Voice of Asia News

کورونا ،قومی ہیروبزدار یا مراد:سیف اعوان

کسی بھی شخص پر جب مشکل وقت آتا ہے تو اس کے اصل امتحان کا وقت بھی تب ہی شروع ہوتا ہے۔ایسی ہی صورتحال میں لیڈروں کی لیڈرشپ اور ویژن قوم کے سامنے آتا ہے ۔اگر ایسے حالات میں جو لیڈر اپنی قابلیت اور صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتا ہے وہی قوموں میں ہیرو کا درجہ اختیار کرتا ہے۔ہاں یہاں ایک بات قابل ذکر ہے کہ لیڈر میں قابلیت اور صلاحیت کا ہونا لازمی ہے کیونکہ ان دوچیزوں کے بغیر کوئی لیڈر ہیرو کے درجے تک نہیں پہنچ سکتا۔اسوقت پوری دنیا میں کورونا جیسی جان لیوا بیماری کا غلبہ ہے۔اس بیماری نے اپنی شروعات چین کے شہر اوہان سے کی ۔چین جو اس وقت عالمی دنیا میں ایک بڑی معاشی طاقت کے طور پر سامنے آرہا تھا اس کورونا نے چین کی معیشت سمیت پوری قوم کو خوف میں مبتلا کردیا۔جنوری 2020چینی قوم کیلئے خوفناک بیماری لے کر سامنے آیا یہ چینی قوم اور چینی صدر شی جن پنگ کے اصل امتحان کا وقت تھا ۔چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنی صلاحیتوں اور قابلیت کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے مشکل ترین فیصلے کیے ۔شی جن پنگ کے مشکل اور سخت فیصلوں کا نتیجہ آج پوری دنیا کے سامنے ہے ۔چین جو دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے یہاں ایسی جان لیوا بیماری کے پھیلاؤں نے شروع میں پوری دنیا کو پریشان کردیا ہے۔خدشہ تھا چین میں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہونگی اور چین ایک بار پھر تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا ۔لیکن شی جن پنگ نے کمال مہارت کے ساتھ پورے ملک میں لاک ڈاؤن کیا اور پوری چینی قوم کو اس بیماری سے بچالیا ۔کورونا وائرس سے چین میں ٹوٹل ہلاکتیں 33سو کے قریب ترین ہیں ۔جبکہ کورونا وائرس نے امریکہ اوریورب میں ہزاروں معصوم شہریوں کی جانیں لے لی ہیں۔آج چین میں کورونا وائرس محدود ہورہا ہے اور امریکہ اور یورب میں تیزی سے پھیل رہا ہے اور وزانہ کی بنیاد پر سینکڑوں شہری ہلاک ہورہے ہیں ۔جبکہ پاکستان میں بھی کورونا وائرس کے متاثر ہ مریضوں میں روزبروز اضافہ ہورہا ہے۔پاکستان کا صوبہ پنجاب کورونا کے متاثرہ مریضوں میں پہلے نمبر پر آگیا ہے جبکہ سندھ ،بلوچستان، خیبر پختونخواہ ،گلگت اور آزاد کشمیر میں کورونا وائرس کے کیسز سامنے آرہے ہیں ۔
کراچی میں جب سب سے پہلا کورونا وائرس کا مریض سامنے آیا تو سندھ حکومت بھی فوری متحرک ہو گئی ۔سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے فوری اور ہنگامی بنیادوں پر کورونا وائرس کیخلاف عملی طور پر اقدامات اٹھائے ۔مراد علی شاہ اپنے پھرتیوں کی وجہ سے پاکستان بھرمیں نمبر ون وزیر اعلیٰ بن کر سامنے آئے ۔جبکہ کورونا وائرس نے پنجاب کا رخ کیا تو شروع میں پنجاب حکومت نے اس کو سنجیدہ نہیں لیا لیکن جب کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد روزانہ کی بنیاد پر بڑھنے لگی توپنجاب کے سابق وزیراعلیٰ میاں شہبازشریف جو ان دنوں لندن میں اپنے بڑے بھائی میاں نوازشریف کے علاج معالجے کی غرض سے ان کے ساتھ موجود تھے ۔وہ فورا اپنے بڑے میاں نوازشریف کی ہدایات کے مطابق واپس پاکستان پہنچ گئے ۔شہبازشریف نے آتے ہی سب سے پہلے خود کچھ دنوں کیلئے اپنے گھر میں قائم قرنطینہ میں رہنے کا فیصلہ کیا۔اس دوران شہبازشریف بھی ویڈیو لنک کے ذریعے پارٹی رہنماؤں،اپوزیشن اور حکومتی اتحادی جماعتوں ،طبی عملے اور تاجر وں کے ساتھ کانفرسز کال کرنے لگے تو پنجاب حکومت بھی کورونا وائرس کیخلاف متحرک ہو گئی۔پنجاب کے وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدار جن پر مسلسل دو سال سے اپوزیشن کی جانب سے تنقید کی جارہی تھی انہوں نے اپنے اوپر کی جانے والی تنقید کا جواب اس مرتبہ خاموشی کی بجائے عملی اقدامات کرکے دیا۔عثمان بزدار نے سب سے پہلے کم ترین مدت میں لاہور ایکسپو سینٹر میں ایک ہزار بیڈ پر مشتمل فیلڈ ہسپتال قائم کیا ۔اس کے بعد عثمان بزدار نے پنجاب کے مختلف ہسپتالوں اور جنوبی پنجاب کے دور دراز کے علاقوں کے دورے بھی شروع کردیے ۔عثمان بزدار جب اچانک کوہ سلیمان کے علاقے سنگھڑندی پہنچے تو اردوگرد کے قبائلی لوگ حیران رہ گئے۔عثمان بزدار دوگھنٹے تک پتھریلی زمین پر بیٹھ کے قبائلی لوگوں سے حال احوال پوچھتے رہے ۔اس دوران قبائلی لوگوں نے عثمان بزدار سے یہاں سکول کے قیام کا مطالبہ کیا ۔عثمان بزدار نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے کمشنر ڈیرہ غازی خان کو فوری سکول کی تعمیر سمیت اہل علاقہ کے دیگر مسائل کا حل ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنانے کے احکامات بھی جاری کردیے۔اسی دوران عثمان بزدار نے ایک چار سالہ بچی راجو بی بی سے بھی بلوچی میں گفتگو کی اور بچی کو نقد رقم بھی دی۔قبائلی لوگ عثمان بزدار کے انداز گفتگو اور طریقے سے قدر حیران اور متاثر ہوئے اور عثمان بزدار کو ہزاروں دعائیں بھی دی۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردارعثمان بزدار نے اس وقت وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا نمبر ون وزیراعلیٰ کا خطاب چھین لیا ہے اور عثمان بزدار آج نمبر ون وزیراعلیٰ بن گئے ہیں ۔میں یہاں بزدار صاحب کی کوئی خوشامد نہیں کرنا چاہتا ہے لیکن میرا فرض بنتا ہے جو شخص اچھا کام کرتا ہے اس کے کام کی تعریف بھی کی جائے۔اگر آپ جب تک کسی کے اچھے کام کی تعریف نہیں کرتے یا اس شخص کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے تو اس شخص کو مزید پوشیدہ صلاحتیں مزید لوگوں کے سامنے لانے کا موقعہ کیسے مل سکے گا۔ہمیں ہر وقت تنقید برائے تنقید کی بجائے کبھی جذبہ حب الوطنی کا بھی مظاہرہ کرنا چاہیے۔جب ہم کسی بھی شخص پرمسلسل تنقید کے تیر چلانے میں مصروف رہتے ہیں تو وہ شخص دلبرداشتہ بھی ہوجاتا ہے ۔موجودہ ملکی حالات کے پیش نظر ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ ملکر ان کی ہدایات پر عمل کرے اور ریاست پر تنقید کی پالیسی کو کچھ عرصے کیلئے قرنطینہ میں بند کردے۔سیاست اور تنقید کرنے کیلئے پوری زندگی پڑی ہے۔ایک قدم آگے بڑھیں اور اپنے قومی ہیروز کی حوصلہ افزائی کریں کیونکہ اس وقت ان ہیروز کو سب سے زیادہ اپنے شہریوں کی حوصلہ افزائی کی ہی ضرورت ہے۔
saifawan60@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے