتایا کہ یکم مارچ کی شام رات نو بجے اس کی خالد شیخ محمد سے ملاقات طے ہے۔یہ ملاقات راولپنڈی کے علاقہ نثارروڈ پر ایک گھر میں طے ہوئی ۔اسی وقت کی ایجنسیوں کو تلاش تھی جگہ کا معلوم ہونے کے بعد آئی ایس آئی اور سی آئی اے نے پورے علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا۔اب ایجنسیوں کو انتظار تھا کہ کب بلوچی ہمیں سیگنل دے اور ہم کے ایس ایم کو گرفتار کرسکیں۔رات پورے نوبجے بلوچی کے ایس ایم سے ملاقات کرنے متعلقہ پتے پر پہنچا۔ایک گھنٹہ ملاقات کے بعد بلوچی نے کہا مجھے واش روم میں جانا ہے ۔واش روم میں جاتے ہوئے بلوچی نے اپنے ہینڈلر کو ایک میسج کیا’’ آئی ایم ویدکے ایس ایم‘‘ میسج ملنے کے بعد سیکیورٹی ایجنسیاں مطمین ہوگئی اور انتظار کرنے لگے ۔رات کو تقریبا دوبجے پاکستانی خفیہ اہلکاروں نے گھر میں داخل ہو گئے ۔اہلکار جب گھر میں داخل ہوئے تو کے ایس ایم نیند کے گولیا ں کھاکر گہری نیند سورہے تھے۔خالد شیخ محمد گرفتار ہو چکے تھے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو بچانے کیلئے ایک کوشش کی ۔کے ایس ایم نے سیکیورٹی اہلکاروں سے کہا ’’تم امریکیوں کیلئے یہ سب کررہے ہو اگر پیسے چاہیے تو یہ پیسے مجھ سے لے لو‘‘لیکن ظاہر یہ آفر قبول نہیں ہوئی تھی۔جب یہ آفر ضائع گئی تو کے ایس ایم نے کہا تم لوگ میرے ساتھ القائد میں شمولیت کیوں نہیں اختیار کرلیتے لیکن یہ وار بھی خالی گیا۔جس کے بعد سیکیورٹی اہلکار ان کو گرفتار کرکے لے گئے ۔جنرل مشرف اپنی کتاب میں لکھتے ہیں پاکستان نے دو دن کے ایس ایم کو
اپنے پاس رکھا اور ان سے زیادہ سے زیادہ معلومات لی پھر ان کو امریکہ کے حوالے کردیا۔پھر امریکہ ان کو اپنی مختلف بلیک سائٹ پر مسلسل منتقل کرتا رہا جو امریکہ نے دنیا بھر میں بنارکھی ہیں۔پہلے کے ایس ایم کو افغانستان پھر پولینڈ اور بعد میں رومانیہ لے جایا گیا۔کے ایس ایم کے بعد امریکہ نے عمر سعید شیخ کی بھی حوالگی کا پاکستان سے مطالبہ کیا لیکن پاکستان نے انکار کردیا۔پاکستان کی انسداد دہشتگردی کی عدالت میں ان کا مقدمہ چلا اور عدالت نے عمر سعید شیخ کو سزائے موت اور ان کے تین ساتھیوں کوعمر قید کی سزا سنادی اور چاروں مجرموں کو پانچ پانچ لاکھ جرمانے کی سزابھی سنائی گئی عدم ادائیگی پر ان کو مزید پانچ پانچ سال سزا بھگتنی پڑے گی۔اس سزا کو سنائے اٹھارہ سال ہو چکے ہیں۔گزشتہ دنوں سندھ ہائی کورٹ نے تین ملزمان فہد نسیم،شیخ عادل اور سلمان ثاقب کو بری جبکہ عمر سعید شیخ کو 7سال کی سزا سنائی ۔جس کے بعد ایک بار پھر ڈینئیل پرل کا کیس عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ۔سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے پرامریکہ کی جانب سے پھر ردعمل سامنے آگیا جس کے بعد سندھ حکومت نے فیصلے کو سپریم کورٹ میں بھی چیلنج کرنے کا اعلان کردیا ۔جبکہ امریکہ کے مطابق 15 مارچ 2007کو گونتاموبے جیل میں قید خالد شیخ محمد ڈینئیل پرل کو قتل کرنے کا اعتراف کرچکے ہیں۔امریکی اور پاکستانی خفیہ اداروں کے مطابق عمر سعید شیخ ڈینئیل پرل قتل میں ملوث تھے لیکن قتل کی وار دات میں ملوث نہیں تھے۔’’اس حوالے سے عمر سعید شیخ کے بیٹے عبدالھادی شیخ کا کہنا ہے کہ میرے والد کو ٹریپ کیا گیا ہے وہ قتل کی واردات میں شامل نہیں تھے۔ڈینئیل کے قتل میں اور لوگ شامل تھے میرے والد کا قتل میں کوئی تعلق نہیں ہے‘‘۔دوسری جانب گونتاموبے جیل میں قید خالد شیخ محمد نے اعتراف کرلیا تھا کہ ڈینئیل پرل کو میں نے ہی قتل کیا ہے ۔رپورٹس کے مطابق قتل کی واردات میں جو ہاتھ نظر آرہا ہے وہ خالد شیخ محمد کا ہی تھا۔پاکستان میں ایک امریکی نژاد پاکستانی صحافی ارسا نعمانی جو ڈینئیل پرل کی دوست بھی تھی ان کو ذاتی طور پر بھی یہی ہاتھ چیک کرنا تھا۔ڈینئیل پرل پاکستان دورے کے دوران اپنی بیوی کے ساتھ ارسا نعمانی کے گھر ہی رہے تھے۔ارسا نعمانی مئی 2012میں اسی سلسلے میں گونتاموبے جیل میں پہنچی۔وہ ٹرائل کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہی تھی وہ ایک شیشے کے پیچھے بیٹھی تھی جہاں سے وہ ٹرائل کی مکمل کاروائی دیکھ رہی تھی اس دوران ان کی توجہ ٹرائل کی طرف نہیں بلکہ وہ خالد شیخ محمد کا ہاتھ دیکھنے کی کوشش کررہی تھی۔قتل کی ویڈیو میں جو شخص پرل کا سر اٹھائے کھڑا تھا اس کے ہاتھ کی وینز انگریزی کے حرف وائے کی شکل میں بڑی واضع نظر آتی تھی ۔ارسا نعمانی یہی ہاتھ دیکھنے کی کوشش کرہی تھی۔ٹرائل بہت طویل تھا لیکن ارسا نعمانی کے ایم ایس کے دائیں ہاتھ کو دیکھنے بیٹھی تھی،ٹرائل کے آخر میں کے ایس ایم نے کچھ لکھنے کیلئے ایک پین پکڑا ۔کے ایس ایم نے جیسے ہی ہاتھ آگے کیا تو ارسا نعمانی نے چلاکر کہا یہ وہی ہاتھ ہے جس نے ڈینئیل کو قتل کیا ہے۔پاکستان سے جتنے بھی دہشتگرد گرفتار ہوئے ان میں اکثریت کا تعلق عرب یا یورپی ممالک سے تھا لیکن اس کے ردعمل کا سامنا آج بھی پاکستان کو کرنا پڑرہا ہے۔
saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے