Voice of Asia News

کرونا سے نہیں بھوک سے ڈر لگتا ہے :عنصر اقبال

کرونا کی مسلط کردہ تنہائی اور تکلیف دہ فراغت نے سب کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے ۔ ہمارے ارد گرد پائی جانے والی بہت سی خامیاں جن کی وجوہات کے بارے میں شک تھا اب یقین ہو گیا ہے ۔ہمارے ملک میں ایک عام شہری سے لے کر خیالی ریاستِ مدینہ کے خود ساختہ امیرالمومنین تک سب لوگ کنفیوژن کا شکار ہیں۔ساری قوم مل کر لاک ڈاؤن ، جزوی لاک ڈاؤن ، مکمل لاک ڈاؤن اور کرفیو کا مطلب سمجھنے سے قاصر ہے ۔ خدا بھلا کرے ایک وفاقی وزیر کا جنہوں نے لفظــ بندش کا استعمال کر کے اس صورتِ حال میں افاقہ کیا ۔یہ ماننے میں کوئی حرج نہیں کہ عوام کو اُن کے گھروں تک محدود رکھنا ناگزیر تھا مگر ایسا کرنے سے قبل نوٹس دینے میں کیا قباحت تھی ؟۔ covid-19کی پیدائش دسمبر ۲۰۱۹ میں ہوئی جب کہ ہمارا لاک ڈاؤ ن ۲۳ مارچ ۲۰۲۰ سے شروع ہوا ۔کوئی پوچھنے کی جسارت کر سکتا ہے کہ اس تین ماہ کے دورانیے میں ریاست نے اس سلسلہ میں کیا اقدامات اُٹھائے ۔
چائنہ نے اپنا ایک شہر بند کر کے ثابت کردیا تھا کہ اس مرض کا پھلاؤ روکنے کا اور کوئی طریقہ نہیں ہم نے بھی لبیک کہتے ہوئے اپنے طالبِ علموں کو کرونا کے زیرِ تعلیم رہنے دیا ۔ لیکن یہی پالیسی ایران ، سعودی عرب اور دیگر ممالک سے آنے والے لوگوں کے لیے کیوں نہ اپنائی گئی ۔ سب سے زیادہ لوگ ایران سے آئے اور اس وباء کے پھیلنے میں معاون ثابت ہوئے ۔مان لیتے ہیں کہ ایران ہمارے شہریوں کو اپنے پاس رکھنے پر آمادہ نہ تھا تو کم از کم بارڈرپر ان کی سکریننگ یا ٹیسٹ کرنے سے تو ایران نے یقینا منع نہیں کیا تھا ۔ایسی صورت میں چند ہزار لوگوں کو چند دن کے لیے بارڈر پر روک کر سارے ملک کو گھروں میں روکنے سے بچایا جا سکتا تھا ۔یہی کام نہایت آسانی کے ساتھ ائیرپورٹس پر بھی کیا جا سکتا تھا ۔کیے گئے ٹیسٹ اور اُن کے نتیجے میں سامنے آنے والے اعدادوشمار واضح کرتے ہیں کہ تمام زائرین اس وائرس سے متاثر نہ تھے ۔اب بھی بہت تیزی کے ساتھ ٹیسٹ کرتے ہوئے متاثرہ لوگوں کو تشخیص کے بعد الگ کر کے اس وباء سے نپٹا جاسکتا ہے جب کہ حکومت کی حکمتِ عملی اس سے یکسر مختلف دکھائی دیتی ہے ۔ٹیسٹ تو دور کی بات حکومت تو اپنے طبی عملے کو حفاظتی سازوسامان تک دینے پر آمادہ دکھائی نہیں دیتی ۔
پاکستان کبھی کبھی سمجھ سے بالا تر ہوجاتا ہے ۔ساری عوام ڈاکٹروں کو خراجِ عقیدت پیش کرتی ہے جبکہ ڈاکٹرپولیس سے خراجِ تشددوصول کرتے ہیں ۔بقول وزیرِاعلیٰ بلوچستان اگر ڈاکٹرز کا حفاظتی مواد کا مطالبہ سیاسی ہے تو آرمی چیف اُن کا یہ مطالبہ اگلے دن ہی کیوں پورا کر دیتے ہیں۔حکومت کو غور کرنا ہوگا کہ دو صوبوں کے ڈاکٹر آخر اس نازک ترین مرحلے پر بھی سراپااحتجاج کیوں ہیں جبکہ تیسرے صوبے کے ڈاکٹر بھی اس سلسلہ میں پہلے احتجاج کر چکے ہیں۔میرا ایمان ہے کہ مورخ جب تاریخ لکھے گا تو موجودہ حکومت کی اس مجرمانہ بے حسی سے چشم پوشی نہیں کر پائے گا ۔دیہاڑیدار لوگ جنہیں ایک دن دیہاڑی نہ ملے تواُن کا چولھانہیں جلتا ۔اُن کا چولھا بجھے آج دو ہفتے سے زیادہ ہو چکے اور آپ ابھی تک ایسی فورس کے تشکیلی مراحل میں ہیں جو اُنہیں خوراک پہنچائے گی ۔ کہیں ایسانہ ہوکہ اس فورس کی تشکیل تک لوگ خوراک کی ضرورت سے آزاد ہو چکے ہوں اور آپ کی یہ فورس تدفین فورس کی حیثیت اختیار کر جائے۔یقین جانئے فلاحی تنظیمیں اور مخیر حضرات لوگوں کی لائف لائن بھال رکھے ہوئے ہیں وگرنہ اوپر بیان کی گئی صورتِ حال کب کی وقوع پزیر ہو چکی ہوتی ۔
میری حکومت سے التجا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو فعال کر کے اُن سے راشن کی تقسیم کا کام لیں کیوں کہ یہ کام یونین کونسل کی سطح پر ہی ممکن ہے۔ خدارا حکومت اپنی سیاست اور انا کو کچھ مہنیوں کے لیے ایک طرف رکھ دے کیوں کہ ووٹر اگر زندہ رہے گا تو اگلے الیکشن میں ووٹ دے سکے گا ۔ہماری حکومت اس بات کا کریڈٹ لیتے نہیں تھکتی کہ ہمارے ہاں ہونے والی اموات کا تناسب دیگر ملکوں سے بہت کم ہے۔ تو صاحب حقیقت یہ ہے بھوک سے مرنے والے لوگوں کا الزام جراثیم اپنے سر نہیں لیتے۔ہم جراثیم زدہ قوم ہیں ہر طرح کی ملاوٹ اور ہر طرح کا گند ہمارا کچھ نہیں بگاڑتا ۔ ملاوٹ زدہ خوراک ، کیمکل زدہ دودھ اور مردار گوشت ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں ۔ اور تو اور ہم دنیا کی واحد مخلوق ہیں جنہیں جعلی ادویات بھی شفاء بخشتی ہیں ۔حکومت کہتی ہے کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے ۔ میں پوری قوم کی طرف سے حکومت کو یقین دلاتا ہوں کہ ہم کرونا سے لڑیں گے اور جیت بھی جائیں گے ۔ لیکن سے بھوک سے لڑائی میں شاید ہار جائیں۔ خدارا اُن لوگوں کا سوچیے جو اپنی سفید پوشی کے باعث لائن میں لگ کر زکوۃکے لیے ہاتھ نہیں پھلا سکتے ۔دن کی روشنی میں خیراتی آٹے کا تھیلا اپنے کندھے پر رکھ کر گھر نہیں لا سکتے ۔جو زندگی بچانے کے لیے اپنی عزتِ نفس کا گلہ نہیں گھونٹ سکتے ۔ خدارا ہوش کے ناخن لیجیے کیا یہ تحریکِ انصاف کا انصاف ہے کہ تعمیراتی مزدور کام پر جا سکتا ہے جبکہ دیگر شعبوں سے وابستہ افراد لاک ڈاؤن میں بے سروپا رہیں یا آپ کی خیرات کے انتظار میں بھوکے مر جائیں ۔بہت سے دانشوروں کا خیال ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے اپنی ناراضگی کے اظہار کے لیے کرونا ہم پر مسلط کیا ہے ۔میں اختلافِ رائے کی معزرت چاہتے ہوئے ارض کروں گا کہ خدا ہم سے تب ہی ناراض ہو گیا تھا جب جمہوری ممالک میں غیر جمہوری اور اسلامی ممالک میں غیر اسلامی حکمران مسلط ہوئے تھے ۔
ansariqbalpost@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے