Voice of Asia News

قوت مدافعت بڑھانے کیلئے ورزش نا گزیر:اسرار احمد چغتائی

انسان کے جسم کی مثال ایک مشین کی مانند ہے اگرکسی مشین کو استعمال میں نہ لایا جائے توزنگ آلود ہوجاتی ہے اور زنگ آلود مشین کی کارکردگی سے ہم سب واقف ہیں کہ کتنی جلد وہ جواب دے جائے گی۔اسی طرح اگرانسانی جسم کو مناسب حرکت نہ دی جائے تو اس انسانی جسم کی مشین کے اعضاء خراب ہو کر صلاحیت عمل میں فرق آ جائے گا۔جب ہم جسم کو اس طرح حرکت دیں کہ جس سے پورا جسم حرکت میں رہے اور یہ عمل روزانہ کچھ وقت کیلئے باقاعدگی سے کیاجائے تواسے ورزش کا نام دیاجا سکتاہے۔ ورزش کرنے کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہے کہ جب ہم ورزش کرتے ہیں تو ہمیں پسینہ آتا ہے اور اس سے جسم کے مسام کھل جاتے ہیں جس کی وجہ سے ہمارا جسم خوبصورت چست اور مضبوط ہو جاتا ہے۔ ورزش کا مقصد جسم کوحرکت دے کر عضلات کو تازہ دم کر نا ہوتا ہے۔ ورزش جسم کے پٹھوں کیلئے بھی بہت مفیدہے۔
ماضی میں بھی لوگ ورزش کی افادیت کے قائل تھے اور آج بھی دنیا بھر میں لوگ ورزش کے ذریعے سے صحت کی دولت پانے اور خود کو اس کے ذریعے بیماریوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جسم کو متحرک رکھنے کیلئے آج کل نت نئے کھیل اورورزشیں عام ہو رہی ہیں۔ورزش کرنے والے اشخاص اپنے آپ کو چست،تازہ دم اور اچھا محسوس کرتے ہیں۔ورزش کرنے کے بے شمار فائدے ہیں۔ ورزش کرنے سے انسان چاق و چوبند رہتا ہے۔ جسم کے عضلات اور پٹھوں کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ ورزش کی وجہ سے ہڈیاں بھی مضبوط ہوتی ہیں اور بدن میں کیلشیم وغیرہ خوب جذب ہوتا ہے۔ اس طرح خواتین کے علاوہ مرد بھی ہڈیوں کے گھلاؤ (اوسیٹوپروسس) سے بچے رہتے ہیں۔ ان کا وزن بھی اعتدال اور حد میں رہتا ہے کیونکہ ورزش سے جسم کی فالتو چربی پگھلتی اور موٹاپا ختم ہوتا ہے۔ جسم میں اکثر کچھ خلیات کو سرخ رنگ کا خون نہیں ملتا خصوصاً ہارٹ اٹیک میں تو دل کے وہ خلیات مردہ ہو جاتے ہیں اور دوبارہ زندہ نہیں ہوتے۔ ورزش سے آکسیجن اور خون کا بہاؤ تیز ہو کر خون صاف ہو کر ایک ایک خلیے تک پہنچ جاتا ہے۔ جسم کا ہر عضو معدہ، جگر، مثانہ، گردے، پھیپھڑے اور دل و دماغ وغیرہ سب کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ ورزش سے دماغی اعصاب کو طاقت ملتی ہے اورجسمانی صحت بہتر ہوجاتی ہے۔ جسمانی عضلات اور جوڑ بہتر کام کرتے ہیں۔
صحت مند و توانا، اقوام ہی ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔ ہماری قوم صحت کے حوالے سے بہت پیچھے ہے۔ حالانکہ تعمیر پاکستان کے لیے افراد ملت کی صحت ایک لازمی ضرورت ہے۔ ورزش کی اہمیت و افادیت اُجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سکولوں، کالجوں میں لازمی ورزش کا اہتمام کیا جائے۔ ورزش کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ جم میں جا کر سخت جسمانی ایکسر سائز کی جائے بلکہ عمر کے لحاظ سے مناسب چہل قدمی اور اس دوران ہلکی پھلکی اُچھل کود کرنے سے بھی مطلوبہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ کی عمر پچاس سال سے تجاوز کر چکی ہے تو صبح نماز فجر کے بعد لمبی سیر بھی ورزش کے زمرے میں شمار ہو گی۔ ورزش کرتے وقت ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا ہمارے سانس کے ذریعے اندر داخل ہو کر ہمارے پھیپھڑے مضبوط کرتی ہے اور جسم میں تازگی کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ سانس سے مراد آکسیجن ہے، یہ آکسیجن خون کے ساتھ مل کر ہمارے جسم کے تمام اعضاء، تمام بافتوں میں اور ان کے تمام خلیات میں پہنچ کر انہیں زندہ اور متحرک رکھتی ہے۔ ہماری سانس کے ساتھ جو آکسیجن جسم کے اندر جاتی ہے اس کی مدد سے ہمارے پھیپھڑے مضبوط ہوتے ہیں اور جگر خون کو صاف اور طاقتور بناتا ہے۔ نیلے رنگ کی رگیں استعمال شدہ خون کو واپس لوٹاتی ہیں اور سرخ رنگ کی شریانیں خون کے سرخ ذرات کو ایک ایک خلیے تک پہنچاتی ہیں۔
جس ورزش میں آپ زیادہ گہرے سانس لے کر خون میں آکسیجن خوش شامل کرتے ہیں اور ان ورزشوں میں واک، جوگنگ، کودنا گیند کے کھیل، ریکٹ کے کھیل جیسے بیڈ منٹن، باسکٹ بال، اسکواش اور ٹینس جیسی سرگرمیاں شامل ہیں۔ ورزش کرنے سے انسان سارا دن متحرک رہتا ہے۔ جو لوگ ورزش کرنے کے عادی ہوتے ہیں وہ صحت مند چست اور ہمیشہ خوش رہتے ہیں۔ وہ اپنا ہر کام تیزی سے کر لیتے ہیں، پڑھنے لکھنے میں جتنی دلچسپی لیتے ہیں اور خوش اخلاق ہوتے ہیں۔ ورزش کرنے سے ہمارے سارے جسم کا خون درست ہو کر جسم کو اور خون فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے ہمارے سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت درست ہو جاتی ہے۔ اس کے برعکس جو لوگ ورزش نہیں کرتے وہ ہمیشہ سست اور تھکے تھکے رہتے ہیں، ان کو بہت سی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہے اور وہ اپنا کوئی کام ٹھیک طرح نہیں کر پاتے۔ جو لوگ ورزش نہیں کرتے عموماً وہ قبض، بد ہضمی اور گیس کے امراض کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ بذات خود یہ سنگین امراض نہیں مگر سنگین امراض کا باعث ضرور بن سکتے ہیں۔ اس طرح کے عارضے سخت بے چینی پیدا کر کے زندگی کا سکون غارت کر دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ خون کی رگوں کو تنگ کرنا، کولیسٹرول کا بڑھ جانا، ہائی بلڈ پریشر، ذیا بیطس اور موٹاپے جیسے امراض وغیرہ ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا باقاعدگی سے ورزش بہتر صحت کی ضمانت ہے۔ اگر ہم ورزش سے کوتاہی کریں تو زندگی بے مزہ ہو جائے گی اور جب جسم صحت مند و توانا نہ ہو گا تو زندگی کی تمام نعمتیں اور لذتیں بے معنی ہوں گی لہٰذا صحت کی نعمت خداوندی سے فائدہ اٹھانے کیلئے ورزش ضروری ہے۔ ہم اپنے جسم، عمر اور صحت کو مد نظر رکھ کر ہی ورزش کا انتخاب کریں۔
ورزش باقاعدگی سے کی جائے اور کسی مستند معالج یا ورزش کے ماہر سے مشورہ کر کے ورزش کا انتخاب کرنا چاہیے۔ ورزش زیادہ گرمی یا زیادہ سردی میں نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی فوراً کھانا کھانے کے بعد کرنی چاہیے۔اس طرح ورزش کرنے سے بہت سے نقصانات ہو سکتے ہیں۔کبھی کبھار ورزش کرنابجائے فائدے کے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اگرآپ ورزش کے فوائد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو یہ باقاعدگی سے کی جائے تاہم ہر عمر اورجسم کے لحاظ سے اس کا تقاضا اور ضرورت الگ الگ ہے۔ تیس سال سے قبل عمر میں زور دار اور تھکادینے والی ورزش مناسب ہے، دوران ورزش خون کی رفتار میں اضافہ ہو جاتا ہے اور جسم کے ہر حصے میں خون کی فراہمی بڑھ جاتی ہے۔ سانس کی رفتار بڑھتی اور سانس گہرے ہو جاتے ہیں اور یہ عمل خون کی نالیاں جو بند ہو چکی ہوں پھر سے کھولنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ورزش ایک بہترین ٹانک ہے جس سے جسم چاق و چوبند رہتا ہے اور قوت ذہنی کا احساس ہوتا ہے۔
asrarchughtai007@gmail.com

image_pdfimage_print
شیئرکریں
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے