Voice of Asia News

دو کہانی کار۔۔عاصم بٹ اور امجد طفیل حسنین جمیل

اردو ادب میں فکشن کی تاریخ بہت قدیم تو نہیں مگر توانا بہت ہے عصر حاضر میں اردو فکشن میں بہت میعاری کام ہو رہا ہے ہے آج عصر حاضر کے رو اہم ترین فکشن لکھنے والوں کا تذکرہ کرتے ہیں عاصم بٹ اور امجد طفیل۔ عاصم بٹ کا ناول ،،بھید، اور امجد طفیل کی افسانوں کی کتاب ،میرے افسانے، منظر عام پر آئی ہے پہلے بھید پر بات کرتے ہیں۔۔ جسے انتظار حسین صاحب کی تحروں سے گہنگا جمنا تہزیب کی خوشبو آتی تھی اسی طرح عاصم بٹ کی تحریر سے لاہور کی تہذیب کی خوشبو آتی ہے لاہور کی  تاریخ بہت قدیم ہے بھگوان رام کے بیٹے راجہ لہو چند نے دریائے روای کے کنارے اس شہر کی بنیاد رکھی تب روای کا نام اہرو تی  تھا ۔راجہ لہو چند کا مندر آج بھی شاہی قلعہ لاہور میں موجود ہے ہی شہر لاہور جو اردو ادب کا دبستان کہلاتا ہے عاصم بٹ اسی شہر کی گلیوں چورراہوں کی کہانیاں ہمیں لاھوری زبان میں سناتے ہیں۔ بھید ناول بھی اسی اندورن لاہور کی گلیوں کی کہانی ہے کہانی قصور کے بس سٹاپ سے شروع ہوتی ہے اور اندرون شہر میں جاتی ہے الیاس مندرہاں والا لاہور کے عاشق داراشکوہ اور پیر غالب شاہ کے تعلق کی روایت بیان کرتا ہے آگے چل کر میاں میر بھی اس متھ کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ کہانی فروش اہک دلچسپ کردار ہے جس نے لاہور کی بسوں پر سفر کیا ہے وہ اسے کرداروں سے خوب واقف ہیں دوران سفر قصہ گو  اپنی زبان کی روانی سے مسافروں کو متوجہ کرتے ہیں یہ سب موبائل فون اور 4 جی سے پہلے کی باتیں ہیں واے فای کے اس عہد میں کہانی فروشوں کون سنتا ہے بھید ناول محتلف کہانیوں کا بھید ہے جس کو پڑھنے کے بعد آپ اس کے سحر میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ ناول کا ہیرو ایک صحافی ہے اس کے حالات بھی بتاے گہے آج جو میڈیا انڈسٹری کا مالکان نے جو خودساختہ بحران بںناہا ہوا ہے درحقیقت اس سے پہلے بھی صحافی کارکنوں کا مالکان استحصال ہی کرتے تھے اس ناول میں سب کچھ کھول کر بیان کیا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں جکڑے اس سماج میں ہمشہ محنت کش کا خون چوس کر ہی مالکان نے اپنے محلات کی بنیادیں رکھی ہیں عاصم بٹ کہانی گر ہے اور مہارت سے اس ناول کی چار کہانیاں شروع کرتا ہے اور اختتام میں ان کو اہک کر دیتا ہے۔ ناول کا باب چاند بسری بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کسے بنام مزہب سماج کو جکڑا گیا ہے مسجد کی چھت کے چاروں اطراف سکپر لگا کر خطاب کرتے ہیں اور اگر کوی ملا گردی کے خلاف آواز بلند کرے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جاتاہے مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی ہیں مگر اخلاقی اقدار دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔۔۔۔۔۔اب امجد طفیل کے افسانوی مجموعے ،میرے افسانے،کی بات کرتے ہیں برزخ افسانہ بہت متاثر کن ہے یہ ان لوگوں کی کہانی ہے جو سماج بدلنے کا پرچار کرتے پھر رہے ہیں مگر ان کے اپنے انسانی رویوں کے تضادات اس قدر ہیں وہ ان کے سامنے رہے کے پہاڑ ثابت ہوتے ہیں۔۔ جو تیز ہوا کے جھونکوں سے ریزہ ریزہ ہو۔ جاتے ہیں نظام بدلنے کی بات کرنا بہت آسان ہے مگر آپنی ذات کے نفی کرنا بہت آسان ہے  پاکستان کے باہاں بازو کا المیہ ہے اگر آج وہ ناکام ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ  ہے باہاں بازو کے رہنما ذاتی اور فکری تضادات کا شکار ہیں یہاں نہ جمہوریت حالص ای ہے نہ ہی آمریت ۔ کھنچنے ہے مجھے کفر ، ایک لازوال کہانی ہے فکشن لکھنے والے کے اندر کا ماہر نفسیات کھل کر سامنے آیا ہے اہک عورت جو 47 کے فسادات ئاپنے  خاندان سے بچھڑ جاتی ہے اسے ایک مسلمان اٹھا کر لہے جاتا ہے۔ عورت مسلمان ہو جاتی ہے اور اس سے شادی کر لیتی ہے ماں اور دادی بن جاتی ہے اچانک اسے خواب میں دیوی دیوتاؤں کی مورتیاں نظر آنی شروع ہو جاتی ہیں یہاں افسانہ نگار اپنے فن کے عروج پر ہے انسان کچھ بھی کر لہے اس کا ماضی اس کی نفسیات کا حصہ بن جاتاہے ۔۔مسلسل شہر افسوس۔بھی اہک متاثر کن تحریر ہے اس کا موضوع تاریخ اور سماج ہے کربلا غرناطہ کابل اور بعداد عالم اسلام کے زوال کا نوحہ ہیں دنیا بھر میں اہک ارب ستاون کروڑ مسلمانوں کی تعداد ہے مگر وہ پھر بھی راندہ درگاہ کیوں ہیں ۔کون سی اسی بات ہی جو ان کا زوال حتم ہونے کا نام ہی نہیں لینے دیتی بے پناہ دولت کے باوجود ان کا دنیا میں کیا مقام ہے ۔۔بند دروازہ، محبت کی کہانی ہے فلم انڈسٹری میں بسنے والوں کی کہانی ہے اہک ادکارہ جو بہت خوب صورت تھی مگر فلموں میں زیادہ چل نہیں سکی اہک ارب پتی سے شادی کے بعد سلور اسکرین سے غائب ہو جاتی ہے فلم کا ہدایت کار جو اس سے خاموش   محبت کرتا ہے ابتک اپنے من مندر میں اس دیوی کی پوجا کرتا ہے آخری درشن کے لیے اس کو تلاش کرتاہے ۔۔ آس کے گھر تک پہنچ جاتا ہے مگر دستک دینے کے بعد سنتا ہے دروازہ بند ہی رہتا ہے وہ وہاں سے لوٹ آتا ہے ۔مچھلیاں شکار کرتی ہی اور انٹیک شاپ دونوں باکمال افسانے ہی اور انسانی نفسیات کو بہت مہارت سے بیان کیا ہے

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے